فلسطین ہمارے دلوں کی دھڑکن کیوں؟

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)

منگل 16 مئی کو فلسطینی صدر محمود عباس اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مابین وفود کی سطح کے مذاکرات نئی دہلی میں ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق اوسط امن عمل کے حوالے سے بھی گفتگو کی ،نریندر مودی کا کہنا تھا، ’’سیاسی مذاکرات پائیدار اور پرامن طریقے سے ہونے چاہییں۔‘‘ بھارت نے فلسطینی اور اسرائیلی حکام کے مابین جلد از جلد امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی امید کا اظہار بھی کیا ہے۔
مذاکرات کے بعد فلسطین اور بھارت کے مابین مجموعی طور پر پانچ معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ معاہدے زرعی تعاون، انفارمیشن ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس، صحت، امور نوجوانان اور کھیل کے شعبوں سے متعلق ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق صدر محمود عباس کے اس دورے کا
مقصد بھارت کی طرف سے اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ سفارتی توازن قائم کرنا ہے۔ کیوں کہ نریندر مودی حکومت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بڑھانا چاہتی ہے اور بھارت کی اس کوشش کے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ سفارتی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مودی جولائی میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں اور وہ اس کے ساتھ ہی اسرائیل جانے والے پہلے بھارتی وزیراعظم بن جائیں گے۔ جبکہ اس موقع پرنریندر مودی کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’فلسطینی مقصد کے لیے ہماری حمایت اٹل ہے۔‘‘
فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ اس علاقےکا نام ہے جو لبنان ،أُردن اور مصر کے درمیان تھا ،جس کے بیشتر حصے پر اب اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی ہے۔ 1948 سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا،مگر بعد میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ 1948 میں یہاں کے بیشتر علاقے پر اسرائیلی ریاست قائم کی گئی۔ اور تل ابیب نامی شہر اُن کا دارالحکومت ہے،فلسطین کا دارالحکومت بیت المقدس تھا جس پر 1967 میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔ بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم کہتے ہیں اور یہ شہر یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ اول مسجدِ اقصی یہیں ہے۔
فلسطین کامسئلہ اُمتِ مسلمہ کے لئے ایک زمانے سے سوہانِ روح بناہوا ہے،کلبھوشن کے لئے عدالت بھی ہےانصاف بھی،لیکن کشمیر و فلسطین ہو یا ان وعراق میں ظلم وستم اُس کے واسطے آج تک ہمیں کہیں عدالت نظر آئی نہ ہی انصاف، لیکن اب امریکی صدر ٹرپ سعودیہ کے ایک تاریخی دورے پر ہیں،ایسے میں ہم انہیں کیا مسئلہ فلسطین یاد دلا سکتے ہیں،بس اپنی ہی نسلوں کے رگ وپے میں تاقیامت فلسطینی کاز کو جاگزیں کرنے کے لئے پیغامِ فلسطین کو عام وتام کیا کریں،تاکہ اُمت اِسے بھولنے کی غلطی نہ کرے۔
لہذا اَب آپ کے بچے بھلے آپ سے پوچھیں یا نا پوچھیں، آپ انہیں یہ ضرور بتایا کیجیئے کہ ہم فلسطین سے اس لیئے محبت کرتے ہیں کہ:
01: یہ فلسطین انبیاء علیھم السلام کا مسکن اور سر زمین رہی ہے۔
02: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی۔
03: اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو اس عذاب سے یہاں نجات دی جو ان کی قوم پر اُردن میں نازل ہوا تھا۔
04: حضرت داؤود علیہ السلام نے اسی سرزمین پر سکونت رکھی اور یہیں اپنا ایک محراب بھی تعمیر فرمایا۔
05: حضرت سلیمان علیہ اسی ملک میں بیٹھ کر ساری دنیا پر حکومت فرمایا کرتے تھےاور مسجدِأقصی بھی بنوائی۔
06: چیونٹی کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک چیونٹی نے اپنی باقی ساتھیوں سے کہا تھا "اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ" یہیں اس ملک میں واقع عسقلان شہر کی ایک وادی میں پیش آیا تھا جس کا نام بعد میں "وادی النمل – چیونٹیوں کی وادی" رکھ دیا گیا تھا۔
07: حضرت زکریا علیہ السلام کا محراب بھی اسی شہر میں ہے۔
08: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی ملک کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ اس مقدس شہر میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے اس شہر کو مقدس اس شہر کے شرک سے پاک ہونے اور انبیاء علیھم السلام کا مسکن ہونے کی وجہ سے کہا تھا۔
09: اس شہر

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 489974 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
22 May, 2017 Views: 843

Comments

آپ کی رائے