عید الاضحیٰ اور آج کے زندہ نمرود

(Altaf Nadvi, India)

 عید الفطر ہو یا عید الاضحی مسلمانوں کے لئے دونوں یکساں طور پر مقدس ہیں اور دونوں کا پیغام وپیام ایک ہی ہے یعنی اﷲ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی اور ان کے نفاذ کے لئے جدوجہد اور آخری درجہ کی قربانی کا واضح اظہار ۔اُمت مسلمہ عید الاضحی’’ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد میں‘‘ رسول اﷲ ﷺ کے حکم سے مناتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرماتے ہوئے حکم دیا کہ اے ابراہیم گمراہ انسانوں کو راہ ہدایت کی جانب دعوت دیدو۔حضرتؐ کے زمانے میں نمرود نامی بادشاہ گمراہی کے آخری حد ود کو پھلانگتے ہوئے خدائی دعویٰ کر بیٹھا تھااور وہ خدا کے بندوں کو اپنی عبادت کے لئے مجبور کر تا تھا ، اگر کوئی ایسا نہ کرتا تو اس سے انتہائی خطرناک سزا کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یہ بھی انسان کا ہی عجب کمال ہے کہ جب بھی اسے اﷲ تعالیٰ نے تھوڑی سی قوت سے نوازا تو وہ خود ہی خدائی کا دعویٰ کر بیٹھا ۔انسانی تاریخ ایسے بیوقوف انسانوں کے ناموں سے بھری پڑی ہے۔انسان کمزوریوں اور محتاجیوں کا ناقابل انکار مجسمۂ ہے مگر اس کی یہ خصلت کتنی عجیب ہے کہ اپنی نا ممکن الاصلاح ناتوانیوں کے باوجود ا سے اپنے ہی جیسے انسانوں کے ذریعے اپنی عبادت کا اتنا چسکا ہے کہ ’’نا‘‘سننا اسے گوارا نہیں ؟حضرت ابراہیمؐ نے نمرود کے خدائی دعوے کو رد کرتے ہوئے اس کواس دعوے سے باز آنے کی دعوت دی مگر نمرود نے ایک نہ سنی بلکہ اپنے دعوے پر اڑا رہا ۔حضرت ابراہیمؑ نے نمرود کے دعوے کے بطلان کے لئے بھرے دربارمیں ا سے کہا کہ اے نمرود تو کیسے خدا ہو سکتا ہے خدا تو وہ ہے جو بندوں کو پیدا کرتا ہے اور انھیں موت دیتا ہے !!!نمرود نے کہا یہ کام تو میں بھی کرتا ہوں ۔۔۔۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا اچھا ٹھیک ہے اگر تو ایسا کرتا ہے تو میرے خدا کے حکم سے سورج مغرب سے طلوع ہوتا ہے اور مشرق سے غروب ذراتو اس سے آج مشرق سے طلوع کر اور مغرب میں غروب ۔۔۔۔قرآن کہتا ہے کہ ان الفاظ کے سنتے ہی نمرود مبہوت ہوگیا اور اس سے کوئی جواب نہ بن پا یا اور بھرے ایوان میں اس سے شرمندگی اُٹھانی پڑی ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا ایک اور مشہور واقعہ قرآن نے کچھ اس طرح بیا ن کیا ہے کہ قوم نمرود (جو بت پرست تھی)کے وہ بت جن کی وہ ایک بڑے عبادت خانے میں جمع ہو کر عبادت کرتے تھے کو حضرت ابراہیمؑ نے ایک بڑے سے ہتھوڑے سے توڑا ۔عید کے روز جب قوم نمرود عبادت گاہ میں بتوں کی عبادت کے لئے پہنچی تو وہ معبد کے اندرکی حالت دیکھ کر چیختے چلاتے ہوئے باہر نکل آئے کہ یہ ہمارے خداؤں کو تباہ و برباد کس نے کر دیا ۔ابراہیم ؑکی بتوں کی مخالفت چونکہ بہت مشہور تھی لہذا ہر ایک نے انہی کو اسکا ذمہ دار قرار دیدیا ۔نمرود نے ابراہیمؑ کو اسی معبد کے پاس لوگوں کی موجودگی میں طلب کر کے ان سے پوچھا ابراہیمؑ ہمارے ان خداؤں کو کس نے توڑا حضرت نے جواباََ کہا مجھ سے پوچھنے کے بجائے تم لوگ اس بڑے بت سے پوچھوجس کے کندھے پر ہتھوڑا ہے لگ رہا کہ یہ اسی کی کاروائی ہے ۔قوم نے حضرت ابراہیم ؑ سے بہ یک زبان کہا اے ابراہیم ؑ ہم بتوں سے کیا پو چھیں گے یہ تو بات ہی نہیں کر پاتے ہیں تو حضرت ابراہیم ؑنے کہا پھر بتاؤ کہ یہ خدا کس طرح ہو سکتے ہیں ؟ عوام اور دوسرے حکام حضرت ابراہیم ؑکی اس جرأت پر بہت مشتعل ہوئے حقیقت سمجھنے کے برعکس انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلتے ہوئے آگ میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ۔الاؤ تیار کیا گیا اور ہزاروں انسانوں کی موجودگی میں حضرت ابراہیم ؑ کو جلتے ہوئے آگ میں ڈالدیا گیا ۔اﷲ تعالیٰ قرآن مقدس میں اس واقعہ کا تذکرہ کچھ اسطرح فرماتے ہیں کہ جب نمرود نے انہیں آگ میں ڈالا تو ہم نے آگ کوحکم دیا کہ’’ اے آگ ٹھنڈی ہو جا‘‘تو حضرت ابراہیم ؑ آگ میں جلنے کے برعکس سلامتی کے ساتھ باہر نکل آئے ۔

حضرت ابراہیم ؑ کی سیرت طیبہ کا ایک اور مشہور واقعہ قرآن ہی کے ذریعے ہمارے علم میں آتا ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اولاد کی نعمت سے نوازا حالانکہ انکی بیوی کو اب اولاد کی کوئی امید نہیں تھی اس لئے کہ انکی بچے کو جنم دینے کی عمر ڈھل چکی تھی مگر اﷲ تعالیٰ نے انھیں اسی عمر میں اولاد صالح سے نوازتے ہوئے ایک اور امتحان میں ڈالا جو ما قبل کے تمام امتحانوں سے بھی سخت اور دشوار ترین امتحان تھا ۔بعض مفسرین کے مطابق جب حضرت اسماعیل علیہ السلام تیرہ سال کی عمر میں پہنچے تو اﷲ تعالیٰ نے ایک خواب (جس کے معنی اور تاویل میں بڑی وسعت ہوتی ہے )میں ابراہیم علیہ السلام کو اپنے معصوم بچے کو ذبح کرتے ہوئے دکھایا ۔حضرت نے صبح اسماعیل علیہ السلام کو اس خواب سے باخبر کیا تو بچہ بھی کیا تھا کہ بلا چون وچرا عرض کیا’’ والد محترم آپ وہی کیجئے جس کا اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا‘‘ابراہیم بچے کو لیکر گئے ’’اب جب ذبح کرنے کے ارادے سے زمین پر لٹا دیا تو اﷲ تعالیٰ نے اسماعیل کو چھوڑدینے کا حکم دیتے ہوئے ایک مینڈھے کو ذبح کر نے حکم دیا اور اﷲ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں پر جانوروں کی قربانی واجب قرار دیدی اور مسلمان آج تک حضرتؑ کی اس سنت کو قائم رکھتے ہوئے جانوروں کی قربانی اﷲ کے حضور پیش کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت مبارکہ کے ان چند مشہور و معروف واقعات سے جو سبق ہم کو ملتا ہے امت مسلمہ آج اسی سبق کے حوالے سے نسیان کی شکا ر ہے ۔یہ اُمت ملت ِ ابراہیم کا ہی ایک جزہے جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ انبیاءِ کرام کے ان حالات و واقعات سے روشنی اور رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے ہم صرف سننے پر اکتفا کرتے ہیں ۔آج ابراہیمی طریقہ دعوت کو عوام تو کیا خواص بھی خلاف مصلحت سمجھتے ہوئے ایک نئے طریقہ دعوت کو عام کرتے جارہے ہیں ۔آج اسلامی دعوت جس کی بنیاد ہی توحید پر ہے کی بات کرناخلاف مصلحت بن چکا ہے ۔اسلام کی اصلی صورت پیش کرتے وقت اب علماء مسلمانوں کے درمیان میں بھی پس وپیش سے کام لیتے ہیں ۔حالانکہ شرک و کفر پر کمپرومائز کر کے اسلام کی بات کہنا اسلامی دعوت و فکر کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے ۔عوامی سپورٹ اور مالی مفادات کے متا ثر ہونے کا خوف جب دامن گیر ہو جائے تو اسلام کی اصلی شکل پیش کرنے میں لازماََ ہچکچاہٹ پیدا ہوگی اور ہم یہ نہیں دیکھتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کو اکیلے نمرودی نظام کو چیلنج کرنے کا حکم دیا گیا حالانکہ اس وقت چھ سات لاکھ انسانی آبادی والے اس عظیم شہر ’’اُر‘‘میں ان پر کوئی ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا تھا ۔بتوں کو توڑنے کا حکم اور اس پر بلا چون وچرا عمل اس بات کی دلیل ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے نیک بندھوں کو صرف اﷲ تعالیٰ ہی کو راضی کرنے کی فکر ہو تی ہے کسی نمرود یا نمرودی ایجنٹ کو نہیں ۔اور آج اسلام کی اس دورخی دعوت سے جس میں نہ صرف نمرود خوش ہو تا ہے بلکہ سارے نمرودی ایجنٹ بھی اس اسلام سے خوش ہو کر بعض اوقات ابراہیمی پیغامبروں کو مالامال بھی فرماتے ہیں اوراس سارے دوغلے پن کو صرف دو لفظوں’’ مصلحت اور حکمت‘‘ کا خوبصورت نام دیکر اپنے شیطانی نفس کو خوش کر کے یہ سمجھا جاتا ہے کہ میں جو کچھ کرتا ہو ں یہ بھی اسلام ہی کی خدمت ہے ہے حالانکہ یہ نہ ہی کوئی مصلحت ہے اور نہ حکمت بلکہ بدترین منافقت ،دوغلہ پن اور اسلامی دعوت و فکر کے ساتھ صریح مذاق ہے ۔اور یقیناََ اسلام ایسی کوئی دعوت نہیں ہے جس میں اﷲ کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی خوش ہو ں گے جنہیں خود بھی خدائی کو دعویٰ ہو ۔حکمت و دانش سے انکار نہیں پر بے حکمت اور عدم دانش کے بل بوتے پر اٹھائے جانے والے اقدامات کا نام اگر حکمت رکھ کر دین کا حلیہ ہی بگاڑا جائے تو یہ دانش نہیں نادانی ہے ۔

آج روئے زمین نمرودوں اور فرعونوں کے ظلم و جبر سے بھری پڑی ہے انسانوں نے انسانوں کو خوبصورت ناموں اور اصطلاحات میں پابہ زنجیر کر کے اپنا غلام بنارکھا ہے ۔فلسطین ،عراق،شام،یمن ،برما،افغانستان ،چیچنیا اور کشمیر جیسیے مسلم خطوں میں آج کے زندہ نمرودوں نے انسانیت کو تباہ برباد کر رکھا ہے ۔ہر جگہ انسانی جانوں اور عزتوں کو یہی نمرودی سپاہ پاؤں تلے رو ندتی ہوئی نظر آتی ہے ۔امت مسلمہ کو ذلیل کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا ہے ۔چہار جانب امت روئے زمین کے بدترین نمرودوں اور فرعونوں کے چنگل میں بری طرح پھنس چکی ہے ۔امت نمرودوں کے ساتھ بر سر پیکار ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا اس لئے کہ جا نبین میں جو اختلافات ہیں وہ اتنے وسیع ہیں کہ انہیں کسی طرح سے ختم کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ان نمرودوں سے نپٹنا یا دوبدو رہنا اُمت کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی کوئی انہونی ۔یہ سلسلہ چلتا رہاہے اور آئندہ بھی چلتا رہے گا ۔مگر امت اسلامیہ کو سب سے زیادہ نقصان نمرودوں نے کم ان کے ایجنٹوں نے زیادہ پہنچایا ہے اور بد قسمتی کے ساتھ ایجنٹوں کی یہ پوری جماعت امت کے ہی بعض افراد ہوتے ہیں جو ظاہر میں اسلام کی وفاداری کے دم بھرتے ہیں مگر بباطن ان کی نظر صرف ذاتی اور مالی مفادات پر ہوتی ہے ۔نفس پرستی کے مرض میں مبتلا ان زہریلے سانپوں نے امت کو لہو لہان کرکے رکھدیاہے۔ فلسطین سے لیکر کشمیر تک یہی ایجنٹ مسلم لیڈروں کے لباس میں امت کو گمراہی ،شرک،کفر اور بدعات وخرافات کے غلیظ غار میں دھکیل رہے ہیں اور امت کی حالت یہ ہے کی دھتکارنے اور جھٹلانے کے باوجود بھی وہ ان سے اپنا دامن چھڑا نہیں پاتی ہے ۔حد یہ کہ اسلام کے ابجد سے ناواقف ان جاہلوں کی حالت یہ ہے کہ دین سے تعلق تو دکھاوے کے حد تک تو ہے مگر دین کے اوامر سے ایسے بدکتے ہیں جیسے منافقین ۔نماز عیدین اور جمعہ تو ضرور پڑھتے ہوئے دکھتے ہیں مگر گھروں میں نماز کا کوئی نام ونشان نہیں ۔جمعہ کے روز مسلم لیڈروں کی نمازوں کا زیادہ تر تعلق عوام کے ساتھ تعلق بنائے رکھنے سے ہوتاہے نماز سے نہیں ۔قرآن وحدیث کی ہوا بھی ان بے چاروں کو نہیں لگی ہے ۔
مصطفیٰ کمال سے لیکر جرنل سیسی تک ہر ایک مسلم رہنما کو جب بھی اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے اسلام کی ضرورت پڑی تو انھوں نے اس سے بے دریغ استعمال کیا البتہ جب بعض علماء نے اس سے ایک مکمل ضابطٔ حیات مانتے ہوئے حکومتی ایوانوں میں نافذ کرنے کی بات کی تو ان کمینوں نے ان کے مطالبے کو انتہا پسندی کی گالی سے بے جان کردیا۔کشمیر ہی کو لیجئے 1947 سے لیکر اب تک تمام لیڈروں نے اس مظلوم قوم سے اسلام کے نام پر قربانیاں مانگیں اور اس مظلوم قوم نے بھی اس سلسلے میں کسی بخیلی کا مظاہراہ نہیں کیا اور اب تک اسلام ہی کے نام پر یہاں کے نوجوان سروں پر کفن باندھے میدان کار زار میں بر سر پیکار ہیں۔ مگر آج ہی کی تاریخ میں بعض لیڈروں کو اس کے اسلامی کہلائے جانے سے تکلیف محسوس ہو رہی ہے اور دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اس سے مغربی ممالک اس تحریک کو اسلامی دہشت گردی کے کھاتے میں جمع کردیں گے ۔حالانکہ تاریخ کا ادنیٰ سا طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ مغربی ابلیسوں نے کسی بھی وقت امت مسلمہ کی کوئی مدد نہیں کی ہے اور آج کی تاریخ میں بھی وہ اس سے بھارت کا ہی حصہ قراردیتے ہیں ۔مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس سے اپنے مفادات عزیز ہیں نہ کہ کچھ اور ۔۔۔اور تو اور جب امریکہ کو اپنے مفادات کا تحفظ’’ اسلامی انتہا پسندی ‘‘میں نظر آتاہے تو وہ ان کے حصول اور تحفظ کے لئے اسلامی انتہا پسندوں کو گلے لگاتے ہوئے ساری دنیا کو انھیں’’ مجاہدین اسلام ‘‘کے نام سے یاد کرنے کی تلقین کرتا ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ امت مسلمہ کو فائدہ کس سے ہے دین داری سے یا دین بیزاری سے ؟؟؟ آخر ہمیں ہی دین کو دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر نے کی صلح کیوں دی جاتی ہے ؟مرنے مارنے کی نوبت ہو تو دین ،قیام حکومت اور نظام کی باری آیے تو بے دینی آخر کیوں؟

نمرود جیسا مفلس کب کا مر گیا مگر ہمیں ایک نئی مصیبت میں مبتلا کر کے چل بسا !وہ یہ کہ نظام ِشرک میں رہنے سے بعض طبیعتوں میں ایک قسم کی بیماری پیدا ہوتی ہے جیسا کہ خود رسول اﷲ ﷺ کے دور مبارک میں عبداﷲ بن اُبیہ اور اس کے حواریوں کی جماعت میں پیدا ہوئی ۔یہ لوگ کام تو نمرودی ،فرعونی ،قارونی اور ابو جہلی ہی کرتے ہیں مگر نام ان کا اسلامی رکھتے ہیں اور بعض بے چارے سادہ لوح مسلمان ان کی اس منافقت سے دوکھے میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔وہ انہیں ہر طرح کی مدد و نصرت فراہم کر کے ان کے حقیر دنیاوی مفادات کی تکمیل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اﷲ تعالیٰ کو راضی کرنے والے کام کرتے ہیں ۔نمرود ،فرعون ،ابو جہل کب کے مر گئے ابن اُبیہ کا کوئی نام ونشان تک باقی نہیں ہے مگر ان کے کافرانہ نظام اب تک مختلف ناموں کے ساتھ موجود ہیں ۔آج کے نمرودوں نے بت پرستی کا طریقہ بدل دیا ،اپنے کفر و شرک کے نام بدل دئے ہیں ۔ایک وسیع و عمیق فکر کے تحت طریقہ عبادت کو تبدیل کر دیا ہے اور بقول اقبال ’’لات و عزیٰ در حرم باز آورد‘‘جو کل ہو رہا تھا وہی آج بھی ہو رہا ہے البتہ کل کو میدان جنگ میں ایک طرف نمرود و فرعون ہوتا تھا اور دوسری جانب ابراہیم ؑ و موسیٰ ؑ۔۔۔اور آج ایک طرف نمرودو فرعون اکیلے نہیں ان کے ساتھ بعض مسلمان نامی انکے کرایہ کے ٹٹو بھی ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔گو آج کی جنگ میں مسلمانوں کو بہت سے انبیاء ِکرام ہی کی طرح بہ یک وقت کفار کے ساتھ ساتھ منافقین کے ساتھ بھی بر سر پیکار رہنا پڑتا ہے اور ان منافقین کی چالاکی سے اﷲ کی پناہ کہ امت کا بہت بڑا طبقہ ان کی منافقت سمجھنے سے بے بس ہے۔ منافقت کی یہ ہیبتناکی اتنی خطرناک ہے کہ بڑے بڑے چالاک اور مدبر بھی کسی نہ کسی شکل میں ان کے دام ہم رنگ میں پھنس جاتے ہیں ۔

اس کی اصل نمرود و فرعون نہیں بلکہ وہ ابلیس لعین ہے جس نے اﷲ تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری کے بجائے تکبر کی راہ اختیار کرتے ہوئے سارے جن و انس کو گمراہ کرنے کی ٹھان لی اور یہ اسی ابلیس کی کا رستانی ہے جس نے بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ آج کے نمرودوں کو یہ بات سجھائی کہ اُمت مسلمہ کو گمراہ کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ’’ کفرو شرک ‘‘کا براہ راست نام لینے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ ’’کفر و شرک کو ماڈفائی کر کے اسلام کے سانچے میں ڈالتے ہوئے کسی دوسرے نام کے ساتھ ‘‘اُمت کے سامنے پیش کیا جائے اور آ ج امت ایک ایسے شرک و کفر میں مبتلا ہے جس سے شرک وکفر کے بجائے بعض مولوی صاحبان بھی ’’تاویلات‘‘کا سہارا لیکراسلام قرار دئے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔عام مسلمان کو دھوکہ صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اسے’’ اسلام‘‘ قرار دینے والے نام نہاد مسلم لیڈر اور نفس پرست علماء ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اُمت نمرودوں اور فرعونوں کے ساتھ ساتھ توحید وشرک کی اس معرکہ آرائی میں بعض مسلمان نامی افراد اور لیڈروں کے ساتھ بھی بر سر جدوجہد ہے ۔اگر قرآن و حدیث کے مطالعے کے بعد ایک مسلمان نفس پرستی اور فرقہ پرستی سے بچتے ہوئے ان نمرودی ایجنٹوں کو اپنے صفوں میں تلاش کرنے کی کوشش کرے گا تو اس سے ان موذی سانپوں کی پہچان ہو جانے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی ۔ارشاد الٰہی ہے ’’کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اﷲ ان کے دلوں کی کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا ،ہم چاہیں تو اُنہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور اُن کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو گے۔مگر ان کے انداز کلام سے تو تم ان کو جان ہی لو گے ۔اﷲ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے ۔ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ تمہارے حالات کو جانچیں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں(سورۃ المحمد۔30تا32)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: altaf

Read More Articles by altaf: 116 Articles with 53458 views »
writer
journalist
political analyst
.. View More
31 Aug, 2017 Views: 482

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ