پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری اور سینسر بورڈ کا کردار

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: نوشین ثناء، ڈیرہ اسماعیل خان
دنیا کا ہر معاشرہ اپنی پسند و ناپسند کا ایک معیار رکھتا ہے اور اس معاملے میں بہت حساس ہوتا ہے۔ اس کی حساسیت معاشرے کے افراد کی علامت بن جاتی ہے۔ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں ایک جذبہ ایسا ہے جو اس قدر حساس ہے کہ نفسیات دان اسے انسانی جبلت کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ یہ جذبہ حیاء شرم ، حجاب اورستر ہے۔ تہذیبی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس جذبے نے نشوونما پائی اور پھر یہ انسان اور جانور کے درمیان فرق کی بنیادی علامت بن گیا۔ انسانی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب بھی انسان نے شرم و حیاء اور ستر و حجاب کے تصور کو تار تار کر کے عریانیت و فحاشی کا راستہ اختیار کیا تو زوال نے اس کے دروازے پر دستک دی۔ روم، یونان ، مصر، بابل اور ہندوستان کی تہذیبوں کے زوال کی کہانیاں پڑھ لیں آپ کو ان کی تہہ میں عریانی و فحاشی کی وہ حیران کن لہر موجزن نظر آئے گی جو ان تہذیبوں میں سرائیت کر گئی اور پھر وہ کبھی بام عروج کو دوبارہ نہ دیکھ سکیں۔

فحاشی و عریانی سے وابستہ ایک حساسیت سے جو دنیا کے ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے نے اس کیلئے عورت اور مرد دونوں کیلئے معیارات مقرر کیے ہیں۔ یہ حساسیت اس قدر شدید اور ذہنوں میں جبلت کی طرح راسخ ہے کہ اچانک ذرا سی بے لباسی بھی معیوب اور بری محسوس ہونے لگتی ہے۔ بے لباس یا ستر نمایاں ہوتے ہی وہ شخص شرم و حیا سے ڈوب جاتا ہے اور اس کے چہرے پر اس کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔

پاکستان میں میڈیا کا کردار مثبت کم منفی زیادہ ہے۔ آئے روز مختلف نت نت نئے ڈراموں نے ایک عجیب ہی افراتفری مچا رکھی ہے۔ ڈراموں کے کردار اور پھر ان کے احوال کا الگ الگ احاطہ کرنا بہت مشکل ہے۔ یہاں پر کچھ ایسے ڈرامے بھی شامل زکر ہیں جن پر مجھے شکایات ضرور سننے کو ملے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے ڈرامے ہیں مگر دو ڈرامے ایسے ہیں جن کی بات کرنا میں ضروری سمجھتی ہوں۔
جیو کہانی پر ایک ڈرامہ ہے ستم جس میں یہ دیکھا یا گیا ہے ماں انا کی تسکین کی لیے اپنی اولاد کو کیسے قربان کرتی ہے ۔ماں کو اس بات سے غرض نہیں اولاد کی زندگی برباد ہو وہ پاگل ہو جائے یا اس کا گھر تباہ ہو ۔ ماں اپنی خدمت کے صلہ میں اولاد کی زندگی برباد کرتی ہے۔

ایک اور ڈرامہ ہے ناگن جیو کہانی پر ڈرامے کو اس انداز میں بنایا کیا کہ سینسر کا نام خواب لگتا ہے ۔ناگن روز ناچتی اور اس کی پیٹھ پر کپڑے کا نام ہوتا اس کے علاوہ اس ڈرامے میں دوپٹے کا تصور بھی نہیں اور سانپ ناگن تو جیسے سب کچھ ہے شکل بدلتی ہے۔ ناگن سازش کرتی ہے محبت کرتی ہے بے وفائی کرتی ہے جادو کرتی ہے۔

ان ڈراموں کی مرکزی کہانی کا ہمارے معاشرے، تہذیب اور ثقافت کا دور دور تک نہ تو کوئی تعلق ہے اور نہ کوئی محل ہے۔ جہاں تک اسلامی معاشرے کی بات ہے تو اس پر منظم سوچی سمجھی سازش کے تحت باقاعدہ بیرونی میڈیا حملہ آور ہے اور ہمارے میڈیا کے ذریعے خواتین، بچوں اور نئے دماغوں کو بھٹکانے کی بھرپور کوشش کرر ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521607 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2017 Views: 738

Comments

آپ کی رائے