بھارتی نیوز چینلز کی بد حواسیاں اور برہان وانی شہید

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad)
بھارتی نیوز چینلز کی بد حواسیاں اور برہان وانی شہید

فالٹ لائن

بھارت کے میڈیا بالخصوص نیوز چینلز کے ٹاک شوزدیکھئے ‘ سُنیے تو عام فہم لوگ بھی ان کی باتوں میں اور جوابی دلائل پر قہقہ لگائے بغیر نہیں رہ سکتے ‘ یہ کارٹون خاکے دکھا کر پاگل پن کا اظہار کر رہے ہیں یا پھر لوگوں کو چینلز میں اپنے ٹاک شوز میں ایک خیالی خاکہ دکھا رہے ہیں جس کا پہلا حصہ درست ہے ‘ حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کا برہان وانی کے یوم شہادت 8 جولائی کو پورے جوش و خروش سے منانے کا پیغام جاری کیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی ایک کارٹون نما خاکہ چلایا جاتا ہے ‘ حریت قائدین سید علی گیلانی ‘ میر واعظ عمر فاروق ‘ یاسین ملک ایک جنگل میں درخت کے ساتھ مگر پبلک بوتھ سے فون کر کے سید صلاح الدین سے بات کی ‘ حمایت کرتے ہیں ‘ سید صلاح الدین کے ساتھ پاکستانی فوج کے آفیسر وغیرہ بھی کھڑے دکھائے گئے ہیں ‘ فون بند ہوتے ہی درخت کے نیچے سے ایک ہول کھلتا ہے زیر زمین تین انچ چوڑے پائپ سامنے آ جاتا ہے اور نوٹوں سے بھری بوریاں سامنے آ جاتی ہیں جن کو پا کر یہ تینوں قائدین خوشی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں جدید ٹیکنالوجی کے دور میں سیٹلائیٹ کے ذریعے فضاء سے زمین کی گہرائیوں تک ‘ پرندوں کے پروں پر نظر رکھنے سمیت زمین کے اندر سوئی جیسی چیز بھی دیکھی جا رہی ہے ۔ جدید کیمروں اور روشنی کے سب سے تیز تر نظام ایل او سی پر میلوں تک برقی رو چھوڑ کر بارودی فضلا بچھانے سے لیکر ‘ سات لاکھ افواج 28 سے زیادہ خفیہ ایجنسیوں ‘ ٹیکنالوجی کو فراڈ ثابت کرنا ہے ‘ ہر چیز بھی ہے ثابت کرتا ہے کہ ہر کشمیری برہان وانی بن چکا ہے اور انڈین خونی مائنڈ سیٹ کوچکرا کر دیا ہے ‘ ٹاک شوز میں بیٹھے ان کے سفارتی ‘ دفاعی ماہرین پراپیگنڈہ ایکسپرٹ کے ساتھ ‘ایک طرف ٹرمپ مودی ملاقات سے قبل اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی پریس ریلیز پڑھ کر سنا رہے ہیں ‘ سید صلاح الدین دہشت گرد قرار پائے ہیں اور جواز ان کا یہ وہ بیان ہے کہ کشمیر کو بھارتی فوج کا قبرستان بنا دیں گے بس یہ وہ بیان ہے جسے جواز ‘دلیل ‘ ثبوت بنا کر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے ہم نے صلاح الدین کو دہشت گرد ثابت کر دیا ہے تو ساتھ ہی پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے ٹرمپ کے سید صلاح الدین کو دہشت گرد کہنے پر مذمتی بیان اور کشمیریوں کی تحریک حق خود ارادیت کی اخلاقی ‘ سیاسی ‘ سفارتی حمایت جاری رکھنے کے ردعمل کو پڑھ کر مذمت ‘ احتجاج کیا جا رہا ہے سوال کیا جاتا ہے بھارت 1948ء میں اقوام متحدہ خود یہ معاملہ لیکر گیا قرارداد پاس ہوئی ‘ کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے حق خودارادیت دیا جائے گا کا جواب دینے کے بجائے سوالوں کی بوچھاڑکر دی جاتی ہے ‘ 25سال پہلے صلاح الدین کو دہشت گرد کیوں قرار نہیں دیا گیا ‘ یاسین ملک کو تین بھارتی فضائیہ کے آفیسران اغواء کرنے پر عبرت کا نشان کیوں نہیں بنایا گیا ‘ اپنی افواج کی قتل و غارت ‘ درندگی کی ایک جھلک ‘ دکھانے اس کا ذکر کرنے سے بھی گریزاں ہو کر کشمیریوں کی طرف سے فوج پر پتھراؤ کے مناظر دکھا کر ثابت کیا جاتا ہے کہ بھارتی فوج شریف گائے ہے اور فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ کشمیری نوجوان بچوں سے ہر فوج کی بے حرمتی کے بدلے 100 نوجوان نشانہ بنائے جائیں ‘ کشمیریوں کو کنٹرول لائن سے پار کر کے کشمیر پر قبضہ رکھا جائے یہ اور اس طرح کی شرانگیزیاں ‘ بھارت کے نیوز چینلز کی سکرینوں پر چھائی ہوئی ہیں ‘ جو ٹرمپ مودی کی طرف سے صلاح الدین کو دہشت گردقرار دینے پر ڈول بجا رہے تھے مگر یوم شہادت برہان وانی منانے کے پیغام پر ڈول بجانا بھول کر سر پیٹنا شروع کر دیا ‘ جیسے برہان وانی آج بھی زندہ ہے اور ان کے لیے خوف کی علامت بن چکا ہے ‘ سارے بھارت کے سامراج جنونی مائنڈ سیٹ اور عسکری طاقت کے اعصاب پر برہان وانی ایسا سوار ہوا ہے کہ اس کا نام آتے ہی ان کے ہوش اُڑ جاتے ہیں کیوں کہ ہر کشمیری برہان وانی بن چکا ہے آج برہان کا یوم شہادت کشمیریوں کو آزادی کی نوید سنانے پھر آ گیا ہے اور بھارتی سرکار اس کے عسکری ‘ سفارتی ماہرین ‘ پروپیگنڈہ ایکسپرٹ کو ان کی میڈیا چینلز کی سکرینوں پر دیکھے اور سُنے تو یقین ہو جاتا ہے کہ ایک برہان وانی نے ان سب کے ہوش ٹھکانے لگا دیئے ہیں ۔ اب ان کے سامنے چاہے جو کچھ بھی کر لیں ‘کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کے علاوہ کوئی بھی راستہ باقی نہیں بچا ہے ۔آج نہ صرف ریاستی جموں و کشمیر کے دونوں اطراف بلکہ اندرونی بیرونی ملک مقیم کشمیری اور انسانیت پر یقین رکھنے والے ہر انسان کے لیے برہان وانی ہیرو بن کر دلوں پر راج کر رہا ہے کہ حق سچ کا علم ہمیشہ بلند رہتا ہے اور ظلم کا مقدر ناکامی اور رسوائی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 206 Articles with 72227 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Jul, 2017 Views: 390

Comments

آپ کی رائے