ریٹائرڈ جنرل اسلم بیگ ایک منفرد شخصیت کے مالک

(Mir Afsar Aman, Islamabad)

اگر پاکستانی فوج کے سابق سپہ لاروں پر بات کی جائے تو ایک سے ایک قابل سپہ سالار گزرے ہیں لیکن ان میں سے ہمیں (ر) جنرل اسلم بیگ صاحب ایک منفرد شخصیت کے مالک نظر آتے ہیں۔ فوجی پس منظر کے ساتھ بین الاقوامی حالت پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔ایک تھنک ٹینک فرینڈس کے نام سے چلا رہے ہیں۔ اپنے سیاسی خیالات کی ترجمانی کے لیے ا یک سیاسی پارٹی بھی بنائی ہوئی ہے جو الیکشن کمیشن میں سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔پاکستان، ازلی دشمن بھارت اورپڑوسی ممالک اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالت پر پاکستانی قومی نقطہ نظر سے جاندار تجزیوں پر ان کے کالم اخباررات میں چھپتے رہتے ہیں میں ان کے کالموں کا مستقل قاری ہیں۔۱۹۳۱ء میں ہندوستان کے علاقہ علی گڑھ کے چھوٹے سے گاؤں مسلم پتی میں پیدا ہوئے۔ترک مغل کہلاتے ہیں۔۱۹۴۹ء میں خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی۔۱۹۵۰ء میں پاکستان فوج جائن کی۔۱۹۵۲ء میں بلوچ رجمنٹ میں شامل ہوئے۔۱۹۵۸ء میں کیپٹن بنے۔اسپیشل فورسز کامتحان پاس کیا۔امریکا ٹرنیگ لینے گئے۔ ۱۹۶۰ء میں واپس پاکستان آئے اور اسپیشل فورسز میں میجر بنے۔۱۹۶۵ء کی جنگ بہادری سے لڑی۔۱۹۶۵ء کے بعد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے وار ماسٹر آف سائنس پاس کیا۔مرزا اسلم بیگ دو کتابوں کی مصنف بھی ہیں۔ایک کانام نیوکلیئر ویپن ڈیولپنمٹ اور دوسری کا نام دیفنس ڈپلومیسی اور انٹرنیشنل ریلیشن ہے۔ ڈکٹیٹر جنرل ضیالحق کی ناگہانی شہادت کے بعد۱۹۸۸ء سے ۱۹۹۱ء تک پاک فوج کے سپہ سالار رہے۔ مرحومہ بے نظیر بھٹوصاحبہ کی حکومت کے خلاف مرزا اسلم بیگ پر اسلامی جمہوری اتحاد بنانے کاالزام لگا۔ ۱۹۹۰ء میں اس اتحاد نے کامیابی حاصل کی تھی اور نواز شریف پہلی بارپاکستان کے وزیر اعظم بنے تھے۔ان پر ڈکٹیٹر جنرل ضیاء کے طیارے حادثہ کاالزام ڈکٹیٹرضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق صاحب نے لگایا تھا۔۲۰۱۲ء میں مہران بنک کیس جس میں سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کیے گئے تھے کے سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش ہوئے یہ مقدمہ اب تک قائم ہے۔مرزا اسلم بیگ بھٹو کی پھانسی کے خلاف تھے۔اردوسپیکنگ ہونے کے باجود بھارت کی ایجنٹ دہشت گرد لسانی تنظیم ایم کیو ایم کے ہمیشہ مخالف رہے۔ضیاء الحق کی ناگہانی موت کے بعد آسانی سے ماشل لاء جاری رکھ سکتے تھے مگر پاکستان میں جمہورت کوپھلنے پھولنے دیا۔ تین گھنٹوں کے اندر اندر آئین کو بھال کیا اور پاکستان کے مروجہ قانون کے مطابق اس وقت کے سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق مرحوم کو صدر بنایا اور وقت پر الیکشن کروا کر پاکستان میں جمہوری حکومت قائم کی۔ پاکستانی فوج کا ایک جنرل ہونے کے ناطے مرزااسلم بیگ کا یہ بڑا کارنامہ ہے جو پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ڈکٹیٹر مرحوم ایوب خان نے جب ذلیل ہو کر اقتدارادر چھوڑا تھا تو دوسرے شرابی ڈکٹیٹر یخییٰ خان کو اقتدار منتقل کر گئے تھے۔جس کے اعمال کی وجہ سے ہمارا ملک دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا تھا۔ مگر مرزا اسلم بیگ نے ڈکٹیٹر ضیالحق کی ناگہانی موت کے بعد ایسی غلط رویت قائم نہیں کی اور ملک کو جمہوری پٹڑی پر ڈال دیا۔ اس پر وزیر اعظم بے نظیر مرحومہ کی طرف سے ایک منفرد اعزاز’’ تخمہ ِ جمہوریت‘‘ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ مرزا اسلم بیگ کو ستارہ بسالت، ہلال امتیاز اور نشانِ امتیاز کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ٹی وی ٹاک شو میں عجیب و غریب شخصیت ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی پالیسیوں سے اختلافات کرتے اور کہتے ہوئے سنے گئے کہ میں اس کے منہ بھی نہیں لگنا چاہتا۔ ٹی وی ٹاک شو اور اپنے اخباری کالموں میں ہمیشہ پاکستان، نظریہ پاکستان، دوقومی نظریہ اور امت مسلمہ کا مقد مہ بہادری اور دلیلوں سے لڑتے ہیں۔ بہتر مسلمان ہیں مسلم امہ کادرد سینے میں رکھتے ہیں۔ سیکولرزم سے دور کا بھی واسطہ نہیں رکھتے۔ افغان جہاد کے دوران پشاور میں تعینات تھے۔ دنیا کی بڑی جنگی مشین اور ایٹمی طاقت روس کو شکست سے دوچار کرنے میں ان کی خدمات بھی پاکستان اورمسلم دنیا میں ہمیشہ میں یاد رکھی جائیں گے۔ اپنی اسلامی سوچ کی وجہ سے پاکستانی قوم میں ہردلعزیز ہے۔بین الاقوامی اُتار چڑھاؤ اور بدلتے واقعات پر ان کی بڑی گرفت ہے۔ مرزا اسم بیگ کے جاندار تجزیوں پرمبنی اخبارات میں چھپنے والے مضامین کوپڑتے وقت ہمارے دل میں یہ خواہش کافی عرصے سے جنم لیتی رہی ہے کہ اے کاش اپنی دو کتابوں جو ملٹری معاملات کے متعلق ہیں ایک کتاب میں پاکستانی کی سیاسی اورفوجی تاریخ، اپنے مشاہدات اور کرداروں پر جن سے مرزا اسلم بیگ صاحب بخوبی آگاہ ہیں ایک کتاب اپنی قومی زبان اُردو میں بھی عام پاکستانیوں کے لیے بھی تحریر کریں۔ نائن الیون کے بعد سے امریکا کی جابرانہ پالیسیوں پر ہمیشہ سخت گرفت کی ہے۔ پاکستان کے باہر کی دنیا کے ساتھ بدلتے ہوئے واقعات کی روشنی میں ارباب اختیار کو قیمتی مشورے دیتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف جاری گیٹ گیم کے کارندوں کی پالیسوں پر سخت ترین محاسبہ کرتے رہتے ہیں۔ میں نے ان کے اخباری مضامین اورتجزیوں میں پاکستان اور مسلم دنیا کی حقیقی ترجمانی دیکھی ہے۔میری دعاء ہے کہ اﷲ ان کو زیادہ دیر تک صحت مند زندگی عطا فرمائے تاکہ پاکستان اور مسلم دنیا کی اس مشکل دور میں ترجمانی کا فریضہ ادا کرتے رہیں۔ دشمنوں کے بُرے عزاہم سے وقت پر ان کو باخبر کرتے رہیں اور دشمنوں کے شر سے بچنے کی تدبیریں بتاتے رہیں۔ اﷲ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mir Afsar Aman

Read More Articles by Mir Afsar Aman: 927 Articles with 458936 views »
born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More
24 Jul, 2017 Views: 414

Comments

آپ کی رائے