ماہِ رمضان کی وداعی میں اسلاف رویا کرتے تھے

(Najeeb Qasmi, Riyadh)

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن، وَالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْم ِوَعَلٰی آلِہِ وَاَصْحَابِہِ اَجْمَعِیْن۔

فضیلتوں اور برکتوں کا مہینہ اختتام پذیر ہے، بہت جلد وہ وقت آئے گا جب ہم آپس میں تذکرہ کریں گے کہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں۔ ہم یاد کریں گے کہ روزہ دار کے منہ کی بو جو بھوک کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، وہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ نیز روزے داروں کے لئے دریا کی مچھلیوں کا دعائے مغفرت کرنا اور افطار کے وقت تک کرتے رہنا، جنت کا روزے داروں کے لئے سجایا جانا، سرکش شیاطین کو قید کرنے اور افطار کے وقت روزے دار کی دعا کے رد نہ ہونے کو یاد کیا کریں گے۔ ہر رات فرشتوں کی ندا یاد کی جائے گی کہ اے طالب خیر! سامنے آ اور متوجہ ہو ۔ اے طالب شر! بس کر گناہوں سے، تائب ہوکر طاعت اور نیکی کی زندگی کو اختیار کر۔ ہمارے بعض اسلاف رمضان کے اختتام پر رمضان کی وداعی میں رویا کرتے تھے کہ گناہوں سے مغفرت کا موسم ، اﷲ کے فضل وکرم کو حاصل کرنے اور جہنم سے نجات حاصل کرنے کا اہم وقت جا رہا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کی مغفرت فرمائے۔ ہمارے لئے جہنم سے چھٹکارے کا فیصلہ فرمائے۔ نیز روزوں اور رات کے قیام (تراویح اور تہجد) اور تمام نیک اعمال کو قبول فرماکر ہم سب کو اجر عظیم عطا فرمائے۔
ماہ رمضان میں تراویح اور تہجد کی نماز پڑھنا یاد کیا جائے گا جن کے متعلق رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص رمضان (کی راتوں) میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لئے) کھڑا ہو، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ رمضان کی راتوں میں ایک اہم وبرکت والی رات (شب قدر) کو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا کیونکہ اس رات میں عبادت کرنے کو اﷲ تعالیٰ نے ہزار مہینوں سے افضل بتایا ہے، گویا اس رات کی عبادت پوری زندگی کی عبادت سے بہتر ہے۔ اسی مبارک رات میں قرآن کریم لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل ہوا۔ کل قیامت کے دن رمضان اور قرآن کی ہمارے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی ان شاء اﷲ۔ اﷲ تعالیٰ سے تقرب حاصل کرنے کے اور شب قدر کی عبادت کے حصول کے لئے اعتکاف جیسی نرالی عبادت کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے، ہمارے نبی اکرم ﷺ نے ۲ ہجری میں روزے کی فرضیت کے بعد سے وفات تک ہمیشہ اعتکاف فرمایا۔ پہلے سال آپ ﷺ نے پورے ماہ کا جبکہ آخری سال آپ ﷺنے بیس روز کا اعتکاف فرمایا، باقی ہر سال آپ آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
روزہ کے بے شمار فضائل میں سے ایک اہم فضیلت ہمیشہ ہمارے دل ودماغ میں چھائی رہے گی۔ رسول اﷲ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے روزہ کو اپنی طرف منسوب کرکے فرمایا الصَّوْمُ لِی روزہ میرے لئے ہے، چنانچہ حدیث قدسی میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: انسان کے ہر (نیک) عمل کا بدلہ ۱۰ گنا سے لے کر ۷۰۰ گنا تک دیا جاتا ہے، لیکن روزہ کا بدلہ میں خود ہی عطا کروں گا کیونکہ وہ میرے لئے ہے ۔ دوسری روایت کے مطابق میں خود ہی روزہ کا بدلہ ہوں۔ انسان کھانے پینے اور جنسی شہوت سے صرف میری وجہ سے رکا رہتا ہے۔ روزہ دار کو دو خوشیاں ملتی ہیں، ایک افطار کے وقت (وقتی ) اور دوسری اﷲ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت (دائمی)۔ (بخاری ومسلم) روزہ میں عموماً ریا کا پہلو دیگر اعمال کے مقابلہ میں کم ہوتا ہے اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے روزہ کو اپنی طرف منسوب کرکے فرمایا الصَّوْمُ لِی روزہ میرے لئے ہے ۔
اپنا محاسبہ: رمضان کے اختتام پر ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم نے پورے ماہ روزے رکھ کر روزے کے اہم مقصد کو حاصل کیا یا نہیں۔ قرآن کریم کے اعلان کے مطابق روزہ کی فرضیت کا بنیادی مقصد ہماری زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ اب ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہمارے اندر تقویٰ یعنی اﷲ کا خوف پیدا ہوا یا وہی حقوق اﷲ اور حقوق العباد میں کوتاہی رمضان کے بعد دوبارہ لوٹ کر آگئی۔ روزے کا دوسرا مقصد: گناہوں سے مغفرت ہے، لہذا مندرجہ ذیل حدیث کی روشنی میں ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے منبر پر چڑھتے ہوئے تین مرتبہ کہا: آمین۔ آمین۔ آمین۔ صحابہ کے سوال کرنے پر حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام میرے سامنے آئے تھے۔ اور جب میں نے منبر پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا غبار آلود ہو اس شخص کی ناک (یعنی بڑا بدنصیب ہے وہ شخص ) جس نے رمضان کا مبارک مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔ میں نے کہا آمین ۔۔۔ غور فرمائیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام جیسے مقرب فرشتے کی بد دعا اور پھر نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی ﷺ کا آمین کہنا۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کی اس بد دعا سے حفاظت فرمائے۔ نیز ہمیں ہمیشہ اپنے نبی ﷺکا یہ فرمان ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزہ کے ثمرات میں بجز بھوکا رہنے کے کچھ بھی حاصل نہیں ، اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو رات کے جاگنے (کی مشقت) کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا۔ (ابن ماجہ، نسائی)
رمضان المبارک کے بعد: عمل کی قبولیت کی جو علامتیں علماء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر فرمائی ہیں ان میں سے ایک اہم علامت عمل صالح کے بعد دیگر اعمال صالحہ کی توفیق اور دوسری علامت اطاعت کے بعد نافرمانی کی طرف عدم رجوع ہے۔ نیز ایک اہم علامت نیک عمل پر قائم رہنا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو محبوب عمل وہ ہے جس میں مداومت یعنی پابندی ہو خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔ (بخاری ومسلم) حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے حضور اکرم ﷺ کے عمل کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا آپ ﷺ ایام کو کسی خاص عمل کے لئے مخصوص فرمایا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ نہیں، بلکہ آپ ﷺاپنے عمل میں مداومت (پابندی) فرماتے تھے۔ اگر کوئی ایسا کرسکتا ہے تو ضرور کرے۔ (مسلم) حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا : اے عبداﷲ! فلاں شخص کی طرح مت بنوجو راتوں کو قیام کرتا تھا لیکن اب چھوڑدیا۔ (بخاری ومسلم) لہذا ماہِ رمضان کے ختم ہونے کے بعد بھی ہمیں برائیوں سے اجتناب اور نیک اعمال کا سلسلہ باقی رکھنا چاہئے کیونکہ اسی میں ہماری دونوں جہاں کی کامیابی وکامرانی پوشیدہ ہے۔ چند اعمال تحریر کررہا ہوں، دیگر اعمال صالحہ کے ساتھ ان کا بھی خاص اہتمام رکھیں۔
نماز کی پابندی: نماز ایمان کے بعد دین اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی رکن ہے جس کی ادائیگی ہر عاقل وبالغ مسلمان پر فرض ہے۔ لیکن انتہائی تشویش وفکر کی بات ہے کہ مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد اس اہم فریضہ سے بے پرواہ ہے۔ رمضان کے مبارک ماہ میں تو نماز کا اہتمام کرلیتے ہیں مگر رمضان کے بعد پھر کوتاہی اور سستی کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ قرآن وحدیث میں اس فریضہ کی بہت زیادہ اہمیت اور تاکید وارد ہوئی ہے۔ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا اور اگر نماز درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ میں ہوگا۔ (ترمذی، ابن ماجہ، نسائی، ابوداود ، مسند احمد) حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے آخری وصیت یہ ارشاد فرمائی: نماز، نماز۔ (یعنی نماز کا اہتمام کرو)۔ جس وقت آپ ﷺنے یہ وصیت فرمائی آپﷺکی زبان مبارک سے پورے لفظ نہیں نکل رہے تھے۔ (مسند احمد)
قرآن کی تلاوت کا اہتمام: تلاوت قرآن کا روزانہ اہتمام کریں خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔ علماء کرام کی سرپرستی میں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔ قرآن کریم میں وارد احکام ومسائل کو سمجھ کر ان پر عمل کریں اور دوسروں کو پہونچائیں۔ یہ میری ، آپ کی اور ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم قرآن کریم کے معنی ومفہوم نہیں سمجھ پا رہے ہیں تب بھی ہمیں تلاوت کرنی چاہئے کیونکہ قرآن کی تلاوت بھی مطلوب ہے۔
حلال رزق پر اکتفا: حرام رزق کے تمام وسائل سے بچ کر صرف حلال رزق پر اکتفا کریں خواہ مقدار میں بظاہر کم ہی کیوں نہ ہو کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کل قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اﷲ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتا یہاں تک کہ وہ پانچ سوالوں کے جواب دیدے۔ ان پانچ سوالات میں سے دو سوال مال سے متعلق ہیں کہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ صرف حلال وسائل پر ہی اکتفا کرے، جیساکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حرام مال سے جسم کی بڑھوتری نہ کرو کیونکہ اس سے بہتر آگ ہے۔ (ترمذی) اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ انسان جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو، ایسے شخص کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (مسند احمد) نیز نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ حرام کھانے، پینے اور حرام پہننے والوں کی دعائیں کہاں سے قبول ہوں۔ (صحیح مسلم )
بچوں کی دینی تعلیم وتربیت:ہماری یہ کوشش وفکر ہونی چاہئے کہ ہماری اولاد اہم وضروری مسائل شرعیہ سے واقف ہوکر دنیاوی زندگی گزارے اور اخروی امتحان میں کامیاب ہو کیونکہ اخروی امتحان میں ناکامی کی صورت میں دردناک عذاب ہے، جس کی تلافی مرنے کے بعد ممکن نہیں ہے، مرنے کے بعد آنسو کے سمندر بلکہ خون کے آنسو بہانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یاد رکھیں کہ اگر ہم اخروی زندگی کو سامنے رکھ کر دنیاوی زندگی گزاریں گے تو ہمارا بچوں کی تعلیم میں مشغول ہونا، ان کی تعلیم پر پیسہ خرچ کرنا اور ہر عمل دنیا وآخرت دونوں جہاں کی کامیابی دلانے والا بنے گا ان شاء اﷲ۔ لیکن آج عصری تعلیم کو اس قدر فوقیت واہمیت دی جارہی ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو بالغ ہونے کے باوجود نماز وروزہ کا اہتمام نہیں کرایا جاتا کیونکہ ان کو اسکول جانا ہے، ہوم ورک کرنا ہے، پروجیکٹ تیار کرنا ہے، امتحانات کی تیاری کرنی ہے وغیرہ وغیرہ یعنی دنیاوی زندگی کی تعلیم کے لئے ہر طرح کی جان ومال اوروقت کی قربانی دینا آسان ہے، لیکن اﷲ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔
ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے دوری:معاشرہ کی بے شمار برائیاں ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے پھیل رہی ہیں، لہذا فحش وعریانیت وبے حیائی کے پروگرام دیکھنے سے اپنے آپ کو بھی دور رکھیں اور اپنی اولاد وگھر والوں کی خاص نگرانی رکھیں تاکہ یہ جدید وسائل آپ کے ماتحتوں کی آخرت میں ناکامی کا سبب نہ بنیں، کیونکہ آپ سے ماتحتوں کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ (سورۃ التحریم ۶)
پاکیزہ اور صاف ستھرے معاشرہ کی تشکیل: معاشرہ کی عام برائیوں مثلاً ناپ وتول میں کمی، سود، رشوت، جوا ، شراب، جھوٹ، غیبت، فحش کلامی، کسی شخص کو گالی یا دھوکہ دینا، تکبر، فضول خرچی، زنا اور زنا کے تمام لوازمات مثلاً نامحرم مرد وعورت کا اختلاط، چوری، ڈکیتی یا کسی شخص کے مال کو ناحق لینا اور معاشرہ کے ناسور یعنی جہیز کے لین دین سے محفوظ رہ کر ایک اچھے اور پاکیزہ معاشرہ کی تشکیل دینے میں اپنا پھرپور تعاون پیش کریں۔
اﷲ تعالیٰ مغفرت اور رحمت والے مہینہ میں کئے گئے ہمارے تمام اعمال صالحہ کو قبول فرمائے اور ہمارے لئے جہنم سے چھٹکارہ کا فیصلہ فرمائے۔ آمین، ثم آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Najeeb Qasmi

Read More Articles by Najeeb Qasmi: 151 Articles with 63058 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jun, 2017 Views: 665

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ