یوم تکیبر ----- پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت

(Javed Iqbal Anjum, Chakwal)

ˆ28 مئی 1998ء کو میں معاش کی خاطر جنوبی کوریا میں تھا، وہاں ہمیں اپنا تعارف کرانے کے لئے کافی مشکلات پیش آتی تھیں کیونکہ وہ لوگ جیسے پاکستان کے نام سے واقف ہی نہ تھے۔ لیکن 28 مئی 1998ء دن 3 بجکر 15 منٹ پر پاکستان دُنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنا اور یوں مادرِ وطن کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا۔ دُشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے۔ سفر کا آغاز کٹھن تھا تو دھماکوں کے بعد عالمی پابندیوں کے باوجود مضبوط دفاعی نظام کا حصول بھی مشکل ہو گیا۔ اس سفر پر پاکستان آگے بڑھتا رہا۔ یوم تکبیر ملکی تاریخ کا وہ سنہرا دن ہے جب 1998ء میں بھارتی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے ملکی دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا۔ یہ سارا سفر آسان نہ تھا۔ ان دھماکوں کے بعد ساری دُنیا پاکستان کے نام سے واقف ہو چکی تھی۔ ان دھماکوں کو روکنے کے لئے اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر کافی زور ڈالا کہ کسی طریقے سے یہ دھماکے نہ ہونے پائیں مگر وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے عوام کے جذبات کی قدر کی اور ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کا نام ساری دُنیا میں روشن کر دیا۔ یہ ایٹمی دھماکے اس لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کے حامل تھے کہ ان سے چند دن قبل بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تھے اور اس طرح پاکستان کے ازلی دُشمن بھارت کے دھماکوں کے بعد پاکستان کے لئے دھماکے کرنا لازم ہو چکا تھا اور پھر اس کو اُمت مسلمہ بڑی اہمیت دے رہی تھی۔ چونکہ اسلامی دُنیا کا یہ پہلا ملک بننے جا رہا تھا۔ اس طرح مسلم دُنیا میں جوش و جذبہ عروج پر تھا اور پوری قوم جیسے پھولے سما نہیں رہی تھی۔ یہ دن بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کو کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ جب ان دھماکوں کی خبر میں نے کورین ٹی وی پر سنی تو میرے پاس بیٹھے کورین انجینئر نے مجھے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ پاکستان غریب ملک ہے اور اسی وجہ سے آپ یہاں کام کرنے آئے ہیں لیکن آپ کے پاس تو ایٹم بم بھی موجود ہے، آپ غریب کیسے ہوئے؟ میرے پاس اس کورین کے اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ کاش میں اس کو بتا سکتا کہ ہمارے پاس ایٹم بم بھی ہیں اور جدید میزائل ٹیکنالوجی بھی ہے مگر ہمارے پاس اپنے ملک کے شہریوں کے لئے نہ بجلی ہے، نہ گیس ہے، نہ معیاری تعلیم ہے اور نہ ہی معیاری علاج ہے۔ ہمارے ملک میں صرف افسر شاہی ہے۔ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون موجود ہے۔ تھانے کچہری کا کلچر رُکنے کا نام نہیں لیتا۔ ہمارے ملک کا سارا نظام ہی خراب ہے، اس کو بدلنے کے لئے نجانے اور کتنا ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔ دُنیا میں روس کے پاس 7 ہزار 300 نیوکلیئر بم موجود ہیں۔ امریکہ کے پاس 7 ہزار، فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 260، برطانیہ کے پاس 215، بھارت کے پاس 130، پاکستان کے پاس 120 اور اسرائیل کے پاس 80 ہیں۔ لیکن ان ممالک میں اسرائیل نے ابھی تک نیوکلیئر ٹیسٹ نہیں کئے۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا بھی ایٹمی قوت رکھتا ہے۔ دُنیا کے نقشے سے پاکستان کا نام مٹانے کی سازش کے آگے کبھی ذوالفقار علی بھٹو آگے بڑھے، کبھی جنرل ضیاء الحق اور اسحاق خان اور پھر بے نظیر بھٹو نے قدم آگے بڑھائے لیکن نواز شریف سب پر بازی لے گئے۔ جب اُنہوں نے عالمی دباؤ کے باوجود قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایٹمی دھماکوں کی بدولت پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوا مگر صرف دھماکے ہی کافی نہیں تھے۔ اس صلاحیت کے ساتھ مکمل ڈیلیوری سسٹم کی بھی ضرورت تھی۔ 1998ء میں غوری میزائل سے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔ غزنوی، ابدالی، شاہین اور حتف میزائل کی ایک وسیع رینج موجود ہے۔ بہترین کمانڈ اینڈ کنٹرول میکنزم، قابل اعتماد، قابل بقاء فورس، ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کا میزائل سسٹم اور ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کا عالمی معیار، عالمی ماہرین کہتے ہیں کہ ان چاروں شعبوں میں پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خود کو منوا چکا ہے۔ آج پاکستان اس ٹیکنالوجی میں بہت آگے جا چکا ہے۔ اب پاکستان کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ اگر آپ دُنیا کا جائزہ لیں تو جنوبی کوریا ترقی کے عروج پر ہے جبکہ شمالی کوریا میں انتہا کی غربت ہے لیکن جنوبی کوریا کو اپنے دفاع کے لئے 35 ہزار امریکی فوجیوں کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے، چونکہ اُس کا دفاعی نظام کمزور ہے جبکہ اُس کے مقابلے میں شمالی کوریا اپنے دفاعی نظام کی وجہ سے امریکہ جیسے ملک کو بھی آنکھیں دکھاتا رہتا ہے۔ پاکستان اس وقت اپنے دفاعی نظام میں بہت آگے جا چکا ہے اور اس میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔ اﷲ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Iqbal Anjum

Read More Articles by Javed Iqbal Anjum: 79 Articles with 34417 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 May, 2017 Views: 471

Comments

آپ کی رائے