جنگ 1965 کے ایک غازی کا انٹرویو

(Munir Bin Bashir, Karachi)

مولانا وحید الدین خان صاحب اپنے میگزین 'الرسالہ ' اکتوبر 2001 کے صفحہ 27 پر لکھتے ہیں کہ کسی کے اندر خوبی ہو تو اس کا اعتراف کرنا چاہئے -یہ اعتراف خدا کی نعمت کا اعتراف ہوتا ہے

اس فقرے نے تو میری سوچوں کو ایک نیا روپ دیا - اس کے بعد تو میں پاکستان کے ایسے با صلاحیت افراد کی تلاش میں رہتا ہوں جو ہوسکتا ہے اس معاشرے میں نا معلوم ہی رہے ہوں لیکن اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر خاموشی سے معاشرے کی خدمت کرتے رہے - میں ان کی صلاحیتوں کو اس ملک پاکستان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت سمجھتا ہوں اور ان کا اعتراف کر کے ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عطا کی ہیں --- ان میں پاک فوج کے وہ دلیر بہادر اور نڈر افراد بھی شامل ہیں جن کی جراءت مندی خطروں کو خاطر میں نہیں لاتی اور وقت پڑنے پر وہ دشمن کے لئے ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوتے ہیں -
اسی تلاش میں 1965 کی جنگ کے ایک غازی لفٹننٹ کرنل (ریٹائرڈ ) نظام الدین کے بارے میں علم ہوا تھا جنہوں نے 1965 کی جنگ کے دوران اپنی شاندار منصوبہ بندی اور اور شجاعت سے کشمیر چھمپ کے مقام پر کامیابیوں کے پرچم لہراتے ہوئے بھارت کو ناک چنے چبوا دئے تھے - ان کی جنگی حکمت عملی اور کامیابیوں کے بارے میں ہماری ویب میں ایک مختصر سا کالم لکھا تھا - لیکن میرا ذہن نہ جانےکیوں مطمئن نہیں تھا - تشنگی اور ادھورے پن کا احساس ہوتا تھا- کہ جو کچھ لکھا ہے وہ کم ہے ' اس میں کچھ اور بھی اضافہ ہونا چاہئے

اس اثنا میں جنرل (ریٹائرڈ ) کے ایم عارف کی کتاب "خاکی شیڈوز " یعنی خاکی سائے شائع ہوئی جس سے انکشاف ہوا کہ پاکستان کو 1965 کی جنگ میں چھمب کے محاذ پر شاندار سرحدی کامیابیاں ملی تھیں - غازی کرنل ( ریٹائرڈ ) نظام الدین اسی محاذ پر تھے - اس کتاب کے پڑھنے کے بعد تو میری بے چینی میں مزید اضافہ ہوگیا کہ اس غازی کے بارے میں کہیں سے معلومات مل جائیں - وہ کہتے ہیں نہ 'ڈھونڈنے والوں کو دُنیا بھی نئی دیتے ہیں' سو ایسا ہی کچھ معاملہ میرے ساتھ ہوا - ایک روز کہیں سے نصف صدی قبل یا تھوڑا بعد کے اخبار وغیرہ کہیں سے مل گئے - ان میں ایک رسالہ ہفت روزہ پیمان بھی تھا -جون 1977 کا - ماضی میں شاید یہ کبھی پانی سے بھیگ گیا تھا اس لئے اس کی حالت نہایت خستہ اور بوسیدہ تھی - اوراق شکن آلودہ تھے - لیکن اس میں ایک انٹرویو نظر آیا جو کہ غازی لفٹننٹ کرنل (ریٹائرڈ ) نظام الدین کا تھا - میری تو مسرت کی انتہا نہ رہی - اس انٹرویو میں ان کی زندگی کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی تھی - انٹر ویو لینے والے تھے جناب مقبول جلیس - آج یوم دفاع پاکستان کے موقع پر اسی انٹرویو کا خلاصہ پیش کر کے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرنا چاہتا ہوں -
مقبول جلیس لکھتے ہیں کہ لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ ) نظام الدّین سے میرا غائبانہ تعارف کب اور کیسے ہوا یہ تو یاد نہیں لیکن اس نام سے ایسی شناسائی تھی جیسے کسی ہم دم دیرینہ سے ہو - حالانکہ ہمارے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں -
میں مزاجاّ رندانہ ‘ اور ان کا صوفیانہ و قلندرانہ -
میں کسی زلف کی طرح آوارہ ' وہ اپنی جگہ سنگ میل کا استعارہ -
میرا پیشہ صحافت-مجلس مجلس - محفل محفل تانکا جھانکی اور وہ نظام الدّین خلوت نشینی -

ایک دن اتفاق سے ڈیفینس سوسائٹی میں ایک شاندار دفتر راہ میں نظر آیا - یہ ڈیفینس ہاؤسنگ سوسائٹی
کا انتظامی دفتر تھا - کبیر پیر زادہ نے بتایا کہ کرنل صاحب اسی دفتر میں تشریف رکھتے ہیں - میں نے پیر زادہ سے کہا موٹر سائیکل موڑو - کرنل نظام الدین سے مل کر انٹرویو کے لئے وقت لے لیتے ہیں - جب ہم ان کے دفتر کی جانب جا رہے تھے تو میرے ذہن میں کرنل صاحب کا خاکہ کچھ یوں تھا - فوجیوں کی طرح کھنچا کھنچایا چہرہ --- کانوں کے قریب سے قلمیں غائب - جسم اس حد تک کسرتی اور گٹھا ہوا کہ جوڈو اور کراٹے کے تیور یاد آجائیں - گفتگو کا انداز ایسا ہر فقرے کے درمیان ٹائپ رائیٹر کی طرح اسپیس چھوڑا ہوا - وہ جب بھی کسی سے ہاتھ ملائیں گے جیسے وہ یا اردلی یا ہائی کمان - درمیان کی کوئی شے نہیں - فوجی یا تو ایسے ہوتے ہیں یا پھر ضمیر جعفری -سراج الدین ظفر - شفیق الرحمٰن اور کرنل محمد خان جیسے ہوتے ہیں -نہ معلوم یہ کرنل نظام الدّیں ان میں سے کس طبقے سے ہوں گے -
بہر حال چند لمحوں بعد میں ایک ایئر کنڈیشنڈ ' صاف ستھرے دفتر میں نظام الدین صاحب کے سامنے بیٹھا تھا - یا اللہ ایسے ہوتے ہیں - کرنل نظام الدین ' نرم ملائم شفیق چہرہ ' چمکدار آنکھیں ' ستواں ناک کے نیچے ہلکی ہلکی مونچھیں -ہونٹوں پہ ایک تبسّم ایسا چمٹا ہوا کہ بڑی سے بڑی تہمت چھوٹے وہ نہ چھوٹے - گفتگو میں شبنم کی تازگی اور ہر فقرہ نپا تُلا - اردو سے زیادہ انگریزی پر عبور اسی لئے ہر جملے کی ابتدا کچھ یوں ہوتی تھی “ میں عرض کر رہا تھا “
You are welcome any time
کرنل صاحب اس پہلی ملاقات میں ایسی گرم جوشی اور خلوص کی حدت سے ملے کہ ہم تو موم کے پتلے کی طرح بہہ گئے- میں نے انٹرویو کے لئے کوئی وقت دینے کی درخواست کی تو جواب ملا (ترجمہ ) غریب خانہ حاضر ہے - جب اور جس وقت چاہیں تشریف لے آئیے - ہم اس ملاقات کے تیسرے دن ان کے گھر پہنچے - ہم ان کے ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے - ڈرائنگ روم کشادہ تھا - صوفوں کے دو سیٹ بھی جدید و قدیم فیشن کے ملاپ کی نمائندگی کر رہے تھے یعنی محض دکھاوے کے خوبصورت ہی نہ تھے بلکہ آرام دہ بھی تھے -ڈرائنگ روم کی دوسری خوبی یہ تھی کہ دیواروں پر "پدرم سلطان بودھ " کی وضاحت کے لئے خاندان کے بزرگوں کی تصویریں آویزاں نہیں تھیں حتّٰی کہ شجاعت کی سندیں -تعلیمی سرٹیفکٹ یا تمغے لگا کرنمائش گاہ نہیں بنا یا گیا تھا -یہ ڈرائنگ روم تھا تو صرف ڈرائنگ روم ہی تھا -
ڈرائینگ روم کا جائزہ لیتے لیتے اور ایک دیوار سے دوسری دیوار تک سفر کرتے ہوئے جب میں چوتھی دیوار تک پہنچا تو وہاں مجھے دو طغرے آویزاں نظر آئے - ان کے فریم بھی گولڈن اور جاذبِ نظر تھے - ایک تھا سلسلہ قادریہ چشتیہ کا شجرہ جو پیرانِ پیر سید عبدالقادر گیلانی سے مشیر خدا حضرت علی تک جا پہنچا تھا - دوسرا فریم روضہِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس تھا - اس سادہ و پر وقار ڈرائینگ روم کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کرنل صاحب ہماری طرح آزاد نہیں ہیں- ایک دو منٹ بعد کرنل صاحب مسکراتے ہوئے ڈرائینگ روم میں داخل ہوئے -
میں چونک پڑا “ یہ کیا ! یہ تو لنگ کے ساتھ چلتے ہیں “
کرنل صاحب نے میری آنکھوں میں چھپی ہوئی حیرت بھانپ لی اور اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا انہوں نے کہا “یہ تحفہ سمجھ لیں یا تمغہ ‘ 1965 کی جنگ کا ہے - میں اس جنگ میں شدید زخمی ہو گیا تھا “
اس کے بعد 1965 کی جنگ ہی ہماری گفتگو کا موضوع بن گئی -ایسا ہونا قدرتی تھا کیوں کہ اس جنگ کا ایک غازی ہمارے سامنے موجود تھا -انہوں نے بتایا کہ " یہ جنگ کی آخری شب کا واقعہ ہے - دوسرے روز سیز فائر ہونا تھا -میں مورچہ میں موجود کمان کر رہا تھا کہ حریف نے پوری قوّت سے طاقت آزمائی کی - ایسے لمحات بڑی آزمائش کے ہوتے ہیں - میں اس غیر متوقع حملے میں جوانوں کو احکامات دینے آگے بڑھنے کی تکنیکی حکمت عملی پر گفتگو کی - اس وقت نہایت باریک بینی سے کئی فیصلے کر نے تھے اور جوانوں کا حوصلہ بھی برقرار رکھنا تھا اس لئے میں وہیں قریب ہی موجود رہا لیکن اس دوران کئی گولیاں میرے جسم میں پیوست ہو گئیں - یہ کہہ کر کرنل صاحب نے اپنے زخموں کو جب بے نقاب کیا تو ہمارے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے -
میرے منہ سے بے ساختہ نکلا “کرنل صاحب ! آپ سلامت و زندہ رہے “
انہوں نے کہا “ محترم - قضا و قدر کا مالک وہ ہے - وقت سے پہلے کون کسی کو مار سکتا ہے - میرے بعض زخم اب بھی رستے ہیں - ان کی مرہم پٹی اب بھی ہوتی ہے - ( یہ انٹرویو جنگ کے بارہ سال بعد لیا گیاتھا ) زندگی تو دراصل خالق کون و مکاں کا عطیہ ہے - میں اس وقت کیسے زندہ رہا یہ ایک معجزہ تھا - یہ رات کے نو بجے تھے جب میرا جسم چھلنی ہوا تھا - خون بری طرح بہہ رہا تھا - اس نزع کے عالم میں بھی مجھے اپنے ساتھیوں اور جوانوں کی فکر لاحق تھی کہ پتہ نہیں ان پر کیا گزری -
جہاں تک میرا تعلق ہے
یہ قیامت کی شب خون بہاتے اور اپنے زخموں کی اذیّت سہتے - ایک ایک لمحہ موت سے بغل گیر ہوتے گذری- توپ کے گولوں سے فضا دہل رہی تھی - گولہ باری متواتر ہورہی تھی - آسمان تھوڑی تھوڑی دیر بعد لال ہو جاتا تھا - صبح چھ بجے یعنی نو گھنٹے بعد مجھے ہسپتال پہنچایا گیا - ہم دونوں صحافی مبہوت بیٹھے جنگ کی داستان سن رہے تھے - وہ کہہ رہے تھے جن کے عقیدے نا پختہ ہوں ان کو میری زندگی پر تعجب ہو سکتا ہے لیکن جو صاحبِ اِدراک ہیں ' ایسے واقعات ان کے ایمان و ایقان کو تازہ کر نے کا سامان ہیں -مسلمان جب تک ایمان کی دولت سے مالا مال رہتا ہے اس کاسرسوائے خدا کے کسی طاقت کے سامنے نہیں جھکتا -

اپنے بچپن کا تذکرہ کرتے ہوئے غازی لفٹننٹ کرنل نظام الدین نے کہا کہ ابتدائی تعلیم مدراس اور میسور میں حاصل کی - آزادی کی تحریک کے دوران قائداعظم کی مقناطیسی شخصیت نے اتنا متاثر کیا کہ قیام پاکستان کے بعد میں اپنے خاندان کے برعکس ' تنہا اپنے بچوں کے ساتھ یہاں پاکستان چلا آیا اور اب مادر وطن کی آغوش میں ہوں - بھارت میں ہمارا خاندان اب بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز اور برسر اقتدار پے - تقسیم ہند کے موقع پر میں میجر تھا اور ریگولر انڈین سروس میں تھا - جب میں نے ہجرت کا عزم کیا تو میرے بہت سے ہمدردوں 'ساتھیوں اور افسروں نے مجھے روکنے کی کوشش کی -- اچھے مستقبل اور ترقیوں کے خواب بھی دکھائے جس کا ایک ہی جواب میرے پاس تھا کہ میرے وطن کو میری ضرورت' بھارت اور میرے سنہری مستقبل سے زیادہ ہے - اس کی سرحدوں کو ہمارے عزم کی حاجت ہے - میرا اور ہماری نسلوں کا مستقبل سبز ہلالی پرچم کے سائے میں ہے - ایک مرتبہ پاکستان آگیا تو اس کے بعد میں نے بھارت کا رخ نہیں کیا اور نہ کبھی جی چاہا کہ ان گلیوں اور در و دیوار دیکھوں جہاں میرے اجداد کی ہڈیاں دفن ہیں یا جہاں میرا بچپن شوخیاں کرتا تھا - حالانکہ اس دوران میرے کئی رشتے دار 'بہن بھائی ' اللہ کو پیارے ہو گئے - میں نہ دیدار کر سکا اور نہ کندھا دے سکا - شاید اب یہ کندھے جنازوں کے لئے نہ رہے ہوں -میری تو آرزو یہ تھی کہ ان پر اپنی ہی شجاعت اور اپنی ہی شہادت کے تحفے سجیں "
میں نے دیکھا کہ یہ فقرہ کہتے ہوئے ان کے جسم میں ایک قسم کی لرزش سی دوڑ گئی اور زخمی ٹانگ غیر شعوری طور پر ہلنے لگ گئی -- کرنل صاحب کی آواز میں دکھ اور ان بہے آنسوؤں کے پیوند لگنے شروع ہو گئے تھے -اس لئے وہ ایک لمحے کے لئے خاموش ہوگئے تھے - ڈرائنگ روم کی فضا میں اداسی کی ایک لہر آگئی تھی - اتنے میں ان کے سب سے چھوٹے صاحب زادے ٹھنڈے مشروبات لے کر آگئے - یہ کام ملازمین کے ذمہ اس لئے نہیں تھا کہ کرنل صاحب کے گھر میں مشرقی روایات کا پورا پورا دخل ہے - بڑوں کا ادب ' چھوٹوں سے شفقت ' اور پیار سے برتاؤ کر نے کی تربیت پہلے دی جاتی ہے - ماشاءاللہ ان کے نو بچے ہیں جن میں سات لڑکیاں ہیں - بڑے داماد سید مستحسن زیدی بھی لیفٹیننٹ کرنل ہیں - ان سے چھوٹے داماد صغیر احمد میجر ہیں - ایک صاحبزادے سید آصف نظام کیپٹن ہیں - اس ایک شاخ کے یہ گل بوٹے ہیں - ان کو ملازمین کی بیساکھیاں لے کر چلنا نہیں آتا - جس کا ذاتی مشاہدہ یوں ہوا کہ کرنل صاحب کے البم اور ذاتی کتب خانے کی انچارج شاید ان کی ایک صاحب زادی ہیں -کالج کی طالبہ ہوںگی لیکن گھریلو کام اپنے بابا کے حکم پر دوڑ دوڑکر کر رہی تھیں -
ہم نے دبی زبان سے عرض کی"کرنل صاحب ' آپ کے اجداد کے کارنامے مشہور انگریز مصنف اے جے بینٹوری کی تاریخی تصنیف "وار ود ٹیپو سلطان " میں موجود ہیں‌ جس سے ان کی انگریز دشمنی کا ایک پہلو سامنے آتا ہے - اس کے باوجود آپ نے 1942 میں فرنگی کی فوج میں داخلہ لیا - اور 1943 میں کمیشن بھی لیا -- یہ کیوں کر ہوا ؟ ایک جانب انگریز دشمنی کا یہ عالم اور دوسری طرف آپ کا فرنگی کی فوج میں شامل ہو کر برما اور
انڈو نیشیا جانا چہ معنی وارد ؟ "
کرنل صاحب نے بغیر توقف کے فرمایا " میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا - پانچ بہنوں اور ایک بھائی کے بعد اس دنیا میں آیا تھا - ہوش سنبھالنے اور سیاسی تجربے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ برطانوی سامراج کا سورج غروب ہو کر رہے گا - اور اگرآج میں فوجی تربیت حاصل کرلوں تو یہ میرے ہی وطن کے کام آئے گی - میں یہ عرض کر رہا تھا کہ میرے والد محترم جب تک حیات رہے میری یہ جراءت نہ تھی کہ میں انگریزی ملازمت کا تصور بھی ذہن میں لاتا - بھلا وہ کب برداشت کرنے والے تھے - ان کے انتقال کے بعد ہی میں فوج میں داخل ہوا - میرا یہ فیصلہ غلط تھا یا درست -- اس کا فیصلہ وہ محاذ کریں گے جہاں ہم نے دشمن سے مقابلہ کیا - سرحدوں پر اپنا خون بہایا - یا اس کا فیصلہ یہ زخم کریں گے جو میرے جسم پر اب بھی موجود ہیں "
دوران گفتگو اندازہ لگایا کہ پاکستان کے ذکر پر کرنل صاحب بہت جذباتی ہو جاتے ہیں

جب ان سے رخصت ہو کر واپس ہوئے تو موسم بھی بڑی حد تک بدل چکا تھا - حبس کی بجائے سمندری خنک ہوائیں چل رہی تھیں
کبیر پیر زادہ نے کہا " اس انٹرویو میں آپ کیا لکھیں گے ؟"‌
میں نے مختصر سا جواب دیا " ایک شریف انسان جس کے اندر کا انسان اس سے بھی زیادہ شریف ہے “
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 964 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 134767 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments

اس کالم کی گرافکس کی تکمیل کے لئے میں جناب اشہد کریم کا ممنون ہوں کہ چار عشرے قبل کی مدہم ‘ بوسیدہ اور دھبوں سے تباہ شدہ تصاویر کو نہایت باریک بینی سے نوک پلک سنوار کر دوبارہ اشاعت کے قابل بنایا -
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Sep, 05 2017
Reply Reply
0 Like
Language: