عید غرباء کی بھی ہے

(Amna yousaf, Lahore)
عید کے دن غرباء اور رشتےداروں کو بھی یاد رکھیں

 رمضان کا ہر طرف شور تھا رمضان آنا ہے رمضان آنا ہے رمضان آیا اور آ کر چلا بھی گیا پتہ بھی نہیں لگا
ہم تو چلے جائیں گے مگر رمضان قیامت تک آتا رہے گا
اب رمضان بیت چکا ہے ہم سب سے جتنی عبادتیں ہو سکیں جتنی نیکیاں کما سکے کما لیں اور اللہ سے دعا ہے کہ ہماری ٹوٹی پھوٹی عبادتیں قبول فرمائیں آمین یا رب !
کل یا پرسوں انشااللہ اللہ کے فضل سے عید ہو گی عید دراصل مسلمانوں کے لئے ایک تحفہ ہے پورے مہینے روزوں کے بعد ایک انعام کی مانند ۔
میری یہ تحریر دراصل عید پر مبنی کچھ خاص باتوں کی طرف توجہ دلانا تھی
عام دنوں میں تو دیکھنے میں آتا ہی ہے لیکن عید والے دن بھی کچھ بچے پھٹے پرانے کپڑوں میں ننگے پاؤں گرد آلود چہرے لے کر پیٹ کی بھوک مارنے کے لئے سڑکوں پر خوار ہو رہے ہوتے ہیں کبھی وہ ہماری گاڑی کا شیشہ صاف کریں گے کبھی ایک یا دو روپوں کی خاطر منتیں کریں گے اور کبھی کوئی پھول کتاب گجرا یا اخبار ہمارے سامنے کریں گے تاکہ ہم اس کو چند روپے کے عوض خرید لیں اور چند خوشیاں ان کی جھولی میں بھردیں جو ہمارے سامنے شائد بے معنی ہوں لیکن ان کے لئے کتنی بڑی ہو سکتی ہے یہ تو وہ خود جانیں یا رب جانے
مگر افسوس کہ وہ چند روپے ہمیں دیتے ہوئے اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ اسکا غصہ اسی بات پر نکلتا ہے کہ "مانگنا تو ان لوگوں کا پیششہ بن چکا ہے " یہ جملہ بولا اور اگلے کا دل چور چور کر دیا معلوم نہیں وہ پیشہ وارانا ہے یا واقعی حقدار ہے مگر ہماری جیب سے اللہ کے نام پر مانگے جانے کے باوجود ایک پیسہ نہیں نکلتا اور باتیں سو طرح کی ۔
جہاں عید پر ہم خوشی کا اظہار کرتے خاندان کے خاندانوں کی دعٰوت کرتے ہیں طرح طرح کے کھانے بناتے ہیں انکے ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہاں ہم گھر میں موجود ملازمین کو صبح سے شام تک کھانا پکانے میں مصروف رکھتے ہیں اور کھانے کے وقت انہیں کو بھول جاتے ہیں جنہوں نے کھانا پکایا ہو یا پھر اگر باہر جانے کا اتفاق ہو تو کھانا کھانے میں اس قدر مگن ہوتے ہیں کہ اپنے بچے غریب کے بچے کی نگرانی میں دے کر پرسکون ماحول میں کھانا کھاتے ہیں اور اس بچے کو بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی انسان کا بچہ ہے اور وہ بھی احساسات رکھتا ہے
عید پر ہم سب اپنے بچوں کے لئے طرح طرح کے کپڑے خریدتے ہیں اور انکی ہر خواہش پوری کرتے ہیں اپنے بچے کو گھر میں تیار کر کے نماز پڑھنے بڑوں کے ساتھ بھیج دیتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ گھر میں بھی ملازم کا بچہ ہے "عید کی نماز پڑھنا تو اسکا بھی حق ہے " اس فکر کے برعکس ہم سوچ رہے ہوتے ہیں کہ اس بچے کو کونسا کام دیا جائے اور دن بھر کےکام کاج کا آغاز کروایا جائے
ہوٹلوں ،فیکٹریوں ،ڈھابوں اور کارخانوں میں بچے نظر آتے ہیں جو معلوم نہیں عید کے لئے ہمارے بچوں جیسا کچھ خرید بھی سکیں یا نہیں کپڑے تو دور کی بات معلوم نہیں انہیں کھانے کو بھی ملے گا یا نہیں
یہ حقیقت ہے کہ مانگنے کو پیشہ بنا لیا گیا ہے لیکن پانچھوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ہم کسی کی مجبوری کو سمجھنے کی بجائے اسپر "پیشہ وارانہ" کہ کر الزام نہیں لگا سکتے
پاکستان میں تو بڑے پڑھے لکھے نوکری سے فارغ ہیں تو پھر غریب انپڑھ کو نوکری کون دے گا؟

غیر تو دور کی بات ہمارے خاندانوں میں بہت سے رشتہ دار جو بہت سی ایسی نعمتوں سے محوم ہیں جو اللہ نے ہمیں دے رکھیں ہیں ہمیں اپنی خوشیوں میں وہ "غریب رشتہ دار"یاد نہیں رہتے حالانکہ رشتے داروں کا حق تو سب سے بڑھ کر ہے
ان رشتے داروں میں ماں ،بہن،باپ،بھائی وغیرہ بھی موجود ہیں جنہیں قطعہ تعلقی یا کچھ خاندانی آپس کی ناراضگی کے حوالے کیا ہوا ہے اور وہ کسی بھی قسم کی مدد کا محتاج ہوں ہمیں کسی کے سکون سے زیادہ اپنی انا پیاری ہے
جو عید جیسے تہواروں پر ملنا ملانا پسند نہیں کرتے یہ بھی خبر نہیں رکھتے کہ انکا چولہا بھی جلا ہو گا کہ نہیں؟

اور دم بھرتے ہیں مسلمان ہونے کا ؟

بے انتہا افسوس کے ساتھ کہ ہم خواتین اپنے لئے مہنگی سی مہنگی چیز خرید سکتی ہیں وہاں کسی غریب عورت محتاج و بے بس اور حقدار کی مدد کرتے ہوئے ہمارا حوصلہ کیوں نہیں پڑھتا ؟
مرد حضرات جہاں اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں وہاں دوسرے حقداروں کے لئے کیوں نہیں آگے بڑھتے؟
ہمارےبچے عید پر فضول خرچی کر سکتے ہیں توہم کیوں نہیں کسی غریب محتاج کی مدد کر سکتے؟

اسلام "امن کا مذہب" ہے اور "مساوات " سکھاتا ہے امیر وغریب کا فرق مٹاتا ہے اللہ کے ہاں امیر و غریب معنی نہیں رکھتے بلکہ کون کتنا سخی ہے یہ معنی رکھتا ہے اور سخی انسان پیسے سے نہیں "دل" سے ہو تا ہے اللہ کے ہاں "بخیل" برا ہے ۔ اسلام میں ایک بہت بڑا باب ہے جو "حقوق العباد" پر مبنی ہے جس میں تمام تر رشتے آس پڑوس اور حقدار موجود ہیں ہمارے معاشرے کے "غرباء" بھی ان میں سے ایک ہیں جو مستحق ہیں اور واقعی جن کے گھر میں دو وقت کا کھانا نہیں بنتا ۔ اور ان میں سے کوئی بہت قریبی رشتے دار بھی ہو گا یقینً۔

ایک التجا ہے آپ سے کہ عید جیسی خوشی میں انہیں اپنے ساتھ رکھیں
انکا خیال رکھیں
جو ضرورتیں آپکی ہیں وہی ان کی ہیں
پیٹ کی خاطر انسان کیا کیا نہیں کرتا "پیٹ کی بھوک" کو کسی کی مجبوری نہ جانئیے اور برے سلوک کی نظر نہ کیجئے کیونکہ اللہ تمام تر کئے سے واقف ہے اور انصاف والا ہے
مسلمان ضرورتمندوں کو ہماری ضرورت ہے
اقوامِ متحدہ سارا زور انسانیت پر ڈال رہا ہے یہ وہ جزبہ ہے جو نبی اللہ نے 1400سو سال پہلے بتا دیا تھا اور یہ انسان کی مدد کرنا ہی ہے انسانیت کا پتہ اسی وقت لگتا ہے جب انسان انسان سے انسان جیسا پیش ائے
اسلام "احسان " کا حکم دیتا ہے اور احسان اس قدر ہے کہ ایک حدیث کا مفہوم بتاتی ہوں
نبی اللہ نے مظلوم اور ظالم کی مدد کا حکم دیا صحابہ نے سوال کیا اے اللہ کے رسول !
مظلوم کی مدد تو سمجھ میں آتی ہے مگر ظالم کی کیسے مدد ہو گی؟ تو نبی محترم نے فرمایا ظالم کی مدد اسے ظلم سے روکنا ہے

اندازِ بیاں اگرچہ شوخ نہیں میرا
شائد کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
چھوٹی سی چھوٹی مدد کا اندازہ دیکھئے سبحان اللہ
ہمارے معاشرے میں بے حد لوگ بے گھر ہیں ، جو نعمتیں ہمیں حاصل ہیں ان کے پاس موجود نہیں ۔
ایک ہمارے بچے ہیں جن کے لئے ہم کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں اور ایک غریب کا بچہ ہے جب اس غریب بچے کی ماں یا باپ ہم سے کچھ مانگ لے تو وہ پیشہ وارانہ ہو جاتا ہے اور ہم میں سے بہت سے لوگ حرام کما رہے ہیں وہ معنی نہیں رکھتا
اللہ کے نام پر دینے سے نہ کترائیں اپنی حیثیت کے مطابق دیں ان بچوں بڑوں میں "یتیم" بھی موجود ہیں جنکی مدد سے اللہ یقینً خوش ہوتا ہے اور دینے والا ہاتھ لینے والا سے بڑا ہے اگر در پر کوئی آئے تو انکار نہ کریں آپ نے کون سا اپنے پلے سے دینا ہے اللہ کے دئے میں سے دینا ہے جتنا لوگوں پر خرچ کریں گے اتنا پائیں گے اور لوگوں میں اپنے "رشتے دار "پہلی فہرست میں ہیں
اس عید پر اپنے آس پڑوس اور مسلمانوں کا خیال رکھیں رشتہ داروں سے ملیں جن میں ماں باپ بہن بھائی ہیں سب لڑائی جھگڑا بھول جائیں اس محمداللہ کے لئے ہی صحیح جنہوں نے رات ودن مشکلیں جھیلیں اس امت کے لئے
اور یہ امت امت کی بجائے فرقوںمیں بٹ گئی اور امیر و غریب کے تضاد میں پھنس گئی مدد تو دور کی بات ایک دوسرے کا نام لینا پسند نہیں کرتی
اس عید ہر اپنے پیاروں کو خاص طور پر یاد رکھیں
جو روٹھ گئے انہیں منائیں
اور عید سب کے لئے ہے غریب طبقہ اور یتیموں کو رسول اللہ کے لئے یاد رکھیے ان کی مدد کیجئے یقین مانئے فلاح اسی میں ہے
اللہ سے دعا ہے ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگے اور ہمیں ایسا دل و دماغ ملے کہ جو اپنے مسلمان بھائی کے لئے ہمدرد ہو آمین یا رب
یہ عید خوشیاں لے کر آئی ہے خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں
۔ اللہ آپکا اور میرا حامی و ناصر ہے ۔
طالبِ دعا
آمنہ یوسف
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amna yousaf

Read More Articles by Amna yousaf: 16 Articles with 10474 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jun, 2017 Views: 700

Comments

آپ کی رائے
Waisay bat bht patay ki hai or aik bal k aik naibkai lessons hai is mai agr hum sekhna cahe to pr ajkal hum ya or kya mai khud b shayed karta aya ho kai bar
Pr kher Insha Allah agay se khud ko or apne as pas k logo ko samjh bojh dene ki kosish zaror karenge ..
By: Muneeb, Digri on Jun, 30 2017
Reply Reply
2 Like
There is some Sentence structure mistake founded plz write sequec and simple words don't use improper words just like
آس پڑوس
رات دن
محمداللہ
Use proper seqience
Din rat
Allah Muhammad
Aas pass
Ya hamsay neouborhood
Erd gird means proper word and expect common word should be used
Over all topic and issue is good
Related to society problem
Nice work Amana keep it up try to proof reading habit before sending ur data for publisher
Thanks best wishes hopefully u ll never mind take it positive
By: farouq gillani, Bahwalpur on Jun, 29 2017
Reply Reply
0 Like