تاریخی فیصلہ آگیا‘ نواز شریف کلین بولڈ

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ہونے کے ساتھ افسوس اور ندامت کا دن بھی ہے کہ وہ شخص جو ملک کا تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنا اور چوتھی بار اسی منصب پر فائز ہونے کے خواب دیکھ رہا ہو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نہ اہل کر دیا جائے، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحیات نا اہلی ہوئی ہے اور وزیر اعظم سمیت ان کے بیٹوں حسن اور حسین، بیٹی مریم ، داماد کیپٹن (ر) صفدر، سمدھی اسحاق ڈار کے خلاف نیب کو فوری طور پر ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت بھی کردی گئی۔ سپریم کورٹ کا بنچ جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جناب جسٹس عظمت سعید، جناب جسٹس اعجاز الا حسن، جناب جسٹس گلزار احمد، جناب جسٹس اعجاز افضل پر مشتمل تھا ۔ بینچ نے وضاحت کی کہ یہ بینچ پانچ رکنی بنچ کا تسلسل ہے۔ جس نے 20 اپریل کو فیصلہ سنا یا تھا ۔فل بینچ نے پاناما کیس کا اہم ترین اور تاریخی فیصلہ آج جمعہ 28جولائی2017کو سناتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔ جب کہ نیب کو ہدایت کی کہ وہ دو ہفتے کے اندر اندر نواز شریف اور ان کے بچوں، داماد اور سمدھی کے بارے میں ریفرنس دائر کریں جس کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر اندر کردیا جائے۔ اس کی نگرانی سپریم کورٹ کا ایک بینچ کرے گا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ 21جولائی کو محفوظ کر لیا تھا۔

دولت کی حوص نے نوازشریف اور ان کے بچوں کی عزت کو تار تار کردیا، ساتھ ہی پاکستان اور پاکستانی قوم کو رسوا کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔بیرونی دنیا میں پاکستان کے وقار کو مجروح کیا۔ گزشتہ ہفتہ میں نے تین کالم اس کیس کے حوالے سے لکھے آخری کالم جو ایک روز قبل ہی لکھا تھا اس کا عنوان تھا ’’نواز شریف کو جانے دو اور شہباز شریف کو آنے دو‘‘۔ اس لیے کہ زمینی حقائق یہی عندیہ دے رہے تھے۔لیکن درباری عقل کے اندھوں کو سب اچھا ہے سب اچھا ہے نظر آرہا تھا۔ پاناما لیکس میں نواز شریف کا نام نہیں تھا لیکن اس میں ان کے بچوں کے نام تو تھے۔ عمران خان اس معاملے کو عدالت لے گئے ۔ سوا سال مقدمہ کی سماعت کسی نہ کسی طور ہوتی رہی۔ نتیجہ آج قوم کے سامنے نواز شریف کی نا اہلی کی صورت میں آیا۔ نواز شریف اس انجام تک کیوں اور کیسے پہنچے اس کے بنیادی اور موٹے موٹے اسباب میری نظر میں حسب ذیل ہیں۔اس موضوع پر اس قدر تفصیل سے لکھا جا چکا کہ اب اس کی تفصیلات میں جا نا منا سب نہیں۔

۱۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد نواز شریف اور ان کا خاندان خوش فہمی اور اقتدار کے نشے میں مبتلارہا ،ان کا خیال تھا کہ اقتدار کے ہوتے ہوئے کوئی حتیٰ کہ عدالت بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔ ان کی خوش فہمی ان کے گلے پڑ گئی۔

۲۔ پاناما کیس کے دوران نواز شریف کے وکیلوں کی کارکردگی صفر رہی ،نامی گرامی وکیل جعلی دستاویز جمع کرانے میں عار محسوس نہیں کر برہے تھے، صرف اس لیے کہ ان کا خیال تھا کہ نواز شریف کے اقتدار کے سامنے کوئی نہیں بول سکتا۔انہوں نے عدالت میں غلط بیانی کی، جھوٹ بولا، جعلی کاغذات ، خاص طور پر قطری شہزادے کا خط عندیہ دے رہے تھے کہ شریف فیملی اپنی آمدنی سے کہی زیادہ اثاثہ جات اور منی ٹریل ثابت کرنے میں ناکام ہوجائے گی اگر نظر نہیں آرہا تھا تو نواز شریف کو اور ان کے درباریوں کو۔

۳۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ آیا جو دو تین پر مشتمل تھا یعنی دو معزز جج صاحبان نے ابتدائی سماعت میں ہی نواز شریف کو قرار دیا کہ وہ صادق اور امین نہیں لیکن تین معزز جج صاحبان نے اہتمام حجت کے لیے،وزیر اعظم صاحب اور ان کے خاندان کی تسلی اور تشفی کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی یعنی جے آئی ٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا۔ نواز شریف کے لیے دو معزز جج صاحبان کا فیصلہ ہی کافی تھا ۔ وہ انتہائی مناسب وقت تھا میاں صاحب کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا اور اپنی جگہ اپنے کسی بھی بہ اعتماد ساتھی کو وزیر اعظم کے منصب پر فائز کر دیتے اس عمل کے نتیجے میں میاں صاحب کی عزت، وقار اور عوام میں ان کی پسندیدگی میں اضافہ ہوجاتا ، بہت ممکن تھا کہ حالات یہ رخ اختیار نہ کرتے،ایک تو یہ موقع میاں صاحب نے گنوادیا، درباری میاں صاحب کو سبز باغ دکھاتے رہے، کہ میاں صاحب کچھ نہیں ہوگا۔ میاں صاحب اپنے ان درباریوں کی باتوں میں آگئے۔

۴۔ اب مرحلہ جے آئی ٹی کا شروع ہوا جس میں میاں صاحب سمیت حسن، حسین،مریم، صفدر، سمدھی جی اور دیگر پیش ہوئے انہوں نے جے آئی ٹی میں نہ صرف جعلی دستاویزات جمع کرائیں، جھوٹ بولا، قطری خط کو عدالت نے جعلی قرار دیا، یہی نہیں بلکہ جب بھی کسی کی پیشی جے آئی ٹی میں ہوتی باہر آکر وہ ملزم اور ان کے چاپلوس درباری جے آئی ٹی کے لتے لے لیتے۔ انہوں نے جے آئی ٹی کی تحقیق میں جے آئی ٹی کے اراکین کو جانب دار قرار دینے کی بھر پور کوشش کی ، انتہائی غلط اور بھونڈے قسم کے الزامات لگاتے رہے۔ ان کی زبان انتہائی غیر مہذب اور غیر اخلاقی ہوا کرتی تھی۔ نون لیگیوں کا یہ عمل ان کے خلاف گیا، زبان عمران خان کی بھی کچھ اچھی نہ تھی لیکن عمران اپوزیشن کی حیثیت میں تھا اس کی پارٹی تو ایسا کرسکتی تھی لیکن نون لیگ کو احتیاط کی ضرورت تھی ۔

۵۔ ایک مرحلہ اس وقت آیا جب جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کی اور تین رکنی بنچ نے نواز شریف کو ایک اور موقع دیا کہ وہ اب بھی عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش ہوکر اب سچ ثابت کردیں ، یعنی اپنی منی ٹریل دے دیں ۔ کہ جس پیسے سے لندن میں مہنگے ترین فلیٹس خریدے گئے، اسٹیل مل لگائی گئی وہ رقم کس ذرائع سے لندن گئی۔ نواز شریف اوران کی فیملی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی بلکہ اس مرحلے پر بھی نون لیگ کے بعض وزراء نے اپنا بھونڈا کردار جاری رکھا، جے آئی ٹی حکومت نے تشکیل نہیں دی تھی،نہ ہی یہ کسی منتخب اسمبلی نے بنائی تھی اسے خود سپریم کورٹ نے تشکیل دیا تھا اس وجہ سے جے آئی ٹی کی حیثیت سپریم کورٹ کی تو نہیں تھی لیکن کیونکہ اسے سپریم کورٹ نے تشکیل دیا تھا اس وجہ سے وہ اتنی ہی قابل احترام تھی لیکن نون لیگیوں نے اس کے ممبران کی عزت کو تارتار کرنے میں کوئی کثر نہ اٹھا رکھی۔ جے آئی ٹی نے مکمل غیر جانبدار رہتے ہوئے، محنت و مشقت کر کے جو کام سپریم کورٹ نے سونپا تھا وہ تو کیا ہی اس چھان بین میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے حوالے سے کئی اور چیزیں اور ثبوت کمیٹی کے ہاتھ آگئے جن سے نواز شریف کا کیس کمزور سے کمز ور تر ہوتا گیا۔ آفشور کمپنی ، اقامہ ، ملازمت اور تنخواہ لینے جیسے معاملات بھی سامنے آگئے۔

۶۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ کہ کیس کی مکمل سماعت کے دوران ہونے والی کاروائی اور مقدمہ کی کاروائی کے دوران معزز جج صاحبان کے ریمارکس یہ عندیہ دے رہے تھے کہ کیس کس سمت جارہا ہے لیکن نواز شریف کے درباریوں کی آنکھوں پر اقتدار اور غفلت کی پٹی بندھی تھی انہیں سب کچھ نواز شریف کے حق میں جاتا نظر آرہا تھا نتیجہ سامنے آگیا۔ اپنے کیے کی سزا اب بھگتنا ہوگی۔

میاں صاحب کا خاندان تو مقدمات کا سامنا کرے گا، ہوسکتا ہے کہ مقدمات قائم ہونے کے نتیجے میں گرفتاریاں بھی ہوجائیں ساتھ ہی نون لیگ کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوگی، اس کے ورکروں میں بد دلی پیدا ہوجائے گی۔ نون لیگ کے ورکر کسی بھی شخص کو وہ اہمیت اور وقعت نہیں دیں گے جو وہ نواز شریف کو دیا کرتے ہیں۔ جیسے جیسے مقدمہ اپنے منطقی انجام کی جانب پہنچ رہا تھا کئی نون لیگیوں کے بارے میں اسلامی ممالک کے اقامے ، ملازمت ، تنخواہیں وغیرہ جیسے معاملات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ خواجہ آصف، احسن اقبال جیسے لوگوں کے پاس اقامہ ہے ، کوئی کسی کمپنی کا ملازم ہے توکوئی کسی کمپنی کا۔ سیاسی جماعتوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل ہوتا ہی ہے نون لیگ ماضی میں اس دور سے گزر چکی ہے ، ہوسکتا ہے کہ کچھ عرصہ کے لیے پھر سے نون لیگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے۔آج کے تاریخی فیصلے کا کریڈٹ یقینی طور پر عمران خان کو جاتا ہے، شیخ رشید اور جماعت اسلامی بھی اس کے شریک کار ہیں۔ عمران خان کی بھر پور کوشش ہوگی کہ اس سے فائدہ اٹھائے۔

نواز شریف ایک جانب قسمت کے دھنی ہیں کہ اقتدار بار بار ان کی جھولی میں آتا رہا دوسری جانب بدقسمتی کے تیسری بار اقتدار ملا لیکن وہ ایک سال قبل ہی عدالت کے ذریعہ فارغ ہوگئے۔نواز شریف پہلی باری وزیراعظم بنے اس وقت بھی انہیں برطرف کیا گیا ، وہ بحال ہوئے پھر زبر دستی استعفیٰ دینا پڑا۔دوسری مرتبہ اقتدار ملا تو نواز شریف نے پرویز مشرف کے ساتھ جھگڑا مول لے لیا، جس کے نتیجے میں ان کا تختہ الٹ دیا گیا اوروہ سعودی حکومت کی سفارش کے نتیجے میں جدہ چلے گئے۔پھر واپس آئے اور 2013کے انتخابات میں انہیں پھر سے اقتدار حاصل ہوا، انہوں سابقہ حالات سے سبق نہیں سیکھا ۔ نتیجہ آج سامنے ہے۔ نون لیگ اور نواز شریف کے لیے اب بہتری اسی میں ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کریں ، اپنے آپ کو عدالتوں سے بے گناہ ثابت کرنے کی سعی کریں۔ بہتری اوربھلائی اسی میں ہے۔فیصلے میں سر دست شہباز شریف کا نام نہیں لیکن حدیبیہ مل کے حوالے سے شہباز اب چکر میں آجائیں گے۔ اب شریف خاندان کا کوئی فرد تو وزارت اعظمیٰ کا امیدوار ہو نہیں سکتا ، ممکن ہے چودھری نثار کی آخری پریس کانفرنس کام آجائے اور قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوجائے لیکن مشکل لگتا ہے۔ چند دنوں میں صورت حال واضح ہوگی کہ نون لیگ اپنی کیا پالیسی اختیار کرتی ہے۔ سر دست تو پاناما لیکس کا فیصلہ جو پانچ صفر کا ہے یعنی متفقہ ہے نون لیگ پر بم بن کر گر چکا ہے۔ ہوش میں آنے میں کچھ وقت لگے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 755 Articles with 641875 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
28 Jul, 2017 Views: 516

Comments

آپ کی رائے