حکمرانوں اور جیلوں کے عشرت کدے

(Ishrat Javed, )

لگتاہے کہ کراچی کی سینٹرل جیل سے فلمی انداز میں کلعدم جماعت کے خطرناک قیدیوں کا فرار ہونا اور اس کے بعد کراچی کی جیلوں سے قیدیوں کی عیاشیوں کا سامان براآمد ہونا حکمرانوں کے لیے کوئی بڑی نہیں ہے ، سنا تھا کہ اس ملک میں جیلو ں کا یہ نظام ہے کہ قیدی پیسے دیکر اپنی بقیہ سزائیں اپنے گھروں میں ہی کاٹ لیتے ہیں ،جبکہ جیلوں سے اس قسم کی چیزوں کا برآمد ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں یہ ایک پرانا رواج ہے جسے سندھ حکومت اپنی گڈگورنس کی نگاہ سے دیکھتی ہے ، جو لوگ سزائیں بھگت کر آتے ہیں ان کی ز بانی یہ ہے کہ جب وہ جیل میں داخل ہوتے ہیں تو جیل انتظامیہ ان کو اندر آتے ہی مارنا شروع کردیتی ہے جو پیسے نہ دے اسے بیڑیاں ملتی ہیں اور جو ان کی منشاکے مطابق چلے اسے یہ ہی سامان ملتا ہے جو گزشتہ دنوں جیلوں میں آپریشن کے دوران برآمدکیا گیا۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق35لاکھ سے زائد رقم ،18ڈیپ فریزر،449ٹیلی ویژن،163ایل سی ڈیز،450موبائل فون ،950بریکٹ فین،5 عدد پیکٹ ہیرون،82 سپیکر 22ہیٹر،مطلب چھری ،چاقو سمیت ہرطرح کی اشیا کو کراچی کی جیلوں سے برآمد کیا گیا۔دس کے قریب نجی باورچی خانے ،جوسر مشینیں مائکرو اویوان100سے زائد گیس سلنڈراور 56ٹن راشن خطرناک قیدیوں کی عیش و عشرت کے لیے وقف تھا۔بلاول بھٹو کی قیادت میں چلنے والی پیپلزپارٹی کے جیالوں سمیت ہم نے بھی دیکھا کہ جس وقت کراچی کی جیلوں سے خطرناک قیدیوں کی عیش وعشرت کا سامان برآمدکیا جارہا تھا اس وقت ان کا نوجوان لیڈر بلاول بھٹو صاحب ٹوئٹ پر ٹوئٹ کیئے جارہے تھے کہ وہ سندھ حکومت کی کارکردگی سے بہت نہیں بلکہ بہت ہی زیادہ خوش ہیں ،اور یہ کہ کراچی میں سڑکیں بن رہی ہیں ، ان کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے اگر وہ موڑ میں ہوتے تو شاید یہ بھی ضرورلکھتے کہ کراچی میں امن ہوچکاہے کہ یہاں باآسانی سموسے مل جاتے ہیں یہاں فروٹ چاٹ حاصل کرنے میں بھی اب کوئی دشواری نہیں ہے ۔میں حیران ہو کہ سندھ میں نوسالوں سے مسلسل اور وفاق میں کئی بار حکومتیں بنانے والوں کو کب عقل آئے گی کب وہ اس ملک کی حالات اور ا س ملک کی عوام کا دکھ درد سمجھیں گے ۔ کراچی کی جیلوں میں عیش وعشرت کا سامان ملنا اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے حکمران جو ہر لحاظ سے لوٹ مار کے شیدائی ہیں اور خود بھی جرائم پیشہ افراد سے خاصہ لگاؤ رکھتے ہیں ۔؂قائرین کرام گو کے ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کو خوب رگڑا لگایا گیاہے مگر اس کا کریڈٹ قوم کا کوئی بھی فرد سول حکومت کو نہیں دے سکتا ماسوائے حکومت کے ان ڈھولچیوں کے جو ہر روز پریس کانفرنسوں میں شریف فیملی اور زرداریوں کے حق میں ڈھول بجانے کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔ہم نے بارہا بار دیکھا کہ حکومت دہشت گردتنظیموں کا نیٹ ورک توڑنے کی کبھی بات نہیں کرتی اس ملک میں ہم نے دیکھا کہ عوام اپنے اپنے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ دیتی ہے کوئی بھی باشعور آدمی مہنگائی اور بے روزگاری کے ذمہ دار کسی بھی شخص کو ووٹ نہیں دے سکتا اور ایسا ہی ہے مگر یہ کیا !! جب ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو جیت اسی زخیر ہ اندوز سیاستدان کی ہوجاتی ہے جسے قوم مسلسل کئی دہائیوں سے برداشت کرتی چلی آرہی ہوتی ہے اور ہر بار اسے نظر انداز کرکے بھی جیت اسی کی ہوجاتی ہے،مطلب کیا؟ ۔۔۔ آخر جب عوام اسے ووٹ دیتی ہی نہیں تو وہ کس طرح سے کامیاب ہوجاتے ہیں؟کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس جیت کے پیچھے اسی دہشت گرد نیٹ ورک کا ہاتھ ہو جو ان جابر حکمرانوں کی حکمرانی کا سبب بنے ہوئے ہیں جن کا نیٹ ورک توڑنے کی ہمت ان نااہل حکمرانوں کی پالیسیوں سے کوسوں دور دکھائی دیتا ہے۔پنجاب میں بے شمار انتہا پسندلوگوں کے ٹھکانے ہیں جن کے تعلقات حکمرانوں کے ساتھ حکومتوں کو گرانے اور بنانے میں کام آتے ہیں ۔حکومت کے بے شمار وزیروں کی تصاویر ان کلعدم دہشت گردوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر قوم دیکھ چکی ہے مگر نہ ہی ان وزیروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اور نہ ہی ان سے دہشت گردتنظیموں کے سربراہوں سے تعلقات کے بارے میں کسی سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔صوبہ سندھ میں بھی یہ ہی حال ہے کوئی بتائے کہ سندھ میں قحط کا کیا مقام ہے یہاں کے کچے کے علاقوں میں بوند بوند پانی کوترستی ہوئی عوام کویہ سب کچھ دکھائی نہیں دیتا کہ ہماری اس بربادی کے ذمہ دار کون ہیں ؟۔ پھر یہ لوگ ہر سال یہاں سے کس طرح سے جیت جاتے ہیں ۔یقینا یہ لوگ بھی اب ووٹ حکمرانوں کو نہیں دیتے مگراس کے باوجود ان کی بھاری مقدار میں کامیابی ا س بات کی علامت ہے کہ جو ہر حربہ پنجاب میں اپنا یا جارہاہے سندھ کے حکمران بھی اسی فامورلے پر کام کررہے ہیں،یہاں پر جابجا نوگو ایریا زہیں جہاں مقامی پولیس کو بھی بغیر اجازت ان علاقوں میں آنے کی اجازت نہیں ہوتی یہاں سب کو معلوم ہے کہ فلاح کسان کی بیٹی کو کس نے اغوا کیااور اس بچی کو کہاں چھپا یا گیا ہوگا مگر یہ لوگ وہ ہوتے ہیں جو پیپلزپارٹی والوں کو ہر حال میں نشستیں نکال کر دیتے ہیں جو ٹھپے لگاتے بھی ہیں اور لگواتے بھی ہیں یہ ہی وہ وڈیرہ مافیا ہے جو حکمرانوں کو اسمبلیوں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ہمارے حکمرانوں کا یہ وطیرہ ہے کہ جب بھی اس ملک میں کوئی سانحہ رونما ہوتاہے تو اس کا سدباب کرنے کی بجائے اس کا الزام مخالفین پر تھوپ دیا جاتا ہے ۔اسی نظریئے پر چلتے ہوئے اس ملک پر بیتنے والے بہت سے زخموں کو پس پشت دکھیلا جاتارہا۔میں اس قوم سے پوچھنا چاہتاہوں کہ پاکستان کا وہ کونسا ایساحصہ ہے جہاں دہشت گردوں نے اپناوار نہیں چلا یا،مساجد ،اسکولوں ، درگاہوں ،امام بارگاہوں ،بازاروں اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا،اور حکومت ان تمام سانحات پر بے بس نظر آئی کہیں جزبات میں آکریہ لوگ اپوزیشن کے ساتھ ملکر بیٹھ گئے تو سیکورٹی کے معاملات میں دلچسپی کا دور شروع ہوا مگر پھر بھی کوئی نتیجہ نہ نکال سکے کیونکہ دہشت گرد حکمرانوں کی نیتوں سے بخوبی واقف رہے اور یہ لوگ موقع کی مناسبت سے اپنا کام دیکھاتے رہے ۔قائرین کرام ان تمام تر ناکامیوں کی وجہ حکمرانوں کی غیر سنجیدگی اور مفاد پرستی کے سوا کچھ نہیں نکلتایہ لوگ جس طرح بغیر کسی حکمت عملی کے اربوں کے پروجیکٹ میں قوم کے پیسے کو جھونک دیتے ہیں جو بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ چنددن چلنے کے بعد خراب ہوگیا بلکل اسی طرح ان لوگوں کویہ بات معلوم ہی نہیں ہے کہ دہشت گردی کے اصل اسباب ہیں کیااور یہ کہ اس کا خاتمہ کس طرح ممکن ہوسکتاہے ، اس ملک میں جہاں قوم نے دہشت گردی کے زخم کھائے ہیں وہاں اس قوم کے لیے بنائے گئے اداروں کا یہ حال ہے کہ عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے دھکے کھارہی ہے ،پانی کا محکمہ ہو بجلی کا ہو ،سرکاری اسکولوں اور صحت کا معاملہ ہو یا پھر جیلو ں اور تھانوں کا عوام کاان مقامات پر کوئی پرسان حال نہیں ہے ،عمران خان نے بھی کیا خوب کہا ہے کہ زرداری اور نوازشریف کے ساتھ اگر فرشتے بھی لگادیں تو یہ لوگ کرپشن کرنے سے باز نہیں آئینگے اب بھلا ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ہم کس طرح سے امن وخوشحالی کی امید رکھ سکتے ہیں اور جس ملک میں ایسے حکمران ہو وہاں کی جیلوں میں ایسے ہی معاملات پیش آسکتے ہیں۔آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔ختم شد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ishrat Javed

Read More Articles by Ishrat Javed: 69 Articles with 51790 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jun, 2017 Views: 278

Comments

آپ کی رائے