کشمیر کا المیہ

(Asrar Ahmed Raja, Karachi)

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان حال ہی میں وزارت خارجہ سے ریٹائر ہوئے تو حکومت پاکستان نے انہیں آزادکشمیر کی صدارت کے منصب جلیلہ پر فائز کر دیا ۔ سردار مسعود خان کو اس عہدہ پر کیوں فائز کیا گیا اسپر کسی سیاسی پنڈت نے سوال نہیں اُٹھایا ۔ ظاہر ہے کہ یہ سوال حکمران جماعت نون لیگ کے کسی عہدیدار یا کارکن نے اٹھانا تھا مگر چونکہ آزادکشمیر نون لیگ در اصل پاکستان نون لیگ ہی کی فرنچائز ہے اس لیے کسی کارکن یا عہدیدار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنا سیاسی ، بنیادی ، ریاستی حق استعمال کر ے ۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر زرداری گروپ کی فرنچائز ہی نہیں بلکہ خدمتگار ، تابعدار اور با جگزار بھی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو کی قائم کردہ پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹوکی موت کے ساتھ ہی دم توڑ گئی تھی۔موجودہ پارٹی ذرداری خاندان کی ملکیت ہے اور ان ہی کے نظریے کو آگے بڑھارہی ہے۔آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی جب بھی اقتدار میں آتی ہے تو قدیم دور کے حکمرانوں اور حملہ آوروں مہر گل ، ذوالقدر خان اور دیدارانی سے لیکر افغانوں ، مغلوں ، سکھوں اور ڈوگروں کے طرز حکمرانی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سیاست خالصتاً کاروباری ہے۔ پیپلز پارٹی میں پٹواری سے لیکر اوپر کی سطح کے ہر عہدے کا ریٹ مقرر ہے۔ زیادہ بولی دینے والا بڑا عہدہ حاصل کر سکتا ہے۔ شرائط عہدہ داری میں زرداری ہائوس کی مجاوری ، خاکساری اور سجدہ ریزی شامل ہیں ۔ ان شرائط کے حامل جیالوں کو صرف اقتدار ہی نہیں ملتا بلکہ انہیں اپنے مخالفین کی بیخ کنی کا سرٹیفکیٹ بھی مل جاتا ہے ۔ جیالے حکمران کسی آئین ، قانون ، اخلاق و اقدار اور رسم رواج سے مبرا تصور کیے جاتے ہیں ۔ سرکاری ادارے اُن کی ذاتی خدمت پر مامور ہوجاتے ہیں اور عام لوگ صرف اللہ کے حکم کے منتظر رہتے ہیں ۔ جیالوں کے مظالم سے تنگ آکر لوگ راجوں اور مہاراجوں کو یا د کرتے ہیں اور نام نہاد آزادی پر ہزار لعنت بھیجتے ہیں ۔ اگر آزادی کا مطلب سیاسی ٹھیکیداروں کی غلامی ، رسوائی اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی اور بے انصافی ہے تو اغیار کی غلامی اس سے بہتر ہے۔

ڈوگرہ دور میں ہنزہ کا حکمران''تھم '' کہلاتا تھا ۔ ڈوگروں میں بھی پیپلز پارٹی کی طرح راجواڑوں اور ریاستوں کے میروں ، رائوں اور راجوں کے ریٹ مقرر تھے ۔ نگر،خپلو ، شگر، سکردو ،ہنزہ ، گلگت ، اشکو من ، پونیال ، یٰسین اور چترال سے لیکر یاغستان کی سات ریاستوں کے حکمران مہاراجہ کشمیر کو ہر سال ایک مخصوص رقم بطور نذرانہ پیش کرتے تھے جس کے عوض وہ اپنے اندرونی معاملات میں ہر لحاظ سے آزاد تھے۔ پونیال میں کوئی سکول نہ تھا حتیٰ کہ دینی تعلیم پر بھی پابندی تھی۔ ایسا ہی حال دیگر ریا ستوں کا تھا۔ بنیادی انسانی حقوق توکجالوگوں کوراجائوں کی مرضی کے بغیر جینے کا حق بھی نہ تھا۔ یوں تو ہم جدید دور میں زندگی گزار رہے ہیں مگر آزادکشمیر کے بعض علاقوں میں آج ہنزہ اور نگر جیسے قوانین رائج ہیں۔ آزادکشمیر کا ایم ایل اے اپنی مد ر پارٹی کو نذرانہ دیکر اسمبلی میں آتا ہے اور پھر پٹواریوں ، کلرکوں ، تھانیداروں اور ٹھیکیداروں کے ذریع دس گنا حرام مال کماتا ہے۔ ایم ایل اے اگر وزیر بن جائے تواس کے اختیارات مہاراجہ کشمیر جیسے اور مظالم مہر گل اور ذولچو خان سے بڑھ کر ہوتے ہیں ۔ہنزہ کے تھم نے اپنے لوگوں پر اسقد شکنجہ تنگ کر رکھا تھا کہ انہیں اپنے انسان ہونے پر بھی شک گزرتا تھا۔ ہنزہ میں ایک کہانی مشہور ہے کہ عبدالقدیر نامی ایک شخص نے بھوک سے تنگ آکر کسی باغ سے چند خوبانیاں کھا لیں ۔ یہ باغ تھم کی ملکیت تھا ۔ عبدالقدیر پر مقدمہ چلا اور چودہ سال قیدکا حکم ہوا۔ عبدالقدیر کو گلگت جیل میں بند کیا گیا تو وہ خوشی کے مارے پاگل ہو گیا ۔ جیل میں عبدالقدیر کو صبح کے ناشتے کے علاوہ دوو قت کی روٹی بحکم اندر مہندر مہاراجہ کشمیر ملنے لگی تو جیل جنت میں بد ل گئی ۔ جلد ہی عبدالقدیر کو اپنی بھوکی بیوی اور بلکتے بچوں کا خیال ستانے لگا ۔ عبدالقدیر نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بیوی اور بچوں کو پیغام بجھوائے کہ وہ تھم کے کے کسی باغ سے پھل توڑ کر کھائیں تاکہ وہ بھی جیل آ جائیں۔ آخر تنگ آکر عبدالقدیر نے مہاراجہ کو درخواست دی کہ اُسکے بچوں اور بیوی کو بھی جیل میں بھجوا دیا جائے تاکہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں۔ آزادکشمیر میںپیپلز پارٹی کی حکومت آتی ہے تو ایسے کئی واقعات سامنے آجاتے ہیں ۔ حکمران برادیوں کے نا اہل لوگ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہو کر عزت دار خاندانوں کا جینا مشکل کر دیتے ہیں ۔ زمینوں پر قبضے، سرعام مار دھاڑ، راستوں کی بندش سے لیکر مساجد سے بے دخلی اور کاروبار پرقبضے عام ہو جاتے ہیں ۔ ایم ایل اے کے خاندان ، قبیلے اور برداری کے غنڈے کھلے عام عدالتیں لگاتے ہیں جہاں سرکاری اہلکار اُن کی مدد کرتے ہیں ۔ ضلعی کچہریوں میں انتظامیہ ان غنڈوں کے آگے سجد ہ ریز ہوتی ہے اور ایم ایل اے یا وزیر کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ ایم ایل اے یا وزیر کا فون خدائی حکم تصور کیا جاتا ہے۔

ذرا غور کیجئے اور انصاف کیجئے: کہ ہمار ا تصور آزادی کیا ہے ؟ ڈوگروں اور غنڈوں کی حکمرانی اور غلامی میں کیا فرق ہے ؟ڈوگروں اور مقامی لوگوں کی طرز حکومت اور رعا یا پروری کا ایک سچا واقع اُن درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں واقعات میں سے ایک ہے جو شمالی علاقوں کے عوام کے ذہنوں پر نقش ہیں۔ ہنزہ کے ایک چروا ے نے گلگت کے کسی مدرسے سے پانچ جماعت تک تعلیم حاصل کی او رپھر ہنزہ کے ''تھم '' کے حکم پر اُسے واپس آنا پڑا ۔ چراو ہے کو سزا کے طور پر ہنزہ کے دور دراز مقام سری کول بھجوا دیا گیاتو چرواہا اپنی بیوی اور بچے بھی ساتھ لیا گیا ۔ چرواہے کی خوش قسمتی تھی کہ سری کول میں آباد دو قبیلے جنہیں پاکپوش اور شاکشوش کہا جاتا ہے تین زبانیں بولتے تھے ۔ یہ لوگ قدیم فارسی اورترکی کے علاوہ قدیم آرین زبان بھی بولتے تھے جو دنیامیں کس اور جگہ نہ بولی جاتی ہے اور نہ ہی سمجھی جاتی ہے ۔چرواہا چونکہ ذہین آدمی تھا ۔ اُسے خدا کی طرف سے زبانیں سیکھنے کا موقع میسر آیا تو خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ چند ماہ میں چراوہے نے اپنے بیٹے عبداللہ کو پانچویں کا سیلبس پڑھا دیا اور ساتھ ہی سارے خاندان نے فارسی اور ترکی زبان بھی سیکھ لی ۔ چرواہے نے کسی طرح اپنے بیٹے عبداللہ کو گلگت بھجوا دیا تاکہ وہ مزید تعلیم حاصل کر سکے ۔ مخبروںسے والئی ہنزہ کو عبداللہ کے گلگت جانے کی خبر ہوئی تو اُسے واپس آنے کا حکم جاری ہوا ۔ عبداللہ کے باپ کو پتہ چلا تو اُس نے بیٹے کو سرینگربھاگ جانے کا مشورہ دیا۔

عبداللہ طویل مسافت کے بعد سرینگر پہنچا اور مسافروں کے لیے مختص سرائے میں سر چھپانے کو جگہ مل گئی ۔ پھرتے پھراتے عبداللہ کسی مشنری سکول جا پہنچا تو اسے داخلہ بھی مل گیا اور مزدوری کا بندوبست بھی ہوگیا ۔ ہنزہ کے لوگ کہتے ہیں کہ محنت مزدور ی سے کچھ رقم جمع ہوئی تو عبداللہ نے سب سے پہلے رضائی خریدی اور تین روز تک بارش کے موسم میں رضائی اوڑھ کر سویا رہا ۔ یہ عبداللہ کی زندگی کی پہلی آسائش تھی جو اُسے سرینگر جا کر میسر آئی ۔ آخر سکول والوں نے اسے ڈھونڈ نکالا اور ہاسٹل میں رہنے کی جگہ دے دی۔

خدا کا کرنا ہوا کہ ایک دن عبداللہ سٹرک پر چلا جا رہا تھا کہ اسے ایک کا ر نظر آئی ۔ عبداللہ اس عجوبے کو دیکھنے کے لیے سٹرک کے درمیان کھڑا ہوگیا ۔ ڈرائیور نے لاکھ ہارن بجائے مگر عبداللہ اپنی جگہ سے نہ ہلا ۔ کار رکی اور پولیس والے عبداللہ کو پکڑنے آئے تو کار میں بیٹھا شخص بھی باہر آ گیا ۔ عبداللہ نے حیرت سے کار سوار اور اُس کی پوشاک کو دیکھا اور ہاتھ جوڑ کر عرض کی کہ جناب میں نے ایسی سواری اور سوار پہلے نہیں دیکھے۔ کیا آپ نانگا پربت پر بسنے والے دیوئوں اور پریوں کے دیوتا ہیں؟

کار سوار مہاراجہ کشمیر نے مسکرا کر کہا نہیں میں انسان ہوںاور کشمیر کا حکمران ہوں۔ عبداللہ کا حال احوال پوچھنے کے بعد مہاراجہ نے نقد انعام کے علاوہ عبداللہ کا وظیفہ بھی مقرر کر دیا ۔ خبر ایک بار پھر ہنزہ پہنچی تو تھم نے مہاراجہ سے اپیل کی کہ عبداللہ کو فوراً ہنزہ بھجوا دیا جائے چونکہ یہ ریاست کا مفرور ہے۔ عبداللہ واپس ہنز ہ پہنچا تو اسے پھر سری کول جانا پڑا ۔اس بار عبداللہ نے طویل مسافت کاٹی اور چترال کے راستے پشاور اور پھربمبئی جاکر سر آغا خان سے درخواست کی تو اسے بمبئی میں تعلیم کے بعد آغازخان نے پڑھنے کے لیے ولائیت بھجوادیا۔ عبداللہ چونکہ آغاخان کے وظیفے پر انگلینڈ گیا تو گوروں نے اسے ہز ہائی نہیں پرنس عبداللہ کے نام سے لنکن ان میں داخل کیا جو بعد میں بیرسٹر پرنس عبداللہ کے نام سے مشہور ہوا۔

دیکھنایہ ہے کہ کیا مہاراجہ زیادہ ظالم اور انسان کش تھا یا مقامی مسلمان حکمران۔ ستر سالہ نام نہاد آزادی کا دوسرا نام اگر غنڈہ صفت ، نودولیتے ، ان پڑھ اور جاہل سیاستدان کی غلامی ہے تو اسے کیا نام دیا جائے؟؟ جمہوریت ، بھٹو ازم، جیالہ ازم یا جبر وظلم، جس ریاست کا نظام بیان کردہ کرداروں کے ہاتھ ہو وہاں آزادی کی بات کرنا جرم کے مترادف ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک سفارتکار یا ساری عمر یس سر کہنے والا جرنیل ایسے لوگوں کو راہ راست پر لا سکتا ہے ؟یقینا ایسا سوچنا بھی جرم ہے۔

جمہوری حکومتوں میں وزرائے اعظم اور صدور کا چنائو ان ہی سیاسی جماعتوں کے اعلیٰ ترین اور باصلاحیت افراد سے ہوتا ہے جو الیکشن جیت کر اقتدار کی حق داری ٹھہرتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اقتدار اس لیے سونپا جاتا ہے کہ چونکہ وہ عوام الناس کی نمائندگی کرتی ہیں اور ایک مقرر وقت تک انہیں عوام کی فلاح وبہبود اور ریاست کی حفاظت پر مامور کیا جاتا ہے ۔ برسر اقتدار جماعت صدر، وزیراعطم اور وزراء کا چنائو اُن کی قابلیت ، تجربے ، دیانت داری ، شرافت اور اعلیٰ اخلاقی و انسانی اقدار کو مد نظر رکھ کرکر تی ہے۔ جمہوری رواایات کی حامل اقوام اخلاقی اور انسانی روایات کی امین ہوتی ہیں ۔ دنیا کا ہر مذہب اخلاقی اور انسانی اقدار کی بنیادوں پر استوار ہے حتیٰ کہ لا دین معاشروں اور ریاستوں میں بھی انسانی اخلاقی اور فلاحی روایات کو آئین اور قانون کی حیثیت حاصل ہے۔ انتہائی آزاد اور جدید معاشروں میں بھی عدل و انصاف کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جاتا ہے ۔ مجرم چاہیے کوئی اعلیٰ افسر ، وزیر ، مشیر یا ملک کا حکمران ہی کیوں نہ ہو قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: asrar ahmed raja

Read More Articles by asrar ahmed raja: 89 Articles with 51341 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Aug, 2017 Views: 423

Comments

آپ کی رائے