ٹھنڈیاں چھاواں

(Iftikhar Chaudhry, )

جی تو چاہتا ہے کہ اپنے دکھ اپنے تئیں رکھوں کسی کو بتاؤں کوئی کسی کے دکھ کیا بانٹے گا لیکن سوچتا ہوں کہ سب ایک جیسے نہیں ہوتے کسی کے منہ سے اچھے بول بھی نکل سکتے ہیں کوئی دعا بھی دے گا تو شائد جانے والوں کا بھلا ہو جائے بس والدین کی مغفرت کے لئے درخواست ہو۔

ہر سال بائیس جون آتا ہے اور مجھے پہلے سے بھی زیادہ بے جی یاد آتے ہیں ۲۰۰۲ جون ۲۲ کو ہم چار بجے باغبانپورے سے اٹھا کر بڑے قبرستان لے گئے ۔ان کا جنازہ مولانا رحمت اﷲ نوری نے پڑھایا اور دعا حافظ عبدالرحمن مکی نے کرائی۔اﷲ ماں جی کو کروٹ کروٹ جنت بخشے آمین۔یہ سارا کچھ اچانک نہیں ہوا اس کے پیچھے وہ کئی مہینے تھے جس میں بے جی نے بڑی ذہنی کوفت برداشت کی۔کہانی بہت پیچھے نہیں لے جانا چاہتا مگر اس کا سرا یہاں سے پکڑتا ہوں کہ میاں نواز شریف جلاوطن تھے اور ۲۰۰۲ میں محترمہ نصرت شہباز دبئی گئیں اور وہاں سے لاہور جس سے ایک ہنگامہ بپاء ہو گیا ۔آمر کو بڑی تکلیف ہوئی ایک عورت اس کی مرضی کے بغیر اپنے اس شہر میں گئی جہاں اس نے زندگی گزاری تھی۔یہ ان لوگوں کے لئے ایک چیلینج تھا جو زبردستی اقتتدار پر قابض تھے۔جدہ میں مقیم پاکستانی جو نواز شریف کے قریب تھے ان پر ہاتھ ڈال دیا گیا تھا وہاں سفیر پاکستان ایک عجیب فطرت کا شخص تھا جسے اپنے علاوہ ہر بندہ بندہ نہیں دکھائی دیتا تھا رعونت اکڑفوں ایسی الاماں الحفیظ وہ پاکستان کے ایک انتہائی اہم اور حساس ادارے کا سربراہ بھی رہ چکا تھا ادھر ادھر گھومتا رہتا کوئی ٹکے ٹنڈ بھی نہیں خریدتا ۔ایسے لوگ پتہ نہیں کیسے ان مراتب تک پہنچ جاتے ہیں جن میں سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ نہ ہو ایک اور مونچھوں والا رزیل جو جدہ قونصلیٹ میں تھا اس کا ٹوڈی بنا ہوا تھا آئے روز لوگ پکڑ لیئے جاتے مرغیوں کے دڑبے ایک مرغی پھڑپھڑاتی اور ذبح ہو جاتی ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے پاکستان کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی تھیں ایک بندہ وہ تھا جسے چند روز پہلے سب سے زیادہ زر مبادلہ بھیجنے پر انعام دیا گیا تھا۔

میں ایک اخبار کا رپورٹر تھا میں نے لکھ دیا کہ جنرل (ر) کے دور سفارت میں فقیروں کی کمائی لٹ رہی ہے اس کا ذم دار یہی جنرل ہے۔لوگوں نے اس سے پوچھا کہ ان چار پاکستانیوں کا کیا قصور ہے جواب دیا چار سو بھی بھیجنے پڑے تو بھیج دوں گا۔یہ تھے وہ لٹیرے جنہیں یہ علم نہیں تھا کہ بیرون ملک جو بھی پاکستانی ہے وہ گھر سے رزق کی تلاش میں نکلا ہے اس کو در بدر کرنا اس کا چولہا بجھانے کے مترادف ہے۔مگر انہیں کون سمجھائے عقل فہم و فراست ان کے دروازوں سے اندر بھی نہیں گزری جہاں یہ ٹھکانہ کرتے ہیں ۔لوگو!سسک سسک کے مر جانا مارشل لاء کی طلب نہ کرنا۔

یہ اقتتدار کا سنگھاسن ہوتا ہے اس پر چاہے کوئی فوجی بیٹھے یا سولیین یہ ایک سوچ کا نام ہے۔پھر ان دنوں اسکول کی مینیجمنٹ کمیٹی کا مسئلہ اٹھا ایک قونصل جنرل کا من پسندیدہ شخص جو قونصلیٹ کی تقریبات میں پانی تقسیم کیا کرتا تھا اب اس دنیا میں نہیں رہا وہ میرے مقابلے میں تھا سب کو علم تھا کہ انتحابات میں میں اسے آسانی سے چلتا کر دوں گا۔کڑی شرائط لگا دی گئیں جس پر ہم نے احتجاج کیا اور ایک بڑی تقریب میں لوہے کی گردن والے سفیر کو میں نے چیلینج کیا اور بائیکاٹ کر دیا میرے ساتھ بیسیوں لوگ اٹھ گئے ۔یہ اس کی نازک طبع پر بجلی گری تھی۔اس نے مجھے بھی ان لوگوں کے ساتھ شامل کر کے جیل میں بند کرا دیا۔یہ ۱۹ مارچ کی دوپہر تھی جب اشرفیہ کی ترحیل جیل میں مجھے ڈالا گیا۔لوگ پوچھتے تھے کہ آپ مسلم لیگ نون میں تھے جواب دیتا ہوں نہیں اگر ہوتا تو کم از کم وہاں کسی اہم عہدے پر ہوتا لیکن جب آمر کے چمچوں نے پوچھا تو کہہ دیا جی پہلے نہیں اب تھا۔پاکستان آ کر نون کا میڈیا سیل دیکھا کچھ عرصہ ان کے ساتھ رہا لیکن سچ پوچھیں میں من موجی یہاں انفٹ تھا۔اور ایک دلیر آدمی مشکل میں یہی کچھ کرتا ہے کوشش اور مسلسل کوشش۔ترحیل میں گزارے ۷۱ دن اس لالچ میں تھے کہ میاں نواز شریف،کیپٹن صفدر اور دیگر کہا کرتے تھے کہ بس نکلے کے نکلے ادھر شیخ رشید نے اپنے دوست کو نکلوا لیا میاں نواز شریف نے اپنے دو اور ہم حالات پر چھوڑ دیئے گئے۔مجھے پتہ چل گیا تھا کہ ایک بندہ ء خاص جو شیخ رشید کا دوست تھا اس کی جان تب تک نہیں چھٹنی جب تک میں پاکستان ڈیپورٹ نہیں ہوں گا۔میں ۲۸ مئی کو جہاز پر چڑھ گیا وہ بندہ دو دن بعد باہر آ گیا۔نہ جھکنے والے توڑ دیئے جاتے ہیں۔لیکن ہم نے کون سا خسارہ کیا ۔وہ گھٹیا شخص ادھر اسلام آباد میں ہی ہوتا ہے جو لاگ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کرتے ہیں انہیں شاہ بھی گھاس نہیں ڈالتے۔بعد میں وہ جنرل مشرف کے خلاف ہو گیا۔یہ سارا اس کا کیا دھرا تھا۔مونچھوں والا باندر جو الریاض سے آنے والے احکامات پر دم ہلایا کرتا تھا ایک بار مجھے میکڈونلڈ میں مل گیا ٹرے چھوڑ کر بھاگ گیا۔اتنے دلیر تو یہ لوگ ہوتے ہیں۔

میری ماں مجھ سے باتیں کیا کرتی تھیں بھلا ہو اعجازالحق کا وہ روز یا دوسرے دن مجھے سے رابطہ کرتے ماں جی کو تسلی بھی دیتے۔اسی لئے وہ میری فیملی کا ممبر ہے مجھے اس کی وہ نیکی کبھی نہیں بھولتی۔ماں جی در اصل اندر سے ٹوٹ چکی تھیں۔میں جب لاہور ایئر پورٹ اترا تو مجھے اور بچوں کو دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔ہم اپنے چچا جو سسر بھی تھے ان کی تعزیت کے لئے نلہ ہریپور گئے تو بے جی وہیں بیمار ہو گئیں۔انہیں برین ہیمرج ہوا ہم نلہ سے پمز چھ گھنٹوں میں پہنچے جو آج کل دو گھنٹوں کا ہے۔ایک روز جدہ میں سخت پریشان ہوئیں عارف نے پوچھا بے جی کیا بات ہے کہنے لگی میری تہجد ضائع ہوئی ہے۔دنیا کی ساری مائیں عظیم ہوتی ہیں میری ماں بھی ماں ہی تھیں لیکن اﷲ سے لگاؤ رکھتی تھیں۔مریم نے بے جی سے کہا کہ میرے والد کے لئے دعا کریں یاد رہے میاں صاحب اس وقت اٹک قلعہ میں تھے تو ماں جی نے انہیں کہا کہ اﷲ کرم کرے گا اور تم ان سے یہیں ملو گی اور ایسا ہی ہوا ۔مریم اور ساری فیملی اس وقت جدہ میں تھی جب ان کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔بعد میں ایک تسبیح بھی میاں صاحب کو بھجوائی گئی جو میں نے حرم میں انہیں پیش کی۔اعجاز الحق اور دیگر دوست ان سے خصوصی دعا کرایا کرتے تھے۔کچھ بھی ہو جائے اف نہ کرتیں اور کسی کا شکوہ بھی کریں تو او جانے کہہ کر بات ٹال دیتی تھیں۔مائیں شکائیتوں کا پوسٹ بکس ہوتی ہیں سارے اپنی اپنی شکائیت لے کر جاتے سب کو راضی کر دیتی تھیں۔محلے میں بے جی کے نام سے ہی جانی جاتیں۔والد صاحب سخت مزاج تھے اور انتہائی نرم۔لسن ایبٹ آباد سے چیچی گجروں میں سے تھیں کہا کرتیں چوہان ویسے ہی سخت ہوتے ہیں اگر چیچی نہ ملتے تو لڑائیاں ہو تیں۔لسی لینے والے بچے آتے تو سب کو دیتیں کبھی کسی کو خالی نہ لوٹاتیں۔والد صاحب کے لئے الگ رکھ لیتیں باقی جو آتا اتنا پانی ڈال دیتیں اور ہوتا یوں کہ دوپہر تک پانی اور لسی کا فرق محسوس نہ ہوتا۔کہہ دیتیں گزارا کرو۔

آج اکیس جون ہے اور ماں جی کی وفات کا دن ہے گزشتہ روز قران پاک پڑھوایا تھا ان کے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں جہاں کہیں بھی ہیں ان کے لئے ہاتھ بلند کرتے ہیں اولاد بھی ماں کو یاد کیئے بغیر نہیں رہتی۔
وہ بیماری میں ادھر ادھر کی باتیں کیا کرتیں ہر ایک سے کہتیں کہ افتخار کو گاڑی اور گھر لے کر دیا یہ وہ اس بیٹے کے بارے میں کہہ رہی تھیں جس نے ساری زندگی اپنے گھرانے کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی جد وجہد کی۔مجھے اسی ماں کی دعا ہے آج اﷲ نے سب کچھ دے دیا ہے۔وہ پمز میں سترہ دن بیڈ پر رہیں اور اکیس جون کواس جہاں سے رخصت ہو گئیں ۔

بائیس جون کو کڑکتی دوپہر تھی سورج آگ برسا رہا تھا لیکن جب جنازہ اٹھا تو اہلکی پھوار سارے راستے رہی۔اور یوں بے جی ہم سے رخصت ہو گئیں۔اﷲ ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 408 Articles with 166844 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
24 Jun, 2017 Views: 488

Comments

آپ کی رائے