سفر مسیحائی -- میڈیکل ڈاکٹر کا سفر ڈاکٹری

(ڈاکٹر محمد محسن, Karachi)
اس مضمون میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایک ڈاکٹر جس کو معاشرے کے فرد اکثر برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں وہ کن کن مراحل سے گزر کر یہاں تک پہنچتا ہے۔ اور کیوں لوگوں کو مسیحاؤں کی عزت کرنی چاہئے۔

کسی اسپتال میں ڈاکٹر کی اس تصویر پر لوگوں کے کمنٹس پڑھے، کوئی اس تصویر کو دیکھ کر پوری ڈاکٹر کمیونٹی پر بھڑاس نکال رہا ہے، کوئی پورے پیشے کو گالیاں دے رہا ہے تو کوئی ڈاکٹروں کا ہی بائیکاٹ کا مشورہ دے رہا ہے۔۔۔

دوسری طرف کچھ لوگ -- جس میں ڈاکٹرز اور میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہے -- وہ اس ڈاکٹر صاحب کا بلاتحقیق دفاع کرکے ڈاکٹر کی زندگی کے مصائب اور پریشانیوں​ کا رونا رہے ہیں۔۔۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر کی جاب دنیا کے مشکل ترین پروفیشنز میں سے ایک ہے۔ جس طرح کی روٹین اور ٹف ٹائم کا سامنا ہم ڈاکٹروں کو کرنا پڑتا ہے شاید ہی کسی اور پیشے میں کسی اور کرنا پڑتا ہو۔۔۔ عام طور پر ایک آدمی ہفتے میں ۴۰ سے ۴۸ گھنٹے اوسطا اپنی ڈیوٹی پر گزارتا ہے لیکن ایک ڈاکٹر اوسطا ایک ہفتے میں ۸۲ سے ۹۶ گھنٹے اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔۔ ایک شخص جب ایم بی اے کرتا ہے تو کم از کم ۱۶ تعلیمی سال لگ جاتے ہیں اور اس کی ابتدائی تنخواہ ۵۰,۰۰۰ روپے سے ۱۲۰۰۰۰ روپے کے درمیان ہوتی ہے، اسکے علاوہ کی سہولیات کو فی الحال نظرانداز کردیجئے۔۔ جبکہ ایم بی بی ایس کرنے کے لئے کم از کم ۱۷ تعلیمی سالوں کی ضرورت پیش آتی ہے، اور اسکے بعد ایک سال کی ہاؤس جاب ٹریننگ شروع ہوتی ہے جس میں ۳۰٪ ڈاکٹروں کو بغیر کسی وظیفے کے کام کرنا پڑتا ہے جبکہ صوبہ سندھ میں ۳۰,۰۰۰ ہزار روپے ماہانہ وظیفہ اسکو ملتا ہے اسکے علاوہ کوئی سہولت اس کو نہیں ملتی، وہ ہفتے میں دو ڈیوٹیاں تیس تیس گھنٹے کی انجام دیتا ہے جس میں بمشکل ۲ سے ۴ گھنٹے سو پاتا ہے۔ اس قیام کے دوران تین وقت کا کھانا، چائے بسکٹ وغیرہ کا خرچہ بھی اسی کے ذمہ ہوتا ہے۔ مہینے کا ایک اتوار اور ایک ہفتہ لازمی اسپتال میں ڈیوٹی دینی ہوتی ہے اور بعض اوقات دو اتوار اور دو ہفتے تک کی بھی نوبت آجاتی ہے۔ پھر جب ایک سال ختم ہوجاتا ہے تو وہ اسپتال اسکو اللہ حافظ کردیتا ہے اور وظیفہ بند ہوجاتا ہے، اس کے بعد وہ دو سے تین مہینے جان لگا کر دوبارہ پڑھائی کرتا ہے، کسی فیلڈ میں اسپیشلائزیشن کے پہلے مرحلے کا ٹیسٹ دیتا ہے۔ پھر یہ ٹیسٹ بھی عموما پہلی کوشش میں پاس نہیں ہوتا، کبھی دوسری کبھی تیسری تو کبھی دسویں یا بارہویں کوشش پر پہلا مرحلہ پاس ہو بھی جائے تو پوسٹ گریجویشن ٹریننگ کے لئے مختلف اسپتالوں میں اپلائی کرتا ہے، ہر اسپتال میں اپلائج کرنے کے لئے ۳۰۰۰ سے ۵۰۰۰ تک فیس ادا کرتا ہے، پھد معاملہ یوں ہوتا ہے کہ ان اسپتالوں میں ایک سیٹ کے لئے ۱۲ لوگوں کا مقابلہ ہوتا ہے، اس طرح ۱۲ ڈاکٹروں میں سے ایک ڈاکٹر پوسٹ گریجویشن ٹرینی بنتا ہے۔ جب اس کا سلیکشن ہوتا ہے تو ۵۰,۰۰۰ روپے بونڈ کے اور ۲۵۰۰۰ روپے سالانہ مانیٹرنگ فیس ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر مہینے کوئی نہ کوئی مینڈیٹری ورک شاب اس کے لئے تیار کھڑی ہوتی ہے جس کی فیس ۲۵۰۰ تک ہوتی ہے۔ اس ٹریننگ میں بھی وہ ہاؤس جاب کی طرح ہفتے اتوار اور ہفتے میں ۷۰ سے ۹۶ گھنٹے ڈیوٹی کرتا ہے۔ اس ٹف شیڈول میں بسا اوقات وہ اپنے گھر والوں اور خاندان والوں کی خوشی غمی میں شرکت سے محروم ہوتا ہے، بلکہ ماں باپ بھائی بہن اور بیوی بچوں تک کی بیماری میں ڈاکٹر ہونے کے باوجود کھڑا نہیں پاتا کہ اسپتال میں مریضوں کو اس کی ضرورت ہے، چھٹی کے دن بچوں کو گھمانے لے جانے کا وعدہ اکثر توڑ کر اسپتال بھاگ آتا ہے کہ سینئر نے کال کرکے بلا لیا ہے۔۔

دوسری طرف ڈیوٹی پر ہوتا ہے تو بطور ہاؤس آفیسر وہ ڈاکٹر کے بھیس میں سوئپر بھی، وارڈ بوائے بھی ہے، ڈریسر بھی ہے، نرسنگ اسٹاف بھی ہے، گارڈ بھی ہے، سینئرز کا نوکر بھی ہے اور ڈاکٹر تو ہے ہی۔ وہ مریض کے پیشاب کے تھیلے بھی خالی کرتا ہے، مریض کے ایکسرے الٹرا ساؤنڈ اور دیگر ٹیسٹوں کے لئے اس کو اسٹریچر یا وہیل چیئر پر دھکا لگا کر ایک ڈیپارٹمنٹ سے دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں لے کر جاتا ہے، مریضوں کے ایسے زخموں پر بھی پٹی کرتا ہے جس زخموں کے پاس ناقدین ایک سیکنڈ بھی کھڑے نہ رہ سکے کیونکہ سڑے ہوئے زخموں کا تعفن ان کی حس بیداری ہی اچک لے جائے، کبھی خون کا نمونہ جمع کرنا، ادویات لگانا، پیشاب کی، ناک کی اور پاخانے کی نلکیاں بھی لگاتا ہے۔ روز آکر سب سے پہلے مریض کو چیک بھی کرتا ہے، اپنے علم کے مطابق اس کا ٹریٹمنٹ پلان بھی ڈیزائن کرتا ہے تاکہ سینئر سے تبادلہ خیال کرکے اس کی توثیق لے سکے۔۔ بعض اوقات ان غلطیوں کے لئے بھی سینئر کی ڈانٹ سنتا ہے جو اس نے کی ہی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ مریض کا ہر ملاقاتی آآکر دن میں چھ سے دس بار ایک ہی مریض کے بارے میں پوچھتا ہے، اگر مصروفیت یا فرسٹریشن کی وجہ سے وہ جواب نہ دے پائے تو یہ لیبل بھی سہتا ہے کہ ڈاکٹر تو یہاں کچھ کرہی نہیں رہے، کبھی رات کے وقت ماحول تھوڑا ریلیکس دیکھ کر کاؤنٹر پر ہی سر رکھ کر ابھی قیلولے کی ابتداء ہی کررہا ہوتا ہے کہ مریض کا ملاقاتی اپنی رات دس سے صبح پانچ بجے کی نیند پوری کرنے کے بعد ڈاکٹد صاحب کو زور سے ہلاکر پوچھتا ہے کہ مریض کو چائے بسکٹ کھلا سکتا ہو؟ حالانکہ رات میں مریض نے ڈاکٹر کی اجازت سے ہی تکہ چپاتی کھائی ہوتی ہے، پھر ٹرینی بنتا ہے تو بھی ان کاموں سے کچھ چیزوں سے تو جان خلاصی تو ہوجاتی ہے لیکن اب دوسری ٹینشنز اس کا دروازہ کھٹکھٹانے کھڑی ہوتی ہے۔ اب وہ اپنے جونئیرز کے کئے کا بھی جوابدہ ہوتا ہے اور مریض کی ساری ذمہ داری اس کے گلے پڑتی ہے۔۔ اتنی سخت روٹین کے باوجود اسے روز پڑھنا بھی پڑتا ہے کہ ابھی اسپیشلائزیشن کے امتحان بھی دینے ہیں، اور جس دن نہ پڑھے وہ دن موت سے کم نہیں ہوتا، چار سے پانچ سال کی ٹریننگ کے بعد اسپیشلائزیش کے امتحان دے کر تین سے چھ دفع فیل ہونے کے بعد پاس ہوکر وہ بڑا ڈاکٹر یعنی اسپیشلسٹ بن جاتا ہے۔۔ اب یہاں سے اس کی پروفیشنل زندگی کا آغاز ہوتا ہے، اب وہ اپنے نام سے مریض بنانا شروع کرتا ہے۔۔ کامیابی کا دارومدار محض قسمت پر ہوتا ہے، یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ اگر چل پڑا تو پیسہ ہی پیسہ ورنہ دو وقت کی روٹی بھی مشکل۔۔۔

اتنے کٹھن مراحل سے گزرنے کے باوجود آپ کو صحت دینے کی خاطر، اپنے ماں باپ، بیوی بچوں کا وقت آپ پر نثار کرنے کے باوجود بھی آپ اس پر حملے کریں، اس کی بے عزتی کریں تو پھر وہ بیچارہ آپ کو اے ٹی ایم مشین نہیں سمجھے گا تو کیا سمجھے گا؟؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ڈاکٹر محمد محسن

Read More Articles by ڈاکٹر محمد محسن: 15 Articles with 28086 views »
مسیحائی آسان کام نہیں، بس خدا سے دعا ہے کہ اس بوجھ کو احسن انداز میں اٹھاسکوں.. View More
23 May, 2017 Views: 1046

Comments

آپ کی رائے
ap ne bhut ahm pehlo pe bat ki. hum me se aksar log in haqeeqatoo ko nhe janty wo bus ye janty hain k doctor din rat note chapta rehta hai
By: Hamid Raza, Islamabad on Jun, 26 2017
Reply Reply
0 Like