مودی سرکار پرطاری ’ برہان وانی‘ کا خوف

(Muhammad Amjad, Rawalpindi)

جدوجہد آزادی کشمیر کی موجودہ تاریخ کے سب سے بڑے ہیرو برہان وانی کے نام سے مودی سرکارکس قدر خوفزدہ ہے اس کا اندازہ بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے اپنے ماتحت اداروں کو لکھے گئے اس مراسلے سے لگایا جاسکتا ہے جس میں کہا گیا کہ وہ اپنی سرکاری مراسلت میں برہان وانی کا نام لکھنے سے اجتناب کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ برہان وانی کی شہادت نے مقبوضہ وادی میں جدوجہد آزادی کو ولولہ تازہ فراہم کیا ہے اور یہ نام سنتے ہی مودی اور اس کے کمانڈراپنے ماتھوں کا پسینہ پونچھنے کے لئے جیبیں ٹٹولنے لگتے ہیں۔وانی کی شہادت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام میں بے خوفی اور نڈرپن کی ایسی بجلیاں بھر دیں کہ وہ نہتے ہی بھارتی ٹینکوں اور توپوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ ان کے جذبے کے سامنے بھارتی فوج کی حالت ایک ایسے ہاتھی کی سی ہوچکی ہے جو گہرے گڑھے میں گر چکا ہو اور لاکھ ہاتھ پاؤں مارنے کے وہاں سے نکل نہ پارہا ہو۔برہان وانی کی شہادت کے بعد جدیدہتھیاروں اور پیلٹ گنوں کے علاوہ جان سے مار دینے کے اختیار رکھنے والی سات لاکھ بھارتی فوج کے سامنے کشمیرکا بچہ بچہ بے خوفی کی تصویر بن چکا ہے۔ انہیں گرفتاری کا ڈر ہے نہ موت خوف۔ مائیں بہنیں خود اپنے لاڈلوں اور لخت جگروں کے خون کو آزادی کی شمع روشن کرنے کے لئے پیش کررہی ہیں۔ بڑے بوڑھے بے خوفی سے چوکوں و چوراہوں میں نعرہ آزادی بلند کرتے نظر آتے ہیں۔مقبوضہ وادی میں ہر آنکھ کھولنے والا بچہ ’’لے کے رہیں گے آزادی‘‘ کی لوری سنتے سنتے آنکھ کھولتا ہے۔ کشمیری نوجوان دارالحکومت دہلی سمیت بھارت کی مختلف یونیورسٹیوں میں باآواز بلند پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہے ہیں۔ کشمیری بچے اپنے گھروں کی چھتوں پر پاکستان کا قومی پرچم لہرانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ گلی محلوں کے چھوٹے چھوٹے کلب گرین شرٹس زیب تن کرکے دل پر ہاتھ رکھے پاک سرزمین کا قومی ترانہ گا رہے ہیں۔ جنونی ہندو، جنہیں پاکستان کا لفظ ایک آنکھ نہیں بھاتا ان کے بیچ بیٹھ کریہ نوجوان پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کررہے ہیں اور سب سے بڑھ کر جب کوئی کشمیری مجاہد اپنے سینے پر گولی کھانے کے بعد شہادت کی منزل پر قدم رکھ رہا ہوتا ہے تو اس کی زبان پر پاکستان زندہ باد کے الفاظ ہوتے ہیں۔ یہ ہے وہ اٹل جذبہ جس نے بھارتی فوج اور حکومت کو بے بسی کا شکار کردیا ہے۔ ان پر ایسی گھبراہٹ اور بے چینی طاری ہے کہ متشددانہ کارروائیوں کے باوجود کشمیر ان کے ہاتھوں سے نکلتا جارہا ہے۔جس کی طرف کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداﷲ نے کچھ عرصہ قبل یہ کہتے ہوئے اشارہ کیا تھا کہ ’’کشمیر کے معاملے پر بھارت تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی روش سے کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے‘‘ ۔ سابق بھارتی وزیرچدم برم نے بھی کچھ اسی قسم کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بھارت کشمیر کھو رہا ہے‘‘۔ لالو پرساد بھی یہی الفاظ دہراتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ’’ہم آہستہ آہستہ مقبوضہ کشمیر کھو رہے ہیں‘‘۔ عالمی میڈیا کی بھی رائے ان بھارتی رہنماؤں سے مختلف نہیں۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ پرتشدد موسم گرما اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بھارت کے ہاتھوں سے کشمیر نکلتا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بندوق کے ـذریعے وادی میں امن نہیں لایا جاسکتا۔ مسلسل مذاکرات ہی امن واپس لانے کی کنجی ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ مودی سرکار کو امن کہاں پسند، وہ تو مسلمانوں پر تشدد اورپاکستان کے خلاف انتہاء پسندی کا نعرہ لگا کرہی اقتدار میں آئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے دور میں مقبوضہ کشمیر کے علاوہ دیگر ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی جنونیت اور انتہاء پسندی میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہاء پسندوں کے اعلانیہ اور منظم حملوں سے صاف نظر آتا ہے کہ ان حملہ آوروں کو حکومت کی مکمل آشیر باد حاصل ہے۔یہ انتہاء پسند مسلمان آبادیوں پر نہ صرف تشدد کررہے ہیں بلکہ انہیں مذہب تبدیل کرنے پر بھی مجبور کررہے ہیں۔مودی کی سرکاری آشیر باد سے گائے کو اس قدر مقدم بنا دیا گیا ہے کہ اس کے مقابلے میں انسانی قدر تو کیا جان بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ بہت سے علاقوں میں صرف اس لیے مسلمانوں پر تشدد کیا گیا کہ ہندو جنونیوں کو شک تھا کہ انہوں نے ’’گائے ماتا‘‘ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کی ہے۔ ویسے بھی بھارت اس وقت اس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکا ہے کہ وہاں گائے ماتا کو تو عزت دی جاتی ہے مگر عورت کی عزت اور حرمت وہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ دنیا بھر میں ریپ بھارت کی پہچان بن چکا ہے۔ عورتوں کو بے آبرو کرنے کے درجنوں واقعات روزانہ رونما ہوتے ہیں۔ جن سے اندازہ ہوتا کہ عورت کے معاملے میں بھارت کس قدر غیر محفوظ ملک ہے۔ وہاں ہوس کے پجاریوں کے ہاتھوں مسلمان اور عیسائی تو کیا ہندو عورتیں تک محفوظ نہیں۔ حتیٰ کہ کئی غیرملکی خواتین جو بھارت کے ’’شائننگ چہرے‘‘ کا نظارہ کرنے آئی تھیں، بڑی بے آبرو ہو کراس کوچے سے نکلیں۔ اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں ہر سال پچاس ہزارعورتوں کی آبروریزی کے مقدمات درج ہوتے ہیں۔ یہ بھی خوفناک حقیقت ہے کہ ان سے دگنا رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ یعنی بے آبروہونے والی خواتین کی تعداد سالانہ ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی لیکن یہ سچ ہے کہ بھارت کی جہاں بات آئے گی وہاں ریاستی تشدد، تخریب کاری،اقلیتوں پر تشدد، خواتین کی بے حرمتی اور ہندوانتہاء پسندی بھی جڑی نظر آئے گی۔ عالمی سطح پر شائننگ انڈیا کے چہرے کے یہ دھبے بھارت سے چھپائے نہیں چھپ رہے۔ وہ جتنا مرضی دنیا کو قائل کرلے، جتنا چاہے رام کرلے، اس کے چہرے پر لگے یہ داغ اس کی جمہوریت، وسیع القلبی، امن وامان کی حقیقت کا پردہ خوب چاک کرتے نظر آتے ہیں۔بہرحال یہ حقیقت سب کو نظر آرہی ہے کہ اب کی بار کشمیر پر بھارتی جبر کی گرفت کمزور پڑ چکی ہے ۔ اب وہاں اتنے برہان وانی بھی پیدا ہوچکے ہیں کہ جن کے خوف سے مودی اور بھارتی فوج کو اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھنے کے لئے رومال تو کیا اپنی دھوتیاں اور وردیاں بھی اتارنا پڑیں گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Amjad Ch

Read More Articles by Muhammad Amjad Ch: 94 Articles with 43254 views »
Columnist/Journalist.. View More
20 Jun, 2017 Views: 442

Comments

آپ کی رائے