کیا ہم آزاد ہیں۰۰۰۰۰۰۰۰؟

(Nida Yousuf Shaikh, )

 میں ایک روز لاہور کی قرار داد کے چند ہی ماہ بعد بمبئی کی محمد علی روڈ کے کنارے پیدل جا رہا تھا ،میں نے دیکھا کہ ایک لڑکے نے جسکی عمر شاید دس سال کی ہوگی کسی چیز سے ٹھوکر کھائی اور گر پڑا اس کے سر میں چوٹ آئی اور خون بہنے لگا لڑکے نے جب سر سے خون پوچھا تو اسکو دیکھ کر رونے لگا ،وہاں سے ایک نوجوان گزر رہا تھا اس نے اس لڑکے کوملامت کی اور کہا کہ مسلمان کا بچہ ہو کر زرا سے خون بہنے سے روتا ہے ۔بچے نے روتے ہوئے جواب دیا کہ میں اسلئے نہیں رو رہا کہ میرا خون بہہ گیا ہے بلکہ اسلئے رو رہا ہوں کہ یہ خون ضائیع جا رہا ہے ۔ میں نے تو یہ خون پاکستان حاصل کرنے کیلئے رکھ چھوڑا ہے ۔یہ واقعہ قائدِ اعظم کے پرسنل سیکیریٹری مطلوب الحسن سید کی کتاب ہمارے قائد ِ اعظم سے لیا گیا ہے۔

فرماتے ہیں کہ جب میں نے یہ واقعہ قائدِ اعظم کو سنایا تو ان پر بہت اثر ہوا انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مخالفین کو عقل آگئی اور انکی نیتوں میں فتور نہ ہوا تو انشااﷲ ایک قطرہ بھی خون بہنے کی نوبت نہیں آئے گی اور اگر انہوں نے ہٹ دھرمی سے کام لیا تو خون دونوں طرف سے بہے گا مجھے امید ہے کے پاکستان کے مخالف بھی یہ نہیں چاہینگے کے خون نہ بہے۔

ایک اور جگہ وہ بیان کرتے ہیں کہ طویل سفر طے کرنے کے بعد قائدِ اعظم تھوڑا تھکن محسوس کر رہے تھے موسم بہت خوشگوار تھا ،جس گاؤں میں آپ آکر ٹھرے تھے وہاں کے لوگوں نے چائے کا بندوبست کر رکھا تھا ،انہوں نے اصرار کیا کہ قائدِ اعظم گاڑی سے اتر کر دیہاتیوں سے خطاب کریں ۔اسلئے وہ راضی ہوگئے جب چائے پی جا رہی تھی تو اس تقریب سے دور ایک لڑکا جسکی عمر مشکل سے نو سال ہوگی نعرے لگا رہا تھا ،مسلم لیگ زندہ باد ،قائدِ اعظم زندہ باد ، پاکستان لے کے رہینگے ،اسکے بدن پر پھٹے ہوئے چیتھڑوں کے سوا اور کچھ نہ تھا قائداعظم نے یہ دیکھا تو انہوں نے میزبان سے کہا کہ اس لڑکے کو میرے پاس لایا جائے ،جب یہ لڑکا آیا تو بیچارہ سہم گیا لیکن جب قائدِ اعظم نے اسے پیار سے اپنے پاس بٹھایا تو اسکی ہمت بندھی ۔قائدِاعظم نے اس سے پوچھا تم نعرہ لگاتے ہو کہ پاکستان لے کے رہینگے ،مگر کیاتمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ پاکستان کس چیز کو کہتے ہیں اس بچے نے ادھر اُدھر دیکھا سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی اس نے جواب دیا
ــ’’مجھے اس کے سوا کچھ نہیں معلوم کہ جہاں ہندو ہوں وہاں ہندوؤں کی حکومت اور جہاں مسلمان ہوں وہاں مسلمانوں کی حکومت ہونی چاہئے ‘‘
قائدِ اعظم نے اسے سراہتے ہوئے کہا کہ شاباش !لاہور کی قرار داد کی اس سے بہتر اور کوئی وضاحت نہیں ہو سکتی ۔جب ہم اوٹا کمنڈ پہنچے توقائدِ اعظم نے مجھ سے کہا ’’تعجب ہے اس جگہ نہ کوئی اخبار آتا ہے نہ ان دیہاتیوں کے پاس ریڈیو ہے پھر اس بچے کے زہن میں پاکستان کے متعلق اتنی صحیح تعریف کیسے آئی؟ پھر وہ تھوڑی دیر کیلئے خاموش ہو گئے اور کہا ’’شائد اب پاکستان کو کوئی نہیں روک سکے گا ‘‘۔
یہ دو واقعات قیامِ پاکستان سے پہلے کے ہیں جس سے قیامِ پاکستان کا مقصد اور اسکی تعریف بالکل عیاں ہو جاتی ہے مگر اب کچھ واقعات وہ بیان کرنا چاہونگی کہ جس سے پاکستان کی اصل شکل اور اسکو حاصل کرنے کا مقصد مزید واضح ہو جائے گا۔
کابینہ کا اجلاس تھا کہ ATCنے پوچھا سر اجلاس میں چائے سرف کی جائے یا کافی چونک کر سر اُٹھایا اور سخت لہجے میں فرمایا ’’کیا یہ لوگ گھروں سے چائے کافی پی کے نہیں آئینگے ATCگھبرا گیا آپ نے اپنی بات جاری رکھی جس وزیر نے چائے یا کافی پینی ہو وہ گھر سے پی کر آئے یا پھر وآپس گھر جا کر پئیں ‘‘ اس حکم کے بعد جبتک وہ بر سرِ اقتدار رہے کابینہ کے اجلاسوں میں سادے پانی کے سوا کچھ سرو نہ کیا گیا ۔گورنر جرنل ہاؤس کیلئے ساڑھے اڑتیس روپے کا سامان خریدا گیا آپنے حساب منگوا لیا کچھ چیزیں محترمہ فاطمہ جناح نے منگوائی تھیں حکم دیا یہ پیسے انکے اکاؤنٹ سے کاٹے جائیں دو تین چیزیں انکے زاتی استعمال کیلئے تھیں فرما یا یہ پیسے میرے زاتی اکاؤنٹ سے لے لئے جائیں باقی چیزیں گورنر ہاؤس کیلئے تھیں فرمایا کہ ٹھیک ہے یہ رقم سرکاری خزانے سے ادا کردی جائے لیکن آیئندہ احتیاط کی جائے ۔
برطانوی بادشاہ کا بھائی ڈیو کاگلیگسٹر پاکستان کے دورے پر آرہا تھا برطانوی سفیر نے در خواست کی کہ آپ اسے ائرپورٹ پر خوشامدید کہہ دیں ہنس کر کہا کہ میں تیار ہوں لیکن جب میرا بھائی لندن جائے تو برٹش کنگ کو بھی اسکے استقبال کیلئے ائر پورٹ آنا پڑیگا۔
ایک روز ATCنے ایک وزیٹنگ کارڈ سامنے رکھا آپ نے کارڈ پھاڑ کر پھینک دیا اور فرمایا اس سے کہوآئیندہ مجھے شکل نہ دکھائے ،یہ شخص آپکا بھائی تھا اور اسکا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنے کارڈ پر Brother of Quaid-e-azam Mohummad Ali Jinnah گورنر جرنل پاکستان لکھوا دیا تھا۔
ذیارت میں سخت سردی پڑ رہی تھی کرنل الہیٰ بخش نے نئے موزے پیش کر دئے ،دیکھے تو بہت پسند فرمائے rate پو چھا بتایا دو روپے گھبرا کر بولے کرنل یہ تو بہت مہنگے ہیں ہنس کر کہا سر یہ آپکے اکاؤنٹ سے خریدے گئے ہیں فرمایا ’’میرا اکاؤنٹ بھی تو قوم کی امانت ہے ایک غریب ملک کے سربراہ کو اتنا عیاش نہیں ہونا چاہئے۔موزے لپیٹے اور کرنل الٰہی بخش کو وآپس کرنے کا حکم دے دیا ۔ زیارت ہی میں ایک نرس کی خدمت سے متاثر ہو ئے اور اُس سے پوچھا بیٹی میں تمھارے لئے کیا کر سکتا ہوں ؟ نرس نے عرض کی سر میں پنجاب سے ہوں آپ میرا ٹرانسفر پنجاب کرادیں اُداس لہجے میں جواب دیا سوری بیٹا یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جرنل کا نہیں ۔اپنے طیارے میں رائٹنگ ٹیبل لگوانے کا حکم دے دیا فائل وزارتِ خزانہ کو پہنچی تو وزیرِ خزانہ نے اجازت تو دے دی لیکن ساتھ یہ نوٹ لکھ دیا کہ گورنر جرنل اس قسم کے احکامات سے پہلے وزارتِ خزانہ سے اجازت کے پابند ہیں ۔آپ کو معلوم ہوا تو وزارتِ خزانہ سے تحریری معازرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا ۔اور رہا پھاٹک والا قصہ تو اُس سے کون نہیں واقف ابوالحسن نے آپکی گاڑی گزارنے کیلئے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا آپکا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا پھاٹک بند کروانے کا حکم دیا اور فرمایا اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کرونگا تو پھر کون کریگا۔
یہ آج سے کئی برس پہلے کا پاکستان تھا ،وہ پاکستان جسکے سربراہ محمد علی جناح تھے لیکن پھر ہم ترقی کرتے کرتے اس پاکستان میں آگئے جس سے پھاٹک تو ایک طرف رہے سربراہِ مملکت کے آنے سے ایک گھنٹہ پہلے تمام سڑکوں کے سگنل بند کر دئے جاتے ہیں دونوں اطراف کی ٹریفک روک دی جاتی ہے اور جب تک شاہی سواری نہیں گزرتی ٹریفک کھلتی ہے اور نہ ہی شاہرائیں ۔جسمیں سربراہِ مملکت وزارتِ خزانہ سے اجازت لینے کے تکلف کے بنا ہی اپنے جلسوں میں پچاس پچاس کروڑ روپے کا اعلان کر دیتے ہیں قیمتی قیمتی تحائف اپنے ہم عسروں کو قوم کی جیب سے دئے جاتے ہیں ۔وزارتِ خزانہ کے انکار کے باوجود پورے پورے جہاز خرید لئے جاتے ہیں جسمیں صدر اور وزرائے مملکت کے احکامات پر سینکڑوں لوگ بھرتی کئے گئے اتنے ہی لوگوں کے تبادلے ہوئے اتنے ہی لوگ نوکری سے نکالے گئے اور اتنے ہی لوگوں کو ضابطے اور قانون توڑ کرترقی دے دی گئی ۔جسمیں موزے تو رہے ایک طرف بچوں کے پیمپرز تک سرکاری خزانے سے خریدے گئے جسمیں آج اعوانِ صدر کا پچاس کروڑ اور وزیرِ اعظم ہاؤس کا بجٹ ایک ارب انتالیس کروڑ روپے یا اب تواس سے بھی زیادہ ہوگا جسمیں اعوانِ اقتدار میں عملاََ بھائیوں ،بھتیجوں ،بھانجوں ،بہنوں ،بہنوئیوں اور خاوند کا راج رہا جسمیں وزیرِ اعظم ہاؤس سے سیکیٹریوں کو فون کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ میں صاحب کا بہنوئی بول رہا ہوں جسمیں امریکہ کے نائب وزیر کے استقبال کیلئے اور دیگر اپنے ہم عسروں کے استقبال کیلئے پوری پوری حکومت ائیر پورٹ پہ ہاتھ باندھے کھڑی دکھائی دیتی ہے اور جسمیں چائے اور کافی تو رہی دور کابینہ کے اجلاس میں پورا لنچ پورا ڈنر سرو کیا جاتا ہے اور جسمیں اعوانِ صدر اور وزیرِ اعظم ہاؤس کے کچن میں ہر سال اربوں کروڑوں روپے دھواں بنا دیتے ہیں ۔
یہ پاکستان کی وہ ترقی یافتہ شکل ہے جسمیں اس وقت تقریباََ 20کروڑ غریب لوگ رہ رہے ہیں جب قائدِ اعظم گورنر جرنل ہاؤس سے نکلتے تھے تو انکے ساتھ پولیس کی صرف ایک گاڑی ہوتی تھی جسمیں صرف ایک انسپیکٹر ہوتا تھا اور وہ بھی غیر مسلم تھا اور یہ وہ وقت تھا جب گاندھی قتل ہو چکے تھے اور قائدِ اعظم کی جان کو سخت خطرہ تھا قائدِ اعظم اس خطرے کا باوجود سیکیورٹی کے بغیر روز کھلی ہوا میں سیر کرتے تھے۔لیکن آج کے پاکستان میں سربراہِ مملکت موڈرن بلٹ پروف گاڑیوں میں ماہر سیکیورٹی گارڈز اور انتہائی تربیتِ یافتہ کمانڈوز کے بغیر دس کلو میٹر کا فاصلہ بھی طے نہیں کرسکتے ۔ہم اس ملک میں مساوات رائج نہیں کر سکے ہم اسے خوددار باوقار اور ایماندار قیادت بھی نہیں دے سکے یہ نہ دیں ، ہم اسے جدید ترقی یافتہ اور پُر امن ملک بھی نہیں بنا سکے ،نہ بنائیں،لیکن ہم اسے وآپس 1948 تک تو لے جا سکتے ہیں ہم اسے 70برس پرانا مساواتی پاکستان تو بنا سکتے ہیں ،کوئی ہے جو ہم سے یہ ترقی اور یہ خوشحالی اور یہ عروج لے لے اور ہمیں ہمارا پسماندہ غریب اور غیر ترقی یافتہ پاکستان وآپس کردے جسمیں امن کی خوشحالی کی بات ہو مساوات اور باوقار اور طاقتور با اصول قیادت کا زکر ہو ۔کیا ہم وہ پاکستان بننا چاہتے ہیں یا پھر یہ پاکستان بننا چاہینگے کہ جسمیں عوام ہی حکومت عوام ہی عدالت عوام ہی قاضی ِوقت بن کر لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ کر دیتی ہے غلط اصولوں پر کار بند ہونا ہی اپنا ذاتی حق سمجھتی ہے ۔
جسمیں ہماری عوام چند ہزار یا چند روپوں کی چوری کرنے والے چھوٹے موٹے ڈاکوؤں پر بنا کسی عدالت ،بنا کسی وکیل ،بنا کسی قانون کے خود ہی انکو زندہ جلا کر یا چوراہوں پر انکی لاشیں لٹکا کر انکو ازخود انصاف کرتے ہوئے دنیا کے سامنے نشانِ عبرت بنا دیتی ہے اور اس بات کو باعثِ فخر سمجھتی ہے۔
اس کے برعکس وہ جو ملک و قوم کے غدار اور کرپٹ سیاستدان ہیں جو اپنے ملک کی خالص آمدنی خالص دولت پر دن دھاڑے ہاتھ صاف کر کے عوام کا پیسہ اپنی ذاتی تجوریوں میں ایسے غائب کر دیتے ہیں کہ آنکھ اوجھل اور پہاڑ اوجھل ایسے کرپٹ لوگوں کو یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ قوم کے غاصب لٹیرے اور بحری قزاق ہیں خود یہ قوم آ بیل مجھے مار کے مصداق پانچ سالوں کیلئے مسلط کر لیتی ہے یہ کیسی عوام ہے ،اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم خود ایسا پاکستان چاہتے ہیں جسمیں مساوات اصول ضابطے قوانین کچھ نہ ہوں ہم خود اپنی تباہی کے زمہ دار ہیں ہم خود اپنی بربادیوں پر رقص کرتے ہیں اور نشانہ ایک دوسرے کو بناتے ہیں ،کیونکہ ہم بھول چکے ہیں پاکستان کی اصل تعریف وہ تعریف جو قائدِ اعظم علیہ الرحمتہ نے پاکستان بننے سے پہلے نا صرف اس قوم بلکہ عملی طور پر پوری دنیا پہ واضح کر دیا تھا کہ پاکستان کا وجود کیوں اور کس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا ہے اور اسکی اہمیت کیا ہے ۔ہم بھول چکے اپنے قائد کا پیغام اور انکی قربانی اور ان تمام مسلمانوں کی قربانیاں جنہوں نے اس عظیم مقصد کیلئے نا صرف اپنی جانوں بلکہ اپنے پورے پورے خاندان قربان کیے اپنی بعد کی نسلوں کی فلاح کیلئے ،جبکہ اس کے برعکس ہمارا موجودہ رویہ ہمارے انداز واطوار ہماری رسوایوں کی داستان جو پوری دنیا کیلئے درسِ عبرت و ملامت بنا ہوا ہے اور ہمارے موجودہ تباہ کن حالات ہماری قوم اور قوم کے سربراہوں کی کارکردگی پر پوری دنیا کے سامنے ایک سوالیہ نشان بنے ہیں جسکا جواب ہم جانتے ہوئے بھی چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں ء14th Aug 1947پاکستان کو ۷۰ برس ہوجائینگے پوری قوم جشنِ آزادی کی تیاریوں میں جوش و خروش سے مصروف ہے پر یہاں میرا خود سے اور پاکستانی قوم سے ایک سوال ہے ، کہ کیا ہم آزاد ہیں۔۔۔؟؟؟؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nida Yousuf Shaikh

Read More Articles by Nida Yousuf Shaikh: 19 Articles with 7779 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2017 Views: 235

Comments

آپ کی رائے