شریف خاندان کا مقافات عمل اور مرضی کا قانون

(Haleem Adil Shaikh, )

مسلم لیگ نواز کے لیڈروں کی بیان بازیوں سے صاف ظاہر ہے کہ وہ عدلیہ جس میں جے آئی ٹی بھی شامل ہے اس کو متنازع بنا دینا چاہتے ہیں ،تاکہ اگرفیصلہ شریف فیملی کے خلاف آتاہے تو یہ لوگ اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ سکیں۔ ماضی میں عام طور پر فیصلے نواز لیگ کے حق میں ہی آتے رہے ہیں ، لیکن اب جب کہ معاملات ان کے لیے بگڑ رہے ہیں تو یہ چاہتے ہیں کہ اس بار بھی ان کی کرپشن کا بھانڈا نہ پھوٹے بلکہ وہ میڈیا کے ذریعے اپنے خلاف سازش اور مخالفت کی بات کرکے خود کو اپنے خلاف فیصلہ آنے کے بعد سیاسی شہید ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں ۔مسلم لیگ ن کے موجودہ خراب دن ان کی اپنی ہی غلط پالیسیوں اور تکبر کی وجہ سے ہیں بادشاہانہ انداز میں جمہوری ادارے چلا کر اور ہر مخالف عنصر کو ایک طرف دھکیل کر باربار کامیابیاں حاصل کرنے سے غالباً انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ اس ملک میں جو کچھ بھی کرنا چاہیں کرسکتے ہیں ان کا مقافات عمل نہیں ہوسکتا۔قائرین کرام نظام کو کمزور کرکے خود کو مظبوط بنانے کا فارمولہ یہ لوگ گزشتہ تین دہائیوں سے چلارہے ہیں ،مگر اب ایسا لگتا ہے کہ یہ خود ہی اپنی پالیسیوں کا شکار ہوچکے ہیں اور خود کو بچانے کے لیے مزیدغلطیوں پر غلطیاں کئے جارہے ہیں جس میں ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا چلا جارہاہے ،حکومت عدلیہ اور اپوزیشن کے خلاف بیان بازیوں سے وقتی سکون تو حاصل کرسکتی ہے مگر طویل المعیاد سیاست میں اس قسم کی حرکتیں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے ،نواز لیگ کے حواری جو ڈرامہ آج کھیل رہے ہیں 1997میں بھی حالات کچھ اس سے مختلف نہ تھے اس وقت بھی موجودہ وزیراعظم اپنی نابلد پالیسیوں کی وجہ سے پھنسا ہوا تھا جسے بچانے کے لیے اس وقت کے وزراء نے اپنی اوچھی حرکتوں اور تکبر کا بھرم رکھنے کے لیے سپریم کورٹ پر حملہ کردیا تھا اور یقینا یہ حملہ نواز حکومت کی جانب سے جان بوجھ کر کیا گیا تھا اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس بار حالات کچھ مختلف ہیں کیونکہ اس وقت وزیراعظم اکیلے نہیں بلکہ اپنے پورے خاندان سمیت پھنسے ہوئے ہیں،تاریخ ایک بار پھر سے دہرائی جارہی ہے فی الحال نہال ہاشمی کی جانب سے عدلیہ پر لفظی حملہ کیا جاچکاہے عوام کی ایک بڑی اکثریت کا ماننا ہے کہ نہال ہاشمی سے بیان دلوایا گیاہے ،اسی انداز میں حکومت تسلسل سے سپریم کورٹ کی تضحیک کرنے میں مگن ہے ،حالانکہ سپریم کورٹ نے یہ ہی کہا ہے کہ آمروں نے بھی ہمارے بچوں کو کبھی دھمکیاں نہیں دی اگر حکومت کو سپریم کورٹ کی جانب سے اس قدرسنگین دھمکیوں پرمافیا کہہ دیا گیا ہے تو اس میں غلط ہی کیاہے آپ مسلسل ایک شخص کو دھمکیاں دیں اور وہ اپنے دفاع میں کچھ بھی نہ کہے جبکہ وہ کونسا ایسا دن ہے جب قوم کی جانب سے حکومت کو مافیا یااس سے بھی برے القاب سے نہ نوازا گیا ہو، غرض کہ اس بار حکومت اپنی بیان بازیوں کے ذریعے عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔اس ملک کے مشتبہ حکمران مکمل طور پر آپے سے باہر دکھائی دیتے ہیں ان لوگوں نے اس وقت حالیہ دنوں میں جے آئی ٹی کے احتساب کو متنازع بنانے کے لیے حسین نواز کی ایک تصویرکو جوازبنارکھا ہے جس میں دعویٰ کیا ہواہے کہ یہ تصویرپی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے جاری کی ہے یا پھر خود جے آئی ٹی کی جانب سے ایسا کیا گیاہے مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اسقدر مظبوط کیسے ہوا کہ یہ تصویر ان کے پاس آئی! اور جے آئی ٹی کے ارکان کو کیا پڑی ہے کہ وہ اس قسم کی حرکتیں کریں ؟حالانکہ جس حسین نواز کی یہ تصویر ہے بظاہر اس کے پاس کوئی سیاسی عہدہ نہیں ہے مگر اس کے باوجود اپنے آپ میں وہ ایک حکومت ہے ایک وزیراعظم کا بیٹاہے جس کی انکوائری کے موقع پر جوڈیشل اکیڈیمی کے باہرحکومت کے وزراء کی پوری فوج باہر کھڑی ہوتی ہے۔ ہوسکتاہے یہ تصویرخود حکومت نے جے آئی ٹی کو متنازع بنانے کے لیے خود ہی لیک کی ہو ؟ ۔ہم نے دیکھا کہ نیوز لیک ،سانحہ ماڈل ٹاؤن میں حکومت نے کیا کیا چالاکیاں کھیلی ،اور ان کے وزیروں نے متعدد بار فوج کیخلا ف ہرزہ سرائی کی ،حکومت نے ان لوگوں کو وقتی کارروائیاں کرتے ہوئے ان کے عہدوں اوروزارتوں سے الگ کردیا مگر بعدمیں اس سے بھی زیادہ شان وشوکت کے ساتھ ان وزیروں کو نواز دیا گیاحکومت نے بہت سی ایسی چالیں چلی ہیں کہ جس سے وہ کسی حد تک بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں میں سمجھتا ہو کہ تصویر لیک کا معاملہ بھی حکومت ہی کی کوئی چال ہوسکتی ہے۔خیر یہ ایک الگ معاملہ ہے ہم اس وقت حکومت کے ان ارادوں پر بات کررہے ہیں جو وہ اس وقت ملکی اداروں کے لیے رکھتے ہیں اور یہ سب کچھ ہم حکومت کے بیانات سے اندازہ لگارہے ہیں جن کے وزرا ہر روزٹی وہ ٹاک شو میں عدلیہ اور جے آئی ٹی کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہوتے ہیں ساتھ میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہم اداروں کی عزت کرنے والے لوگ ہیں ۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے عدلیہ پر سخت جملوں کا تبادلہ ایک بار پھر1997کی طرف لیکر جانے والے ماحول کو بنا رہاہے،نوازلیگ کی یہ بدقسمتی ہے کہ وہ اداروں کو اپنے ماتحت کرنے کو ہی حکومت سمجھتے ہیں یعنی جب حکومت ہماری ہے تو ہماری ہی مرضی کا قانون اور ہماری ہی مرضی کا جج ہونا چاہے ؟ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا مگر پاکستان وہ واحد ملک ہے جس پر حکومت کرنے والے حکمران خود ہی سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں ،حکومت کے وفا شعار عہدیداران شریف خاندان کی نظروں میں ایک دوسرے کو سب سے زیادہ وفادارثابت کرنے کی کوشش میں کبھی ان کے خلاف احتساب کرنے والوں کے بچوں کے لیے اس ملک میں زمینیں تنگ کرتے ہیں تو کبھی جھوٹی خبروں کو شائع کرواکر اداروں کی نیک نامی کو متاثر کرتے ہیں ،یقینا یہ عمل سپریم کورٹ کے ججز صاحبان کو دھمکیاں دیکر ان پر اثر انداز ہونے کی ایک کوشش ہے ،اس وقت صوررتحال یہ ہے کہ حکومت کی شعلہ بیانیوں کے باوجود بھی جے آئی ٹی نے حکومت اور حسین نواز کے تینوں آپشن مسترد کریئے ہیں جبکہ حکومت کا آخری حربہ قطری شہزادہ بھی قطری خط کی طرح ریت کی دیوار ثابت ہوا ہے کیونکہ قطرکے شہزادے نے وزیراعظم کے دفاع کے لیے پاکستان آنے سے معذرت کرلی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم خود ہی استعفیٰ دیتے ہیں ہیں یاپھر ان سے لینا پڑے گایہ آپ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں ،آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔ختم شد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haleem Adil Shaikh

Read More Articles by Haleem Adil Shaikh: 56 Articles with 19970 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Jun, 2017 Views: 480

Comments

آپ کی رائے