زکوۃ، کرسی، نمازجمعہ،مسواک ، مظاہرہ ، سرمہ اور مہندی وغیرہ سے متعلق سوالات کے جوابات

(Maqubool Ahmad, Suadi Arab)

(1) جو سید ہیں ان کو زکوۃ نہیں ہے مگر ان میں سے جو معذور ہیں ان کی کیسے مدد کی جائے گی اور سید کون ہیں اس کی بھی وضاحت کردیں۔
جواب : ہاں یہ بات درست ہے کہ جو آل محمد ہیں جنہیں سیدبھی کہاجاتا ہے ان کے لئے زکوۃ نہیں ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا:
إنَّ هذهِ الصدَقاتِ إنَّما هِيَ أوْساخُ الناسِ . إنّها لا تَحِلُّ لِمُحمدٍ ولا لِآلِ مُحمدٍ(صحيح مسلم:1072)
ترجمہ: یہ صدقات لوگوں کا میل کچل ہیں اور یقیناً یہ محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلا ل نہیں۔
آج ہرکوئی اپنے نام کے ساتھ سید لگالیتا ہے اور بہت سے لوگ خود کو سید ہونے کا دعویدار ہیں ایسے میں ہمیں یہ بات جاننی ہوگی کہ دعوی کرنے والے کے پاس سید ہونے کا ٹھوس ثبوت ہے کہ نہیں؟ ۔ دوسری بات یہ ہے کہ آل رسول یعنی سید کسے کہتے ہیں مسلم شریف کے جس باب کے تحت مذکورہ حدیث درج ہے اس سے پہلے ایک باب ہے :
بَابُ تَحْرِيمِ الزَّكَاةِ عَلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ وَعَلَى آلِهِ وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ(باب: رسول اللہ ﷺ اور آپ کی آل پر زکاۃ حرام ہے اور آپ کی آل سے مراد بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں)۔
تو آل رسول سے مراد بنوھاشم اور بنومطلب کی نسل والے ہیں ، جو ان کی نسل سے نہیں وہ آل رسول یا سید نہیں ۔ رہا یہ مسئلہ کہ جو سید میں معذور ہوں ان کی کیسے مدد کی جائے تو زکوۃ کے علاوہ ہرقسم کے جائزمال سے مدد کی جاسکتی ہے مثلا نفلی صدقہ اورخدمت خلق کے تحت مالی تعاون وغیرہ ۔
(2) کسی مالدار آدمی نے غریب فیملی کو شادی کے لئے زکوۃ کی رقم دی اور غریب فیملی نے اس مالدار آدمی کو بھی زکوہ کے مال سے دی گئی دعوت پہ بلایا کیا اس کاکھانا جائز ہے ؟
جواب : مالدار آدمی غریب کی اس دعوت میں شریک ہوسکتا ہے جس میں زکوۃ کا پیسہ لگایا گیا ہو۔ اس وقت زکوۃ کا مال کھانے والے کے حق میں ہدیہ کے قبیل سے ہوگا۔ مسلم شریف میں حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا :
أَهْدَتْ بَرِيرَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمًا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا، فَقَال: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّة(صحیح مسلم : 2485)
ترجمہ: حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ کنیز) نے کچھ گو شت جو اس پر صدقہ کیا گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کیا تو آپ نے فرما یا : وہ اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہد یہ ہے ۔
(3)ایک لڑکا نے کہا ہے کہ میں نے جمعہ کی نماز کی نیت کی تھی اور سویا ہی رہ گیا لہذا مجھے جمعہ کی نماز کا پورا ثواب ملے گا،کیا اس لڑکے کا کہنا صحیح ہے ؟
جواب : کسی کام کی سچی نیت کرنے سے ا س کا پورا ثواب ملتا ہے اگر اس کام کو کرنے کی توفیق نہیں ملی ،نبی ﷺ کا فرمان ہے :عمل کا دارومدار نیت پر ہے ۔ جس لڑکے نے جمعہ کی نماز پڑھنے کی سچی نیت کی اور وہ نماز جمعہ کے لئے بیدار نہیں ہوانیز جمعہ فوت ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور نماز جمعہ کی جگہ ظہرانہ ادا کیا ، ان شاء اللہ اسے نماز جمعہ پڑھنے کا ثواب ملے گا اور اس پر ترک جمعہ کا گناہ نہیں آئے گالیکن اگر وہ لڑکا رات کافی دیر سے سویا اسے سوتے وقت فجر اور جمعہ جانے کا یقین تھااور وہ نماز کے لئے بیدار ہونے کی خاطر کوئی سبب بھی اختیار نہیں کیا ۔نہ الارم لگایا اور نہ ہی کسی کو بیدار کرنے پر مامور کیا تو اس صورت میں اس پر نہ صرف جمعہ چھوڑنے کا گناہ آئے گا بلکہ نماز فجرترک کرنے کا بھی گناہ آئے گا۔ہاں فجر کے بعد زیادہ نیندآنے کے سبب سویا ہی رہ گیا اور نمازجمعہ ادا نہیں کرسکا اس حال میں کہ اس نماز کی سچی نیت کی تھی اور چھوٹنے پر اس کا غم بھی ہوا تواللہ اسے اجر دے گا ۔ شہروں اور کمپنیوں میں دیر رات تک کام کرنے والے بہت سے لوگ جمعہ کے دن سوئے ہی رہ جاتے ہیں ایسے لوگ نہ فجر کی نماز پڑھے ہوتے ہیں ،نہ انہیں جمعہ چھوٹنے کا غم ہوتا اور نہ جمعہ کی نماز چھوٹنے پر اس کی جگہ ظہر کی نماز ادا کرتے ہیں ایسے لوگوں کو ثواب ملے گا یا عذاب؟ اللہ تعالی نیتوں کو جاننے والا ہے۔
(4) کیا مسواک والی حدیث میں ہرنماز سے مراد فرض والی ہے یا نفل والی یاپھر دونوں نمازیں مراد ہیں ؟
جواب : سوال میں اشارہ اس حدیث کی طرف ہے ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لولا أن أشقَّ على أمتي، أو على الناسِ لأمَرتُهم بالسواكِ معَ كلِّ صلاةٍ(صحيح البخاري:887)
ترجمہ: اگر مجھے اپنی امت یا لوگوں کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لیے ان کو مسواک کا حکم دے دیتا۔
یہاں صلاۃ (نماز) کالفظ عام ہے اس وجہ سے اس میں فرض ونفل دونوں نمازیں شامل ہیں ،اس بات کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے ۔
لولا أن أَشُقَّ على أُمَّتي لأمرتُهم عند كلِّ صلاةٍ بوضوءٍ ، و مع كلِّ وضوءٍ بسِواكٍ(صحيح الترغيب للألباني:200)
ترجمہ: اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں ہرنمازکے لئے وضو اور ہروضو کے لئے مسواک کاحکم دے دیتا۔
اس حدیث میں مسواک کاذکر ہروضو کے ساتھ ہے خواہ فرض نماز کے لئے ہو یا نفل نماز کے لئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسواک کرنا فرض ونفل دونوں نمازوں کوشامل ہے۔
(5) ہندوستان میں اس وقت سیاسی مظاہرے ہورہے ہیں اس قسم کے مظاہرے کااسلامی حکم کیا ہے ؟
جواب : مظاہروں میں عام طور سے اشتعال انگیزی ، توڑپھوڑ، گالی گلوج، طعن وتشنیع، لوٹ مار ،ظلم وزیادتی اور بہت سی محرمات کا ارتکاب کیا جاتا ہے مثلا اختلاط، موسیقی،بسااوقات قتل،شراب، رقص وغیرہ اگر مظاہرہ اس کا نام ہے تو اسلام ان باتوں کی کیونکر اجازت دے گا؟۔ میں مانتا ہوں ہندوستان جیسے کثیرالتعداد ہندوملک میں مسلمانوں کو اپنے بہت سے حقوق منوانے کے لئے مظاہرہ کرنے پرمجبور ہونا پڑتا ہے، اس کا سہارا لئے بغیر بہت سے حقوق بحال نہیں ہوتے ۔ یہاں میرا یہ کہناہے کہ اپنے حقوق بحال کرنے کے لئے مسلمانوں کو قربان کیا جائے، عورت ومرد کے ساتھ اشتعال انگیز نعرے بازی کی جائے ، کہیں توڑ پھوڑ کیا جائے ،آتش بازی کی جائے ،تو کہیں ڈھول تاشے بجائے جائیں ، اس سے بہتر ہے صبر سے کام لیا جائے اور پرامن طریقے سےمسلم سیاسی لیڈروں کے ذریعہ ایوان حکومت تک اپنی بات پہنچائی جائے ۔ اگرمظاہرے پر امن ہوسکتے ہیں یعنی شرعی مخالفات سے خالی ہوں تو پھر اس کی گنجائش ہے ورنہ نہیں ۔
(6) نواب صدیق حسن خاں صاحب نے رسالۃ الاحتوا ءمیں لکھا ہے کہ کرسی قدم رکھنے کی جگہ ہے ، کیا اس قول کی کوئی دلیل ہے ؟
جواب : رسالۃ الاحتواء علی مسئلۃ الاستواء میں جو بات نواب صدیق حسن خاں صاحب نے لکھی ہے وہ حدیث وقرآن اور آثار سلف سے ثابت ہے ، اس بات کو علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے قدرے تفصیل سے دلیل کے ساتھ اپنی کتاب "کتاب العرش " میں واضح کیا ہے ۔ کرسی سے کیا مراد ہے اس سے متعلق پانچویں قول کے طور پر لکھتے ہیں :
إن الكرسي جسم عظيم مخلوق بين يدي العرش، والعرش أعظم منه، وهو موضع القدمين للبارئ عز وجل۔
ترجمہ: کرسی ایک بہت بڑی جسیم مخلوق ہے جو عرش کے آگے ہے ، عرش اس سے بڑآ ہے ، یہ کرسی اللہ تعالی کے دونوں قدموں کے رکھنے کی جگہ ہے ۔
یہ قول سلف کی بہت ساری کتابوں میں درج ہے ، اس قول کے بعد علامہ ذہبی نے لکھا ہے :
وهذا القول هو مذهب السلف من الصحابة والتابعين ومن سار على نهجهم واقتدى بسنتهم، وهذا هو ما دل عليه القرآن والسنة والإجماع ولغة العرب التي نزل القرآن بها.
ترجمہ: صحابہ و تابعین ، ان کے پیروکاروں اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں یعنی سلف صالحین کا یہی مذہب ہے اور قرآن و سنت اور اجماع امت بھی اسی بات پر دلیل ہیں اور جس لغت عرب میں قرآن نازل ہوا ہے ، اس کا تقاضا بھی یہی ہے۔
پھر قرآن وحدیث اور سلف کے آثار سے دلیل پیش کی گئی ہے ، جن میں قرآن کی ایک دلیل "وسع كرسيه السموات والأرض" سے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کہ کرسی سے مراد دونوں قدم رکھنے کی جگہ ہے۔ (اسے ابن ابی شیبہ نے صفت العرش میں اور حاکم نے مستدرک میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے شیخین کی شرط پر ہے ، ذہبی نے بھی مواقفت کی ہے اور ہیثمی نے اس کے رجال کو صحیح کہا ہے)۔
(7) اثمد کیا ہے اور اس کی کیا حقیقت ہے ؟
اثمدکالے پتھر کو کہاجاتا ہے جو سرخی مائل ہوتا ہے ،اسے کوٹ کرسرمہ بنایا جاتاہے ۔ اس سرمہ کے متعدد فوائد ہیں اور اسے دوسرے سرموں پر فضیلت حاصل ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
خيرُ أكحالِكم الإثمدُ يجلو البصرَ وينبتُ الشعرَ(صحيح ابن ماجه:2835)
ترجمہ: سب سے بہتر سرمہ اثمد کا ہے، وہ بینائی تیز کرتا، اور بالوں کو اگاتا ہے ۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
عليْكم بالإثمدِ عندَ النَّومِ فإنَّهُ يجلو البصرَ وينبتُ الشَّعر(صحيح ابن ماجه:2834)
ترجمہ: سوتے وقت اثمد کا سرمہ ضرور لگاؤ، کیونکہ اس سے نظر ( نگاہ ) تیز ہوتی ہے اور بال اگتے ہیں ۔
اثمد کی عمدہ قسم اصفہان سے حاصل کی جاتی ہے۔
(8) سورہ اعراف آیت نمبر 143 میں اللہ کی تجلی کے متعلق ایک پہاڑ کاذکر ہے اس پہاڑ سے طورسینا مراد ہے یا کوئی اور پہاڑ؟
جواب : اکثر مفسرین نے اس پہاڑ کو طور ہی کہا ہے۔
(9) بعض لوگ غلاف پہ آیات لکھنے کوجائز کہتے ہیں اور دلیل میں کعبہ کے غلاف پہ لکھی آیات کا ذکر کرتے ہیں ، اس بات کوواضح کریں۔
جواب : غلاف کعبہ پر قرآنی آیا ت لکھناجائز نہیں ہے اور نہ دیوار پر آیات نقش کرنا یا قرآنی تختی بناکر آویزاں کرنا جائز ہے ۔
(10) کیا مرد کسی مناسبت سے اپنے ہاتھوں پہ مہندی لگاسکتا ہے یا اپنا نام وغیرہ لکھ سکتا ہے ؟
جواب : مرد کسی بھی مناسبت سے اپنےہاتھوں پر مہندی نہیں لگا سکتا کیونکہ یہ عورتوں کے لئے ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
أومت امرأةٌ من وراءِ سترٍ بيدِها كتابٌ إلى رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ فقبضَ النَّبيُّ يدَهُ فقالَ ما أدري أيدُ رجلٍ أم يدُ امرأةٍ قالت بلِ امرأةٌ قالَ لو كنتِ امرأةً لغيَّرتِ أظفارَكِ يعني بالحنَّاءِ(صحيح أبي داود:4166)
ترجمہ: ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا، اور فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا تو اس نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا: اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی یعنی مہندی سے۔
البتہ مرد بیماری میں زخموں پرمہندی لگاسکتاہے اوراسی طرح داڑھی میں بھی لگاسکتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqubool Ahmad

Read More Articles by Maqubool Ahmad: 302 Articles with 166342 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2017 Views: 533

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ