خواتین کی حکمرانی کے بارے میں حقائق حصّہ چہارم

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
اور پھر نا گھر کے رہو گے نا گھاٹ کے ماں باپ ہیں تو وہ کہیں گے کہ آج شیو نہیں کی ہے بیٹا کیوں پولیس کو ہمارے پیچھے لگانا ہے خواہ مخواہ لوگ کہیں گے کہ تمھارا بیٹا بم دھماکے کرنے والوں کے ساتھ تونہیں شامل ہونے جارہا ہے اور بیٹا ہم تمھاری شادی کیسے کریں گے تم تو ان لوگوں کا حلیہ بنا رہے ہو اپنے گھر والوں کا ناک میں دم کر دیتے ہیں وہ سسرال والوں میں ہماری عزّت خراب کرو گے ہم تو برداشت کر لیں گے مگر لڑکی والے خواہ مخواہ باتیں بنائیں گے جن کی کوئی بیٹی نہیں لیتا وہ ہمیں کہیں گے کہ آپ کے بیٹے تو دارحی رکھی ہوئی ہے ہم آپ کو بیٹی دے تو دیں مگر لڑکا تو مسجد ہی سنھالے گا وہ اپنی بیوی کو کیسے سنبحالے گا یہ مسیتڑ قسم کے لوگ کسی کام کے نہیں ہوتے آپ کے دوسرے بیٹے کو دیں گے ہم رشتہ جو کام کاج تو کرتا ہے

آج کل کے کالم نگار اگر سیکولرازم کی مخالفت کرتے ہیں تو وہ کالم نگار تو کیا ایک اچھے انسان بھی نہیں بن سکتے جو آدمی داڑھی رکھ لیتا ہے اور شریفانہ زندگی گزارنے کا متمنّی ہوتا ہے سیکولرازم والے اسے قبول ہی نہیں کرتے سب اسے دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنا حلیہ بدلے کلین شیو کرے سوٹ بوٹ پہنے ورنہ وہ ہماری مجلس میں نا بیٹھے اور وہ آگے سے دفاع کرنے کی کوشش کرے کہ میں حق رکھتا ہوں جیسا بھی حلیہ اپناوں تو سارے گھر والے اس کے خلاف ہوجاتے ہیں اور پھر سب کی تنقید کی تاب نا لا کر اس کو اپنا حلیہ بدلنا ہی پڑتا ہے ورنہ اسے ایموشنل بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسے ایک مخصوص طبقہ کا سہارہ لینا ہی پڑتا ہے اور سوسائٹی سے ہٹ کر زندگی گزارنی پڑتی ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ سب گھر والے بہن بھائی رشتے دار اس کی مخالفت کرتے جوچہرے پر داڑھی جیسی بنیادی سنّت نہیں سجاتے اور اس کو کافروں کی پیروی کرتے ہوئے روزانہ مونڈ ڈالتے ہیں اور جس دن وہ چہرے پر جھاگ مل کر شیو نہیں بناتے اس دن یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے سستی ہوگئی ہے لگتا ہے آج طبعت کچھ ٹھیک نہیں ہے اور گھر والوں بہن بھائیوں دوستوں ملنے جلنے والوں میں استفسار کیا جاتا ہے کہ آج آپ نے شیو بھی نہیں بنائی اتنی سستی تو پھر آدمی کو ان کو مطمئن کرنے کے لیے یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج میری طبیعت کچھ ناساز ہے

اور اس استفسار سے بچنے کے لیے سب مردوں کو ہرروز داڑھی بنانی ہی پڑتی ہے کیوں کہ ہماری سکول کالج یونیورسٹی میں تعلیم وتربیّت ہی ایسی ہو جاتی ہے جو اللہ کے بندے یہ دعوت دیتے ہیں کہ داڑھی رکھنا لازمی اور فرض ہے ان کی ذہنی حالت مشکوک سمجھی جاتی ہے کہ آج کے جدید دور میں یہ کس قسم کی بے ہودہ دعوت دی جارہی ہے حالانکہ بے ہودہ دعوت کون سی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ داڑھی نہیں رکھنی چاہیے داڑھی نا رکھنے سے کون سا اسلام میں نقص آجانا ہے اور یہ جملہ باربار دہرایا جاتا ہے کہ صرف داڑھی میں ہی اسلام نہیں ہے آج کل بڑے بڑے علّامہ مفتیان داڑھی نہیں رکھتے اور ان کے فتوے ریڈیو ٹی وی اخبارات انٹرنیٹ میں چلتے ہیں اللہ کے حکم کے مطابق سب گھروالوں بہن بھائیوں رشتے داروں دوستوں ملنے جلنے والوں میں یہ دعوت دی جانی چاہئے کہ جو لوگ داڑھی منڈواتے ہیں وہ کیوں منڈواتے ہیں کیا وہ دین اسلام سے پھر گئے ہیں کیا وہ اللہ کے حکم کو اہمیّت دینا پسند ہی نہیں کرتے ہیں سب کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اس بات کی فکر کرتے کہ مسلمان ہو کر ایک گھر کا فرد داڑھی منڈوا رہا ہے یا کٹوا رہا ہے کیا وہ غدّاروں کے ہتھے چڑھ گیا ہے کیا وہ جرائم پیشہ لوگوں کی باتوں میں آگیا ہے اور اب وہ سب گھر والوں کو مجرم نا بنا لے یا کسی پیار محبّت عشق لوّ کے چکّر میں پھنس کر داڑھی منڈوا رہا ہے جو اسلام میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا

کیا اہمیّت نہیں رکھتا جی ہاں پیار محبّت عشق لوّ جیسا کوئی بھی افئیر اسلام میں کوئی اہمیّت نہیں رکھتا بلکہ یہ بھی ایسا ہی ہے جیسے کسی بھی گھر کا چشم وچراغ نشئی بن رہا ہے اور اگر اس کا علاج نا کروایا گیا تو وہ سب خاندان والوں کے لیے مصیبت کھڑی کرسکتا ہے چاہیے تو یہ تھا کہ سب گھر والے اس کی فکر کرتے کہ یہ داڑھی منڈوانے والا انسان اللہ کے دین کو چھوڑکر آخر کونسا دین اختیار کرنے جا رہا ہے سب کو یہ استفسار کرنا چاہیے تھا کہ آج کون سی خرابی آگئی ہے تم میں کہ تم نے داڑھی ہی منڈوا ڈالی اور ان لوگوں کی طرح ہو گیے ہو جو داڑھی منڈواتے ہیں اتنی سستی کہ داڑھی منڈے بے دین لوگوں کی باتوں میں آ گئے کیوں جرائم پیشہ بننا چاہتے ہو اب کہیں نوکری سے ہاتھ نا دھو بیٹھو نکمّے نکھٹّو عاشق آوارہ نا بن جاو داڑھی منڈوا دی ہے اب تمھیں کون ڈھنگ کا رشتہ دے گا اب جرائم پیشہ لوگ ہی تمھیں رشتہ دے سکتے ہیں شریف لوگ تو اپنی بیٹی کا رشتہ ہر گز نہیں دیں گے تمھیں اور ہمارے گھر میں جرائم پیشہ لوگوں کی لڑکی آئے گی تو گھر کی عزّت کا کیا ہوگا وہ تو سب کو جرائم پیشہ بنا لے گی اور گھر کاروبار سب کچھ لوٹ کر اپنے نام کر لے گی اور گھر کی تمام خواتین کو بازارو بنا لے گی وہ تو جب تمھیں کہے گی کہ میں تیری بھی ہوں اور تیرے بھائی کی بھی ہوں ہمسائے کی بھی ہوں تو تب ہوش آئے گا تمھیں کہ میں نے داڑھی منڈوا کر بہت بڑا جرم کر بیٹھا ہوں اب میں اپنے گھر میں دین اسلام شرافت پاکدامنی تقوٰی پرہیزگاری کی بات نہیں کر سکتا اگر کروں گا تو سب مل کر مجھے مینٹل ہسپتال میں داخل کرا دیں گے تب کیا کروگے جب دو ہی آپشن رہ جائیں گے یا دلّا بن کر جیو یا اگر غیرت کا مظاہرہ کرنا ہے تو سوسائیڈ کرو کسی اونچی بلڈنگ پر چڑھ کر چھلانگ لگاو کسی گاڑی کے نیچے آو یا ٹرین کے ٹریک پر لیٹ جاو


لیکن سب کچھ الٹ ہو رہا ہے کہا جاتا ہے کہ تم نے آج شیو نہیں کرائی ہے کیا تم ان لوگوں کی باتوں میں تو نہیں آ گئے ہو جو مذہب اور غیرت کے نام پر قتل کر دیتے نہیں ذرا سا کوئی فلمی ڈائیلاگ بول لیا یا سانگ گنگنا لیا تو قیامت لے آتے ہیں گرمی کی وجہ سے اوڑھنی نا اوڑھ سکے تو لمبے لمبے لیکچر دینے لگ جاتے ہیں بالکونی سے ونڈو سے باہر جھانک لیا تو جھڑکیاں سننی پڑیں گی
بھائی بیٹے یا انکل آ ج آپ نے داڑھی نہیں مونڈھی کہیں دہشت گردوں سے ملنے کا ارادہ تو نہیں ہے کہیں آپ ہمیں نماز اور روزہ پارسائی ایمانداری کا درس دینے کے لیے تو نہیں سوچ رہے ہیں میرا تو ایسے ایکسٹریم ورڈز سن کر دم گھٹنے لگتا ہے کہیں آپ یہ ہی دریافت کر لیں کہ سکول لائف میں کتنے افئرز کیے کتنے لوگوں کے ساتھ سہیلی کو ملنے کا بہانہ بنا کر چائے پینے ریسٹورنٹ یا کسی آئس بار میں آئس کریم کھانے گئی ہو رات کو دہر سے کیوں آتی ہو گندی سی ڈیز بلیو سی ڈیز اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کر کتنی بار دیکھیں اگر ایسا کوئی سوال جواب میرے ساتھ کیا تو ماما پاپا سے کہہ کر گھر سے نکلوا دوں گی اگر آپ گھر کے مالک ہیں تو میں گھر چھوڑ کر چلی جاوں گی اور اپنی مرضی کی جاب کرکے آپ سے بھی بڑا گھر بار بنا لوں گی ماں باپ کی وراثت ہے تو اب تک آپ نے اس گھر کو استعمال کیا ہے اب آپ یہاں سے جائیں کسی داڑھی والوں کی تنظیم میں شامل ہو جاو اور فلاح انسانیت کے کام کرو اب اس وراثت پر میرا حق ہے اور میرے جاننے والے اتنے امیر کبیر لوگ ہیں کہ وہ آپ بازو سے پکڑ کر بے دخل کر دیں گے

آج آپ نے شیو نہیں بنائی ہے اگر آپ نے داڑھی رکھ لی تو کون لڑکی آپ کو پسند کرے گی کون اعلیٰ امیر کبیر خاندان والے آپ کو اپنی بیٹی کا رشتہ دے گا کہیں زندگی بھر کنوارہ رہنے کا ارادہ تو نہیں ہے یا بس ایک ہی لڑکی کے گلے پڑے رہنے کی سوچ تو نہیں سوچی جارہی کہ نا خود کسی دوسری عورت کی طرف دیکھا نا بے چاری بیوی کو کسی دوسرے مرد کی باہوں میں جھولنے کا موقع دیا کیسے کٹے گی یہ پہاڑ جیسی زندگی آپ تو مذہبی لوگوں میں شامل ہو کر گزاراہ کر ہی لو گے ہمیں کس جرم کی سزا دینے کا ارادہ ہے آپ نے داڑھی نا منڈوائی تو میں آپ کے کپڑے نہیں دھووں گی آپ کو کھانا نہیں پکا کر دوں گی آپ کے کمرے کی صفائی نہیں کروں گی بھائی ہے تو کہے گا کہ میں تو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے نہیں جاوں گا آپ کے کسی کاروباری معاملے میں آپ کا ساتھ نہیں دوں گا آپ کے دپریشن میں مبتلا کرنے والے لیکچر نہیں سنوں گا اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر آپ کو جن لوگوں نے داڑھی رکھوائی ہے سب کو تتّر بتّرکر دوں گا پوری جماعت ہی کلعدم کرا دوں گا دفتروں کو تالے لگوادوں گا ایسی پلاننگ کروں گا کہ چکّی کے دو پاٹ بنا کر پیس ڈالوں گا در در پر بھیک مانگتے پھرو گے جن لوگوں کے پیچھے لگ کر ایکسٹریمسٹ بننے جارہے ہو وہ تم سے پیچھا چھڑانے میں ہی اپنی عافیّت سمجھیں گے

اور پھر نا گھر کے رہو گے نا گھاٹ کے ماں باپ ہیں تو وہ کہیں گے کہ آج شیو نہیں کی ہے بیٹا کیوں پولیس کو ہمارے پیچھے لگانا ہے خواہ مخواہ لوگ کہیں گے کہ تمھارا بیٹا بم دھماکے کرنے والوں کے ساتھ تونہیں شامل ہونے جارہا ہے اور بیٹا ہم تمھاری شادی کیسے کریں گے تم تو ان لوگوں کا حلیہ بنا رہے ہو اپنے گھر والوں کا ناک میں دم کر دیتے ہیں وہ سسرال والوں میں ہماری عزّت خراب کرو گے ہم تو برداشت کر لیں گے مگر لڑکی والے خواہ مخواہ باتیں بنائیں گے جن کی کوئی بیٹی نہیں لیتا وہ ہمیں کہیں گے کہ آپ کے بیٹے تو دارحی رکھی ہوئی ہے ہم آپ کو بیٹی دے تو دیں مگر لڑکا تو مسجد ہی سنھالے گا وہ اپنی بیوی کو کیسے سنبحالے گا یہ مسیتڑ قسم کے لوگ کسی کام کے نہیں ہوتے آپ کے دوسرے بیٹے کو دیں گے ہم رشتہ جو کام کاج تو کرتا ہے اس کو تو کوئی بھی نوکری مل سکتی ہے ایک جگہ چھوٹ بھی جائے کسی دوسی جگہ اس کو کام مل جائے داڑھی والے تو ناخود کوئی ترقّی کرتے ہیں نا دوسروں کو کرنے دیتے ہیں نماز پڑھو ذکوٰۃ دو جی فلاں کرو تو اللہ ناراض ہوتا ہے فلاں نا کرو تو اللہ ناراض ہوتا ہے یہ حرام ہے وہ حلال ہے ایسے کرو ویسے نا کرو اور ہوتے کیسے ہیں نا نوکری نا بینک بیلنس نا تمیز نا لحاظ بات دور نکل گئی میں بات یہ بیان کرنے لگا تھا کہ داڑھی رکھنے والوں کو کالم نگار دانشور بااثر بننے دینا و دور کی بات ہے جو آدمی ساری فارمیلٹیاں پوری کرنے کے بعد عین عروج کے دور میں بااثر ہوتے ہوے بھی نااختیار ہوتے ہوئے بھی اگر توبہ کر لیتا ہے اور داڑھی رکھ لیتا ہے پارسائی اختیارکر لیتا ہے تو سب کچھ اس سے چھین لیا جاتا ہے یا اسے کھڈّے لائن لگا دیا جاتا ہے

اور اگر بچپن سے ہی وہ داڑھی والا ہے تو تعلیم میں ہی کامیاب ہونا اس کے لیے محال ہو جاتا ہے دانشور اور کالم نگار بننا تو دور کی بات ہے اس سے کاغذ قلم چھین لیا جاتا ہے کہیں کوئی اس کی باتیں پڑھ کر نیکی اور پارسائی کا رستہ ہی نا اپنا لے یا ہمارا ہی ضمیر نا جاگ جائے اور ہم اللہ توبہ کرکے سب سہولتوں سے ہاتھ ہی نا دھو بیٹھیں اور بعد میں اگلے کمّوں وی نا جائیے کہ پھر دوبارہ وہ مقام بھی حاصل نا کر سکیں اور داڑھی بھی منڈوا کر پہلے سے بھی زیادہ دین سے دور نا ہو جائیں اور بھوکے ننگے ہی نا ہوجائیں اور سچ میں ٹیرارسٹ ہی نا بننا پڑ جائے اور بم دھماکے کرنے والوں کے ساتھ مل کر ملک کا ستیا ناس ہی نا کرنا پڑ جائے اس لیے داڑھی کا احترام کرو مگر داڑھی والوں کی بے عزّتی زیادہ سے زیادہ کرو ان پر پابندیاں لگاو اور یہ موقف اپناو کہ داڑھی رکھنی ہے تو اس کے قابل تو پہلے بنو کیوں داڑحی کو بدنام کرتے ہو یا یہ موقف اپناو کہ داڑھی والوں کا نبی اور دین الگ ہونا چاہیے اور داڑھی منڈوں کا نبی اور دین الگ ہونا چاہیے شوبزنس والوں کا نبی اور دین الگ ہونا چاہیے بدنام محلّوں والوں کا نبی اور دین الگ ہونا چاہیے اور کہا جاتا ہے کہ آج کے دور میں سب کچھ ممکن ہے سب کچھ اویلیبل ہے ہر جگہ ہر طرح کے لوگ رہتے ہیں تو جس طرح کے دل کرتا ہے لوگوں میں شامل ہوجاو پر ایکسٹریمسٹ گیرت کے نام پر دہشت گرد بننے والوں میں شامل نا ہو جاو سارے گحر والے اور رشتے دار اگر داڑھی منڈے ہیں تو داڑھی رکھ کر سب کی مخالفت مول لینے ضرورت ہی کیا ہے اگر پھر بھی داڑھی رکھنی ہی ہے تو دوسروں کو مت دعوت دیتے پھرو کہ داڑھی نا منڈواوں داڑھی نا کٹواو اور جو لوگ تنقید کرتے ہیں بے عزّتی کرتے ہیں مذاق اراتے ہیں ریگنگ کرتے ہیں تو اب اگر شوق پالا ہے تو پحر یہ سب برداشت بحی کرو میں نے ایک انٹرویو سنا ہے ایک خاتون کالم نگار کا اس خاتون نے ایک ایسی چوٹ کی ہے اہل اسلام پر کہ جس سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں کیا کیا سازشیں ہو رہی ہیں اسلام کے خلاف اور کس کس طرح سے نفسیاتی حربے استعمال کرکے لوگوں میں عیسائیت اور مرزائیت اور سیکولرازم اور بے دینی کا پرچار ہورہا ہے

موصوفہ فرماتی ہیں کہ

کالم نگارطیبہ ضیاء چیمہ نے شادی شدہ نااہل مردوں کیلئے اخلاقی و شرعی پیغام جاری کردیا،جنسی لحاظ سے مفلوج مردخواتین کی زندگیاں بربادکرنے سے گریزکریں،ایسے مردوں کوچاہیے شادی سے پہلے اپناعلاج کروائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر صحافی تجزیہ کارطیبہ ضیاء چیمپ نے سوشل میڈیا پراپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہزاروں ایسے واقعات ہیں کہ والدین اپنے بچوں کی شادیاں بڑی دھوم دھام سے کرتے ہیں۔
لیکن چند مہینوں میں ہی نااہل مرد اپنی بیوی پرالزامات لگانا شروع کردیتے ہیں۔ نوبت طلاق تک جا پہنچتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورت کسی سے بات کرلے یادوستی کرے تو اس کوغلط کہاجاتاہے جبکہ مردکیلئے تمام چیزیں جائز قرار دی جاتی ہیں۔انہوں نے جنسی لحاظ سے نااہل مردوں سے اپیل کی ہے کہ اپنی شادی سے قبل میڈیکل چیک اپ کروائیں،علاج کروائیں یاشادی سے معذرت کرلیں تاکہ کسی لڑکی کی زندگی برباد ہونے سے بچ سکے


یہ جو تقریر کی ہے محترمہ کالم نگار طیّبہ ضیا چیمہ صاحبہ نے اس تقریر سے صاف اور واضع بات جو سامنے آتی ہے کہ اسلام میں وہ اپنی سوچ انوکھے انداز میں ایڈ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جس سے اسلام میں سختی سے منع کیا گیا ہے سب سے پہلے جو بات ہے نیک چلن اور بد چلن کی تو اس کو اسلام میں بد چلنی کو برداشت نہیں کیا گیا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اللہ نے ایمان والے مردوں اور عورتوں کو حکم فرمایا ہے کہ وہ مشرکہ زانیہ اور چھپے دوست بنانے والی یا والے سے اپنی یا اپنی اولاد یا زیر کفالت افرد میں سے کسی کی شادی نا کریں چاہے کتنا ہی پرکشش اور مال دار اونچے خاندان کا رشتہ ہو اور آپ کو وہ بہت دل کو بھاتا بھی ہو پہلے تو کسی زانی کو بغیر سزا کے کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے اس کو گرفتا ر کر کے اس پر حد نافذ کر دینی چاہیے غلام کے لیے حد پچاس کوڑے اور آزاد کے لیے سو کوڑے مارنے کا حکم ہے اور شادی شدہ کے لیے رجم کی سزا ہے ان محترمہ کی تقریر سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ مقابلہ کرنا چاہ رہی ہیں کہ مرد بدچلنی کے باوجود سزا سے بچ جاتے ہیں اثر و رسوخ سے رشوت سفارش سے یا کسی اور طریقے سے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک دیتے ہیں تو عورتوں کو بھی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ کرپشن زیادہ سے زیادہ کریں ورنہ خاندان تباہ ہو جاتا ہے اور ہر طرف تباہی ہی تباہی ہو جاتی ہے اور ہزاروں کیس آتے ہیں کہ خاوند شادی قابل کے نہیں ہوتا اور دولہا بن کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنا گھر بسا لیتا ہے اور کیوں کہ اس میں جنسی بھوک عورت سے کم ہوتی ہے یا ہوتی ہی نہیں ہے یا وہ اپنی بھوک بدچلنی کے ذریعہ سے مٹا چکا ہوتا ہے اور عورت جنسی طور پر بھوکی مرنے لگتی ہے

اور پھر وہ خفیہ دوستیاں لگانے پر مجبور ہو جاتی ہے اور تباہی ہو جاتی ہے اور نااہل مردوں کو شادی یہ جو تقریر کی ہے محترمہ کالم نگار طیّبہ ضیا چیمہ صاحبہ نے اس تقریر سے صاف اور واضع بات جو سامنے آتی ہے کہ اسلام میں وہ اپنی سوچ انوکھے انداز میں ایڈ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جس سے اسلام میں سختی سے منع کیا گیا ہے سب سے پہلے جو بات ہے نیک چلن اور بد چلن کی تو اس کو اسلام میں بد چلنی کو برداشت نہیں کیا گیا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اللہ نے ایمان والے مردوں اور عورتوں کو حکم فرمایا ہے کہ وہ مشرکہ زانیہ اور چھپے دوست بنانے والی یا والے سے اپنی یا اپنی اولاد یا زیر کفالت افرد میں سے کسی کی شادی نا کریں چاہے کتنا ہی پرکشش اور مال دار اونچے خاندان کا رشتہ ہو اور آپ کو وہ بہت دل کو بھاتا بھی ہو پہلے تو کسی زانی کو بغیر سزا کے کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے اس کو گرفتا ر کر کے اس پر حد نافذ کر دینی چاہیے غلام کے لیے حد پچاس کوڑے اور آزاد کے لیے سو کوڑے مارنے کا حکم ہے اور شادی شدہ کے لیے رجم کی سزا ہے ان محترمہ کی تقریر سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ مقابلہ کرنا چاہ رہی ہیں کہ مرد بدچلنی کے باوجود سزا سے بچ جاتے ہیں اثر و رسوخ سے رشوت سفارش سے یا کسی اور طریقے سے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک دیتے ہیں تو عورتوں کو بھی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ کرپشن زیادہ سے زیادہ کریں ورنہ خاندان تباہ ہو جاتا ہے اور ہر طرف تباہی ہی تباہی ہو جاتی ہے اور ہزاروں کیس آتے ہیں کہ خاوند شادی قابل کے نہیں ہوتا اور دولہا بن کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنا گھر بسا لیتا ہے اور کیوں کہ اس میں جنسی بھوک عورت سے کم ہوتی ہے یا ہوتی ہی نہیں ہے یا وہ اپنی بھوک بدچلنی کے ذریعہ سے مٹا چکا ہوتا ہے اور عورت جنسی طور پر بھوکی مرنے لگتی ہے اور پھر وہ خفیہ دوستیاں لگانے پر مجبور ہو جاتی ہے اور تباہی ہو جاتی ہے اور نااہل مردوں کو شادی نہیں کرنی چاہیے
------------------------------------------جاری ہے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 82716 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jul, 2017 Views: 334

Comments

آپ کی رائے