یہ سازش کیسے ناکام ہو گی

(Ghulam Ullah Kiyani, )

’’آئیندہ چار ہفتے پاکستان کے جمہوری مستقبل کے حوال سے اہم ہیں۔امریکہ اور بھارت افغانستان میں اپنی شکست ک بعد پاکستان کو چین کے ساتھ مل کر اکنامک کوریڈور پر دستخط کی سزا دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس مقصد کے لئے پاکستان کا گھیراؤ تنگ کرنے کے ساتھ سیز فائر لائن پر گولہ باری، پاکستان میں سیاسی گولہ باری ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ اس کا مقصد یہاں جمہوریت کا بستر گول کرنااور مرضی کی حکومت لانا ہے۔ خدا نخواستہ اسلام آباد کی بندش کا مذموم منصوبہ کامیاب ہو گیا تو پاکستان کے لئے دنیا کا اور دنیا کے لئے پاکستان کا بہت کچھ بند ہو جائے گا۔امریکہ کا بڑا مسلہ علاقائی صورتحال میں بھارت کی بالادستی ہے۔ اس میں بڑی رکاوٹ پاکستان ہے۔ لہٰذا پاکستان کو مزہ چکھانے اور جھکانے کے لئے ایک جانب سے دہشت گردی ، دوسری جانب سے ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ اور تیسری جانب سے اندرونی انتشار پیدا کروایاجا رہا ہے۔ جس کا نوٹس پاکستان کے عوام کو لینا چاہیئے۔ عمران خان دانستہ یا نادانستہ طور پر اس سازش کا حصہ ہیں لیکن وہ یہ مت بھولیں کہ پاکستان کے خلاف سازش کے آلہ کار کو یہاں سے کچھ نہ ملے گا۔ متنازعہ خبر گریٹ گیم کا حصہ تھی۔ مقصد یہ تھا کہ منتخب حکومت اور مسلح افواج کے درمیان غلط فہمی پیدا کی جائے۔ اس مشکل اور گمبیر صورتحال سے پاکستان نکل گیا تو بھارت کو پتہ ہے کہ پھر یہ ہاتھ نہ آئے گا اور پاکستان اس خطہ کی اہم اقتصادی اور ناقابل تسخیر قوت بن جائے گا۔‘‘

پاکستان ک خلاف سازش اور اس کے کرداروں سے متعلق یہ خٰیالات ملک کے ایک سابق آرمی چیف کے ہیں۔ جنھیں محترمہ بینظیر بھٹو نے تمغہ جمہوریت سے نوازا۔ یہ جنرل(ر)مرزا اسلم بیگ ہیں جو کئی کتابوں کے مصنف ، نشان امتیاز، ہلال امتیاز، ستارہ بسالت بھی ہیں۔ 65، 71کی پاک بھارت جنگیں لڑنے والے جنرل بیگ کبھی جنرل پرویز مشرف ک بھی استاد رہے ہیں۔ موقع ملنے کے باوجود ملک میں مارشل لاء لگانے سے گریز کیا اور 40سال تک پاک فوج میں خدمات سر انجام دیں۔جنرل اسلم بیگ نے جس انداز میں ملک کی موجودہ صورتحال کا نقشہ کھینچا ہے اور عالمی سازش کی بات کی ہے اس سے بہت کچھ منظر پر آجاتا ہے۔یہ سمجھنا کافی آسان ہے کہ عدم استحکام سے ملک کی سلامتی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ پاناما گیٹ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ملکی معیشت کو نقصان کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ سٹاک ایکسچینج کا انڈکس کئی ہزار پوائینٹس گر گیا۔

آج پی ٹی آئی، پی پی پی، ق لیگ سمیت اپوزیشن وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ کیوں کہ وہ سمجھتی ہیں کہ میاں نواز شریف کے گھر جانے سے انہیں فائدہ ہو گا۔ سی پیک کا مستقبل کیا ہو گا۔ یہ معلوم نہیں۔ مگر یہ درست ہے کہ اس منصوبے نے بھارت کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔نریندر مودی مدد کے لئے کبھی ڈونالڈ ٹرمپ کے پاس جاتے ہیں اور کبھی اسرائیل ک چکر لگا رہے ہیں۔ وہ عیسائی اور یہودی لابیز کو اسلام س خوف زدہ کرنے اور اس کے مقابلہ کے لئے بھارت کی مدد ک مطالبات پیش کر رہے ہیں۔ ہندو دہشتگردی کو پرد میں لپیٹ کر وہ مسلم دہشتگردی کا پروپگنڈہ کر کے امریکہ کو گمراہ کرنے اور اس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیابی پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ بھارتی بیانئے کو درست باور کرانے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں ہندو زائرین پر حملے کرائے گئے۔ جن کے کئے مقاصد ہیں۔ عالمی بھی اور ملکی بھی ۔ گجرات میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ کشمیر میں گجراتی زائرین کی گاڑی دہشتگردانہ حملے کا نشانہ بنائی گئی۔ ان معصوموں پر حملے کی کشمیری جہادی تنظیموں ک اتحاد جہاد کونسل سمیت تمام کشمیریوں نے مذمت کی۔ مگر لاکھوں کشمیریوں کے قتل عام کی بھارت میں کبھی مذمت نہیں کی گئی۔ یہ احسا س دلایا گیا کہ لاکھوں کشمیری مسلمانوں کا قتل کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن نصف درجن ہندو زائرین کی جانیں بہت قیمتی تھیں۔ جب کہ قتل کوئی بھی ہو، کسی بھی مذہب یا فرقے علاقے ، رنگ و نسل کا ہو، یہ قتل ہے اور قابل مذمت ہے۔ لیکن یہاں دوہرا معیار ہے۔ انسانیت اور انصاف کا دوہرا معیار۔ بار بار ثابت ہو اکہ بھارتی فورسز سنگین جنگی جرائم میں مصروف ہیں۔ وہ کشمیر میں ہر غیر انسانی حربہ جنگی ہتھیار اور ڈھال ک طور پر آزماتے ہیں۔ انسانی ڈھال استعمال ہوتی ہے۔ نہتے لوگوں کو بارودی سرنگوں پر چڑھایا جاتا ہے۔ ان سے بیگار لی جاتی ہے۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ مظالم، ریاستی دہشتگردی، Genocideکشمیریوں میں بھارت کے خلاف نفرت اور انتقام کو جنم دے رہے ہیں۔ کم سن نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنلز بندوق اٹھانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ عسکریت کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ نوجوان معصوموں کے قتل عام، گرفتاریوں، تشدد، زیادتیوں کا انتقام لینے کے لئے تربیت یافتہ فوجیوں اور بھارتی کمانڈوز سے ہتھیار چھین کر مجاہدین کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ ایس میں پاک بھارت جنگ کی خبریں، چین کی بھارت کو دھمکیاں، چین کی فوج کا کشمیر داخل ہونے کا عندیہ، پاکستان میں عدم استحکام کیا اشارے دیتا ہے۔ اس میں عالمی سازش کی ہی بو آتی ہے۔ جب جنگی حالات ہوں۔ سرحدوں پر گولہ باری ہو رہی ہو۔ دشمن جنگ کی دھمکیاں ہی نہیں بلکہ تیاریوں میں مصروف ہوں، وہ دنیا س مدد کا جواز پیدا کر رہاہو تو پاکستان میں اندرونی خلفشار، دھرنے، ہڑتالوں کی دھمکیاں کیا پیغام دیتی ہیں۔ ان سے کون فائدہ اٹھائے گا۔ عمران خان جلدی میں ہیں۔ وہ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ انہیں وزیراعظم بننا چاہیئے۔ مگر جمہوری عمل سے ہی ایسا ہونا چاہیئے۔ موجودہ حکومت کے منڈیٹ پر شب خون مارنا خطرناک ہو گا۔ کرپشن، دھاندلی، منی لانڈرنگ، قومی خزانے کو لوٹنے والوں کو پھانسی دی جائے۔ مگر قانون اور آئین کے دائرے میں ہی ایسا ہو سکتا ہے۔ ماورائے قانون یا آئین کوئی بھی مہم جوئی ملک کے لئے درست نہیں ہو سکتی۔ اگر بقول جنرل اسلم بیگ یہ کوئی عالمی سازش ہے تو اسے متحد ہو کر ہی ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 221468 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
17 Jul, 2017 Views: 379

Comments

آپ کی رائے
Very good. Be happy. All the best....
By: salim hurra, peshawar on Jul, 17 2017
Reply Reply
0 Like