پی ٹی سی ایل دور جدید میں فرسودہ نظام رائج

(SYED MEHBOOB AHMED CHISHTY, )

شہر قائد میں اداروں کی زبوں حالی سے ہر ذی شعور واقف ہے پی ٹی سی ایل کا ادارہ دورجدید میں فرسودہ نظام کی جانب گامزن ہے شہر قائد کے علاقے گلستان جوہر سمیت متعدد علاقوں تاحال فرسودہ نظام کیوجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے گلستان جوہر ایکسچینج آثار قدیمہ کی روایت کوقائم رکھتے ہوئے صارفین کو سروسز فراہم کررہا ہے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن نے ہرادوار میں جدیدیت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن تاحال وہ اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کررہا ہے جس کی عوام توقع کررہے ہیں ذرائع کے مطابق صرف گلستان جوہر میں ایک اندازے کے مطابق 20ہزار سے زائد ڈی پیز باکس اور پئیرز اوپن لگے ہوئے ہیں جسکی وجہ سے ان میں دھول مٹی جانے اور ہرعام عوام کی رسائی کیوجہ سے انتہائی غیر محفوظ ہوچکے ہیں۔دوسری اہم ترین وجہ بھی سامنے آئی ہے کہ ایک بلاک میں لائن مینز کی تعداد بہت کم ہے پورے گلستان جوہر میں صرف 60لائن مین کام کررہے ہیں جبکہ ایک لائن مین کے پاس 100سے زائد کمپلین فالٹس کی ہونے کی وجہ سے صارفین کو سروسز کی فراہمی میں شدید معطلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لائن مین کی تعداد میں اضافہ کرنا صارفین کی بلاتعطل فراہمی سروسز میں معاون ثابت ہوگی. ان تمام وجوہات کی وجہ سے صارفیں کو فون لائن اور انٹرنیٹ کی فراہمی میں مسلسل تعطل کا سامنا کرنا پڑرہا ہےصارفین کی ایک بہت بڑی تعداد بلز کی فراہمی مقررہ وقت میں نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت شدید غم غصے کا شکار ہے پی ٹی سی ایل بلز صارفین تک دینے والی کورئیر سروس انتہائی نااہلی اور ست روی کا مظاہرہ کررہی ہے مقررہ وقت بلز کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے صارفین پر بل کی ادائیگی کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے صارفین کو ای میل کے ذریعے بل کی فراہمی اسوقت بیکار ہوجاتی ہے جب انٹرنیٹ اورلائن خراب ہو پاکستان ٹیلی کمیونکشن دورجدید میں دور قدیم کی روایتوں کا سہارا لے رہا ہے کراچی کے علاقے PECHSسوسائٹی میں جدید نظام متعارف کرواچکا ہے اہلیان گلستان جوہر نے ڈایکٹرجنرل پاکستان ٹیلی کمیونیکشن سمیت اعلیٰ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے وہ جلدازجلد اس جدید نظام کو متعارف کروایا جائے تاکہ صارفین کو بلاتعطل سروسز کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے اور پی ٹی سی ایل پر عوام کا اعتماد قائم رہ سکے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: SYED MEHBOOB AHMED CHISHTY

Read More Articles by SYED MEHBOOB AHMED CHISHTY: 8 Articles with 4041 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jul, 2017 Views: 392

Comments

آپ کی رائے