شکیل آفریدی ایک قومی مجرم

(Tanveer Awan, Islamabad)

امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی خفیہ ادارو ں کی معاونت اور آئین پاکستان سے غداری کے مقدمے میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے امریکہ نے پاکستان پر دباﺅ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے امریکی حکام نے پاکستان سے رابطہ بھی کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی گفت و شنید ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ امریکہ کی طرف یہ دباؤ اس وقت سامنے آ رہاہے جب ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودیہ میں منعقد ہ عرب ،امریکی اسلامی سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کررہے ہیں تو دوسری جانب شکیل آفریدی کا کیس کی تین سال کے وقفے کے بعد 24مئی کوسماعت ہونی ہے ،یاد رہے کہ امریکی صدر منتخب ہونے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کرتے ہوئے کہا تھاکہ ڈاکٹر شکیل آفریدی امریکہ کا ہیرو ہے میں صدر بن گیا تو اسے دو منٹ میں رہا کرالوں گا‘‘ نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران بار بار اعلان کرتے رہے اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کرانا میری پہلی ترجیح ہوگی جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کیسے صرف دو منٹ میں پاکستان کے غدار ڈاکٹر آفریدی کو رہا کرالیں گے، تو ٹرمپ نے لگی لپٹی رکھے بغیر دعوی کا کیا تھا کہ امریکہ پاکستان کو بھاری رقوم امداد اور جدید اسلحہ دیتا ہے اس لیے پاکستان کوہماری درخواست ہر حال میں تسلیم کرنا ہوگا۔دوسری جانب پاکستانی حکومت کی طرف سے شدید رد عمل کے اظہارکے ساتھ ساتھ امریکا کی جانب سے 33 ملین ڈالرز کی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کیے جانے کو مسترد کردیاہے اور امریکہ پر واضح کیا ہے کہ پاکستان قومی سلامتی اور خودمختاری کے معاملات پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔یاد رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے سی آئی اے سے کروڑوں ڈالر وصول کرکے اسامہ بن لادن کی موجودگی کی حتمی تصدیق کیلئے غیر قانونی انسداد پولیو ویکسی نیشن مہم چلائی ،جس کی آڑ میں اسامہ بن لادن کے کمسن بچوں کے خون کے نمونوں سے (ڈی این اے) ٹیسٹ کرکے ان کا سراغ لگایا گیا تھا جب کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی مہم جوئی کی وجہ سے اب تک درجنوں پولیو ورکر مارے جا چکے ہیں اور انسداد پولیو کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اس میں دو رائے نہیں ہیں کہ سی آئی اے کی وفا داری اور وطن عزیز پاکستان سے غداری کے صلے میں ڈاکٹر شکیل آفریدی امریکا کی محبوب شخصیت بن چکا ہے ،اور اسے امریکی شہریت اور سب سے بڑا سول ایوارڈ دلوانے کے لیے رپبلکن سینٹر ڈانا روہراباشر
(Dana Rohrabacher)
نے دو قراردادیں
(HR4049-HR3901)
پیش کی تھیں۔ جن میں شکیل آفریدی کو پاکستانی حراست کے دوران اسکی امریکہ کیلئے گراں قدر خدمات کے صلے میں امریکی شہریت اورامریکہ کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دینے کی غیر معمولی تجویز پیش کی گئی تھی، جس سے شکیل آفریدی کا کردار اور پوزیشن پوری دنیا کے سامنے واضح ہو جاتی ہے۔اس لیے حکومت پاکستان بغیر کسی بیرونی دباؤ کے غدار ملت شکیل آفریدی کے معاملہ میں تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس کو قرار واقعی سزا دے،یہ وقت کی آواز ہونے کے ساتھ ساتھ قومی وقار کی ضامن بھی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 136922 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
22 May, 2017 Views: 485

Comments

آپ کی رائے