شہید ہم سے یہ کہہ رہے ہیں لہو ہمارا بھلا نہ دینا

(Musab Habib, )
یوم الحاق پاکستان‘ کشمیریوں سے ہر ممکن مددوتعاون کی ضرورت ہے۔
بھارتی فوج کشمیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے لگی‘شہداء کی لاشیں مسخ ہونے سے شناخت ممکن نہیں رہی ٍٍٍ کشمیر میں ہر طرف پاکستانی پرچموں کی بہار، دفاع پاکستان کونسل کی شہدائے کشمیر کانفرنس 19جولائی کولاہور میں ہوگی
برائے اشاعت : 19جولائی یوم الحاق پاکستان

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

تحریر: حبیب اﷲ قمر


کشمیر کی تاریخ میں 19جولائی 1947ء کا دن بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب ہندوستان انگریز کی غلامی سے نکل رہا تھا‘برصغیر میں بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر چلنے والی تحریک کے پیش نظر پاکستان کی آزادی کا وقت قریب تھا ۔مسلم اکثریتی ریاستیں پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر رہی تھیں ۔ ایسی صورتحال میں کہ جب جموں کشمیر کی مکمل آبادی کا83فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل تھا ۔اس کے تمام دریاؤں کا رخ پاکستان کی طرف اور جغرافیائی حالات بھی پاکستان کے ساتھ ملتے تھے ‘ مسلمانوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ ریاست جموں کشمیرکا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے۔یوں مسلم کانفرنس جو کہ ایک نظریاتی جماعت تھی‘ نے قائد اعظم اور علامہ اقبال کی سوچ و فکر پر عمل پیر اہوتے ہوئے 19جولائی 1947ء کو آبی گذرگاہ سری نگر میں اپنی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلا س بلایا جس میں یوم الحاق پاکستان کی قراردادمنظور کر تے ہوئے ڈوگرہ حکمران ہری سنگھ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوج کے ذریعہ نہتے اور مظلوم مسلمانوں کا قتل عام بند کرے اور جموں کشمیر کے عوام کی خودمختاری ، ان کے جذبات، احساسات اور خواہشات کا احترام کر کے ریاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرے۔اگرچہ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں بھارت سرکار نے مہاراجہ ہری سنگھ اور شیخ عبداﷲ کے ساتھ مل کر سازش کی ا ور فریب و مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جموں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا‘ نہتے کشمیری مسلمانوں کے خون سے ہولی کھولی گئی اور جموں میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کیلئے لاکھوں مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کر کے ظلم و بربریت کی ایک نئی تاریخ رقم کی گئی لیکن کشمیری عوام کے دلوں میں اس تاریخی قرار دادکی بے پناہ قدروقیمت اب بھی موجود ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والے کشمیر ی مسلمان 19جولائی کو یوم الحاق پاکستان کے طور پر مناتے ہیں۔اس دن تحریک آزادی میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ جلسوں، کانفرنسوں و ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اورکشمیر کی آزادی،پاکستان کی سلامتی و خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں۔ ریاست جموں کشمیر کے مسلمانوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی اپنے مستقبل کو وطن عزیز پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا تاہم بھارت سرکار نے70سال سے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور ان کی عزتیں،عصمتیں اور جان و مال سمیت کوئی چیز محفوظ نہیں ہے ۔ امسال کشمیری عوام یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں کہ پورے جموں کشمیر میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔بھارتی فوج اسرائیلی ماہرین کے تعاون سے نہتے اور پرامن کشمیریوں کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔ بھارتی فوج جب اور جہاں چاہتی ہے نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر کشمیریوں کے گھروں کو بارود سے اڑاتی ہے اور کیمیکل سے شہداء کی لاشوں کو جلایا جارہا ہے جس سے ان کی شناخت بھی ممکن نہیں رہی۔بھارتی فورسز کی جانب سے پرامن مظاہرین کے سینوں سے اوپر والے حصوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس سے ان کے سر، چہرے اور آنکھیں بری طرح زخمی ہوئی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اور بچیوں پر وحشیانہ انداز میں پیلٹ فائر کئے گئے جن کے زخموں سے چور چہرے اخبارات اور سوشل میڈیا پر دیکھ کر قلیجہ منہ کو آتا ہے۔ بھارتی فوج نے ہسپتالوں کو بھی ٹارچر سیلوں میں تبدیل کر رکھا ہے۔ ڈاکٹروں کو زخمیوں کے علاج سے روکا جارہا ہے اور ہسپتالوں سے زخمی نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے اب تک سینکڑوں کشمیری شہید کئے جاچکے ، ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ سینکڑوں معصوم بچے، بچیاں اور نوجوان ایسے ہیں جن کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو چکی۔کشمیری تاجروں کو اربوں روپے مالیت کا نقصان اٹھانا پڑا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ بھارتی فوج منصوبہ بندی کے تحت کشمیریوں کا کاروبار برباد کر رہی ہے۔ ان کے گھروں میں گھس کر آئے دن توڑ پھوڑ اور قیمتی سامان کو نقصان پہنچانا معمول بن چکا ہے۔ پوری حریت قیاد ت نظربند ہے ۔ پچھلے چار ہفتوں سے تاریخی جامع مسجد کو سیل کر دیا گیا ہے اور کشمیریوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ کشمیریوں کیخلا ف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال اور بدترین مظالم پر عالمی ادروں اور قوتوں نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم برہان وانی ، ابوالقاسم، سبزار بھٹ،جنید متو اور بشیر لشکری جیسے کمانڈروں کی شہادت نے تحریک آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور پوری کشمیری قوم ایک پلیٹ فارم پر متحد نظر آتی ہے۔سخت ترین کرفیو کے باوجود لاکھوں کشمیری سڑکوں پر نکل کر شہر شہر مظاہرے کررہے ہیں، زبردست ہڑتالیں کی جارہی اور کھلے عام پاکستانی پرچم لہرائے جارہے ہیں۔ کشمیری نوجوان بھارتی فوج کی گولیوں کا مقابلہ پتھروں سے کر رہے ہیں۔ بھارتی فورسز نے پیلٹ گن، پاوا شیل اور دیگر مہلک ہتھیار استعمال کر کے دیکھ لئے لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ روزانہ اپنے جگر گوشوں کی لاشیں اٹھاتے اور پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں۔ہندوستانی حکومت اور فوج کیخلاف نفرت کا ایک طوفان ہے جو ہر کشمیر ی بچے، بوڑھے اور نوجوان کے دل میں ہے۔ کشمیری قوم کا ہر طبقہ اس وقت سڑکوں پر ہے حتیٰ کہ طالبات بھی پیلٹ گن کے چھرے برسائے جانے کے باوجو دآئے دن احتجاج کرتی نظر آتی ہیں۔ اس سار ی صورتحال نے ہندوستانی حکام، فوج اور عسکری اداروں کو سخت تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

بھارتی فوج کشمیر میں اس وقت وہ تمام ممنوعہ ہتھیار استعمال کر رہی ہے جو 2010ء میں جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک کے دوران استعمال کئے گئے تھے۔ سات سال قبل جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک شروع ہوئی تو بھارتی فوج اور سی آر پی ایف کو مہلک اور کیمیائی ہتھیاروں سے لیس کرتے ہوئے انہیں کروڑوں روپے مالیت کے دس ہزار سے زائد مرچی گرنیڈ فراہم کئے گئے ۔ اسی طرح اسرائیل کے تعاون سے فلسطین میں استعمال کئے جانے والے امریکی ساختہ مہلک ہتھیار بھی سیکیورٹی فورسز کو دیے گئے جن میں سب سے خطرناک پمپ ایکشن گن (پی اے جی) تھی جسے اگر نوے فٹ سے کم فاصلے سے فائر کیا جائے تو اس کی زد میں آنے والے شخص کی فوری جان جا سکتی ہے۔پی اے جی کے علاوہ پیپر بال لانچر(پی بی ایل) گنیں اور ٹیزر ایکس 26 پستول بھی تقسیم کئے گئے۔اس طرح یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک کے دوران ہی امریکی اسلحہ سازوں کے تیار کردہ خطرناک ہتھیاروں کی دو طیاروں پر مشتمل کھیپ سری نگر پہنچائی گئی جس کی تصدیق سرینگر کے حساس ترین شمالی زون( ڈاؤن ٹاؤن) کے پولیس سربراہ شوکت حسین شاہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بھی کی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی فورسز میں تقسیم کئے گئے ہتھیار پی اے جی کی بناوٹ عام شکاری بندوق کی طرح ہے اس میں استعمال ہونے والے ہر کارتوس میں سخت ترین پلاسٹک کی تیس گوٹیاں ہوتی ہیں جو فائر کرنے پر نشانہ کے تقریبا بیس فٹ کے دائرے میں بکھر جاتی ہیں۔ یہ بندوق تین سو فٹ تک نشانہ باندھ سکتی ہے۔ محکمہ صحت سے متعلقہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی انسان کے جسم پر لگنے والی گولی کو آپریشن کے ذریعہ نکالا جا سکتا ہے مگر پی اے جی کے ریزے پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں جس کے لئے درجنوں آپریشن کرنا پڑ سکتے ہیں اس لئے یہ ہتھیار انتہائی مہلک تصور کیا جاتا ہے۔ پی اے جی کی طرح پی بی ایل میں مرچ اور دوسرے اجزا سے بنی گوٹیاں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ بندوق ان گوٹیوں کو گیس کی مدد سے پھوڑتی ہے جس سے گھنے دھوئیں کے بادل پیدا ہوتے ہیں اور ہجوم میں شامل لوگوں کا دم گھٹنے لگتا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کو فراہم کئے گئے تیسرے خطرناک ہتھیار ٹیزر ایکس 26پستول میں تانبے کی تار کے چھلے استعمال ہوتے ہیں۔ انگریزی کے حرف ڈبلیو کی بناوٹ کے یہ چھلے گولی کی رفتار سے چلتے ہیں گیس کے دباؤ سے فائر ہونے والے ان چھلوں میں برقی رو پیدا ہوتی ہے جس کی زد میں آنے والے کو بجلی کا شدید جھٹکا لگتا ہے اور وہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق 21فٹ سے کم فاصلے سے اگر اسے فائر کیا جائے تو ان چھلوں کے لگنے سے انسان کی موت واقع ہونے کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں۔باخبر حلقوں کے مطابق بھارتی فورسز جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک کی طرح برہان وانی کی شہادت کے بعد مظاہروں کو کچلنے کیلئے بھی یہ تمام ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔پیپر گیس جیسی مہلک آنسو گیس کے استعمال سے سینہ کے امراض میں بہت زیادہ شدت پیدا ہوئی ہے اور عمر رسیدہ افراد کے پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ رہے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے کچھ عرصہ میں اب تک پیلٹ گنوں کا شکار ہونے والوں کی کثیر تعداد بینائی سے محروم ہو چکی ہے۔ پیلٹ گولیاں اصل میں آہنی بال بیئرنگ جیسی ہوتی ہیں جنہیں ہائی ولاسٹی سے فائر کیا جاتا ہے۔ نزدیک سے فائر کرنے پر یہ ٹارگٹ کو چھلنی کر دیتی ہیں۔ چہرے پر ایک ساتھ 400گولیاں لگیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی تباہی کس قدرمہلک ہوگی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارتی فوج مودی سرکار کی سرپرستی میں مہلک ہتھیار استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کی نئی نسل کو اپاہج بنا رہی ہے لیکن اقوام متحدہ اورسلامتی کونسل جیسے اداروں نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ کشمیری عوام پاکستان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کامقدمہ دنیا کے سامنے صحیح انداز میں پیش اور ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کو عالمی سطح پر بے نقاب کرے گا۔ ماضی میں ہندوستان کی جارحانہ پالیسیوں کے مقابلہ میں موجود ہ حکومت کی طرف سے فدویانہ رویہ اختیا رکیا گیا اور کلبھوشن یادو جیسے راکے ایجنٹوں کی گرفتاری جیسے مسائل پربھی خاموشی اختیا رکی جاتی رہی جس کے بہت زیادہ نقصانات ہوئے اور کشمیریوں کا اعتمادمجروح ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت کشمیرکے تازہ ترین حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف سمیت تمام سیاستدان و حکومتی ذمہ داران کشمیری و پاکستانی قوم کے جذبات کی صحیح معنوں میں ترجمانی کریں۔اگرچہ حکومت کی جانب سے کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے 19جولائی کو یوم الحاق کشمیر منانے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن میں سمجھتاہوں کہ کشمیری پاکستان کو اپنا اصل وکیل سمجھتے ہیں ان کی طرف سے محض ایک دو بیانات اور رسمی احتجاج کافی نہیں ہے۔ ہندوستان سے ہر قسم کی سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کرنے چاہئیں اوراسے واضح پیغام دینا چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے اپنی آٹھ لاکھ فوج نکالے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے وگرنہ اگر وہ ظلم و ستم سے باز نہیں آتا تو پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کو غاصب بھارتی فوج کے پنجہ استبداد سے نجات دلانے کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے ۔ کشمیریوں کی قربانیاں انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں اس لئے ہمیں بھی ہر قسم کی مصلحت پسندی کو ترک کر دینا چاہیے اوردنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرکے ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کو بین الاقوامی سطح پر بے نقاب کرنا چاہیے۔ اسی طرح فی الفوراو آئی سی اور سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر بھی اس مسئلہ کو پوری قوت سے اٹھانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے صدام حسین پر کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام عائد کیا اور عراق پر حملہ کر لاکھوں انسانوں کے خون کی ندیاں بہا دی گئیں لیکن مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی سرپرستی میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کیلئے کیمیائی مواد استعمال کیا جارہا ہے مگر دنیا کے نام نہاد امن کے ٹھیکیداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی اور کوئی دہشت گرد بھارت کا ہاتھ روکنے کیلئے تیا رنہیں ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ذمہ داری پاکستان کی ہے کہ وہ سعودی عرب اور ترکی جیسے اسلامی ممالک سمیت چین کو ساتھ ملا کرکشمیریوں پر ظلم و ستم کے خاتمہ کیلئے مضبوط کردار ادا کرے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے قومی سطح پر ابھی تک وہ جرأتمندانہ کردار ادا نہیں کیا گیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ پاکستان میں بھی وہی کیفیت اور ماحول نظر آتا جو کشمیر میں ہے لیکن صورتحال ایسی نہیں ہے۔ صرف چند ایک جماعتوں نے ملک گیر سطح پر پروگراموں کا انعقاد کیا اور برہان وانی و دیگر شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔دفاع پاکستان کونسل کی طرف سے آج 19جولائی کو لاہور میں بڑی شہدائے کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں قومی مذہبی ، سیاسی و کشمیری قیادت شریک ہو گی۔

کشمیر کی تحریک اس وقت زبردست عوامی رخ اختیارکر چکی ہے۔بھارتی فورسز نے انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر رکھی ہے۔ کشمیریوں کو ہر طرح سے ہراساں اور خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن اس سب کے باوجود جو لوگ پہلے کبھی میدان میں نہیں نکلے تھے وہ بھی آج پتھر اٹھا کر بھارتی فورسز کا مقابلہ کر رہے ہیں اور کشمیر کے گلی کوچوں میں کرفیوکی پابندیوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرائے جارہے ہیں۔ یہ صورتحال بہت زیادہ حوصلہ افزا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی سیاستدان آپس کی لڑائیاں ترک کر کے مسئلہ کشمیرکو ترجیح دیں۔ کشمیریوں کے حقوق کیلئے پوری دنیا پر آواز بلند کریں۔ پاکستان میں انڈین فلمیں اور ان کے چینلز فوری طور پر بند کئے جائیں۔ اسی طرح کشمیریوں کے خون پر آلو پیاز کی تجارت کے سلسلے بھی ختم ہونے چاہئیں۔ ان چیزوں سے کشمیریوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور تحریک آزادی کو نقصان پہنچتا ہے۔ کشمیری قوم ہندوستان کی غلامی میں رہنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ سیدہ آسیہ اندرابی کی دس منٹ کی وہ گفتگو سننے کے لائق ہیں جس میں انہوں نے سات منٹ تک رو رو کر کشمیرکی حالت زار بیان کی اور پاکستانیوں کو اپنی مدد کیلئے پکارا ہے۔ ان کی ایک ایک بات دلوں کو چیرنے والی ہے۔ آج کشمیر کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں پکا ر پکار کر کہہ رہی ہیں کہ آخر کب ان کی عزتیں و عصمتیں محفوظ ہوں گے اور کون بھارتی دہشت گردوں کو اس درندگی سے روکے گا۔ ہمیں ان کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ان کی ہر ممکن مدد کرنا ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امریکہ ، برطانیہ و یورپ کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی امیدیں وابستہ کرنی چاہئیں۔ یہ مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہیں بلکہ یہی تو ان مسائل کو پیدا کرنے والے ہیں۔ ہمیں خود اپنے قدموں پر کھڑے ہونا اور دل و جان سے اپنا فرض ادا کر کے اﷲ تعالیٰ کی مدد پر بھروسہ کرنا ہے۔ اسی سے ان شاء اﷲ آسمانوں سے رحمتیں و برکتیں نازل ہوں گے اور کشمیر، فلسطین سمیت مسلمانوں کے دیگر مسائل حل ہوں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musab Habib

Read More Articles by Musab Habib: 193 Articles with 81742 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2017 Views: 349

Comments

آپ کی رائے