عید کارڈز بھیجنے کی صدیوں پرانی روایت دم توڑ گئی

(عابد محمود عزام, Lahore)
عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسلمان عید کی تیاریوں میں مشغول ہیں۔ عید الفطر کی آمد قریب آتے ہی ملک بھر کے بازاروں، شاپنگ سینٹرز، پلازوں اور مارکیٹوں میں عوامی گہما گہمی میں بے انتہا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عید الفطر کو منانے کے لیے رمضان المبارک کے آغاز سے ہی تیاریاں شروع کردی جاتی ہیں۔ ماضی میں اپنے پیاروں، رشتہ داروں، عزیزو اقارب اور دوست و احباب کو عید کارڈز ارسال کرنے کی روایت انہیں تیاریوں کا حصہ ہوا کرتی تھی، جو جدید ٹیکنالوجی کی نذر ہوگئی ہے۔ برصغیر میں اپنے پیاروں، عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں کو عید کارڈ بھیجنے کی روایت تقریباً دو صدی سے بھی پرانی ہے۔قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ برِصغیر پاک و ہند میں عید کارڈ بھیجنے کی روایت کا آغاز انیسویں صدی کے آخری سالوں میں ہوا۔ ویسے تو کئی دولت مند مسلمان گھرانے صدیوں سے سجاوٹ والے خطاطی شدہ پیغامات بھیجا کرتے تھے، لیکن عید کارڈز کی وسیع پیمانے پر دستیابی اور ان کا ڈاک کے ذریعے بھیجا جانا انیسویں صدی کے اواخر میں ہی شروع ہوا۔ 1853 میں جب ہندوستان میں ریلوے متعارف کروائی گئی تھی۔ ریلوے کے پھیلاؤ کی وجہ سے لوگ اپنے کاروبار اور روزگار کے سلسلے میں گھروں سے زیادہ دور جانے لگے۔ اس سے ڈاک کا نظام بھی بہتر ہوا، جبکہ پرنٹنگ کی نئی سہولیات نے بھی عید کارڈز کا معیار اور دستیابی بڑھائی۔ ہندوستان کی مخصوص تصاویر والے کارڈ بیسویں صدی کے اوائل میں پرنٹ ہونا شروع ہوئے۔ لاہور میں حافظ قمرالدین اینڈ سنز، حافظ غلام محمد اینڈ سنز اور محمد حسین اینڈ برادرز، دہلی میں محبوب المطابع، اور بمبئی میں ایسٹرن کمرشل ایجنسی شبر ٹی کارپوریشن اور بولٹن فائن آرٹ لیتھوگرافر وہ پہلی کمپنیاں تھیں جنہوں نے ہندوستان میں عید کارڈز کی چھپائی کے کاروبار میں قدم رکھا، لیکن لندن کی کمپنی رافیل ٹک کے چھاپے گئے ہندوستانی مسلم طرزِ تعمیر کی تصاویر والے پوسٹ کارڈ بھی استعمال کیے جاتے تھے۔ رفتہ رفتہ عید کارڈ بھیجنے کی روایت نے پورے خطے میں رواج پایا اور عید کارڈ بھیجنے کی روایت گھر گھر میں پھیل گئی۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوتا ہوگا جس سے کوئی فرد کسی کوئی عید کارڈ نہ بھیجتا ہوگا، مگر سوشل میڈیا کی ترقی کے بعد صدیوں پرانی یہ روایت چند سالوں میں ہی دم توڑ گئی۔

جس طرح بچپن کی اور بہت سی یادوں کی مٹھاس آج بھی محسوس ہوتی ہے، اسی طرح عید کارڈز بھیجنے کی روایت بھی دل و دماغ پر انمٹ نقوش چھوڑگئی ہے، جس کو جب بھی یاد کریں تو محبت، خلوص اور رشتوں کی سچائی کا ایک احساس ہوتا ہے، جو آج ڈھونڈنے سے مشکل ہی ملتا ہے۔ عید کارڈ بھیجنے اورعیدکارڈ ملنے کے لمحات بھیجنے اور وصول کرنے والے دونوں کے لیے باعث مسرت ہوا کرتے تھے۔ بچپن میں جس طرح عزیز و اقارب کو عید کارڈ دینے کا شوق ہوتا تھا، اسی طرح ان سے عید کارڈ وصول کر کے بے انتہا خوشی بھی ہوتی تھی۔ ٹیچرز، دوستوں، رشتہ داروں اور کزنز کو بہت ہی اہتمام کے ساتھ عید کارڈ بھیجے جاتے تھے۔ ماہ رمضان شروع ہوتے ہی یہ فکر دامن گیر ہوجایا کرتی تھی کہ کب کارڈ لینے جائیں گے اور کب بھیجیں گے۔ پہلے اچھے عید کارڈ کے انتخاب میں اچھا خاصا وقت صرف کیا جاتا تھا اور مختلف اسٹالوں میں گھوم پھر کر پسند کے کارڈ منتخب کیے جاتے تھے۔ رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہیملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کی مارکیٹوں اور بازاروں میں خصوصی سٹالز سج جاتے تھے، مہینے کے وسط اور آخری عشرے تک پہنچتے پہنچتے ان کی خریداری اپنے عروج کو پہنچ جاتی تھی۔ عید کارڈز کے ساتھ گفٹ بھی فروخت ہوا کرتے تھے، جن میں چین، لاکٹ، پرفیوم، پین، رومال، گھڑی اور دیگرگفٹ پیک شامل ہو ا کرتے تھے۔ اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کی جانب سے ملنے والے عید کارڈز کا بہت سے افراد باقاعدہ ریکارڈ رکھتے تھے۔ جب بھی دوستوں کی یادیں تازہ کرنا ہوتیں تو پرانے عید کارڈز نکال کر دیکھ لیا کرتے تھے اور عید کارڈ کے ساتھ پرخلوص تحفے میں ملنے والی اشیاء کو بھی عید کے موقع پر بہت شوق سے پہنا جاتا تھا۔

عید کارڈ کے تبادلے میں بچے خاص طور پر دلچسپی لیتے اور اس سرگرمی میں پورے اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ بچوں کے عید کارڈز کی انفرادیت، اس کے اندر لکھے گئے نفس مضمون سے بھی ظاہر ہوتی تھی، جو صرف عید مبارک کے پیغام تک محدود نہیں ہوتا تھا۔ عید کارڈز پر کچھ اسلامی تصاویر بھی بنی ہوتی تھیں۔ ان عید کارڈز میں سب اہم چیز اس زمانے میں لکھے جانے والے وہ اشعار تھے، جو پتا نہیں شاعری کے اصولوں پر پورا اترتے تھے بھی کہ نہیں اور ان کے شاعروں کا بھی کچھ علم نہیں ہوتا تھا، لیکن یہ شعر برسوں تک عید کارڈز پر لکھے جاتے رہے، امید ہے آپ کو بھی کچھ شعر یاد ہوں گے۔
گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی
آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی
٭٭٭
ڈبے میں ڈبہ، ڈبے میں کیک
دوست ہے میرا لاکھوں میں ایک
٭٭٭
چاول چنتے چنتے نیند آگئی
صبح اٹھ کر دیکھا تو عید آگئی
٭٭٭

یہ اشعار تو بچوں کے عید کارڈز پر لکھے ہوتے تھے، جبکہ نوجوانوں کے عید کارڈز پر کچھ عمدہ اشعار لکھے ہوتے تھے۔ ان پوسٹ کارڈز اور عید کارڈز پر عمومی طور پر یہ تہنیتی جملے بھی لکھے جاتے تھے: ’’میری اور میرے گھر والوں کی جانب سے آپ کو دلی عید مبارک قبول ہو‘‘، ’’میری دعا ہے اﷲ آپ کوایسی ہزاروں عیدیں دیکھنا نصیب کرے‘‘، ’’میرے اور میرے گھر والوں کی طرف سے آپ اورآپ کے گھر والوں کو سویوں والی میٹھی عید مبارک ہو‘‘۔

عید کے موقع پر عید کارڈز ہی اپنے پیاروں کو عید کی مبارک باد کہنے کا اہم ذریعہ ہوتے تھے۔ عید کارڈز کی ایک بہت بڑی انڈسٹری ہوا کرتی تھی۔ اشاعتی ادارے سارا سارا سال عید کارڈز کی تیاری اور ڈیزائننگ پر کام کرتے تھے۔ اشاعتی اداروں کے درمیان عید کارڈز کی فروخت کے حوالے سے ایک مقابلے کا سا سماں دیکھنے کو ملتا تھا۔ عید کے موقع پر عید کارڈز کی بہتات کے باعث محکمہ ڈاک ان عید کارڈز کی ترسیل کے لیے خصوصی انتظامات کیا کرتا تھا۔ خاص طور پر لوگ دوسرے شہروں اور بیرون ملک بسنے والے دوستوں اور رشتہ داروں کو عام ڈاک اور ائیر میل کے ذریعے عید کارڈ پورے اہتمام سے بھجوایا کرتے تھے۔ عید کے قریب کے دنوں میں ڈاک خانوں کا عملہ باقی کام چھوڑ کر صرف اور صرف عید کارڈ بذریعہ پارسل/ رجسٹرڈ اور عام ڈاک میں بک کرنے اور رسیدیں کاٹنے میں مصروف عمل ہوتا تھا۔اس وجہ سے عید کے دنوں میں محکمہ ڈاک کا کام بھی معمول سے بڑھ جاتا تھا اور انہیں عوام الناس کے لیے باقاعدہ ہدایت نامہ جاری کرنا پڑتا کہ بروقت عید کارڈز کی ترسیل کے لیے فلاں تاریخ تک عید کارڈ سپرد ڈاک کر دیے جائیں۔ عید کارڈز کا کاروبار ٹھپ ہونے کے باعث محکمہ ڈاک خانہ جات کو لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، کیونکہ عید کارڈز کی ترسیل کے دوران ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور بہت سے لوگ عید کے موقع پر اسٹال وغیرہ لگا کے عارضی طور پر اس سے وابستہ ہو جاتے تھے۔ عید کارڈ کی روایت کا ختم ہونا مہنگائی کے سبب نہیں، بلکہ افراد میں وہ پہلے جیسی محبت اور روایات ہی نہیں رہیں۔ اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ عید کارڈ خریدنے مارکیٹ جائے اور پھر اسے اپنے عزیوں کو پہنچائے۔ اب نہ وہ زمانہ رہا، نہ عید کارڈز بھیجنے کا رواج، اب عید کارڈ کی صرف خوبصورت یادیں رہ گئی ہیں۔ وہ صرف کارڈز نہیں تھے، جو ہم اپنے پیاروں کو اس وقت بھیجتے تھے، بلکہ اس میں چھپا وہ پیار اور خلوص تھا، جو تیز رفتار زندگی میں اب کہیں کھوگیا ہے، جو ان کارڈز کے ساتھ ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرتا تھا۔ دوسری طرف بھی منتظر پیارے اسی پیار سے ان کارڈز کے ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے تھے اور جواب میں وہ بھی پیار بھرا کارڈ بھیجتے تھے۔

عید پر مبارکباد دینے کا رواج تو اب بھی قائم ہے، لیکن ذریعہ تبدیل ہو چکا ہے۔ اب صورتحال بہت بدل گئی ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اب موبائل فون اور سوشل میڈیا تک عام رسائی کی بدولت لوگ ان ذرائع سے عید مبارک کے پیغامات بھیجنے کو زیادہ سہل اور موزوں سمجھتے ہیں اور عید کارڈ کے تکلفات میں نہیں پڑتے۔ اب عید کارڈز کی جگہ موبائل فونز کی ایس ایم ایس میسیجنگ و ایم ایم ایس سروس نے لے لی ہے۔ موبائل فون کمپنیوں نے اپنے صارفین کی سہولت اور زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے لیے بہت سے سستے پیکجز متعارف کروائے، جو برق رفتار ہونے کے باعث عید کارڈزکی نسبت فوری طور پر متعلقہ افراد تک پہنچ جاتے ہیں۔ اب موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دفعہ ہی سب کو روایتی انداز میں عید مبارک کہہ دیاجاتا ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے اس دور میں ہاتھ سے لکھے ہوئے خطوط نے اپنی افادیت کھو دی ہے۔ آج ہمیں عید مبارک کہنے کے اگرچہ بہت سے ذرایع میسر ہیں، لیکن ماضی میں عید کارڈ کے ذریعے اپنے پیاروں کی عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کی جو خوشی ہوا کرتی تھی، آج وہ مفقود ہے اور آج انسان اس خلوص اور جذبہ محبت سے محروم ہے، جو عید کارڈ کے ذریعے کئی دنوں میں ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کرتے ہوئے ہم تک پہنچا کرتا تھا۔ عید کارڈز کا رواج گزشتہ صدی کے اختتام تک اپنے زوروں پر رہا اور موبائل اور انٹرنیٹ کی آمد کے ساتھ دم توڑتا گیا۔ ظاہر ہے ٹیکنالوجی نے لوگوں کا اپنے پیاروں سے جذبات کا اظہار کرنا کم خرچ، آسان اور پرکشش بھی بنا دیا ہے، لیکن پھر بھی ہم میں سے وہ لوگ جنہوں نے عید کارڈ منتخب کرنے، لکھنے، بھیجنے اور وصول کرنے کا لطف اٹھایا ہے، وہ چند بٹن دبانے اور چند کلکس میں وہ لطف کبھی نہیں پا سکتے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 419175 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Jun, 2017 Views: 427

Comments

آپ کی رائے