برہان وانی کی شہادت اور تحریک آزادی کشمیر

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: موسیٰ غنی،کراچی
پاکستان کا خواہ کوئی بھی دن ہو ،یوم پاکستان،یوم آزادی کشمیری پاکستان کی محبت میں اس دن کو بھارتی درنددہ صفت فوج کے سامنے نکل کر مناتے ہیں ۔اپنی جانوں کے نظرانے پیش کرتے ہیں ان میں خواہ بزرگ حریت رہنماسید علی گیلانی ہوں ،دختر ملت آسیہ اندارابی ہوں یامیرواعظ عمر فاروق،شبیر شاہ و یاسین ملک سب ہی ایک ہی صف میں موجود ہوتے ہیں ۔

کشمیریوں کی تحریک آزادی نے برصغیر کی دونوں سپرپاروز کو باور کرادیا ہے کہ یہ قوم نہ جھکنے والی ہے اور نہ ہی بکنے والی کرنا وہی ہے جس کی ٹھان رکھی ہے اس قوم نے اپنے اوپر کتنے ہی مظالم سہے ہوں لیکن جب بھی بات پاکستان کی آئی ہے ہر میدان میں ساتھ دیا اور ہراول دستہ پیش کیا ہے دختران ملت کی کارکنان اور کشمیری بہنیں اپنے سروں پر سبز اسکارف پہن کر پاکستانی نغمے پڑھتی ہیں ،پاکستانی ترانے پڑھتی ہیں،پاکستان زندہ باد او ر پاکستان کا مطلب کیا ؟ لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کے نعرے لگاتی ہیں اور پاکستان کی سلامتی کے لئے دعائیں کرتی ہیں۔اسی جرم کی پاداش میں کشمیر کی بیٹی آسیہ اندرابی پر قریبی تھانے میں پرچہ کٹ جاتا ہے اور اس بہادر بیٹی کو جیل کی کوٹھریوں میں پھینک کر پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگوایا جاتا ہے اتنے ظلم وستم سہنے کے باوجود وہ پاکستان زندہ باد کہتی ہے۔اسی طرح آسیہ اندرابی کے رفیق حیات ڈاکٹر قاسم فکتو کو ایک کتاب لکھنے کے جرم میں زندانوں میں جھکڑ دیا جاتا ہے۔

وہ اسی سال کے بزرگ کل جماعتی حریت کانفرنس کے لیڈر سید علی گیلانی کو صرف یہ کہنے پر کہ اسلام کی نسبت سے ہم پاکستانی ہیں ،پاکستان ہمارا ہے،کشمیر بن کر رہے گا پاکستان جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح کشمیری حریت پسند لیڈر مسرت عالم کو پاکستان زندہ باد کہنے کی وجہ سے جیلوں میں ڈالا جاتا لیکن جب وہ رہائی پاکر باہر آتے ہیں اور جب وہ احتجاجی جلسے میں یہ کہتے کہ سید علی گیلانی کا پیغام کیا ہے۔کشمیر بنے گا پاکستا ن اور حافظ سعید کا پیغام کیا ہے ،کشمیر بنے گا پاکستان اسی جرم اس مردِ مجاہد کو دوبارہ زندانوں میں جھکڑ دیا جاتا ہے۔

کشمیری قائدین ہی نہیں بلکہ کشمیری عوام کاجذبہ اپنے قائدین سے بھی بلند ہے۔حزب المجاہدین کے اکیس سالہ کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت نے کشمیر کی تحریک کو ایک نیا رخ دیا ہے۔برہان وانی کو شہید کرکے بھارتیوں نے تحریک آزادی کو کچل نہیں ڈالا بلکہ اس تحریک کو پروان چڑھا دیا ہے۔اب کی موجودہ صورتحال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اب کشمیری پاکستان کیساتھ رہنا چاہتے اس بات کا اعتراف گزشتہ ماہ جب مودی صاحب امریکہ کے دورے پر تھے تو انڈین فوج کے ایک آفیسر کا کہنا تھا کہ ہم شکست کو تسلیم کرتے ہیں نہ جانے ہمارے کتنے فوجی مرچکے ہیں لیکن ہمیں فائدہ کچھ بھی نہیں ہم ایک گولی چلاتے ہیں وہ ہم پر پتھر برساتے ہیں۔مودی صاحب اب آپ کو شکست تسلیم کر لینی چاہئے اور کشمیر کی موجودہ صورتحال پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیئے اقوام متحدہ کو کشمیر کے مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔کہاں ہے انسانیت کے حقوق کے ٹھیکیدار۔۔۔سلامتی کونسل۔

کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ان کا خون ناحق نہیں بہے گا ان کو ضرور اپنا حق ملے گا۔آج کئی لوگ باتیں کرتیں کشمیری الگ اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔جاؤ جا کر سید علی گیلانی سے پوچھو۔آسیہ اندرابی سے پوچھو۔کشمیری عوام سے پوچھو جنہوں نے پاکستان کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کردیے۔اب کشمیری نوجوان برھان کی شہادت سے تحریک آزادی کا یہ قافلہ رکا نہیں بلکہ رواں دواں ہے اور رہے گا۔اب یہ بات بھارت کو کون سمجھائے وہ اس طرح ہے کہ جسے اونٹ کے سر پر سنگ۔برہان کی شہادت پورے بھارت کو نگل گئی ہے اب حد تو یہ ہے کہ کشمیر سے نکل کر آزادی کی تحریک جو ہے وہ بھارت کے ہر گھر میں جاپہنچی ہے اور بھارتی یونیورسٹیز ہوں یا کالجز ان میں بھی کشمیر کو آزادی دو کے نعرے لگ رہے ہیں۔

بی جے پی ، بجرنگدل کی اسٹوڈینٹ یونین ہوں یا بی جے پی کی حکومت لیکن دونوں مل کربھی تحریک آزادی کو نہ دبا سکی ہے اور نہ دبا سکتی ہے کیوں کہ جس تحریک میں خون، جذبہ اور حریت ہو اس کو دبانے والے دب گئے ہیں یااس دنیا میں ہی نہیں ۔ کشمیر کو برہان بھلے ہی بھارتی فوج نے مٹا(شہید) کردیا ہو لیکن ہر گھر میں برہان وانی پیدا کردیا ہے شاید برہان اکیلا اتنا کچھ نہ کرسکتا جتنا خود بھارتی فوج نے برہان کی شہادت کرکے کی ہے۔

اب وہ لمحہ آن پہچا ہے کہ کشمیر اپنی آزادی حاصل کرنے کے نزدیک ہیں اوراس تحریک میں پاکستان نے کشمیر کی سفارتی ،اخلاقی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے ۔ انشاء اﷲ کشمیر ضرور آزاد ہوگا اور پاکستان کا حصہ بنے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1254 Articles with 531869 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jun, 2017 Views: 438

Comments

آپ کی رائے