نواز شریف معطلی، توقعات، اثرات، تاثرات

(Sohail Aazmi, )

نواز شریف کی پانامہ مقدمہ میں نااہلی کے بعد کچھ لوگ شادیانے بجارہے ہیں تو کچھ اس فیصلے پر خفگی کا اظہار کرررہے ہیں۔ کریڈٹ لینے کی جنگ شروع ہے۔ عوام الناس کا ملا جلا ردعمل سامنے آرہاہے۔ سیاسی جماعتوں میں پی ٹی آئی کے قائدین ورکز بھنگڑوں کے ساتھ ساتھ مٹھائیاں بھی تقسیم کررہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اب یہ امید کررہے ہیں کہ کراس دی بورڈ احتساب کا عمل اب وقت کی ضرورت ہے اور خاص کر جس بنیاد پر نواز شریف کو نااہل قرار دیاگیاہے اس پر تو پاکستان کی قومی، صوبائی اور سینٹ ممبران میں سے اکثریت نااہل ہوجائیں گے کیونکہ ان میں سے اکثرایسی اربوں روپوں کی جائیداد، انکم کے مالک ہیں جنہیں وہ اپنے انکم ٹیکس گوشواروں میں ڈکلئیر تک نہیں کرتے ایسا کرنے سے وہ بھی صادق و امین نہ رہے تو پھر انکا جواز کیابنتاہے کہ وہ بدستور ممبرز ہیں۔ اگر آپ ان نمائندوں کے علاوہ دائرہ کو وسیع کرکے دفاتر میں براجمان افسران و دیگر سرکاری ملازمین جو حرام سے دولت اکھٹی کرتے ہیں کو دیکھیں تو وہ بھی ایسا ہی رویہ اپنے گوشواروں میں اپناتے ہیں۔ ہماری عدلیہ ، مقننہ ، سرمایہ دار، زمیندار، صنعت کار، کھلاڑی، وکلاء، ڈاکٹرز، ٹرانسپورٹرز غرض کوئی بھی ایسا شعبہ نہیں ہے کہ جس کے ملازمین یا مالک اپنے گوشواروں میں اصل معلومات اپنی جائیداد، انکم کے بارے میں دیتے ہوں ہمارا قومی مزاج بھی ایسا بن چکاہے کہ عوام کو حکومتوں پر اعتبار نہیں ہے کہ وہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ رقوم ان کی فلاح و بہبود، ترقیاتی کاموں، صحت، تعلیم، آمدورفت کے بہترذرائع، بے روزگاری کو دور کرنے وغیرہ پر خرچ کرے گی۔ حالانکہ ٹیکس نظام کا مقصد بھی یہی ہے کہ عوام پر لگاکر انہیں بہتر سہولیات زندگی فراہم کی جائیں۔ نواز شریف کی اس بات پر نااہلی کہ انہوں نے دس ہزار درہم جو انہوں نے اپنے ہی بیٹے کی فرم سے وصول کرنی تھی ، تنخواہ کی مد میں ظاہر نہ کی حالانکہ بیس کروڑ عوام کی نگاہیں کرپشن کی ان داستانوں پر تھیں جن میں مبینہ طورپر کہا گیا کہ لندن فلیٹس لئے گئے ۔ آف شور کمپنیاں بنائی گئیں۔ انڈسٹریز لگائی گئیں ، منی لانڈرنگ کی گئی صرف اثاثے چھپانے کا الزام لگاکر نااہل کرنے پر عوام مطمئن نہیں ہے ۔قانونی طورپر ٹھیک ہے کہ آرٹیل 62-63کے تحت ایسا کرنے پر کسی کو بھی پارلیمنٹ سے معطل کیاجاسکتاہے لیکن عوام رونا رو رہی ہے۔ کھربوں کی اس کرپشن کا جو ہمارے سیاستدانوں، حکمرانوں، جرنیلوں نے ہر دور میں کی۔ لیکن یہاں تو کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا عمل دیکھنے میں آیا۔ سابق صدر پاکستان بار کونسل علی کرد نے ایک چینل کے پروگرام میں اس فیصلے پر مایوسی کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ اگر صادق و امین کی بات ہے تو پھر عدلیہ کا بھی کوئی ایک بھی جج شاید ہی اس شق پر پور ااترے جبکہ پی ٹی آئی کے ترجمان فواد حسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایسا کرکے شریف خاندان کیساتھ رعایت کی ہے ہم اس کا غلط مطلب نکال رہے ہیں نوازشریف کی نااہلی کے بعد پاکستان کی 71سالہ تاریخ میں اب تک کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہ کرسکا اور کل 17کی تعداد میں وزیراعظم برطرف کئے گئے لیکن کرپشن کا بھوت اکٹوپس کی طرح ویسے ہی ہمارے تمام تر نظام کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ۔ اﷲ کرے کہ ہماری عدلیہ اور احتسابی ادارے صرف الزامات لگانے کی بجائے کڑ ااحتساب کریں او راس سلسلے میں ہر قسم کے سیاسی و دیگر دباؤ کو کو نظر انداز کریں لیکن جب ہمارے احتسابی ادارے اور عدلیہ کی کارکردگی خود سوالیہ نشان ہو تو احتساب کرے گا ۔ کون عمران خان جو نوازشریف کی کرپشن کا رونا روتے نہیں تھکتے۔ اپنے صوبے میں کیا ؟اپنے ڈی جی احتساب کو صرف اسلئے ہٹا دیا کہ وہ ان کے ممبران صوبائی اسمبلی اور کرپٹ بیوروکریسی پر ساتھ بلا امتیاز ڈال رہے تھے۔ افسر شاہی او رعوامی نمائندوں پر ایک خوف سا تھا لیکن ڈی جی کے ہٹائے جانے سے آج تک یہ ادارہ کھڈے لائن لگا ہواہے۔ ملک میں زرداری اور کرپشن لازم و ملزوم ہیں لیکن شریف خاندان کی کرپشن تو خوب اچھالا گیا لیکن زرداری او ران کے حواریوں ، سندھ حکومت اور پی پی پی کی سابقہ مرکزی حکومت کی کرپشن کے خلاف کوئی نہیں بولتا سندھ کی موجودہ حکومت نے تو اپنی کرپشن کو بچانے کیلئے نیب کے ادارے ہی کا گلا دبادیا اسمبلی میں بل پاس کرکے اے این پی، ایم ایم اے دور کی کرپشن اور بلوچستان میں ہر دور میں کی جانے والی کرپشن کی ذمہ داروں کو بھی پکڑا جائے اور ان سے قومی سرمایہ واپس لیکر سرکاری خزانے میں جمع کرایاجائے اس سلسلے میں عمران خان کا یہ دعوی کہ کرپشن کے خلاف جہاد اب رکے گا نہیں، شہباز شریف بھی اب نہیں بچیں گے ۔ لیکن سعد رفیق کا یہ جواب آیا کہ عمران خان بغلیں نہ بجائیں ان کی باری بھی آنے والی ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن کا یہ کہناہے کہ معاملہ کرپشن کا نہیں ہے صرف سیاسی بحران پیداکرنے کا ہے۔ جبکہ پی پی پی کے ایم این اے مولا بخش چانڈیوکہتے ہیں کہ اگر نواز شریف چند دن پہلے مستعفی ہوجاتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اب انکا پور اخاندان گرداب میں آگیا۔ انہوں نے تکبر کیا جسکا خمیازہ وہ بھگتیں، شیخ رشید نے انصاف کی بالادستی پر JIT اور سپریم کورٹ کو خراج تحسین پیش کیا ۔ پی ایم ایل این ق کے پرویز الہی نے فیصلے کو عوامی توقعات کا فیصلہ قرار دیا۔ گارڈین اخبار نے لکھا کہ نواز شریف چلے گئے لیکن کرپشن کا معاملہ جوں کا توں ہے۔ امریکہ و چین نے اسے ہمارا داخلی معاملہ قرار دیا جبکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل برطانیہ نے مطالبہ کیاکہ نواز شریف کے اثاثے پاکستانی قوم کو لٹانے کا بندوبست کیاجائے۔ بعض حلقے، سیاستدان، پی ایم ایل این اینکرز، مولانا یہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کیس پانامہ کا تھا لیکن انہیں نکالاگیا اقامہ پر، اقامہ ہولڈر تو بہت لوگ ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے۔ بعض حلقے کہہ رہے ہیں کہ یہ مکافات عمل ہے نواز شریف کے دو مرتبہ بے نظیر کی حکومت اور ایک مرتبہ یوسف رضا گیلانی کی حکومت کو مختلف اداروں سے ساز باز کرکے نکالاجس کی سزا انہیں اب مل رہی ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں ۔ ابھی تو کرپشن کے چارجز کے کیس شریف خاندان کے خلاف ٹرائل کورٹ میں چلنے ہیں کیا ہی اچھا ہو اگر دیگر کرپٹ سیاستدانوں، جرنیلوں، جماعتوں، جاگیرداروں، ججوں کو بھی عدلیہ اس مہم میں شامل کرے ورنہ احتساب کا عمل ادھورا اور یکطرفہ ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 154 Articles with 73887 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Aug, 2017 Views: 227

Comments

آپ کی رائے