شہزادہ محمد بن سلمان اور درپیش چیلنجز

(Musab Habib, )

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

تحریر: حبیب اﷲ قمر
سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے شہزادہ محمد بن نائف کو ولی عہد کے منصب سے ہٹا کر ان کی جگہ شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کو ولی عہد مقرر کیا ہے۔وہ نئی ذمہ داری سبنھالنے کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع کے عہدہ پر بھی برقرار رہیں گے اور نائب وزیر اعظم بھی ہوں گے۔ سعودی عرب کی بیعت کمیٹی میں شامل 34 میں سے 31 ارکان نے شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر کرنے کے فیصلے کی توثیق کی جس پر اظہار وفاداری کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے اور بھی بہت سے تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف کو وزیر داخلہ اور احمد بن محمد السالم کو نائب وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔ شہزادہ بندر بن فیصل جنرل انٹیلی جنس شعبہ کے سربراہ کے معاون ،شہزادہ عبداﷲ بن خالد ، شہزادہ ترکی بن محمد اور شہزادہ عبدالرحمان الربیعان شاہی دیوان میں مشیرہوں گے۔شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز کو اٹلی، شہزاہ خالد بن بندر بن سلطان کو جرمنی میں سعودی عرب کا سفیرجبکہ شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی بن فیصل کو جنرل سپورٹس اتھارٹی کا ڈپٹی چیئرمین تعینات کیا گیاہے۔اسی طرح شہزادہ عبدالعزیز بن فھدکو سعودی علاقے الجوف کا نائب گورنر بنایا گیا ہے۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کئے جانے کی خبر دنیا بھر کے میڈیا نے ایک بڑی بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کی۔سعودی کابینہ میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیاہے کہ جب حال ہی میں سعودی عرب سمیت بعض دیگر عرب ملکوں کی جانب سے قطر کا بائیکاٹ کیا گیا ہے اور برادر اسلامی ملک یمن کی جنگ میں بھی الجھا ہوا ہے۔ ایران کی جانب سے اس فیصلہ کو نرم بغاوت قرار دیا جارہا ہے۔ہندوستانی میڈیا بھی بے پر کی اڑا رہا ہے کہ محمد بن نائف کمزورشخص تھے اس لئے انہیں ان کے عہدہ سے برطرف کیا گیا ہے۔اسی طرح بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے حالیہ فیصلوں کے بعد شاہی خاندان میں اختلافات کے بھی شوشے چھوڑے جارہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان خبروں میں کسی قسم کی کوئی صداقت نہیں ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی ولی عہد کے عہدہ پر تعیناتی سعودی عرب میں بادشاہ اور ولی عہد کے عہدہ کا انتخاب کرنے والی بیعہ کونسل کے مشورہ سے کی گئی اور اس کونسل کے 34میں سے 31ارکان نے محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کرنے کے فیصلہ کی تائید و حمایت کی جس کے بعد اظہار وفاداری کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ شہزاد محمد بن سلمان ولی عہد منتخب ہونے کے بعد خاندان کے بڑے بزرگوں کے پاس خود چل کر گئے اور ان سے ملاقات کرتے ہوئے رہنمائی لینے کا سلسلہ جاری رکھنے کا عزم کیا۔ سابق وزیر داخلہ محمد بن نائف نے بھی ان کی بیعت کی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو میں محمد بن سلمان کو آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ چومتے اور عزت و احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ محمد بن نائف نے ان کی بیعت کرتے ہوئے کندھا تھپتھپایا اور ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔یہ ویڈیوبہت بروقت جاری کی گئی اس کے بعد موقع کی تاک میں رہنے والی بعض قوتوں کی جانب سے شاہی خاندان میں اختلافات کا پروپیگنڈا کافی حد تک دم توڑ گیااور ان خبروں کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں اہمیت نہیں دی گئی۔ محمد بن سلمان اگرچہ کم عمر ہیں لیکن انہوں نے بین الاقوامی سیاست اور کامیاب معاشی منصوبے شرو ع کرنے میں صرف سعودی عرب ہی نہیں پوری دنیا میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔ ا نہیں سعودی ویژن 2030منصوبہ کا تخلیق کار اور عسکری اتحاد وں کا رہنما شمار کیا جاتا ہے۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے دو برس قبل ا نہیں دنیا کے باثرترین رہنماؤں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ محمد بن سلمان الریاض میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دارالحکومت کے اسکولوں میں ہی حاصل کی اور انٹرمیڈیٹ میں سعودی عرب کی سطح پر ابتدائی دس پوزیشنیں لینے والے طلبہ میں شامل رہے۔ چیلنج اور کامیابی چاہنے والے شہزادے نے ریاض کی شاہ سعود یونیورسٹی سے قانون میں گریجویشن کیا اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔2007 ء میں انہوں نے سیاسی سرگرمیوں کا آغازاس وقت کیاجب انہیں سعودی کابینہ میں ماہرین کونسل کا کل وقتی مشیر مقرر کیا گیا۔ دسمبر 2009 میں انہیں اپنے والد اور اس وقت الریاض کے گورنر (شاہ سلمان) کا خصوصی مشیر بنا دیا گیا۔سال 2013 کے آغاز پر شاہ سلمان کے ولی عہد بننے پر شہزادہ محمد بن سلمان ولی عہد کے دفتر کے نگران مقرراور ولی عہد کے خصوصی مشیر مقرر ہوئے۔ جولائی 2013 میں انہیں مزید ذمہ داریاں سونپتے ہوئے اس وقت کے وزیر دفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے دفتر کا نگرانِ عام اور سال 2014 میں انہیں وزیر مملکت اور کابینہ کا رکن بنا دیا گیا۔جنوری 2015 میں شاہ سلمان کے فرمانروا بننے پر شہزادہ محمد کو مملکت کا وزیر دفاع اور پھر شاہ سلمان کا خصوصی مشیر مقرر کیا گیا۔ علاوہ ازیں انہیں اقتصادی اور ترقیاتی کونسل کی صدارت بھی سونپ دی گئی۔محمد بن سلمان وزیر دفاع بنے تو انہوں نے سعودی عرب کیلئے طاقتور اتحادوں کے قیام پرکام کیاجس کا مقصدخطہ میں امن و امان کا قیام یقینی بنانا تھا۔اس سلسلہ میں پہلا اتحاد انہوں نے عزم کی آندھی کے نام سے بنایا جس کا مقصد یمن میں آئینی حکومت کی واپسی کو ممکن بنانا تھا۔شہزادہ محمد بن سلمان اسلامی ممالک کے اتحاد کے قائد بھی تھے اور انہوں نے کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ایک اسلامی طاقت تخلیق دینے پر طویل عرصے تک کام کیا۔شہزادہ محمد بن سلمان نے عالمی سطح پر بہت اہم دورے کئے۔وہ چین ، جاپان ، روس ، امریکا اور دیگر کئی ممالک گئے جہاں انہوں نے اتحادوں کے قیام اور خطے کے بہت سے معاملات کے سیاسی حل کے سلسلے میں بات چیت کی۔انہوں نے داخلی اصلاحات پر بھی بھرپور انداز سے کام کیااور ویژن 2030 کے نام سے ایک جامع پروگرام پیش کیا جس میں مملکت کی تمام وزارتوں کو شریک کیا گیا تا کہ سعودی عرب میں اقتصادی مسائل کے حل کو تلاش کیا جائے اور تیل پر آمدن کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر انحصار کو ختم کیا جائے۔شہزادہ محمد بن سلمان نوجوانوں میں خاص طو رپر بہت مقبول ہیں۔ اس وقت جب انہیں ولی عہد بنایا گیا ہے تو ان پرفی الحال بہت بڑی ذمہ داری قطر کے بائیکاٹ کا فیصلہ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات،بحرین اور مصر کی جانب سے سفارتی بائیکاٹ کے بعدبعض ملک قطر کو ایک انتہائی مظلوم ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور یہ ثابت کرنے پر زور لگایا جارہا ہے کہ غزہ کی طرح قطرکا محاصرہ کر لیا گیا ہے اور شاید آنے والے دنوں میں یہاں لوگوں کو کھانے کیلئے کچھ نہیں ملے گا۔قطری بائیکاٹ کے سیاسی مسئلہ کو محاصرے کا نام دیکر انسانی حقوق کا معاملہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب یہ حقائق کسی کو نہیں بتائے جارہے کہ قطر کے نام سے یہ خلیجی ریاست امریکہ کے سب سے بڑے جنگی اڈے کی حیثیت رکھتی ہے؟۔ یہاں سینکڑوں لڑاکا طیارے، بیس ہزار سے زائد امریکی فوجی اور جدید ترین اسلحہ کے ڈھیرموجود ہیں؟ ۔ اسی خطہ سے مسلمان ملکوں میں قتل و غارت گری کی آگ بھڑکانے والی داعش کومدد فراہم کی جاتی رہی؟اور حزب اﷲ جیسے گروہوں کی بھرپور مالی امداد کی گئی۔ قطر پر ان حوثی باغیوں سے تعاون کا بھی الزام ہے جو حرمین شریفین پر حملوں کی نہ صرف کھلی دھمکیاں دیتے رہے بلکہ عملی طور پر بھی ایسی مذموم سازشوں میں مصروف ہیں؟۔یہی وہ بنیاد تھی جس کی وجہ سے یمن میں جاری ’’بحالی امید آپریشن‘‘ کیلئے عرب اتحادکے پلیٹ فارم سے کئے جانے والے آپریشن کا حصہ بنائے گئے دوحہ کو اس میں سے نکال دیا گیاتھا۔ادھرقطر کے بائیکاٹ کے بعد اسلامی فوجی اتحاد کیخلاف پروپیگنڈا بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح داعش جیسی تنظیموں کیخلاف کامیاب آپریشن بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ لہٰذا انہیں مضبوط اعصاب کے ساتھ ان تمام چیلنجز سے نمٹنا ہو گا۔شہزادہ محمد بن سلمان کے اکنامک ویژن کو جس طرح پوری دنیا میں پسند کیا جارہا ہے اسی طرح ان کی سیاسی بصیرت اور بروقت فیصلوں کی بھی تحسین کی جارہی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے انہیں کم عمری میں جن قائدانہ صلاحیتوں سے نوازا ہے‘ سعودی عرب ان کے دور میں تمام مشکلات سے ان شاء اﷲ بآسانی نکل جائے گا ۔ پوری مسلم امہ کی دعائیں برادر اسلامی ملک کے ساتھ ہیں۔ اﷲ تعالیٰ اسے اندرونی و بیرونی دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musab Habib

Read More Articles by Musab Habib: 193 Articles with 82345 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jun, 2017 Views: 498

Comments

آپ کی رائے