کیا تبدیلی آجائے گی؟

(Sana Ghori, Karachi)

پاناماکیس کا فیصلہ ہونے جارہا ہے۔ اس سلسلے کا آغاز پاناما دستاویزات کے لیک ہونے سے ہوا تھا۔ ان دستاویزات میں شریف خاندان کے افراد کا نام آتے ہی مسلم لیگ ن کے مخالفین خاص طور پر تحریک انصاف کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار آگیا جس کا استعمال امکانی طور نوازشریف کی حکومت کے لئے تباہی کا سبب بننے جارہا ہے۔

اس سوال کو جانے دیجیے کہ اگر نوازشریف اقتدار میں نہ ہوتے تو کیا ان کے مخالفین انصاف اور احتساب کے لیے اتنے ہی فکرمند، بے تاب اور مصروف کار ہوتے جتنے وہ رہے ہیں؟ اس سوال کو بھی جانے دیجیے کہ پاناماپیپرز میں سامنے آنے والے دیگر ناموں کا کیا بنا؟ ہم ان سوالوں سے پہلوتہی کرتے ہوئے صرف درپیش معاملے تک محدود رہتے ہیں۔ اگر کسی ملک کے حکم راں پر بدعنوانی اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین الزامات لگے ہیں تو ان پر بات کرنا، احتجاج کرنا اور انھیں عدالت میں لانا اس حکم راں کے مخالفین کا حق ہی نہیں بہ طور سیاسی راہ نما ان کی ذمے داری بھی ہے۔ یہ برسراقتدار افراد کا فرض ہے کہ وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات پر جوابی الزامات کی بھرمار کرنے اور سازش کا شور مچانے کے بہ جائے ان الزامات کا جواب دیں، عدالت کے کٹہرے میں بھی اور عوام کی عدالت میں بھی۔ بہرحال یہ معاملہ احتجاج، عدالت میں درخواست دائر ہونے، عدالت میں مقدمہ چلنے، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل اور اس کی کارروائی کے بعد عدالت پہنچ کر اختتام پذیر ہونے کو ہے، عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جو امید ہے بہت جلد سُنادیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں نوازشریف کو اقتدار چھوڑنا پڑا تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا اس طرح سیاست میں آکر بدعنوانی کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی؟ اگر وزیراعظم مجرم قرار پاتے ہیں تو کیا ان کا، ان کے خاندان کا اور ان کی جماعت کا سیاسی مستقبل تاریک ہوجائے گا؟

بدقسمتی سے مجھے ان سوالات کا جواب ایک بہت بڑے سے نہیں کی صورت میں صاف دکھائی دے رہا ہے۔
ہم دنیا کی وہ عجیب قوم ہیں جو سیاسی حمایت کا مرتبہ ذہنی غلامی سے ملا چکے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ہمارے یہاں سیاسی راہ نما اپنے حامیوں کے لیے دیوتا کا روپ رکھتے ہیں، جن سے غلطی یا گناہ ہونا بعیدازقیاس سمجھا جاتا ہو، ایسا ہوتا تو بھی غنیمت تھا، کیوں کہ ایسا ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ ہمارے عوام معصوم ہیں وہ دیانت وامانت، ظلم وانصاف اور شرافت اور بدمعاشی میں فرق جانتے ہیں اور روشن انسانی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔ اس طرح کم ازکم یہ امید تو رہتی کہ ایک نہ ایک دن لوگوں کی معصومیت شعور اور آگاہی سے ہم کنار ہوکر ختم ہوجائے گی اور وہ اپنے اپنے راہ نما کو پہچان لیں گے، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ معذرت کے ساتھ ہمارے عوام کی اکثریت سب کچھ جاننے کے باوجود راہ نماؤں کو منتخب کرتے ہیں، ان کا ساتھ دیتے ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں۔

آپ کسی پاکستانی سے جو کسی خاص سیاسی جماعت سے ہم دردی رکھتا ہو اور اس کا ووٹر ہو، اس کے سامنے آپ اس کی من پسند سیاسی جماعت کے قائد کی کوئی خامی بیان کریں، اس راہ نما کی کسی مالی بے قاعدگی، کسی غلط روش اور کسی غلط کاری کی بات کریں، وہ منطق اور دلیل کے ساتھ اپنے لیڈر کا دفاع کرنے کے بہ جائے اسی نوعیت کی دیگر لیڈروں کی مثالیں دے کر کہے گا کہ فلاں فلاں بھی یہی کچھ کرتے ہیں۔ اس رویے کا ہم سب کو سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث اعصاب چٹخ کر رہ جاتے ہیں۔ یہ رویہ ہماری قومی مزاج بن چکا ہے، جو بتاتا ہے کہ ہمارے پیش نظر اصول ہوتے ہیں، نہ اخلاقیات، مذہب نہ اقدار، نہ حب الوطنی تقاضے آڑے آتے ہیں نہ قوم وملک کی بہبود اور نفع ونقصان کا خیال رکاوٹ بنتا ہے نہ ہی معاشرے کی فلاح کی سوچ سچ بولنے پر اکساتی ہے۔

مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کے کٹر حامیوں اور ان کے رائے دہندگان کا یہ حلقہ ووٹ بینک کا نام پاتا ہے، جس کے بارے میں اس کے راہ نما اور سیاسی کارکن فخریہ طور پر کہتے ہیں کہ وہ اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کی جانب سے نام زد کیے جانے والے کھمبے کو بھی ووٹ دے دیں گے۔

یہ افسوس ناک اور شرم ناک رویہ وفاداری سے کہیں زیادہ غلامی اور اندھے تعصب کا نام پانے کا مستحق ہے۔ ہمیں ایسے سیاست دانوں سے واسطہ پڑتا رہا ہے جو مضحکہ خیز اور اشتعال انگیز تقریریں کرتے رہے ہیں، جو کھلے عام لوگوں کو تشدد پر اکساتے رہے، ہمیں ایسی سیاسی جماعتوں کو جھیلنا پڑا ہے جو کھلے عام تشدد میں ملوث رہی ہیں، ایسے راہ نما ہمارے درمیان موجود ہیں جو اپنا سیاسی موقف باربار بدل چکے ہیں، جن کی پہچان سیاسی قلابازی بن چکی ہے، اور ایسے لیڈروں کی تو کوئی کمی نہیں جن کا طرززندگی بہ طور حکم راں جن کے فیصلے اور پالیسیاں اور جن کہ تیزی سے بڑھی ہوئی دولت صاف صاف بتاتی ہے کہ وہ راہ نما نہیں راہ زن ہیں جو قوم کا پیسہ لوٹ رہے ہیں، لیکن ایسے سیاسی راہ نماؤں اور سیاسی جماعتوں کے حامی اپنی حمایت اور وفا سے ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ یہ رجحان عام زندگی اور سیاسی مباحث اور گفتگو کے دوران الفاظ کے ذریعے دفاع اور حمایت تک محدود ہوتا ہے لیکن انتخابات کا مرحلہ آنے پر مزید خطرناک ہوکر ووٹوں میں ڈھل جاتا ہے۔

ووٹ دیتے ہوئے عام طور پر نہ سیاسی جماعتوں کا منشور پیش نظر ہوتا ہے نہ راہ نماؤں کی دیانت اور شرافت، بس ایک سیاسی تعصب ہے جو ان لوگوں کو منتخب ایوانوں میں پہنچادیتا ہے جن کا صحیح مقام حوالات ہیں۔ تو صاحب! یہ ہم عوام ہیں جن کے بھروسے پر سیاست داں بدعنوانی سمیت سارے کالے کرتوت بے دھڑک کرجاتے ہیں اور ان کی معصومیت پر کوئی داغ نہیں لگتا۔

تبدیلی اور انقلاب کے خواب دیکھنے کے بہ جائے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، اس کے لیے زیادہ کچھ نہیں کرنا، بس جسے ووٹ دے رہے ہیں اس کا انفرادی اور اس کی جماعت کا مجموعی کردار سامنے رکھیے، تبدیلی اس طرح ہی آسکتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Ghori

Read More Articles by Sana Ghori: 312 Articles with 183783 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jul, 2017 Views: 362

Comments

آپ کی رائے