پانامہ کا فیصلہ یا عبرت کا نشان

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

 سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 6رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس جے آئی ٹی نے دو ماہ کے اندر اندر تحقیقات مکمل کر کے10 جولائی کو دس جلدوں پر مشتمل اپنی حتمی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ بالآخر پانامہ کے اہم ترین کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے تمام ججز نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیدیا۔ عدالت نے اسحاق ڈار اور کیپٹن ریٹائر صفدر کو بھی نااہل قرار دیدیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ وزیراعظم نوازشریف کو آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نا اہل قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ وزیراعظم نے کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے چھپائے۔ وزیراعظم کو فوری طور پر وزارت عظمی کے عہدے سے ہٹایا جائے اور صدر مملکت آئین کے مطابق تمام معاملات دیکھیں۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کونااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم بھی دے دیاہے۔ فیصلے کے مطابق نیب لندن فلیٹس کے حوالے سے وزیراعظم، مریم نواز، حسن اور حسین کیخلاف چھ ہفتے میں راولپنڈی اور اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرے گا۔ عدالت نے حکم دیا کہ احتساب عدالت چھ ماہ میں ٹرائل مکمل کرکے فیصلہ سنائے۔اس تمام کارروائی کوسپریم کورٹ کاحاضرسروس جج مانیٹرکرے گا۔ عدالت نے اسحاق ڈار اور کپیٹن ریٹائرڈ صفدر کیخلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔ مزید برآں عدالت کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی ممبران کیخلاف کارروائی نہ کی جائے۔ جے آئی ٹی ممبران کو سیکیورٹی فراہم کی جائے اور ان کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ بھی عدالتی نگرانی میں کی جائے۔ مزید برآں اسمبلی رکنیت سے نااہلی کے بعد میاں محمد نوازشریف پارٹی صدر بھی نہیں رہ سکیں گے کیونکہ پولیٹیکل پارٹیزآرڈر2002کے تحت اسمبلی رکنیت سے نااہل شخص پارٹی عہدہ بھی نہیں رکھ سکتا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام کرپٹ افراد اور پانامہ کے دیگر کرداروں کا بھی بلا تفریق احتساب کیا جائے تاکہ بظاہر ایک خاندان کے خلاف کی جانے والی کاروائی کا تاثر زائل ہوسکے۔ ایسے لگتا ہے کہ اپنی تمام جائدادوں، طرز زندگی اور بنک بیلنس کی آمدنی کے ساتھ موافقت اور اس کا منی ٹریل عدالتوں پیش کرنے کا سلسلہ چل نکلا تو شاذ و نادر ہی کوئی سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیت ’’اہلیت‘‘ کے منصب پر فائض ہوگی۔چاہیے یہ کہ نیب کی خود مختاری کو بحال کیا جائے یاجے آئی ٹی طرز کا ایک ایسا خود مختار ادارہ تشکیل دیا جائے جوانتخاب سے قبل تحقیق کرکے ہر قومی، صوبائی اور سینٹ کے امیدوارکے معاملات کی شفافیت کا سرٹیفیکیٹ جاری کرے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارا پیارا وطن عزیز غذائی اجناس میں خود کفیل اور ہر نعمت سے مالامال ہے۔اس سب کے باوجود کرپشن کے افریت نے اس کی جڑیں کھوکھلی کی ہوئی ہیں ۔ یہ فیصلہ ہر محب وطن پاکستانی کے’’ کرپشن فری پاکستان‘‘ کے خواب کی تعبیر کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارے لئے ’’پانامہ لیکس‘‘ کے فیصلوں اور انکشافات میں نصیحت اور عبرت کا سامان موجود ہے۔ہم مسلمان ہیں اورہمارا دین تو نوشتہ دیوار سے بھی حکمت و دانائی سیکھنے کی تلقین کرتا ہے۔پانامہ کمپنی میں دولت چھپانے کی طرزپر دنیا کی زندگی میں ہر انسان کئی ایک خفیہ معاملات کرتا ہے اور انہیں دوسروں سے اوجھل رکھنے کی بھرپور کوشش بھی کرتا ہے۔ اکثر چھپایا ان ہی کرتوتوں کو جاتا ہے کہ جن کے بارے میں خیال ہوکہ اگر لوگوں کو پتہ چل گیا تو کسی کومنہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے یا جوتے پڑیں گے۔ دنیا کی زندگی میں ہو سکتا ہے ہم اپنے معاملات کسی سے چھپا بھی لیں لیکن کاتب تقدیر نے ہمارے ہر حرکت و سکون کو محفوظ کرنے کیلئے ایک مضبوط اور مربوط نظام بنایا ہوا ہے۔ کراما کاتبین کو مقرر کیا ہوا ہے جو ہمہ وقت ہماری ہر نیکی و بدی کو لکھنے میں مصروف عمل ہیں۔ کوئی خیر و شر کسی کے چھپائے بھی چھپ نہیں سکتا۔ قرآن اور صاحب قرآنﷺ نے ہمیں باربار باور کروایاکہ یاد کرو اس وقت کو جب قیامت کا دن ہوگا اور سورج سوا نیزے پر ہوگا۔رب العالمین کی عدالت لگی ہوگی اورہم اپنے کیے پراس کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔ آج’’پانامہ لیکس‘‘ کا شوروغل ہے اور وہاں’’نامہ اعمال لیکس‘‘ کا سامنا ہوگا۔ اﷲ تعالی قرآن پاک کی سورۃ اسر ا کی آیت نمبر چودہ میں ارشاد فرماتے ہیں’’اقرء کتابک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا۔کہ اس وقت کہا جائے گا کہ (پڑھ اپنے اس نامہ اعمال کو۔ آج کے دن تجھے یہی کافی ہے)۔ وہ یوم احتساب عنقریب آنے والا ہے جب ارب کھرب پتی امیرا ور مفلس و نادار فقیر ایک ہی صف میں احکم الحاکمین کے رو برو کھڑے ہوں گے۔ ہر ایک اپنے اثاثوں اوراعمال کا حساب دے رہا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج’’ پانامہ لیکس‘‘ کے فیصلے کوسامنے رکھتے ہوئے اُس عظیم اور شفاف ترین احتسابی عمل پر غور و فکر کریں کہ جس میں ہر حال میں ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا۔ دنیا کی زندگی میں جو کچھ بھی خیر وشرکیا وہ سب کچھ سامنے ہوگا۔ آج جن لوگوں نے دولت کو چھپایا اور خیال یہ تھا کہ کسی کو کیا معلوم ہم کیا کر رہے ہیں۔ عوام تو سادہ لوح ہیں انہیں ہمارے شاطر پن کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے؟ لیکن ایک دن آیا کہ بہت کچھ ظاہر ہوگیا اور آئندہ نہ معلوم کیا کچھ ظاہر ہوگا۔ اے وقت کے حاکموں یا ماضی کے لٹیرو! یہ دولت تمہارے ساتھ قبر میں نہیں جائے گی۔ دنیا کی زندگی میں بھی چور اچکے اور لٹیرے کے طور پر بدنام ہو رہے ہو اور آخرت میں بھی رسوائی کا سامنا ہوگا۔ ابھی مہلت ہے، سنبھل جاؤ۔ جو کچھ لوٹا ہے وہ قومی خزانے میں جمع کرا کے اﷲ تعالی اور عوام سے معافی مانگ لو۔ اﷲ تعالی بہت کریم ہے۔ یقینا کوئی راہ نجات نکل آئے گی۔ ورنہ کل پچھتاؤ گے لیکن وہ پچھتاوا بھی کسی کام نہ ہو گا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ قرآن پاک کی سورہ التکاثر کے مصداق اسی طرح جائز و ناجائز دولت کے انبار لگانے کیلئے ایک دوسرے سے مقابلے کرتے رہو اور قبر کے دہانے تک جا پہنچو۔ فرعون، نمرود، قارون اور سکندر اعظم جیسے لوگ سب کچھ یہیں چھوڑ کر تہہ خاک چلے گئے۔ساتھ لے کر آپ اور ہم نے بھی کچھ نہیں جانا۔دولت کی بے جا حرص اور لالچ ہے جو ان بد عنوانیوں پر اکساتی ہے۔لیکن یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ان آنکھوں کی ہوس کو دنیا کی دولتیں نہیں بلکہ قبر کی مٹی ہی مٹا سکتی ہے۔ اے حکمرانوں یاد رکھو! آپ کی کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے جتنے بھوکے ننگے اور مفلوک الحال لوگ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں یا خودکشیاں کر رہے ہیں، ان کے ذمہ دار تم ہو۔ عنقریب وہ وقت آرہا ہے کہ حشر کے میدان میں ان کے ہاتھ ہوں گے اور تمہارے گریبان۔
سکندر خوش نہیں ہے لوٹ کر دولت زمانے کی قلندر دونوں ہاتھوں سے لٹا کر رقص کرتا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 197 Articles with 126153 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
15 Aug, 2017 Views: 215

Comments

آپ کی رائے