پیٹ میں داڑھی

(Rafi Abbasi, Karachi)
پرویزمشرف اور فوج میں موجود باریش حضرات کا بہت پرانا ساتھ رہا ہے اسی لیے پیٹ کے اندر کی داڑھی بھی انہیں صاف نظر آجاتی ہے

پیٹ میں کیڑوں کے بارے میں تو سنا تھا بلکہ مختلف اقسام کے کیڑوں کا مشاہدہ بھی کیا تھا جن میں چاول کے برابر اور دھاگے جتنے موٹے، آدھا فٹ لمبے سفید اور خاکی رنگ کے سانپ کے ہم مشابہ اورکدّودانے جیسے گچھّے کی شکل میںکیڑے قابل ذکر ہیں جو نکاسی کے راستے پیٹ سے باہر آتے ہیں لیکن پیٹ میں داڑھی ہونے کا ایک مستند انکشاف پہلی مرتبہ ہوا اور وہ بھی دو ادوار کے سابق وزیراعظم کے متعلق، مسلح افواج کے سابق سربراہ و صدر کی زبان سے۔ اکثر بزرگ اپنے کمسن بچوں کی دلچسپ حرکتوں پر محظوظ ہوکر ستائشی و توصیفی کلمات ادا کرتے ہوئے ان کے پیٹ میں داڑھی ہونے کا شبہ ظاہر کرتے تھے جسے ہم محاورہ سمجھتے تھے لیکن سابق صدرجنرل پرویز مشرف نے اسی محاورے کو اپنے سابق وزیراعظم کے لیے استعمال کیا ہے۔ نیویارک کی ایک تقریب میں مذکورہ راز منکشف کرتے ہوئے انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ میاں نواز شریف کٹّر بنیاد پرست اور طالبان کے سرپرست ہیں اور ان کی داڑھی ان کے چہرے پر نہیں بلکہ پیٹ میں ہے۔ بعض لوگوں کا سابق صدر کے مذکورہ بیان کے بارے میں کہنا ہے کہ ان کا بیان زمینی حقائق پر مبنی لگتا ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان کی آنکھوں پر عینک کی جگہ اسکینر لگے ہوں اور وہ حفاظتی نقطہ نظر سے اپنے تمام ملاقاتیوں کی جسمانی اسکیننگ کرتے ہوں کہ کہیں ان کے جسموں میں دھماکہ خیز مواد پوشیدہ نہ ہو۔ میاں نواز شریف سے تو اِن کا، اُن کے دونوں ادوار حکومت میں قریبی تعلق رہا ہے اور 1999ء کے بعد تو معزول وزیراعظم اِن کے قیدی بن کر بھی رہے۔ اس دوران جنرل موصوف کو ان کی جسمانی اسکیننگ کے وسیع مواقع میسر آئے ہوں گے جس کے دوران انہوں نے ان کا دل گردہ دیکھنے کے علاوہ ان کے پیٹ میںچھپی داڑھی بھی دیکھ لی ہوگی۔
داڑھیاں تو ہم بچپن سے دیکھتے آرہے ہیں بلکہ داڑھی ہمارے مذہب کا ایک لازمی جزو اور سنت رسولؐ میں شمار ہوتی ہے اسی لیے لوگ اپنے چہروں پر نت نئے ڈیزائن کی داڑھیاں سجا کر حضورؐ کی سنّت کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی کی داڑھی کان کی لو کے پاس سے شروع ہوکر ٹھوڑی اور پھر اس سے کچھ نیچے سینے تک لہراتی ہے۔ کچھ حضرات ریش مبارک کو اپنے چہرے کی ضرورت، فیشن یا ماحول کے مطابق ڈیزائن کرتے ہیں۔ کسی کے چہرے پر فرنچ کٹ داڑھی ہوتی ہے، کسی کی ٹھوڑی پر چند بال اگے ہوتے ہیں جن کی نشو و نما کرکے بنگالی طرز کی داڑھی بنالی جاتی ہے۔ اندرون سندھ و بلوچستان کے قبائلیوں کے چہروں پر مونچھ اور داڑھی کے اتصال سے بل دار داڑھی ہوتی ہے جو ان کے چہرے کی کرختگی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
آج نئی نسل میں مذہبی رجحان کے فروغ کے بعد بیشتر نوجوانوں کے باریش چہرے سنت نبویؐ کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں جن پر جنس مخالف ریشہ خطمی ہوتی ہے۔ بعض لوگ نمائشی داڑھی رکھتے ہیں ہمارے لاہور کے ایک دوست نے سکھوں کی ہمسری میں تقریباً سوا فٹ لمبی داڑھی رکھی ہوئی تھی جو ان کے پیٹ سے بھی نیچے آتی تھی۔ سکھ مذہب میں داڑھی کو مذہبی حیثیت حاصل ہے اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی ننھی سی داڑھی ان کی موہنی صورت پر بہت بھلی لگتی ہے۔ داڑھی تو دیگر اقوام کے افراد بھی اپنے چہرے پر بطور فیشن یا بڑھاپے کی علامت کے طور پر سجاتے ہیں۔ جس زمانے میں سینما گھروں میں ’’صرف بالغان کے لیے‘‘ فلمیں چلتی تھیں، ہم نے بھی نوعمری میں بالغان کی صف میں کھڑا ہونے کے لیے اپنے چہرے پر بلیڈ کی دھار سے داڑھی اگانے کی کوشش کی لیکن جب سارا چہرہ باریش ہوگیا تو اسی بلیڈکے استعمال سے صرف داڑھی ہی نہیں بلکہ مونچھیں تک صاف کرلیں کیوں کہ آج کے دور میں داڑھی مونچھ سے بے نیاز افراد کو ہی خوبصورت اور اسمارٹ گردانا جاتا ہے اور وہ بھی خوبصورتی کے مطلوبہ معیار پر پورا اترنے کے لیے روزانہ چہرے کی رگڑائی کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ بیشتر لوگ اپنے اس عمل سے ’’ہی میل‘‘ کی بجائے ’’شی میل‘‘ نظر آتے ہیں۔
پرویزمشرف اور فوج میں موجود باریش حضرات کا بہت پرانا ساتھ رہا ہے اسی لیے پیٹ کے اندر کی داڑھی بھی انہیں صاف نظر آجاتی ہے۔ ایک زمانے میں جب وہ ایک گمنام فوجی افسر تھے انہوں نے فوج میں موجود اعلیٰ افسران کی نظروں میں آنے کے لیے انہی جیسی روش اختیار کی۔ انہوں نے اپنے سپہ سالار اور ان کے ارد گرد موجود اعلیٰ افسران کی تبلیغی جماعت اور صدرضیاء الحق کے دیوبندی مسلک سے وابستگی کو مد نظر رکھتے ہوئے خود کو دیوبندی مسلک سے منسلک کرلیا اور رائے ونڈ میں تبلیغی جماعت کے اجتماعات میں شرکت کرنا شروع کی جس کے بعد وہ جنرل ضیاء الحق اور تبلیغی جماعت کے ایک اہم عہدیدار اور فوج کی ایک بااثر شخصیت لیفٹننٹ جنرل جاوید ناصر کی نظروں میں آگئے۔ ضیاء الحق خود بھی ایک تہجّد گزار مسلمان اورکلین شیو مولوی کی حیثیت سے مشہور تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ انتہائی مذہبی ہونے کے باوجود انہوں نے فوجی نظم و ضبط کا عذر پیش کرکے باریش ہونے سے گریز کیا، شاید انہیں ہر داڑھی والا، چور اور اس کی داڑھی میں تنکا نظر آتا تھا اور وہ داڑھی بڑھاکر اپنے تنکوں کو منظر عام پر نہیں لانا چاہتے تھے، جبکہ پرویز مشرف بھی جنرل ضیاء الحق کے نقش پا پر چلتے ہوئے ایوان اقتدار تک پہنچنے کے لیے بنیاد پرست فوجی و سیاسی عمائدین سے ریشہ دوانیوں کے ذریعے حکومتی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی تربیت حاصل کررہے تھے اور انہوں نے بھی اپنے پیشرو کی طرح اپنی داڑھی پیٹ کے اندر ہی رہنے دی اور چہرے پر سجانے سے گریز کیا کیونکہ شاید وہ بھی ’’داڑھی کی آڑ میں شکار‘‘ والا محاورہ سن چکے تھے اور داڑھی رکھ کر اپنے شکار کو چوکناّ نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن ان کا شکار اس وقت تک سامنے نہیں آیا تھا۔ بعد ازاں ان کا پہلا شکار ان کا وہ تبلیغی بھائی اور بے ریش مولوی بنا جس نے انہیں 8اکتوبر 1998ء کو دو باریش اور بنیاد پرست ساتھیوں صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ اور لیفٹننٹ جنرل جاوید ناصرکی سفارش پر دو سینیئر جرنیلوں پر سبقت دے کر مسلح افواج کا سربراہ بنایا تھا۔ اس کے ایک سال بعد اپنی ترقی کی سالگرہ کا کیک کاٹنے سے قبل انہوں نے بنیاد پرستی کا لبادہ اتار کر روشن خیالی کی شمع روشن کی اور اپنے قابل اعتماد ساتھیوں کی معاونت سے میاں نواز شریف کی بھاری مینڈیٹ کی حامل منتخب حکومت کو کیک کی صورت میں کاٹ دیا اور سالگرہ کا تحفہ مملکت کی سربراہی کی صورت میںوصول کیا۔ اس اقدام کے بعد امریکی و مغربی شکاریوں کو شکارکھلانے کا پرمٹ وہ خود دینے لگے اور پاکستان کی شکار گاہ سے لاتعداد ’’اڑیل ہرن‘‘ اور ’’سرکش ہرنیاں‘‘ شکار کرکے گوانتاناموبے کے پنجروں میں لے جائی گئیں۔
شکار تو وہ ستمبر 1995ء میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کا بھی کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے اپنے تبلیغی بھائیوںکا تعاون بھی حاصل کرلیا تھا جو ایک خوں رنگ انقلاب کے ذریعے خونچکاں تاریخ رقم کرتے ہوئے سانحہ بہاولپور کی طرح پوری حکومتی اور فوجی قیادت کا صفایا کرکے انہیں اقتدار کی مسند پر فائز کردیتے لیکن درّہ آدم خیل سے بڑے پیمانے پر تباہ کن ہتھیار لے کر آنے والی گاڑی، جسے بریگیڈیئر مستنصر باللہ نے بھیجا تھا،کوہاٹ کے مقام پر پکڑے جانے پر کار ڈرائیور سیف اللہ اختر نے جو خود بھی حرکت الانصار کا سرپرست تھا، پوچھ گچھ میں سارا گیم پلان طشت از بام کردیا جس کی وجہ سے مبینہ ’’اسلامی انقلاب‘‘ لانے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ اداروں کی تحقیقات کے نتیجے میں ان کے جو دیگر تبلیغی بھائی اس سازش کے محرک تھے ان میں میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی، بریگیڈیئر مستنصر باللہ، میجر جنرل محمد عزیز اور ان کے ساتھ چالیس فوجی افسران اور دس سویلین شامل تھے جبکہ پرویز مشرف پس پردہ تھے اور یہ تمام لوگ ایک دوسرے سے ’’تبلیغی رشتے‘‘ میں جڑے ہوئے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت میں شامل بااثر حلقے نے جسے لیفٹننٹ جنرل جاوید ناصر کی پشت پناہی حاصل تھی، اس سازش کے دوکرداروں کو بے گناہ قرار دیا جبکہ باقی ملزمان کو فوجی عدالت سے سزائیں ہوئیں۔
نواز شریف کا طالبان سے کتنا گہرا تعلق ہے یہ تو ہمیں نہیں معلوم کیوں کہ رائے ونڈ میں تبلیغی مرکزکی قربت کی وجہ سے وہ بھی اپنی حکومت کے دو اہم ستونوں لیفٹننٹ جنرل جاوید ناصر اور جسٹس رفیق تارڑکی ہدایات پر عمل پیرا رہتے تھے لیکن 1980ء میں جنرل ضیاء الحق نے امریکی حکومت اور سی آئی اے کی ایماء پر افغانستان میں سوویت افواج سے لڑنے کے لیے مدارس کے طلباء کو چھاپہ مار جنگ کی تربیت دینے کے لیے بریگیڈئیر پرویز مشرف کا انتخاب کیا جنہوں نے ان طلباء کو ٹریننگ دے کر حریت پسندوں کے لشکر اور بعد ازاں متعدد چھاپہ مارتنظیمیں تشکیل دیں جو سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد دہشت گرد اور عسکریت پسند کہلائی جانے لگیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ سعودی عرب کے ایک سول انجینئر اسامہ بن لادن کو جسے امریکہ نے افغانستان میں سرنگیں اور بنکرز بنانے کی ذمہ داری سونپی تھی، امریکی حکام کی ایماء پر جنرل پرویز مشرف کی تربیت و رہنمائی نے اسے کمانڈو جنگ کا اتنا ماہر بنادیا کہ بعد میں اس نے جگہ جگہ چھاپہ مار جنگ کے تربیتی مراکز قائم کرکے مجاہدین کے لشکر تیار کرنا شروع کردیئے جنہوں نے بعد میں القائدہ اور طالبان کی شکل اختیار کرلی۔
جب پرویزمشرف برسر اقتدار آئے تو مذہبی لبادہ اتار کر ہلال و صلیب کی یکطرفہ جنگ میں بش اور بلیئر کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور پاکستان کا تاریخ و جغرافیہ تبدیل کرنے سے پہلے انہوں نے ملک کی ڈکشنری (لغت) تبدیل کردی۔ جنرل ضیاء الحق تو خود کو امیرالمومنین کہلوانے کی حسرت لیے دنیا سے چلے گئے لیکن پرویز مشرف نے امیرالمومنین کا انگریزی ترجمہ کرکے خود کو ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ کی حیثیت سے متعارف کرایا جبکہ اپنی تصنیف ’’لائن آف فائر‘‘ جس کا اردو مفہوم ’’گولیوں کی باڑھ‘‘ یا ’’شعلوں کی برسات‘‘ بنتا ہے، اسے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا عنوان دیا گیا، شاید یہ اتحادی قوتوں کے لیے مخصوص اشارہ تھا کیونکہ اس کے بعد ڈرون حملوں کے ذریعے آگ کی بارش سب سے پہلے پاکستان پر ہی شروع ہوئی۔ ’’ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا‘‘ جیسا محاورہ نہ جانے کن مواقع پر استعمال ہوتا ہے لیکن سابق صدر نے ایک طویل عسکری زندگی گزارنے کے بعد اس محاورے کو بھی غلط ثابت کردیا، نو سال تک ملک کے سربراہ بن کر اپنے ’’لائن آف فائر‘‘ جیسے اقدامات کے ذریعے پوری قوم کو تگنی کا ناچ نچاتے رہے اور سربراہی ختم ہونے کے بعد نیویارک کی ایک تقریب میں نہ صرف وہ خود ناچے بلکہ دوسروں کو بھی نچاتے رہے، شاید کسی طرف سے انہیں آواز سنائی دے گئی ہوگی کہ

ناچ میری بلبل کہ پیسہ ملے گا
کہاں قدردان تجھے ایسا ملے گا
انہوں نے جس ذہانت سے ملک کے بااثر مذہبی حلقوں کو اپنا ہمنوا بنا کر ضیاء الحق ثانی بننے کا خواب پورا کیا، اسی ذہانت سے اسلامی جہاد کے نام پر کارگل اور سیاچن سمیت کئی مہم جوئیوں اور معرکہ آرائیوں کی گرد اپنے چہرے سے صاف کرنے کے لیے روشن خیالی کا ملمع چڑھا لیا اورپاکستان کے طول و عرض کو بڑی طاقتوں کی کارروائیوں کے لیے وا کردیا۔ لیکن حقیقتاً وہ بنیادپرستی میں میاں نواز شریف سے کسی طور بھی کم نہیں تھے اور ان کے پیٹ میں ذہانت کی جو داڑھی ہے وہ نواز شریف کے پیٹ کی داڑھی سے بھی کہیں زیادہ لمبی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 80826 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jun, 2017 Views: 667

Comments

آپ کی رائے