چائے کی پیالی میں طوفان

(Ajmal Malik, Faisalabad)
گالیوں کے مطلب نہیں ہوتے۔صرف تاثر ہوتی ہے۔۔میں نے نیا سگریٹ سلگھاتے ہوئے سوچا۔۔۔سرخ مرچی جیسی تیکھی تاثیر ۔۔گالی۔ٹکا ۔ کے دی ہو تو سگریٹ کے پف جتنا لطف دیتی ہے۔دھواں باہر نہ نکلے تو سگریٹ کا مزہ نہ گالی کا۔ڈھابے میں ٹکاٹکا کاسلسلہ جاری تھا۔دودھ کے علاوہ بھی حکم کے ۔اِکے۔ جگہ جگہ بکھرے پڑے تھے۔مجھے جوش ملیح آبادی یاد آگئے۔

چائے کے ڈھابے کی تصویر

فیصل آبادکا گھنٹہ گھر آٹھ بازاروں میں ویسے ہی گھرا رہتاہے۔جیسے رضیہ غنڈوں میں رہتی ہے۔آٹھ بازاروں میں چائے کے بہت سے ڈھابے ہیں۔جن میں سے کچھ سُرخوں کے ہیں۔ کچھ’’ سبزوں‘‘ کے ۔اور۔کچھ رلے ملے ۔ ان ڈھابوں کی مشترکہ خصوصیت چائے ہے۔ اعلی قسم کی چائے۔تیز دم۔ ٹھاہ کرکے لگنے والی ۔ذائقہ اپنے پن کا ۔۔تگڑا رنگ اور جوش۔۔جیسی کئی خصوصیات والی ڈھابہ چائے۔۔لیکن یہاں چائے امی بناتی ہیں اور نہ ہی امی کے گھر سے منگوائی جاتی ہے۔اکھاڑے جب سے بند ہوئے ہیں۔تب سے یہ کام پہلوانوں نے سنبھال لیا ہے۔ٹھنڈی کھوئی والے پہلوانوں نے۔میں نےاندر داخل ہوتے ہی آواز دی۔’’پہلوان ایک کڑک چائے۔ملائی مار کے‘‘۔

ڈھابے۔میں پہلے ہی چائے کی پیالی میں طوفان برپا تھا۔۔دائیں اور بائیں بازو کے حامی سیاسی ایشوزپرتقریبا ہاتھا پائی تک الجھے ہوئے تھے۔دوسرے ٹیبل پر تاش کی گڈی کو پھینٹا لگ رہاتھا۔سر نیوڑھائے میں بھی بیٹھ رہا۔۔ ایسے ڈھابے اکثرغلیظ گفتگو کا مرکز ہوتے ہیں۔سو ۔کامہ سوترا۔یہاں بھی چل رہی تھی۔ یہ شائد نفسیاتی سا مسئلہ ہے کہ گفتگو کے دوران جب زبان کو الفاظ نہ ملیں تو ہاتھ بولتے ہیں۔ڈھابے میں بھی جو جملے زبان نے ادھورے چھوڑے وہ گفتاریوں نےہاتھ کے اشاروں سے پورے کئے۔۔ ہر’’ دلیل‘‘کی لے جہاں ٹوٹتی کچھ جانے پہچانے سے انسانی اعضا سنائی دیتے۔تو۔ انتاکشری کی طرح مخالف کی باری شروع ہو جاتی۔۔منٹو کے ٹھنڈے گوشت میں ایشر سنگھ نے جو گالیاں دی تھیں۔یہاں خاصی مہذب لگ رہی تھیں۔کڑک چائے کے ساتھ پنجابی گالیاں کیک رس جیسامزا دیتی ہیں۔رات کافی ڈھل چکی تھی۔۔چائے پی کر میں گھر جانے کے موڈ میں تھا۔۔ اچانک ایک تکراری دھاڑا۔۔’’تیری ماں کے دودھ میں حکم کا اِکا‘‘۔

یہ گالی کرشن چندرکے افسانے ’’تین غنڈے ‘‘ کی زینت ہے۔لیکن ڈھابے میں گالی سن کر ۔کیک رس سے بھی زیادہ لطف آیا۔ زندگی میں پہلی بار احساس ہوا کہ اس گالی کے لئے چائے کی دکان موذوں ترین جگہ کوئی نہیں ہو سکتی۔۔۔دائیں اور بائیں بازو کے علاوہ وہاں پر’’ بغیر بازو‘‘ افراد بھی موجود تھے۔الہڑ باتیں سن سن کر۔وہ ۔ ویسے ہی محظوظ ہو رہے تھے۔جیسے یونیورسٹی کے سالانہ سپورٹس ڈےپرخواتین کی چاٹی ریس دیکھ کر ہوا کرتے تھے۔میں نے چائے کی پہلی چُسکی کے ساتھ سگریٹ کا آخری کش لگایا۔تو گفتگو کا پارا۔ سبی کی طرح چڑھا ہوا تھا۔ سٹیٹس کوتوڑنے کے لئے دانت توڑنے کی کوششیں جاری تھیں۔مخالفین بھی منہ زبانی سنگ باری میں لگے تھے ۔ٹاک شو کا ماحول۔اُدھر تم ۔اِدھر ہم جیسا تھا۔گندے میسج اور گھر سے بھاگنے سمیت سب ایشوز۔ زیربحث تھے ۔جنہیں سن کر کان ویسے ہی جل رہےتھے۔جیسے عزیز گاتن کی باتیں پرقیوم کان جلتے تھے۔

’’عزیز گاتن کا اوپر والا ہونٹ پیدائشی کٹا ہوا تھا۔ اسی لئے وہ ہمیشہ ہنستا دکھائی دیتا۔ وہ چھوٹی عمر سے ہی غلیظ باتیں سننے کا عادی تھا۔ پرانے بھٹے کے پاس جہاں مائی توبہ توبہ کی جھونپڑی تھی۔ وہاں مجھے۔۔۔۔۔۔ لے جا کر وہ ایسی ایسی گالیاں سکھاتا کہ ان کے معنی نہ سمجھتے ہوئے بھی کان جلنے لگتے‘‘۔ راجہ گدھ سے اقتباس۔

گالیوں کے مطلب نہیں ہوتے۔صرف تاثر ہوتی ہے۔۔میں نے نیا سگریٹ سلگھاتے ہوئے سوچا۔۔۔سرخ مرچی جیسی تیکھی تاثیر ۔۔گالی۔ٹکا ۔ کے دی ہو تو سگریٹ کے پف جتنا لطف دیتی ہے۔دھواں باہر نہ نکلے تو سگریٹ کا مزہ نہ گالی کا۔ڈھابے میں ٹکاٹکا کاسلسلہ جاری تھا۔دودھ کے علاوہ بھی حکم کے ۔اِکے۔ جگہ جگہ بکھرے پڑے تھے۔مجھے جوش ملیح آبادی یاد آگئے۔انہوں نے ایک پاکستانی وزیر کو اردو میں خط لکھا۔لیکن وزیر نے جواب انگریزی میں دے دیا۔ تو جوش نے دوبارہ خط لکھااور کہا’’جناب والا۔۔میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا تھا۔ لیکن آپ نےجواب اپنی پدری زبان میں لکھ دیا‘‘۔ڈھابے میں مادری زبان میں پدری گفتگو چل رہی تھی۔۔۔چندسنسر شدہ پوائنٹس یوں ہیں۔

شکاگو سے انگریزی اخبار کی صحافی۔ کِم بارکر۔میاں نواز شریف کا انٹرویو لینے آئی تو میاں صاحب نے۔اسے۔اور گرل فرینڈبنانے کی کوشش کی۔گفتگو جب سیاست سے ازدواج میں داخل ہوئی تو میں نے چائے کا دوسرا کپ آرڈر کیا۔۔کم بارکر۔تو چلی گئی تھی۔ناں۔؟۔لیکن عمران خان نے۔تو۔ریحام خان کوجانے بھی نہیں دیا۔جواب سے۔سکور برابرہو گیا۔۔مریم صفدر۔اور۔ سیتاوائٹ پر بھی۔پوائنٹ سکورنگ نہ ہو سکی۔لاہور مارچ میں گجرات کے حامد کی موت اور قاسم باغ ملتان میں جلسے کے دوران پی ٹی آئی کے سات کارکنوں کی موت نے بھی پوائنٹ برابر رکھے۔۔آف شور کمپنیوں کےالزامات بھی لنکا نہ ڈھا سکے۔۔جنرل ضیا کی گود سے پرورش پانے کے قصے بھی چھڑے اور جنرل پاشا کی مدد سے جلسے کرنے کا تذکرہ بھی ہوا۔۔کلبھوشن جیسے دہشت گرد کی پھانسی پر بھی بات ہوئی اورکالعدم تحریک طالبان نے حکومت سے مذاکرات کے لئےجب عمران خان کو اپنانمائندہ نامزد کیا۔اُس کا تذکرہ بھی ہوا۔نواز شریف کا سوال کہ مجھے کیوں نکالا۔پرنوحہ خوانی ہوئی اور۔عمران خان کے ہاتھ میں وزیر اعظم بننے کی لکیر نہیں ہے ۔کا شوشہ بھی چھوڑا گیا۔۔البتہ صادق اور امین نہ ہونانواز شریف کی ذات کا ایسا ڈینٹ تھا۔ جو فی الحال ختم ہوتا نظرنہیں آرہا ۔ تو۔دائیں سے جواب آیا۔عمران خان خود کو صادق اور امین ثابت کرنے کے لئے۔ڈی این اےٹیسٹ اوربلیک بیری ٹیسٹ کرائیں۔۔۔

دوسری چائے کا پہلا ’’کش ‘‘لگایا تو مجھے کرنل شفیق الرحمن یاد آ گئے ۔کہتےہیں۔’’دنیا کا سب سے فرسودہ موضوع سیاست ہے۔کچھ بھی ہو رہا ہے۔ کہیں بھی ہو رہا ہے۔ کوئی بھی کررہا ہے۔ نہ آپ اس سلسلے میں کچھ کر سکتے ہیں نہ میں۔ پھر مفت میں تلملانے کی ضرورت کیا ہے‘‘۔ لیکن مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں کہ’’سانپ کا زہر کینچلی میں اور بچھو کو دُم میں ہوتاہے۔بھڑ کا زہر ڈنک میں ہوتا ہے۔پاگل کتے کا زبان میں۔انسان واحد حیوان ہے۔جو اپنازہر دل میں رکھتا ہے‘‘۔سیاستدانوں نے بھی اپنے کارکنوں کے دل زہر سے بھر دئیے ہیں۔ مروجہ سیاست نے سماجی روادی کو عدم برداشت میں بدل دیا ہے۔اچانک دائیں سے طعنہ آیا کہ۔ایمپائر کی ۔جس انگلی کی تلاش جاری تھی۔ وہ کیسی لگی۔ ؟۔بائیں والے بولے۔جسٹس باقر والی رپورٹ آنے دو۔ نیب میں ریفرینس جانے دو ۔پھر انگلیوں کی باتیں کریں گے۔۔

پی ٹی آئی میں فردوس عاشق اعوان ،بابر اعوان اور نذر گوندل کی تبدیلی بھی ڈسکس ہوئی تو ن لیگ میں امیر مقام، دانیال عزیز اور ماروی میمن پر بحث بھی ہوئی۔موٹو گینگ،گلو بٹ، یوٹرن،پاگل خان اورمرحب جیسی باتوں سے۔فضا کا بوجھل پن ختم ہوا۔عین جب شفق پھوٹنے لگا توگفتگومیں ہلکے ہلکے شگوفے پھوٹ رہے تھے۔۔پہلوان نے دودھ ختم ہونے کا اعلان کیاتو ڈھابہ ٹرانسمیشن ختم ہوگئی۔۔تاش والے، دائیں اوربائیں والے۔سب اٹھ کھڑے ہوئے۔پہلوان کو دو کپ چائے کی ادائیگی کی بعد مجھے بھی پردیسیوں کی طرح گھر کی یاد آنے لگی۔رات میں ہلکی سی خنکی اترآئی تھی۔کھلی فضا میں جھرجھریاں لینے والی راتیں شروع ہونے والی تھیں۔۔بھادوں میں دن تپتے ہیں اور۔راتیں نرم ہوتی ہیں۔یہ پوہ ماگھ (ٹھنڈ)کی نشانیاں ہیں۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعدعمران خان بھی ٹھنڈے ہوچکے ہیں۔ لیکن بھادوں کے دنوں کی طرح ن لیگ ابھی تک تپ رہی ہے۔موسم کوئی بھی ہو۔نواز شریف نااہلی سے پہلے بھی ڈھابوں میں ڈسکس ہو رہے تھے۔ اب بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن ن لیگ کا بیانیہ یوٹرن لے چکا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ajmal Malik

Read More Articles by Ajmal Malik: 4 Articles with 2675 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Aug, 2017 Views: 1042

Comments

آپ کی رائے