go nawaz goسے gone nawz goneتلک۔

(Hafeez khattak, Karachi)
پانامہ لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلے ہر اختتام پذیر ہوگیا اس فیصلے کے بعد عوامی رائے پر مبنی ایک سروے رپورٹ

سپریم کورٹ کے ججز نے وزیر اعظم نواز شریف کو وزارت عظمی سے ہٹا دیا اوراس کے ساتھ نیب کو ان سمیت دیگر متعدد افراد کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم بھی دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد پوری قوم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ایک وہ تھے جو کمرہ عدالت میں ہی خوشی کا مظاہرہ کرگئے اور دوسرے وہ تھے جو کمرہ عدالت میں ہی آنسو ﺅں کو روکھنے کیلئے کوشاں ہوئے۔ اس کمرہ عدالت سے باہر ملک کے طول و عرض میں بھی کہیں مٹھائیاں تقسیم ہوئیں ، بھنگڑے ڈالے گئے تو کہیں ماتم بھی ہوئے۔ اس صورتحال میں درمیان کے بھی کچھ لوگ رہے جنہیں اکثریت و اقلیت دونوں جانب سے نظر انداز ہی کیا گیا۔

اس تاریخ ساز فیصلے کے بارے شہر قائد کی عوام کیا کہتی ہے اس حوالے سے اک سروے کیا گیا جس میں عوامی رائے بھرپور انداز میں سامنے آئی ۔ گالف کلب کراچی کے ٹی وی روم میں جونہی یہ فیصلہ سامنے آیا تو عوامی جذبات یکدم کااظہار شروع ہوگیا۔ کچھ لوگ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے کچھ عمران خان کے اور کچھ پی ٹی آئی کے۔ ہاں اس محفل میں ایک گورہ ایسا بھی رہہ گیا جو سر جوڑ کر بیٹھ گیا اور انہوں نے کسی بھی طرح کے جذبات و احساسات کا اظہار نہیں کیا جس سے یہ معلوم ہورہا تھا کہ وہ اس فیصلے پر افسردہ ہیں۔ خوشی منانے کو ان کے حال پر چھوڑ کر خاموش لوگوں سے سے جب پوچھا تو ان میں سے عابد، اویس ، علی یکدم سے کہنے لگے کہ نواز شریف وہ وزیر اعظم تھا جسے عوام نے اپنے ووٹوں سے منتخب کیا اور عدالت نے انہیں اپنے پانچ سال بھی پورے نہیں کرنے دیئے ۔ زمان کا کہنا تھا کہ عوام مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تھی ، ہے اور رہے گی۔ ان کے قریب ہی کھڑے ایک اور فرد نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مقدمے کا چلنا اور پھر سپریم کورٹ کے ججز کا فیصلہ نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ اب اگر ہم یہ کہیں کہ ہم اس فیصلے کو ہی نہیں مانتے تو یہ ایک غلط اقدام ہوگا کیونکہ ہمیں باعزت شہری ہونے کے ناطے اپنی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنا چاہئے ۔ شاکر نے کہا کہ عین ممکن ہے کہ وزیر اعظم کو جو وکلاءملے انہوںنے وزیر اعظم کو تو بہت خوش کیا لیکن وہ صحیح انداز میں مقدمے کو آگے نہیں بڑھا سکے ۔ اسی وجہ سے مقدمہ وزیر اعظم صاحب ہار گئے۔ لیکن ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ وہ دلوں میں زندہ رہیں گے اور مستقبل میں انہیں اس سے بھی زیادہ ووٹ ملیں گے۔

پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے شہباز کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس پر ابتداءمیں ہی اگر وزیر اعظم کچھ اقدمات کرتے تو ایسا نہیں ہوپاتا۔ پھر یہ بھی آپ دیکھیں کہ پانامہ لیکس کا جب معاملہ چلا تو جتنوں کے نااس حوالے سے آئے وہ ایک ایک کرکے ازخود یا پھر انہیں ان کی حکومت نے ہی ہٹا دیا ،یہ ایک ہمارے ملک کے وزیر اعظم ہی تھے کہ جو اب تلک خاموش تھے اور بار بار قوم کے سامنے ٹی وی چینلز پر آکر اپنی صفائیاں دے رہے تھے۔ زینب جہاں کا کہنا تھا کہ عدالت نے جو کیا درست کیا اور عوام کو تو پی ٹی آئی والوں کے باعث اس بات کا بھی علم ہوا نا کہ وزیراعظم اصل میں کیا تھا اور اس نے عوام کے سامنے اپنا کونسا روپ اختیار کررکھا تھا؟پی ٹی آئی وہ جماعت ہے کہ جس نے سب سے پہلے گو نواز گو کا نعرہ لگایا اور اس کے بعد سے یہ نعرہ بہت تیزی کےساتھ آگے بڑھا ۔ اس مقدمے کے فیصلے کے بعد یہ بات سب کے سامنے آگئی ہے کہ اب یہ نعرہ گونواز گو نہیں ہے کہ گون نواز گون بن گیا ہے۔ تاجر رہنما حیدر کا کہنا تھا کہ سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکلاءاور ان کی وزیر اطلاعات جس انداز میں باتیں کرتے تھے اس سے ان کا تاثر عوام پر اچھا مرتب نہیں ہوتا تھا ، حتی کے وزیر داخلہ تک نے اپنی پریس کانفرس میں یہ کہا کہ وزیر اعظم کے قریب انہیں مشورے دینے والے انہیں اچھا مشورہ نہیںدیتے ہیں ۔ لیکن ان تمام معاملوں کے باوجود وزیر اعظم ٹس سے مس تک نہیں ہوئے انہیں اس بات کا یقین تھا کہ وہ جیت جائیں گے ۔ طالبعلم زین کا کہنا تھا کہ طلبہ میں اس فیصلے کا مثبت رجحان اس طرح سے ہے کہ انہیں اس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ ہماری عدالتوں میں اب بھی انصاف ہوتا ہے اور انصاف کے دوران یہ نہیں دیکھا جاتا کہ سامنے کون ہے؟
دونوں جانب کے وکلاءنے اپنی باتیں اپنے دلائل دیئے اور ججز نے تمام تر دلائل اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد اک احسن فیصلہ کر دیا ۔ طالبعلموں میں جو ان کی جماعت کے لوگ ہیں انہیں تو یہ سب کچھ اچھا نہیں لگا بلکہ انہوںنے تو اپنے غصے کا بھی اظہار بھی کیا لیکن اکثریت کی رائے یہی تھی کہ جو ہوا اچھا ہوا اور یہ فیصلہ ملک کے مستقبل کیلئے بہتر انداز میں مثبت اثرات مرتب کرتا ہوا آئیگا۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے محنت کرنے والے ایوب کا کہنا تھا کہ اس وزیر اعظم نے قوم کی بیٹی کے متعلق کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا ، انہوں نے عافیہ کی بیٹی مریم کو اپنی بیٹی مریم سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ قوم کی بیٹی کو باعزت رہائی دلواﺅنگا لیکن انہوں نے آج تلک اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تھا ، ہماری نظر میں تو یہ جو بھی کچھ ہوا ہے دراصل اپنے اس وعدے کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہو ا ہے۔ اگر وہ عافیہ کو واپس لے آتے تو شاید ایسا نہیں ہوتا ۔ لیکن انہوںنے اور ان کے ساتھ حکومت کے دیگر عہدیداران نے آج تلک چونکہ عافیہکی رہائی کیلئے کچھ کام نہیں کیا اس لئے ان کے ساتھ بھی ایسا ہوگیا جو کہ آج تک کسی وزیر اعظم کے ساتھ نہیں ہوا تھا ۔

شان کا کہنا تھا کہ اس وزیر اعظم کے دور میں ہی ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی ، یہ جو بھی ان کے ساتھ ہوا اس پھانسی کا ردعمل ہے۔ لیکن اس وزیر اعظم کی گردن میں کسی بھی طرح کا جول اس پھانسی کے فیصلے کے بعد نہیں آیا ۔ جب کہ پوری عوام اس فیصلے کے قطعی حق میں نہ تھی ۔ اس لئے ہم اس فیصلے پر خوش ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اب کی بار جو بھی وزیر اعظم بنے وہ پاکستان کا ہی وزیر اعظم ہو۔
ڈاکٹر ناصر کا کہنا تھا کہ ابتداءمیں پانچ ججز میں سے دو نے انہیں ناک آوٹ کیا اور تین نے کہا کہ تحقیقات ہونی چاہئے لہذا عوام کے سامنے تحقیقات ہوئیں اور اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا جو کہ بالکل برحق ہے۔ لہذا اب تمام تر صورتحال کو ایک جانب رکھ کر قوم کی بھلائی کا خیال رکھا جانا چاہئے ۔ ذولقرنین کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف بھارت کو خوش کرنے کیلئے حافظ سعید کونظر بند کیا ہوا ہے جبکہ ان کے اوپر کوئی مقدمہ نہیں ہے وہ صرف کشمیر کی بات کرتے ہیں مظلوم مسلمانوں کی بات کرتے ہیں اور ان کی مدد کرنے کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں لیکن نواز شریف نے ان پر بے جا ظلم کیا جس کی بناءپر قدر ت نے بھی انہی انسانوں کے ذریعے وہ کام کیا کہ جو اب تک ملک کی تاریخ میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا تھا ۔ اب جو بھی نیا وزیر اعظم آئے ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ حافظ سعید کو باعزت رہائی دلوائیں گے۔

قلم کار جاوید کا کہنا تھا کہ گو نواز گو سے اب بات ،معاملہ گون نواز گون تک آیا گیا ہے لہذا اس اب سلسلے کو دیکھا جائے کہ ہمارے ملک میں ، جو کہ ان دنوں متعدد خطرات میں ہے اس کی حفاظت اور ترقی کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے اور ہم کیا کر رہے ہیں۔ عمران خان ،سراج الحق ، شیح رشید یا دیگر سبھی سیاستدانوں سے یہی اپیل کرتا ہوں کہ ملک کا سوچیں اور ملک کیلئے ہی اپنی سیاست کریں ۔ یہ آپ کیلئے بھی بہتر ہے اور آپ کی جماعت کیلئے بہتر ہے ۔

مسلم لیگ (ن) اس ملک کی اک بڑی جماعت ہے انہیں عوام نے اس مقام تک پہنچایا ہے لہذا اب انہیں چاہئے کہ اپنے خلاف منفیت کو پھیلنے سے روکنے کیلئے مثبت سیاست کریں، نیا وزیراعظم بھی انہی کا ہوگا ۔ جو غلطیاں نواز شریف سے سرزد ہوئیں انہیں نیا وزیر اعظم دہرانے کے بجائے احسن انداز میں قوم کے کئے گئے وعدے پورے کرے اور ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے احسن انداز میں کام کرئے ۔ اس عمل کے ذریعے ان کے نتائج آنے والے انتخابات میں سامنے آہی جائیں گے۔ گونواز گو سے معاملہ گون نواز گون تک آگیا ہے ، اب انہیں اس طرح کا کردار ادا کرنا چاہئے کہ جس میں یہ جملہ دہرانے کی ضرورت نہ پڑے اور نہ ہی کسی اور کیلئے گو کا لفظ استعمال ہو۔ ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez khattak

Read More Articles by Hafeez khattak: 190 Articles with 102263 views »
came to the journalism through an accident, now trying to become a journalist from last 12 years,
write to express and share me feeling as well taug
.. View More
29 Jul, 2017 Views: 433

Comments

آپ کی رائے