کرپشن کرو ۔ بس حصہ دے دو

(Tanvir Sadiq, Lahore)

 آدمی کس کس ادارے کا ماتم کرے۔ سب ادارے تباہی سے دو چار ہیں۔ ہر جگہ نا اہل اور نالائق بیٹھے ہیں۔ وزیر اس شخص کو لگایا جاناچائیےے جو قوم کو کچھ دے سکے کچھ DELIVER کر سکے ۔ وزیر لگانا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔وزیر اعظم کا معیار یہ ہے کہ ہمارے وزیروں کا کوئی معیار ہی نہیں ۔کسی وزیرکو DELIVER کرنا آتا ہی نہیں۔ ہمارے وزیر اپنا پیٹ بھرنے اور اپنا مفاد حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ اداروں میں جہاں انتہائی سنجیدہ، متین ، خاموش طبع اوربرد بارلوگ وزیر ہونے چاہئیں ان اداروں میں عجیب عجیب لوگ وزیر تعینات ہیں ۔

بجلی اور بجلی کے محکمے کی صورتحال اس قدر خراب ہے کہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔گرمیاں آتے ہی اس کا اندازہ ہر شخص کو ہونے لگا ہے۔مگر ا س کی اصلاح کی بجائے حکومت نے گوئبلز کے پیروکاروں کو وزیر اور وزیر مملکت بنایا ہوا ہے جو صرف نعرے بازی کرتے ہیں ۔ بجلی کے متعلق تو یہ حکومت پچھلی حکومت سے بڑھ کر جھوٹ بولتی ہے۔دن میں بارہ بارہ گھنٹے سے زائد بجلی غائب رہتی ہے اور یہ روز جھوٹ پر مبنی اعدادوشمار سے ملک کو بجلی میں خود کفیل بتاتے ہیں۔

میں جناب نواز شریف کے قرب میں رہتا ہوں۔کھلا علاقہ ہے۔ بجلی کی صورتحال یہ ہے کہ ہلکی سی تیز ہوا چلے تو بجلی غائب۔ شکایت کرنے پر صبح کے وقت تو صحیح کر جاتے ہیں مگر رات دس بجے کے بعد اگر لائٹ چلی جائے تو اگلے دن دوپہر تک ہی صحیح ہوتی ہے، اسلئے کہ رات کو کوئی ڈیوٹی نہیں دیتا۔ رات کی ڈیوٹی والے حاضری لگا کر واپس اپنے گھر جا کر سو جاتے ہیں۔ اس دن بجلی بیس گھنٹے سے زیادہ وقت مسلسل غائب رہتی ہے۔گرمی کے مارے پریشان لوگ برا بھلا کہیں، گالیاں دیں۔ کچھ نہیں ہوتا۔شکایت کلرک ان باتوں کااس قدر عادی ہو چکا ہے کہ برا ہی نہیں مانتا۔ وہ خود بھی بے بس ہوتا ہے کہ جنہیں چیک کرنا ہے وہ بھی اپنی نیند خراب نہیں کرتے ۔حکمرانوں کی گڈ گورننس کی یہ شرمناک مثال ان کے گھر کے ارد گرد کے علاقے کے بارے ہے جس سے باقی پورے ملک میں حکمرانوں کی گورننس کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔

پولیس والے لاکھ دعویٰ کریں کہ ہمارا احتسابی نظام بہت بااثر ہے مگر سب جھوٹ، وہاں ایماندار وہ ہے جو روٹین رشوت پر قناعت کرتا ہے۔تھانے بکتے ہیں ا ور رشوت تھانوں سے خودبخود آجاتی ہے۔ اسے وہ شیر مادر کی طرح وصول کرتے اور کھاتے پیتے ہیں۔ اس کے علاوہ پیسوں کا لالچ کرنے والا کرپٹ ہے۔ یہ پولیس ہی نہیں پورے ملک کا سرکاری کلچر ہے۔ پولیس کے بارے ایک سینئر صحافی بتا رہے تھے کہ بہت سارے تھانیداروں نے اپنے ڈاکو پال رکھے ہیں، جہاں جاتے ہیں ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ تحفظ اور شراکت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔میں تو ہمیشہ سے اس بات کا قائل ہوں کہ ہماری پولیس ناقابل اصلاح ہے۔

نیب جسے اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے بذات خود ایک کرپٹ ادارہ ہے۔ اس کے افسران مک مکا پر یقین رکھتے ہیں اور اس بات کی اجازت ان کا قانون بھی دیتا ہے۔ وہ سرکاری اور غیر سرکاری ہر سطح پر کرپٹ لوگوں کے ساتھ طے کر لیتے ہیں۔ کوئی بڑا یا مالدار آدمی قابو آجائے تو مک مکا اور اگر کوئی مڈل کلاس کا ایسا بندہ ہتھے چڑھ جائے جو کچھ دے نہ سکے اس کی تشہیر اس انداز سے کی جاتی ہے کہ الامان۔ کوئی انہیں یہ نہیں پوچھتا کہ ایک کیس کو تم کس قدر اچھالتے ہو، اس پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہو اور اگر وہ غلط ثابت ہوجا ئے تو تمہیں اس کی سزا کیوں نہ دی جائے؟ مگر یہاں سب جائز ہے۔ آپ کچھ کر لو۔ جتنی مرضی کرپشن کر لو۔ نیب والا کوئی پوچھنے آئے اس کا حصہ دے دو۔ یہی نیب کا زریں اصول ہے۔
ملکی صورتحال تمام معاملات میں کسی طرح بھی تسلی بخش قرار نہیں دی جا سکتی۔ کبھی طالبان، کبھی دہشت گرد، کبھی خودکش بمبار اور کبھی اپنے ہی پالے ہوئے سانپ پوری قوم کے لئے پریشانی کا باعث ہیں۔سب سے بڑھ کر ہمارے نااہل سیاستدان ہیں کہ جنہوں نے قوم کو آزردگی، مایوسی اور ڈپریشن کے سوا کچھ نہیں دیا۔ سیاسی کلچر اس قدر بگڑ چکا ہے کہ جو کرپٹ اور نااہل نہ ہو اسے سیاستدان ہی سمجھا نہیں جاتا۔سیاست کا عقل وخرد سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔سارے سیاستدان بہ کار خویش ہوشیار، عوام کا صرف نام لیتے ہیں ان کے بارے سوچنا برا سمجھتے ہیں۔پارٹی نئی ہو یا پرانی۔ اس کا لیڈر اپنی تمام خوبیوں کے باوجود ان مخصوص درد دل رکھنے والے سیاستدانوں کے نرغے میں پوری طرح دکھائی دیتا ہے جو پاکستان بننے سے آج تک ہر دور میں عوام کے مفاد میں ڈال ڈال، پات پات چھلانگیں لگاتے ہر ہرے بھرے درخت پر ڈیرے جمائے رہتے ہیں۔

کبھی کبھی جولگتا ہے کہ اب صورتحال قدرے بہتری کی طرف گامزن ہے ، تویہ شاید کچھ ہماری عدلیہ اور کچھ ہماری فوج کے جوانوں کا کمال ہے ۔ خدا نہ کرے یہ ادارے ڈگمگائیں کیونکہ حالات کی خرابی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ہماری بقاء خطرے میں ہے۔۔ غنیمت ہے کہ عدلیہ اور فوج کے لوگ اس کلچر میں کسی حد تک ابھی پوری طرح آلودہ نہیں ہوئے اسی لئے لوگوں کو عدلیہ اور فوج سے بے حد امیدیں ہیں۔اﷲ نہ کرے لوگوں کی آس اور امید ٹوٹے ۔ٹوٹی ہوئی امید انارکی کو دعوت دے گی جس کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے۔شدت پسندوں سے نفرت اور اپنے حقوق کے لئے جائز انداز میں بات کرنے والے لوگ بھی اگر میدان عمل میں آ گئے تو صورتحال بہت زیادہ خرابی کا باعث ہو گی۔لوگ خرابی کے ذمہ داروں کو معاف نہیں کریں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 436 Articles with 220105 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
08 Jun, 2017 Views: 475

Comments

آپ کی رائے