انبیاء کرام کی تاریخ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ آپ کے کردار کا تذکرہ دنیا کی تمام معروف
کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ دنیا کا کون سا خطہ ایسا ہے جہاں کے
مسلمان ، یہودی اور عیسائی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے واقف نہ
ہوں؟دنیا کے اکثر لوگ ان کو اپنا پیشوا اور رہنما مانتے ہیں۔ حضرت موسیٰ
علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ ان کی اولاد میں سے ہیں۔ ان ہی کی پھیلائی
ہوئی روشنی سے دنیا روشن ہے۔ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا
ذکر ۶۷بار آیا ہے۔ قرآن مجید میں ایک سورہ کا نام ہی ’’ابراہیم‘‘ ہے۔ آپ کے
کردار کو قرآن مجیدمیں ایک مثالی کردار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔
قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃُٗ حَسَنَۃُٗ فِیٓ اِبْرَا ہِیْمَ وَالَّذِیْنَ
مَعَہٗ ترجمہ : تم لوگوں کے لئے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں ایک اچھا
نمونہ ہے۔(القرآن ، سورہ ممتحنہ ۶۰، آیت ۴) اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ
وہ کون سے بنیادی کام ہیں جن کی بنا پر سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی
زندگی کو مثالی زندگی کے نام سے پیش کیا اور انہیں رہتی دنیا تک کے انسانوں
کے لئے رہنما اور پیشوا کی حیثیت سے منتخب کیا ہے ۔اﷲ تعالیٰ سے تاجِ امت
کی سند ملی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الآخِرِیْنْ(۱۰۸)
اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی۔سَلٰمُٗ عَلٰی اِبْرَاہِیْم(۱۰۹)
سلام ہو ابراہیم پر۔کَذٰلِکَ نَجْزِ الْمُحْسِنِیْن (۱۱۰) ہم ایسا ہی صلہ
دیتے ہیں نیکوں کو۔اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِ نَا الْمُؤمِنِیْن(۱۱۱) بے شک وہ
ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں۔ (القرآن سورہ الصّٰفّٰت،
آیت ۱۰۸ سے ۱۱۱)
|