ظلم کی داستاں ہے پس پردہ

(محمد اعظم, لاہور)
کسی بھی واقعے کے پس پردہ پیش آنے والے معاملات کی خبر کم ہی لوگوں کو ہوتی ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جو اہداف ہوتے ہیں وہ منظم سازش بھی ہوسکتی ہے اور ایک اتفاق بھی ۔ ہر دو صورت میں پیش منظر سے زیادہ اہم پس منظر ہوتا ہے۔۔۔

بلتستان کی زمینوں پر قبضے کی گھناونی سازش

اسلام آباد کے حساس ترین مقام پر کلاشنکوف لہراتا ہوا اسکندر میدان میں آیا، میڈیا اور پوری قوم کو کئی گھنٹے یرغمال رکھنے کے بعد ڈرامائی طور پر منظر نامے سے غائب ہوگیا اور قوم کوآج تک نہیں پتہ کہ اس کے پیچھے کہانی کیا تھی۔۔۔۔۔۔

کسی بھی واقعے کے پس پردہ پیش آنے والے معاملات کی خبر کم ہی لوگوں کو ہوتی ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جو اہداف ہوتے ہیں وہ منظم سازش بھی ہوسکتی ہے اور ایک اتفاق بھی ۔ ہر دو صورت میں پیش منظر سے زیادہ اہم پس منظر ہوتا ہے۔۔۔

حال ہی میں اسکردومیں دنیا کی بلند ترین سطح پر موجود کولڈ ڈیزرٹ پرشاندار" کار ریلی" کا انعقاد ہوا۔ اس پروگرام کے لیے حکومت سے زیادہ پاکستان کے دوست امریکہ کے اداروں نے معاونت کی۔

سوشل میڈیا پر گنتی کے چند مذہبی افراد نے اس تقریب میں رقص و سرود کی محفل جمانے کی مذمت کی۔ فقیہ شہر آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بنا رہا۔ قوم پرست تنظیموں اور روشن خیالوں نے اسے خطے کی ترقی کا ضامن بھی قرار دیا۔ حکومتی جماعت تو اسے آنے والی نسل کی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ مجموعی طور پر پوری قوم نے اس پروگرام کو سراہا۔ حد تو یہ ہے کہ وزیر تعلیم بھی اس عظیم کامیابی پر فرط جذبات میں بے قابو ہو کر رقص کر کے داد تحسین وصول کی۔ دوسری طرف نمائندہ ولی فقیہ کے پرچم تلے انتخابات میں فتح حاصل کرنے والے مذہبی باپ کے مذہبی بیٹے نے بھی رقص کرکے روشن خیالی کا ثبوت دیا۔ سوشل میڈیا میں اس کی مذمت کرنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ اس طبقہ کو ترقی کے دشمن اور تنگ نظر ثابت کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہی بلخصوص مذہبی طبقہ کی خاموشی کے باوجود انہیں نشانہ بنایا گیا۔

میں بھی اس پروگرام کے مختلف پہلووں پر غور کرتا رہا۔ معاشی اور معاشرتی نکتہ نگاہ سے اسے خطے کے لیے نہایت اہم سمجھا۔ لیکن تجسس کا مادہ مجھے سکون سے رہنے نہیں دے رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کروڑوں روپے کار جیپ ریلی پر خرچ کرنے والے اداروں نے یہاں کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے ایک پائی بھی کیوں خرچ نہیں کی ؟
کیا اس میں سرمایہ کاری کے بعد رقص و سرود ہی مقاصد تھے؟
کیا یہ ریلی یہاں کے مذہبی تشخص کو ختم کرنے کی کوششوں کا شاخسانہ تھا؟
یا اس ریلی کے پیچھے کوئی گھناونا کھیل کھیلا جا رہا تھا ؟۔۔۔۔!!!!!!!
میں ان سوالوں سمیت بہت سارے دوسرے سوالوں کے جوابات کی تلاش میں تھا کہ باخبر ذرائع نے میرے تمام سوالوں کے یوں جوابات دیے۔
اس پروگرام میں ویسے تو بہت سوں نےاپنے مقاصد حاصل کیے ہوں گے۔ لیکن جس مقام پر وزیرتعلیم کو رونا چاہیے تھا، اسلامی تحریک کے رکن اسمبلی کو سر پیٹنا چاہیے تھا، عمران ندیم کو سرفہ رنگاہ کی مٹی سرپہ ڈالنا چاہئے تھی، پوری قوم کو سراپا احتجاج ہونا چاہیے تھا، اس موقع پر یہ سب جشن منا رہے تھے ۔۔۔۔
قضیہ یہ تھا کہ بلتستان کی زمینوں پر خالص سرکار کے نام پر قبضے سے ردعمل آیا تھا اور انتظامیہ کے لئے ممکن نہیں ہو رہا تھا کہ یہاں کی عوامی زمینوں پر سکھ قوانین کی روشنی میں آسانی سے قبضہ کر کے اپنے من پسندوں میں بانٹ سکیں۔ اس عمل کے لیے انہیں ایسا خوبصورت طریقہ چاہیے تھا کہ عوام رقص کرتی رہے اور وہ خوشی خوشی زمینوں کو دوسروں میں بانٹ سکیں۔ سرفہ رنگا کار ریلی کی آڑ میں شگر کی 24 ہزار کنال زمین پر انتظامیہ قبضہ کر چکی ہے اوراس میں مزید توسیع کی جائے گی ۔ ۔۔۔
ان زمینوں پر آباد مقامی افراد کو دہشتگردی اور غداری کے مقدمات کے تحت جیل بھیج دیا جائے گا۔ اور باقی زمینوں پر بھی قبضہ کر لیا جائے گا ۔
حفیظ الرحمان کی حکومت اتنی سادہ نہیں کہ وہ تم جیسے ‘‘ تھلے پی غوڈ ’’ اور روندو کے ‘‘خلدبوت’’ کی طرح سوچے، وہ عیار اور مکار انسان ہے۔ ہسپتال، میڈٰیکل اور ٹیکنیکل کالج گلگت میں ایفاد دیامر میں جب کہ جیپ ریلی اسکردو میں۔۔۔۔
وائے ہو ایسی عوام اور نمائندوں کی سوچ پر ہزاروں کنال اراضی پر قبضہ اصل قضیہ تھا۔۔۔ دیامر ڈیم کے نام پر پہاڑوں کے بھی معاوضے اور تمہاری زمینوں پر بغیر معاوضہ قبضہ اور تم جشن مناو، تالیاں بجاو، فتح کے شادیانے بجاو، حکمران چوڑے ہو کر چل رہے ہیں ، اس حماقت پر اخبارات میں بیانات دئے جا رہے ہیں ، کہ ہم نے اپنی دھرتی سےعوام کا قبضہ چھڑایا ہےاور عارضی آقاوں کو بخش دیا ہے۔ آج بلتستان کے بدخواہ اس حماقت پر قہقہ لگا رہا ہوگا کہ کس طرح انکی زمینوں کو ہتھیاتے وقت انکی عوام اور نمائندوں کو نچایا اور یہ سب بندروں کی طرح ناچتے رہے۔
واضح رہے کہ مجھے ریلی پر کوئی اعتراض ہے اور نہ رقص پر بلکہ اعتراض ہے تو اس کی آڑ میں زمینوں پر ناجائز قبضے پر۔۔۔۔!!! سال میں ایک نہیں ہر ماہ ایک ریلی کرو لیکن عوام کی زمینیں چھین کر نہیں۔۔۔۔۔۔!!!! اس کے خلاف آخر کون بولے گا اور اس ظلم کو کون روکے گا؟ پنجاب کے لوہار بٹ، سندھ کے ڈاکو یا میاں والی کا چھوکرا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کب تک ہم وفاقی سیاسی جماعتوں کے شعبدہ بازوں اور متعصب انتظامیہ کے اشاروں پر ناچتے رہیں گے۔ اور خطے کے وسائل لوٹتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد اعظم

Read More Articles by محمد اعظم: 41 Articles with 28759 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Sep, 2017 Views: 163

Comments

آپ کی رائے