ادبی مجلہ سیماب:جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود

(Prof.Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang)

 چند روز قبل مجھے ڈاک کے ذریعے گورنمنٹ ڈگری کالج (برائے طلبا )افضل پور ،میر پور ،آزاد کشمیر سے شائع ہونے والا ادبی مجلہ ’’سیماب ‘‘موصول ہوا ۔چار سو چھپن صفحات پر محیط اِس رجحان ساز علمی و ادبی مجلے کی سبدِ گل چیں کی مسحور کُن عطر بیزی سے دامنِ دِل معطر ہو گیا ۔ اس مجلے میں اردو،پنجابی اور انگریزی زبان کی تخلیقات شامل ہیں ۔پروفیسر غازی علم الدین (پرنسپل )کی ادارت میں ہونے والا یہ مجلہ تعلیمی ادارو ں سے شائع ہونے والے عام مجلات سے جداگانہ نوعیت رکھتا ہے ۔انگریزی زبان کی تحریروں کے لیے چھتیس صفحات مخصوص کیے گئے ہیں،پنجابی زبان کی تحریروں کو پانچ صفحات ملے ہیں، باقی تمام صفحات طلبا ،اساتذہ اورمشاہیر ادب کی اُردو زبان میں لکھی گئی تحریروں سے مزین ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وطنِ عزیز کی علاقائی زبانوں کی تحریریں مجلہ’’سیماب‘‘ کی اس اشاعت میں جگہ نہیں پا سکیں ۔ اس کا سبب شایدیہ ہو کہ نو آموز تخلیق کاروں کی علاقائی زبانوں میں لکھی گئی تحریریں مجلس ادارت کے طے کردہ کڑے معیارپر پوری نہ اُتر سکی ہوں۔آزادی سے قبل گورنمنٹ کالج جھنگ کے ادبی مجلہ ’’چناب ‘‘نے جب سال 1926 میں اشاعت کا آغاز کیا تو ممتاز ماہر تعلیم رانا عبدالحمید خان(پر نسپل) اس مجلے کے سر پرست تھے۔چناب کے پہلے شمارے میں اردو ،عربی ،فارسی ،پنجابی،انگریزی اور ہندی زبان کی تحریریں شامل اشاعت تھیں۔ تعلیمی اداروں سے شائع ہونے والے علمی و ادبی مجلات گلشنِ ادب میں تازہ ہوا کے جھونکے کی حیثیت رکھتے ہیں۔میرے نزدیک گلشن ادب کے یہ نو آموز تخلیق کار اُمیدِ فردا ہیں،یہ چراغ نشانِ منزل دیتے ہیں اور ان کی ضوفشانیوں سے سفاک ظلمتیں کافور ہوں گی۔ بر صغیر میں تعلیمی اداروں نے روشنی کے جس سفر کا آغاز ’’تہذیب الاخلاق‘‘ (1871) اور ’’معارف ‘‘(1914)سے کیا تھا وہ ’’ سیماب ‘‘تک پہنچتے پہنچتے ایک مضبوط،درخشاں اور مستحکم علمی وادبی روایت کی حیثیت اختیا ر کر گیا ہے ۔ پروفیسر غازی علم الدین حریت فکر و عمل اور جر أت اظہار کا علم تھام کر اسی روایت کے استحکام کے لیے کوشاں ہیں۔ روشنی کے اس عظیم الشان سفر میں تعلیمی اداروں سے شائع ہونے والے ادبی مجلات کی کہکشاں میں جن مجلات کی ضیاپاشیاں نگاہوں کو خیرہ کرتی ہیں ان میں فاران،راوی ،چناب ،کارواں ، تحقیق، خیابان ،مشعل،سروش،استاد اور باہو شامل ہیں۔
اعلا سفید کا غذ ، کمپیوٹر کمپوزنگ، چمک دار سیاہ روشنائی، عمدہ جلد بندی اور رنگین سرورق اور گرد پوش کے ساتھ نہایت اہتمام کے ساتھ شائع ہونے والے دیدہ زیب مجلے’’ سیماب‘‘ کی پیشانی پر زندگی کی حقیقی معنویت اور عصری آ گہی کا آئینہ دار حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کا یہ شعر فکر وخیال کو مہمیز کر رہا ہے ۔
سُنی نہ مصر و فلسطیں میں وہ اذاں میں نے
دِیا تھا جِس نے پہاڑوں کو رعشہ ٔ سیماب
ادبی مجلہ ’’سیماب‘‘ کی مجلس ادارت میں طلبا اور اساتذہ کی تعداد مساوی ہے جب کہ مجلسِ ادارت کی سر پرستی کے فرائض پروفیسر غازی علم الدین کو تفویض کیے گئے ہیں۔مدیران متعلم میں تیمور زبیر (سال چہارم)،جابر خان (سال سوم)،سعد الرحمٰن (سال دوم)اور ،مشاہد حسین ہاشمی (سال اول )شامل ہیں ۔ پروفیسر حافظ آفتاب احمد ،پروفیسر ظہیر عباس چودھری ،پروفیسرعابدمحمود مغل اور پروفیسر محمد عتیق الرحمٰن مجلسِ ادارت کی معاونت پر مامور ہیں۔
علمی و ادبی مجلہ ’’سیماب ‘‘جس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
حمد و نعت ،نقش ہائے کہن در بطن ِ خاک ،تنقید و تفہیم،خاکے،رنگ ِ تغزل،کتابوں کی دنیا ،اسلامی تشخص ،فکرِ فردا،منظومات،گنج ہائے گراں مایہ،کہانی /افسانہ،پنجاب رنگ ،ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند(طلبا کی تحریریں)،رُو بہ رو (انٹرویو پر نسپل )
مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ سیماب کے اس شمارے میں رنگ ، خو شبو،رجائیت ،عزم ،حوصلے ،سعی ٔ پیہم اور حسن و خوبی کے تمام استعارے ذہین طلبا اور محنتی اساتذہ کے مرہون منت ہیں ۔ طلبا کی تحریروں کے ایک ایک لفظ سے جہاں ان کی ذاتی محنت ، لگن ،مطالعہ کے شوق ،تحقیقی و تنقیدی سوچ ،تخلیقی وجدن اور علم و ادب سے دلی لگاؤ کا اظہا ر ہوتا ہے وہاں اس کے پس پردہ کار فرما فاضل اساتذہ کی تربیت کاکرشمہ بھی دامن ِ دِل کھینچتا ہے ۔ان اساتذہ نے طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں اور علمی و ادبی فعالیتوں کو صیقل کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔ یہ اساتذہ اپنے میرِ کارواں کی قیادت میں بے لوث اندازمیں جذبوں کی صداقت کا بھرم قائم رکھنے میں کوشاں ہیں۔ نو آموز طالب علموں کی تحریروں کی نوک پلک سنوارنے میں ان کے کہنہ مشق اساتذہ کی انتھک جد و جہد اور مرصع سازی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ان اساتذہ کے فیضانِ نظر سے یہاں سے ایسے تابندہ ستارے ضو فشاں ہو نے والے ہیں جو مستقبل قریب میں افقِ ادب پر مثلِ آفتاب و ماہتاب ضو فشاں ہو ں گے۔شاعر نے سچ کہا تھا :
یوں تو پتھر کی بھی تقدیر بدل سکتی ہے
شرط یہ ہے کہ اِسے دِل سے تراشا جائے
حصہ نثر میں بارہ طلبا کی تحریریں شامل کی گئی ہیں جو تیس صفحات پر مشتمل ہیں ۔ذہین طلبا کی ان تحریروں کی تفصیل درج ذیل ہے :
ارمغان بشارت(انٹر میڈیٹ سالِ اول) :دہشت گردی کے خاتمے کے لیے علم ایک موثر ہتھیار
تیمور زبیر (بی اے سالِ چہارم) :علم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر ہتھیار
جابر خان (بی اے سالِ سوم) :اسلام اور امن ِ عالم
رضوان خالد (بی اے سال چہارم) :امنِ عالم اور ہمارا خواب
رفاقت علی( انٹر میڈیٹ سالِ اول) :امنِ عالم اور ہمارادِین
سعد الرحمٰن (انٹر میڈیٹ سالِ دوم) :امنِ عالم اور ہمارادِین
عمر رفیق (انٹر میڈیٹ سالِ دوم) : کفایت شعاری
محمد امر عظیم (انٹر میڈیٹ سالِ دوم) :علم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر ہتھیار
محمد مبین( بی اے سال چہارم) :امنِ عالم اور ہمارا دِین
مشاہد حسین ہاشمی(انٹر میڈیٹ سالِ اول):علم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر ہتھیار
مظاہر علی سید (انٹر میڈیٹ سالِ اول) :امن عالم اور ہمارا دِین
نصر سجاد(بی اے سالِ سوم ) :دہشت گردی اور علم
طلبا کی نثری تحریروں کی مندرجہ بالا فہرست کا سر سری جائزہ لینے سے بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موضوعات میں تکرار پایا جاتا ہے ۔ مضامین کا بہ نظر غائر جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت کُھل کر سامنے آتی ہے کہ اگرچہ مضامیں کے عنوانات میں یکسانت پائی جاتی ہے مگر ان کے مندرجات ،مواد ،حوالے کے اشعار اور دلائل میں بعد المشرقین ہے ۔ہر طالب علم نے اپنی بساط کے مطابق زیرِ بحث موضوعات پر مدلل انداز میں بحث میں حصہ لیا ہے اور منفرد انداز میں اپنے اشہبِ قلم کی خوب جو لانیاں دکھائی ہیں ۔ان تمام مضامین کا مواد زندگی اور زندہ انسانوں کے شب و روز کے معمولات سے اخذ کیا گیا ہے ۔زندگی کے تلخ حقائق کا بر ملا بیان ان مضامین کا اہم وصف ہے ۔یہ مضامین حشو و زوائد سے پاک ہیں اور ان میں کہیں بھی زیبِ داستان کے لیے بے سرو پا باتوں کا سہارا نہیں لیا گیا ۔ قومی اور مِلی سوچ کی مظہر یہ تحریریں پڑھنے کے بعد اس بات کا پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ وطنِ عزیز کی نئی نسل کوزندگی کے تلخ حقائق کا پوری طرح احساس و ادراک ہے ۔نوجوانوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ تن آسانی اور کاہلی سے نمو پانے والی بے لگام تمنائیں ،موہوم آرزوئیں اور مجنونانہ رومان کا ہیجان جب بھی زندگی کے مسلمہ اصولوں سے ٹکراتا ہے تو منھ کی کھاتا ہے ۔سرابوں کی جستجومیں خجل ہونے سے فطرت کی تعزیروں سے بچا نہیں جا سکتا۔ ان مضامین کے مطالعہ سے یہ بات ذہن نشین ہو جاتی ہے کہ نئی نسل قوتِ عشق کوایک بے لوث ،بے باک اور فعال قوت سمجھتی ہے جو ہر پست کوبالا کرنے پر قادر ہے ۔ ان مضامین میں وطن ،اہلِ وطن اور انسانیت کے ساتھ قلبی وابستگی اور والہانہ محبت پر مبنی جن خیالات کا اظہار کیا گیا ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بے لوث محبت کی تابانی جب بے کرانی کی حدود کو چُھو لیتی ہے تو اس کا سیلِ رواں حرص ، مفاد پرستی ،خود غرضی ،ہوس ،انا اور کبر و نخوت کو خس و خاشاک کے مانند بہا لے جاتا ہے ۔طلبا کی تحریروں میں کسی مقام پر بھی زرا سے سرقہ،توارد یا تکرار کا شائبہ نہیں ہوتا۔ مضمون نگاروں نے اپنے اپنے رنگ میں ان تمام دلائل کا التزام کیا ہے جو موضوع کی وضاحت کے لیے نا گزیر تھے ۔ ان موضوعات پر فطین طلبا کی گل افشانی گفتار سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید اساتذہ نے طلبا میں مضمون نویسی کے مقابلے کا اہتمام کیا ۔اس کے بعد منتخب مضامین کو مجلے کی زینت بنا یا گیا ۔ ان مضامین کے اسلوبیاتی مطالعہ اور موضوعات میں دلائل کے ارتکاز و انہماک سے اس بات کا پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ نو خیز ادیبوں نے ستاروں پر کمند ڈال کر اپنے تخلیقی وجود کا اثبات کیا ہے ۔حساس طلبا کی عصری مسائل کے بارے میں مذہب سے قلبی وابستگی کی عکاس فلسفیانہ گفتگو، حب الوطنی کی مظہردقیقہ سنجی ، انسانی ہمدری سے سرشار نفسیاتی انداز فکر اور عصری آ گہی سے متمتع تجزیاتی انداز قاری کے لیے ایک منفر د تجربہ ثابت ہوتا ہے ۔
لوک گیت (تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ )ایک افادیت سے لبریز مقالہ ہے ۔تہذیب و ثقافت کے اہم ارتعاشات اور ارتقائی مدارج کے بارے میں یہ مقالہ متعددچشم کشا صداقتوں اور فکر پرور خیالات سے روشناس کراتا ہے ۔موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے یہ مقالہ لائق تحسین ہے ۔یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ کسی خطے میں ا قوام و ملل کا جاہ و جلال تو سیلِ زماں کے مہیب تھپیڑوں کی زد میں آ کر قصہ ٔ پارینہ بن سکتا ہے مگر اس خطے کی تہذیب و ثقافت کواندیشۂ زوال نہیں ہوتا۔ پروفیسر تاج دین نے اپنے اس وقیع مقالے میں پنجابی زبان کے لوک گیتوں پر تحقیقی نظر ڈالی ہے اور وطن ِعزیز کی نئی نسل کو اس سوہنی دھرتی کی عظیم الشان تہذیبی و ثقافتی میراث کی منتقلی کی مستحسن سعی کی ہے ۔ لائق مضمون نگار نے بابل،وِیراور ماں کے گیتوں ،بولی ، ٹپا، جگنی، چھلا ،چن، ڈھولا،شادی بیاہ کے گِیت،قینچی،لوری،ماہیا، اوروار کے منظر اور پس منظر کی جس مہارت سے لفظی مر قع نگاری کی ہے وہ اپنی مثال آ پ ہے۔ پنجابی لوک گیتوں کی مختلف اصناف کے نمونوں کا انتخاب مقالہ نگار کے ذوق ِ سلیم کا مظہر ہے ۔وسطی اور جنوبی پنجاب کے دُور دراز دیہاتی علاقوں میں صدیوں سے دھریس (لوک ناچ)کے بول عوام میں بہت مقبول ہیں۔پنجابی تہذیب و ثقافت کے موضوع پر لکھے گئے اس وقیع مقالے میں ابیات، دھریسی بول، دوہے، دوشیزاؤں کی لوک سِٹھنیوں، دیسی مہینوں یعنی بارہ ماسہ (چیت ،بیساکھ ،جیٹھ ،ہاڑ وغیرہ) کے لوک گیتوں کی شاعری،لوک نوحوں اور کافی کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔اس علاقے کے مکینوں میں سے جب بھی کوئی اجل گرفتہ شخص کوہِ ندا کی صدا سُن کر ساتواں در کھول کر عدم کی مسافت کے لیے رختِ سفر باندھ لیتاہے تو سوگوار لواحقین مر حوم کی میّت کو غسل اور کفن دے کر کلمۂ طیبہ اور کلمۂ شہادت کا وِرد کرتے ہوئے ایک قافلے کی صورت میں شہر خموشاں کی جناز گاہ کا رخ کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میں اپنے رفتگاں کے غم سے نڈھال جگر فگاروں کے دُکھ درد بانٹنے کی ایسی مثالیں کم کم دکھائی دیتی ہیں۔ سوگواروں کے اس قافلے کی قیادت نوحہ خوانوں کی ایک ٹولی کرتی ہے جوگلو گیر لہجے میں یہ لوک نوحہ پڑھتے ہیں جسے سن کر تما م الم نصیب شرکا کی آ نکھیں بھیگ بھیگ جاتی ہیں ۔
اَج ہوئیاں نیں کُوچ تیاریاں
سجن روندے نیں کر کر زاریاں
اَج روندیاں سنگتاں ساریاں
پڑھو لا الہ الااﷲ
جدوں وِچ عدالت جاویں گا
دَس کیہڑا حال سناویں گا
اَوتھے عملاں دا مُل پاویں گا
پڑھو لا الہ الااﷲ
دریائے جہلم اور دریائے چناب کے سنگم پر واقع دو آبہ کے علاقے میں آج بھی بڑی تعداد میں ایسے معمر ناخواندہ دیہاتی موجود ہیں جنھیں سیکڑوں پنجابی لوک گیت زبانی یاد ہیں۔گزشتہ چار عشروں میں پروفیسر حاجی حافظ محمد حیات ،پروفیسر عمر حیات بالی ،پروفیسر گدا حسین افضل ،پروفیسر دیوان احمدالیاس نصیب اور پروفیسر فیض محمد خان سیال نے اس علاقے کے پنجابی لوک ادب پر خوب دادِ تحقیق دی ۔حیف صد حیف کہ ان مشاہیر کی رحلت کے بعد آواز ِ رحیلِ کارواں عدم کی بے کراں وادیوں میں کھو گئی۔ لوک ادب اور لوک شاعری سینہ بہ سینہ ارتقائی مدارج طے کرتی چلی آ ئی ہے اور اس کے تخلیق کاروں کے بارے میں بھی کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔ اس علاقے میں پنجابی لوک ادب کے ساتھ المیہ یہ رہا ہے کہ اِسے زیب ِ قرطاس کرنے میں بالعموم غفلت سے کام لیا گیا ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوک ادب کے رمز آ شنا چراغِ سحری زینۂ ہستی سے اُتر گئے اور لوک ادب کے کئی بیش بہا فن پارے ابلقِ ایام کے سموں کی گرد میں اوجھل ہو کر تاریخ کے طوماروں میں دب گئے۔ ذیل میں ایک مقبول دھریسی لوک بول کے نمونے اُردوترجمے کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ بول جو آج بھی لوک ناچ دھریس کا مقبول ترین آ ہنگ ہیں ، نعمت خان کلانونت اور لال کنور کے خاندان کے ایک فرد نے پروفیسر اقتدار واجد اور پروفیسر فیض محمد خان کو سنائے ۔دھریس پارٹی میں شامل نسل در نسل رقاص پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ سماں باندھتے ہیں کہ تماشائیوں کی نہ صرف آ نکھیں کُھلی کی کُھلی رہ جاتی ہیں بل کہ باچھیں اور جیبیں بھی کُھل جاتی ہیں ۔ لوک ناچ دھریس کے سُریلے بول اور مدھر تان ،ڈھول کی تھاپ پر رقص اور ہاتھوں اور پاؤں کے گھنگھرووں کی آواز سے ایسا دل کش منظر بن جاتا ہے کہ ہزاروں راہ گیر خوشی کے یہ لمحات دیکھنے کے لیے دِل تھا م لیتے ہیں اور وارفتگیٔ شوق کے عالم میں دیوانہ وار ناچنے لگتے ہیں۔ چشم زدن میں کالا دھن کمانے والے عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پُورے بِن بلائے مہمان زور زور سے ہنہنانے لگتے ہیں اور ویلوں کی صورت میں بے دریغ رقاصوں پر کرنسی نوٹ نچھاور کرکے اپنا دِل بہلانے لگتے ہیں ۔کسی دانا کا قول ہے کہ پرائی برات پر صرف احمق ہی نا چتا ہے اور سرمنڈوا کر ویلیں ڈالتا ہے ۔لوک ناچ دھریس صدیوں سے دو آ بے کے علاقے کی تہذیبی و ثقافتی پہچان و میراث ہے جسے تاریخ کے ہر دور میں پسند کیا گیا ہے ۔ یہ لوک ادب قارئین کو اپنے باطن کی غواصی پر مائل کرتا ہے اور اس طرح اسلوب کی نیرنگی اورحسن فطرت کی صد رنگی قاری کو حیرت زدہ کر دیتی ہے ۔لوک گیتوں میں اسلوب کی ندرت دل کشی اور انفرادی رنگ ایک خاص آ ہنگ اور اچھوتی طرز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔پرِزمانہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے بھی کہیں زیادہ ہے مگر لوک ادب جو سوہنی دھرتی کی تہذیبی اور ثقافتی اقدار و ایات کا امین ہے وہ پرِ زمانہ کی برق رفتاریوں سے ہمیشہ محفوظ رہا ہے اور اس نے اپنی اصل شکل و صورت بر قرا رکھی ہے۔ د نیا و ما فیہا سے بے خبر کر دینے والے یہ بول مشاق رقاص لکڑی کی نفیس رنگین تختیاں اپنے ہاتھوں میں تھام لیتے ہیں ان تختیوں پر پیتل کے چھوٹے چھوٹے گھنگھرو بندھے ہوتے ہیں۔ ان تختیوں کو دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں اور انگلیوں میں تھام کر وہ د نیا و ما فیہا سے بے خبر کر دینے والے یہ بول الاپتے ہیں اور جب ڈھول کی تھاپ پر رقص کے دوران میں اُن کی پنڈلیوں پر بندھے گھنگرو بجتے ہیں ہیں تو دِلِ ویران کا ہر حسرت اور ارمان وقتی طور پر مُسرت میں ڈھل کر اِک گونہ بے خودی سے سر شار کرنے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔
اساں لائیاں اکھیاں جل بھریاں
ایہناں بے قدراں نال لائیاں اکھیاں جل بھریاں
بدھیاں ڈھول دیاں اساں بنھ گڈھڑی سر چائیاں
اساں لائیاں اکھیاں جل بھریاں
ترجمہ:
پُر نم آ نکھوں سے ہم نے سہے عشق کے سب جھمیلے
تنہا چھوڑ کے کہاں گئے تم اے ساجن البیلے
تیرے ہجرکی گٹھڑی سر پہ اُٹھا کے دیکھے دنیا کے میلے
پُر نم آ نکھوں سے ہم نے سب صدمے سر پر جھیلے
-------------------------------------
ایہہ لسوڑا
راہے مینوں چھوڑ گیاایں
ہانویں کُوڑے دا کُوڑا
ترجمہ:
لسوڑے کا بُوٹا
رستے ہی میں چھوڑدیا
تُو نکلاجُھوٹے کاجُھوٹا
قومی کردار کی تشکیل اور تہذیبی و ثقافتی اقدار کی نمو کے لیے یہ امر نا گزیر ہے کہ اس خطے کے لوک ادب کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔اپنے آبا و اجداد کی تہذیبی و ثقافتی میراث سے دلچسپی ہر شخص کی جبلت میں داخل ہے ۔زمانۂ حال کی پریشاں حالی اور درماندگی جب انسان کو مضمحل کر دیتی ہے تو وہ اپنے ماضی پر نظر ڈالتا ہے ۔لوک ادب میں تخلیقِ فن کا جو ارفع معیار موجود ہے اس کی معجز نما اثر آفرینی اور قلب و روح کو مسخر کرنے والی شان دِل ربائی دیکھ کر یہ تاثر قوی ہو جاتا ہے کہ خلوص و دردمندی سے لبریز دھیمے سُروں میں عرض کی گئی درد سے معمور یہ نوائے حیات توجدید دور کے سائنسی آلات ِ موسیقی سے مزین نغمات سے کہیں بڑھ کر مسحور کُن ہے جو دِل کی دھڑکنوں سے ہم آ ہنگ ہو کر وادی ٔ خیال میں مستانہ وار گھومنے پر مائل کر تی ہے ۔ دھریس کے یہ لوک بول پند و نصائح ،اصلاح اور مقصدیت سے لبریز ہیں۔ آفاق کی اس کار گہ ِ شیشہ گری میں دنیا کی بے ثباتی ، کارِ جہاں کا بے اعتبار ہونا اور زندگی کی کم مائیگی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ پتاسے کے مانند پانی میں گُھل جاتا ہے اور انسان کا غذکی اس ناؤ پر سوار ہے جو طوفان حوادث کی زد میں ہے ۔ ان لوک گیتوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر انسان کوسعیٔ پیہم ہی کو زندگی کی میزان سمجھنا چاہیے ۔حریت فکر و عمل کا تقاضا یہ ہے کہ انسانی زندگی کو کسی جبر کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ان لوک گیتوں میں انسانی زندگی کو ایک ایسے کُھلے ہوئے اِمکان سے تعبیر کیا گیا ہے جو زمان و مکان کی خود ساختہ حدود کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایام کا مرکب بننے کے بجائے ایام کا راکب بننے کا حوصلہ رکھتا ہے ۔زندگی کے لیے پتاسے کا استعارے قابل توجہ ہے ۔پتاسا ایک خاص قسم کی مٹھائی ہے جو دیہی علاقوں کے مکینوں میں بہت مقبول ہے ۔پتاسہ جوں ہی پانی میں گرتا ہے یہ فوراً پانی میں گُھل کر اس میں تحلیل ہو جاتا ہے اور اس کا کہیں سراغ نہیں ملتا۔کاغذ کی کشتی کی ترکیب بھی گہری معنویت کی حامل ہے ۔کاغذ کی کشتی جب پانی کی سطح پر تیرتی ہے تو پلک جھپکتے میں پانی کاغذ کو گِیلاکر دیتا ہے اور کاغذ کی کشتی پانی میں ڈُوب جاتی ہے۔ان لوک گیتوں کا اخلاقیات سے گہر ا تعلق ہے ۔انسانیت کے وقار اور سر بلندی کو مطمح نظر بنا کر ان لوک گیتوں کے تخلیق کاروں نے حیات و کائنات کے مسائل کی تفہیم اور امن و آشتی کی جو راہ دکھائی ہے وہ آفاقیت کی مظہر ہے ۔
ایہہ پتاسا
بیڑی میری کاغذ دی
ایس دَم دا نہیں بھرواسا
-------------------------
کوئی کا ر گرِیس کرے
اِنج رَل وَسیے ہا
پئی دنیا رِیس کرے
آئیے دھنک پر نگاہ ڈالیں اور دیکھیں کہ سیماب کے اس شمارے کے افق پر اردو نثر و شاعری کے جو آفتاب و ماہتاب ضو فشاں ہیں وہ کس انداز میں اپنے تخلیقی وجدان کی ضیا پاشیوں سے قارئین کے فکر و خیال کی وادی کو منور کر رہے ہیں ۔ ان مشاہیر کی تحقیقی و تنقیدی تحریروں کی مجلے میں شمولیت کے اعجاز سے یہ مجلہ ایک اہم بنیادی ماخذ اور حوالہ جاتی حیثیت اختیار کر گیا ہے ۔اُردو زبان و ادب کے ہمالہ کی یہ سر بہ فلک چوٹیا ں سیماب کے دائرۃ المعارف میں جلوہ گرہیں جنھیں دیکھنے کے لیے قارئین کے لیے کلاہ کج کرنا لازم ہے :
آصف ثاقب ، آفتا ب احمد پر وفیسر حافظ ،آسناتھ کنول، ابرار عبدالسلام ڈاکٹر،احمد مسعود، احمد شمیم،ارشاد شاکر اعوان ڈاکٹر،ادا جعفری، ارشدخانم ڈاکٹر ،افق کاظمی، اکرم طاہر پروفیسر،احمد شمیم، امین جا لندھری، امین راحت چغتائی، امین طاہر قاسمی، انجم خیالی، بشیر مراد ملک ، تاج دین پروفیسر، تنویر سبطین نقوی سید، توصیف تبسم ڈاکٹر ،جان کاشمیری، جاویدالرحمٰن قریشی،جگن ناتھ آزاد، جمیل احمد میر ڈاکٹر،بلوچ،حفیظ الرحمٰن احسن،حفیظ تائب،خیال آفاقی،خالد بزمی، خالد حسین پروفیسر،داؤد عثمانی ڈاکٹر ، ذوالفقار اسد،ذکی کیفی، رحمٰن فارس، رحمت علی خان پروفیسر،رؤف خیر ڈاکٹر ،رفیع الدین احمد صدیقی ڈاکٹر ، زار علامی ،زید اﷲ فہیم جرال مرزا،ساجدہ حبیب ، سلطان سکون، سعدیہ بخاری ،سکندر حیات میکن ڈاکٹر، سلیم آغا قزلباش ڈاکٹر ،سلیم گیلانی، سلطان سکون، سیف اﷲ خالد پروفیسر ،شاذ تمکنت،شاہدہ صدف، شاہین،شہزاد احمد ، ضیا الحسن ڈاکٹر ،طارق اسد،طفیل ہو شیار پوری،طفیل دارا، ظفر شاہ خان ،ظہیر الحسن جاوید، ظہیر عباس چودھری پروفیسر،عابد محمود عابد پروفیسر، عارف مہجور رضوی سیّد،عاصی کر نالی ڈاکٹر ، عبدالعلیم صدیقی پروفیسر، عبدا لکریم خان پروفیسر ڈاکٹر ،عبدا لمجید سالک، عبیر ہ احمد ،عزیز احسن، عمران سہروردی،غاز ی علم الدین پروفیسر ، غالب عرفان، فاروق اسیر، فاطمہ حسن ،غ۔ع ،قیو م رانا ، کلیم عاجز ڈاکٹر ،گوپال شفق، لیاقت علی جعفری ڈاکٹر، محمد جنید اکرم پروفیسر،محمد ذکریا ڈاکٹر خواجہ ،محمد رفیق بھٹی پروفیسر، محمد ریاض شاہد پروفیسر ڈاکٹر ، محمد رمضان راہی ، محمد سلیم عباسی ، محمد شکیل سرور میاں پروفیسر، محمد شبیر چودھری پروفیسر، محمد شریف انجم ،محمد صغیر خان ڈاکٹر ، محمد عارف خواجہ ،محمد علی خالد،، محمد عمران شفیع پروفیسر،محمد نذیر تبسم پروفیسر، مخلص وجدانی،مشتاق احمد ساقی پروفیسر،معراج جامی سید، مظہر جاویدحسن،مناظر عاشق ہر گانوی ڈاکٹر، محمد عارف خواجہ ،منیرہ احمد شمیم،منیراحمد یزدانی پروفیسر، ناصر کاظمی،نسیم سحر ،نواز کنول پروفیسر ڈاکٹر ،نذیر انجم، وزیر آغا ڈاکٹر ،یعقوب نظامی
سیماب میں شامل ان مشاہیر کی تحریریں عصر آ گہی پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔حریت فکر و عمل کے علم بردار یہ زیرک ،فعال اور مستعد تخلیق کارانسانیت کے وقار اور سر بلندی اور لفظ کی حرمت کے لیے جو خدمات انجا م دے رہے ہیں ان کا ایک عالم معترف ہے ۔وطن ،اہلِ وطن اور ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود اور ترقی کی تمنا ان کی تحریروں کے ایک ایک لفظ سے عیاں ہے ۔ مادی دور کی خرابیوں ،ہوس اور مفادات کی جنگ نے معاشرتی زندگی کو انتشار کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ۔دنیا میں ادب ہی وہ مقیاس ہے جو کسی معاشرے کے جملہ معائر اور نشیب و فرازکی حقیقی گرہ کشائی پر قادر ہے ۔ان ممتاز ادیبوں کی تحریریں پڑھنے کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ ہمارے ادیب حقیقی معنوں میں قومی عوارض کے نباض ہیں اور ملک و قوم کو درپیش مسائل پر ان کی گہری نظر ہے ۔مہیب سناٹوں میں جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا اور سفاک ظلمتوں میں حوصلے اور اُمید کی شمع فروزاں کرنا سدا ان ادیبوں کا شیوہ رہا ہے ۔ ان تحریروں میں رجائیت کا عنصر نئی نسل کے دلوں کو ایک ولولہ ٔ تازہ عطا کرنے کا وسیلہ ثابت ہو گا ۔عملی زندگی میں سعی ٔ پیہم اور تاب و تواں کے لیے رجائیت پر مبنی یہ سوچ نا گزیر ہے ۔ فاضل مصنفین نے تہذیب و ثقافت ،تمدن و معاشرت ،اقدار و روایات اور اخلاقیات جیسے اہم موضوعات پر جس جرأت ،خلوص ،دردمندی اور وقار سے اظہار ِ خیال کیا ہے وہ جذبۂ انسانیت نوازی کی درخشاں مثال ہے ۔ان تحریروں کے منظر اور پس منظر میں منفرد اسلوب کے حامل یہ ادیب پوری استقامت سے جلوہ گر ہیں۔ان نابغہ ٔ روزگار ادیبوں کی تخلیقات سنگلاخ چٹانوں ،جامد وساکت پتھروں اور مجسموں سے بھی اپنی تاثیر کا لو ہا منوا لیتی ہیں۔ سیماب کی مجلس ادارت نے مجلے کی حالیہ ضخیم اشاعت میں عالمی شہرت کے حامل ادیبوں کی تحریروں کو یک جا کر کے جو معرکہ آ را کارنامہ انجا م دیا ہے وہ اوروں سے تقلیداً بھی ممکن نہیں۔اس فقید المثال کامرانی پر میں سیماب کی مجلس ادارت اور مجلے کے سر پرست و میر کارواں پر وفیسر غازی علم الدین کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں ۔
آثار ِ قدیمہ ،تاریخی مقامات اوراپنے رفتگاں کو یاد رکھنا اور اپنے دِل کو ان عظیم المر تبت بزرگوں کی یاد سے آ باد رکھناسپاس گزاری کی عمدہ مثال ہے ۔سیماب کے اس شمارے میں ’’نقش ہائے کہن در بطنِ خاک ‘‘تاریخ اور اس کے مسلسل عمل کے بارے میں مثبت شعور و آ گہی پروان چڑھانے میں بے حد ممد و معاون ہے ۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اجل کے بے رحم ہاتھ شخصیات تو عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب رخت ِ سفر باندھنے پر مجبور کر دیتے ہیں مگر دائمی مفارقت دینے والی شخصیات کاابد آ شنا علمی ،ادبی اور سماجی مقام فنا کی دست برد سے ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔اس عالم ِ آب و گِل میں زندگی کی حقیقی معنویت اور مقصدیت کو اندیشۂ زوال نہیں ۔تخلیقی فن پارے صدیوں تک نہ صرف اپنے تخلیق کار کے فن کے بارے میں آ گہی فراہم کرتے رہتے ہیں بل کہ نسل در نسل فیض کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔ نظام ہستی چلانے والی عظیم ہستی کے تخلیق کردہ وہ عناصر جو اس وسیع و عریض کا ئنات کی ہمہ گیر فعالیتوں،سدا بہار رنگینیوں اور رعنائیوں کی مظہر بقا ،دوام اور استحکام کے ضامن ہیں وہی اس قادر مطلق کی قدرت کی عظیم الشان مثال بن کر ہمہ گیر وسعت اور محیر العقول ندرت کی شان لیے جلوہ گر ہوتے ہیں۔اختیارِ بشر بلا شبہ محدود ہے مگر قسامِ ازل کی قدرت لا محدود ہے ۔اسی معجز نما ،دائمی اور ابد آ شنا ہستی کے کرم سے کائنات میں ارتقا کاسلسلہ جاری ہے جو فن کو دوام عطا کر کے اسے معجزۂ فن کی شکل میں سامنے لانے کا وسیلہ ہے۔ ادب او رفنون لطیفہ کے ربطِ باہمی سے کائنات کے نظام کے استحکام کی تفہیم میں مدد ملتی ہے ۔زندگی کی اخلاقی اور جمالیاتی اقدار کو حقیقی تناطر میں دیکھنے کے لیے جہاں ماضی ،حال اور مستقبل کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے وہاں ہم نفسان ِ رفتہ سے وابستہ یادوں ،پس ماندگان کی فریادوں ، اہلِ جور کی بے داد ، ستم کشِ سفر رہنے والوں کی پریشاں حالی ،کھنڈرات کی خستگی اور اقدار و روایات کی پامالی بھی توجہ طلب ہے۔ان مشاہیر کی حیات اور خدمات کے مطالعہ سے نئی نسل کی جبلتوں کی تنظیم کو صحیح سمت عطا کرنے میں مدد مِل سکتی ہے ۔ان مشاہیر کی مستحکم شخصیت ، تخلیقی فعالیت اور جبلت کا اہم اور نمایا ں ترین وصف یہ رہا کہ اُنھوں نے ہوائے جور و ستم میں بھی حوصلے اور اُمید کی شمع فروزاں رکھی۔ انھوں نے دُکھی انسانیت کے ساتھ جو عہدِ وفا استوار کیا تھا اسی کو علاجِ گردِشِ لیل و نہار سمجھتے ہوئے زندگی بھر اس پر کا ر بند رہے ۔ ان کی زندگی شمع کے ما نند گزری اور ان کے افکار کی ضیا پاشیوں سے گلشنِ ادب بقعۂ نو ر ہو گیا ۔ وطن اور اہلِ وطن سے قلبی وابستگی ،والہانہ محبت اور تہذیبی و ثقافتی میراث کے تحفظ کی تمنا ان تحریروں کا امتیازی وصف ہے ۔مجید امجد نے سچ کہا تھا :
وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
یہ تیرے جسم تیری روح سے عبارت ہے
رُو بہ رُو کے عنوان سے پروفیسر غازی علم الدین(پرنسپل) کا انٹر ویو بھی اس مجلے میں شامل ہے ۔انٹرویو کرنے والے پینل میں پروفیسر عابد محمود مغل اور سعادت حسن خان مہتمم کتب خانہ شامل ہیں۔اس انٹر ویو میں پروفیسرغازی علم الدین (پر نسپل)کی علمی و ادبی خدمات کا مکمل احاطہ کیا گیا ہے ۔ انٹرویو میں کیے گئے تمام سوالات بر محل اور ان کے جوابات بھی نہایت مناسب ہیں۔ اس انٹر ویو کی اہم بات یہ ہے کہ پروفیسر غازی علم الدین نے اپنی گفتگو میں تخلیق ِادب کے لیے درکار ذوقِ سلیم اور تاریخی شعور کو مہمیز کرنے کی سعی کی ہے۔ان کی دِلی تمنا یہی ہے کہ دِلوں کو مہر و وفا کا مرکز بنا دیا جائے اور ہر قسم کی عصبیت کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جائے ۔ معاشرتی زندگی سے جہالت ،اوہام ،عصبیت اور بے عملی کے تارِ عنکبوت صاف کر دئیے جائیں ۔یہی وہ عوارض ہیں جن کے باعث زندگی کی اقدارِعالیہ اور درخشاں روایات پر جان کنی کا عالم ہے ۔ آئینہ ٔ ایام میں اپنی ادا دیکھ کر اپنی تسبیح روز و شب کا دانہ دانہ شمار کرتے ہوئے پروفیسر غازی علم الدین سالک نے وطن عزیز کی نئی نسل کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ سعی ٔ پیہم کے بغیر کوئی جو ہر نہیں کھل سکتا اور انسان کووہی کچھ ملتا ہے جس کے لیے وہ سخت محنت کو شعار بناتا ہے ۔ انھوں نے نئے خیالات ،متنوع موضوعات اورمنفرد پیرایۂ اظہار کو موثر ادبی فعالیت کے لیے نا گزیر قرا دیا ہے ۔تقلید کی مہلک روش سے بچتے ہوئے نئے زمانے اور نئے افکار کی مشعل تھام کر حریت فکر کا علم بلند رکھنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
مجموعی اعتبار سے مجلہ ’’سیماب ‘‘کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ طلبا ہی کاادبی مجلہ نہیں بل کہ یہ طلبا کا بھی ادبی مجلہ ہے۔روشنی کے اِس سفر میں طلبا کی رہنمائی کے لیے ان کے اساتذہ اور مشاہیر ادب بھی ہمہ وقت کمر بستہ ہیں۔مجھے یقین ہے بے لوث محبت ،بے باک صداقت ،حب الوطنی اور انسانیت کے وقار اور سر بلندی کے جذبات سے لبریز یہ زمزم سدا رواں دواں رہے گا اور پاکستان کی نئی نسل اس سے اپنی علمی و ادبی تشنگی بجھا سکے گی۔ اکثر نقاد تعلیمی اداروں سے شائع ہونے والے علمی وادبی مجلات کی مجموعی صور تِ حال کو غیر اُمید افزا قرار دیتے ہیں ۔ علمی وادبی مجلہ ’’سیماب‘‘کے اس شمارے کی اشاعت کے بعدیہ سوچ بدل جانی چاہیے ۔اس وقیع ادبی مجلے کی اشاعت کے پسِ پردہ جو عوامل کارفرما ہیں اور جن شخصیات کی معجز نما ،فکر پرور اور بصیرت افروز رہنمائی مجلس ادارت کو میسر ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔اس مجلے کی ترتیب و تدوین سے لے کر اشاعتی مراحل تک جس ذوق ِ جمالیات کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے وہ اپنی مثال آ پ ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ علمی و ا دبی مجلے ’’سیماب‘‘ نے مضامین نثر اور شعری تخلیقات کے انتخاب میں معیار اور وقار کی جس رفعت تک رسائی حاصل کی ہے اس میں تعلیمی اداروں کا کوئی معاصر ادبی مجلہ اس کا شریک و سہیم نہیں۔اس مجلے کا صوری و معنوی حسن دیکھ کر یہ شعر ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے:
تمھیں سچ سچ بتا دوں کون تھا شیریں کے پیکر میں
کہ مشتِ خاک کی صور ت میں کوئی کو ہ کن کیوں ہو

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof.Dr.Ghulam Shabbir Rana

Read More Articles by Prof.Dr.Ghulam Shabbir Rana: 80 Articles with 133723 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 May, 2017 Views: 847

Comments

آپ کی رائے