ٹرمپ سعودیہ،پاکستان اور ایران

(Shafiq Malik, Hyderabad)
ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور سعودیہ پاکستان کا سب سے بہترین دوست جو ہر مشکل میں پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر اآیا مگرہمیں اس حمایت کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑی اس کا اندازہ شاید اآج ہمیں نہ مگر اآنیوالا مئورخ ضرور لکھے گا کہ سعودیہ اور ایران نے اپنی اپنی انا کی جھنگ پاکستان کے کندھے پر بندوق رکھ کر لڑی،،،بہت ہو گیا اب یہ سلسلہ بند ہو جا نا چاہیے کہ ہر ملک اور قوم کو سب سے مقدم اپنا اور صرف اپنا مفاد ہوتا ہے،،،،،

غیرت و حمیت پرانی باتیں ہوئیں،مومن اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے مگر شرط صرف یہ کہ مومن ہو،بھانت بھانت کی بولیاں،غیروں سے کہا غیروں سے سنا،نئی دنیا کے نئے تقاضے،ایران دنیا کا ناپسندیدہ ترین ملک ہمارا ہمسایہ مگر اب ہمارے لیے بھی نا معقولیت کی طرف رواں پاگل اور پسماندہ لوگوں کا گروہ، ٹرمپ سرکار کو انکار کی جراء ت خدا کی پناہ،سب کچھ پتہ تھا اس کے باوجود ہم بھی بھاگے بھاگے پہنچے کہ کہیں دیر نہ ہو جائے اور دیدار یار سے محروم نہ رہ جائیں،لائن لگا کے قطار میں محو انتظار کے کہیں ٹرمپ کے گورے چٹے مصافحے سے محروم ہو گئے تو شاید مردود قرار دیے جائیں گے ،اور اربوں کے مالک عرب جو اپنے ملک میں عورت کو عیاشی کا سامان کے علاوہ جنس ممنوع تک قرار دینے کو تیار،کوئی عورت ڈرائیونگ نہیں کر سکتی ورنہ سرگردن سے الگ اور ادھر ٹرمپ کی بیوی اور بیٹی کو دیکھ دیکھ کر رال یوں ٹپک رہی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی،تین تین مرد ایک ایک عورت کو یوں گھیرے بیٹھے ہیں جیسے جنگلی درندے کسی کمزور ہرنی کو گھیر کر اس کی بے بسی سے لطف اٹھا رہے ہوتے ہیں،مگر ادھر جتنی مرضی حرص وحوس چھلکتی رہے مجال نہیں کسی کی کہ کوئی سامنے گردن کو ذراسا جھٹکا دے سکے کہ وہ یہودی النسل ٹرمپ کی بیوی اور بیٹی ہے،یہ خادمین و حرمین شریفین جب اپنی تلوار ڈونلڈ ٹرمپ کو دیکر اس کی کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر روایتی رقص کر رہے تھے تو ان مسلمانوں کے دلوں پہ کیا گذری ہو گی جنہیں آج تک واعظین اسلاف کے یہی اقوال بتاتے اور سناتے رہے کہ یہود نصاریٰ کو کبھی دوست نہ بنانا یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں مگر تمھارے کھلے دشمن،بھلے ایران تمھار ا دشمن ہے ،بھلے تمھیں ایران اور ایرانی ایک آنکھ نہیں بھاتے مگر دشمنی اور مخالفت کے بھی کچھ اصول اور ضابطے ہوتے ہیں،یہاں تو نہ اسلاف ہی یاد رہے اور نہ ہی سرزمین عرب کا پاس کہ ہم کون ہیں کیا ہیں کیا تھے اور کیا کر کرہے ہیں ،ایرانی قوم سے ایک ہزار اختلاف کے باوجود میرا ایمان ہے کہ وہ ٹرمپ او ر اس جیسوں سے ایک ہزار درجے بہتر انسان ہیں ،کیوں کہ ان کی کتاب اور ہماری کتاب ایک ہے،خدا ایک ہے رسول ایک ہے،وہ ہماری طرح کلمہ گو مسلمان ہیں جدید دنیا کو ایک آنکھ نہیں بھاتے کہ ابھی کچھ غیرت و انا ان میں باقی ہے،فقہی اختلاف اپنی جگہ مگر کوئی اس حد تک بھی جا سکتا ہے اور اس سب کے باوجود زعم ہو کہ وہ ہی سب سے افضل مسلمان بھی ،مسلمانوں کا لیڈر بھی ،کیسے سمجھ لیا گیا کہ ڈنلڈ ٹرمپ مسلمانوں سے زیادہ آپ کا خیرخواہ ہو سکتا ہے،کوئی مسلمان خواہ کتنا ہی گیا گذرا کیوں نہ ہو مکہ اور مدینہ اس کے ایمان کا حصہ اور اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں ،ایران سے اختلاف اول تو ہونے نہیں چاہئیں اور اگر کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ ہو بھی تو اسے کسی تیسرے اسلامی ملک کو ثالث بنا کر حل کیا اورکروایا جا سکتا ہے،مگر جہاں فقط ٹرمپ کی خوشنودی مقصود ہو وہاں کہاں کی عزت اور کہاں کی غیرت،شہنشاہ معظم نے ریاض کی سب سے بڑی سڑک کانام ٹڑمپ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کر دیا صرف یہی نہیں بلکہ سڑک کے شروع میں عالم پناہ ٹرمپ سلطانی کا مجسمہ بھی نصب کیا جائے گا،اس کے علاوہ جناب عالی مرتبت نے جھومتے جھامتے ٹرمپ کو ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کے تحائف سے بھی نواز دیا اور اسی پر بس نہیں کیا فرمان جاری کیا کہ یہ درجنوں کمروں پر مشتمل یاٹ (چھوٹا بحری جہاز) اور25 کلو سونے سے مزین تلوار سمیت سب کچھ ٹرمپ کو ذاتی طور پر گفٹ کیا گیا ہے یہ سامان ٹرمپ کی صوابدید ہے امریکہ کے میوزم کے لیے نہیں ٹرمپ صاحب کی ذاتی ملکیت ہو گادوسری طرف یہ خادمین دنیا بھر سے آنیوالے حج اور عمرہ زائرین کو ایک پائی تک معاف کرنے کو تیار نہیں ،ادھر ہمارے وزیر اعظم صاحب بھی بھاگم بھاگ اور مان نہ مان کی تصویر بنے گھنٹوں جہاز میں اس تقریر کی تیاری کرتے رہے جو ہونی ہی نہ تھی،بعد میں وجہ بیان ہو رہی ہے کہ جناب معذرت وقت کی قلت تھی،وقت کی قلت یقیناًہو گی مگر ان کے لیے جو میلہ دیکھنے آئے تھے آپ توپاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے جی ہاں اس پاکستان کی جو سب سے زیادہ متائثر ہوا اس نام نہاد جنگ سے،سب سے زیادہ جانوں کا نذرانہ بھی ہم نے پیش کیا،کبھی جہاد کے نام پر تو کبھی امن عالم کے نام پر،پاکستان کا نام تک نہ لینا اور پاکستان کے وزیر اعظم کو بظاہر بے عزت کر کے کس کو کیا پیغام دیا گیا،ایک اور صاحب بھی وہاں ڈیرہ جمائے بیٹھے ہیں،پاکستانی قوم نے جنہیں وہ عزت دی جو قائداعظم کے بعد شاید پہلی دفعہ کسی شخصیت کے حصے میں آئی ،سب سے طاقتور عہدے سے ریٹائر ہوئے بجائے اس کے کہ باقی لائف گالف کھیلتے اور عزت و ناموس کو سنبھالتے مگر کیا کہیے اس کو کہ لالچ اور مزید پیسے کی ہوس عقلوں کو ماؤف کر دیتی ہے،اس سارے دورہ ٹرمپ کے دوران عالمی امن فورس کے ہونے والے سربراہ ایک جگہ پہ کھانے کی میز پر نظر آئے وہ بھی کسی اوسط درجے کی سرکاری شخصیت کے ساتھ،کیا پیسہ ہی سب کچھ ہے اور دوسری بات یہ کہ کتنا پیسہ ،سچ ہے کہ انسان کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے،آپ کی اس سربراہی اور سالاری سے سب سے زیادہ نقصان اپنے ملک کو ہو گا،ہم پہلے ہی زخم زخم بدن لیے پھرتے ہیں ،سعودیہ کو یمن شام اور ایران سے اپنا حساب چکانے کے لیے پرائے کندھے کی ضرورت تھی جو اسے یہاں سے میسر آگیا، کرائے کی فوج کی بھی انہیں ضرورت تھی جس کے لیے پاکستان نے واشگاف لفظوں میں انکار کیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے پاکستانی فوج ایسا کوئی کردار ادا نہیں کرے گی، میاں نواز شریف کے ساتھ یہ سلوک محض اسی وجہ سے کیا گیا اگر وہ سعودیہ و امریکہ بہادر کی بات من و عن تسلیم کرلیتے تو نہ صرف ان کے استقبال کے لیے ریڈ کارپٹ کے ساتھ شاہ سلمان اور ٹرمپ دیدہ دل فرش راہ ہوتے بلکہ جتنی دیر چاہے تقریر بھی کرتے انہیں تسلی اور اطمینان سے سنا بھی جاتا،اس لحاظ سے پاکستانی وزیر اعظم کا کردار قابل ستائش ہے،کیوں کہ القاعدہ ہو یا داعش کم از کم ان کی آبیاری میں ایران کا کوئی ہاتھ نہیں یہ دہشت گرد تنظیمیں امریکہ کے تھنک ٹیکنس کی ایجاد ہیں جن کو سعودی ڈالروں کی کھاد مہیا کی گئی،میں نے اس سے قبل بھی بارہا اپنے کالموں میں عرض کی کہ کوئی بھی ملک ہوآج کے دور میں اسے سب سے پہلے اپنا مفاد عزیز ہو گا ،یہ ہماری بھول ہے کہ سعودیہ یا ایران کڑاوقت پڑنے پر ہمارے سر پر کھڑے ہوں گے،ان دو ملکوں نے ہمیں فرقہ واریت کی جس جنگ میں جھونکا ہے اس سے نکلنے کے لیے صدیا ں درکارہیں،ہمیں بھی باقی دنیا کی فکر چھوڑ کر صرف اپنے گھر کی فکر کرنی چاہیے اور ان دونوں ملکوں کو سخت میسج دینا چاہیے کہ برائے کرم اپنے گندے کپڑے اپنے گھر میں دھوئیں،اس کے علاوہ ہمارے ریٹائرڈ جرنیل صاحب کو کسی کاغذی فوج کا سربراہ بننے کی بجائے واپس گھر کی راہ لینی چاہیے کہ کوئلوں کے کاروبار میں پیسے تو بہت کمائے جاسکتے ہیں مگر ہاتھ اور منہ کو کالک سے بچانا ممکن نہیں رہتا،اگر بہت ہی شوق ہے تو دو سال انتظار کریں اور اس کے بعد سیاست میں آکر اپنے ملک کی خدمت کریں،،،،اللہ ہم پہ رحم کرے،،،،

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
30 May, 2017 Views: 579

Comments

آپ کی رائے