آل سعود کی اُمت ِمسلمہ کیلئے خدمات اور جواں عزم ولی عہد

(Atiq Yousuf Zia, )

ملت ِاسلامیہ کے مرکز، دنیا بھر کے مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات مکہ معظمہ اور مدینتہ المنورہ کے امین ، ملک سعودی عریبہ کی بنیاد شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن السعود نے 1932ء میں رکھی، 23 ستمبر یوم الوطنی (یومِ تاسیس) قرار پایا جب شاہ عبدالعزیز نے سعودی عرب کے بکھرے ہوئے صوبوں کو اکٹھا کرکے ’’ الممکتہ العربیہ السعودیہ‘‘ کے نام سے ایک جدید اور آزاد ملک کا اعلان کیا۔ ترقی کی منازل کو طے کرتے ہوئے ہر قسم کے خزانوں اور فیوض و برکات سے مالا مال عصر حاضر کے تقاضوں کے ساتھ آج ایک ترقی یافتہ سعودی عرب ہمارے سامنے ہے جو روئے زمین پر بسنے والے مسلمانوں کا محور اور مرکز ہے، جدید تقاضوں اور دنیاوی تغیر اور تبدل کو بھانپتے ہوئے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک بار پھر اہم ترین فیصلہ کرتے ہوئے دنیا بھر کو انگشت ِ بدنداں کردیا ہے۔ سعودی عرب میں ولی عہد کا عہدہ بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ ملک کی بادشاہت کا اگلا تاج اسی کے سر ہوتا ہے، شاہ سلمان نے اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو نیا ولی عہد بنا کر ایک بہترین فیصلہ کیا ہے، شہزادہ محمد بن سلمان نہ صرف جوان ہمت اور جوان عزم ہے بلکہ مستقبل کے تقاضوں کے مطابق موجودہ حالات میں دنیاوی رنگ ڈھنگ کو جانچنے کی بھرپور صلاحیتیوں میں یدطولیٰ ہے، نوجوان قیادت کو سامنے لانا سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا تاریخی فیصلہ ہے جس سے اُمت ِمسلمہ پر دور رَس نتائج مرتب ہوں گے، آج اُمت ِمسلمہ جس کرب سے گزر رہی ہے سعودی عرب کا قائدانہ کردار نہایت اہم ہے، اُمت ِمسلمہ کو یکجا کرنے کیلئے شاہ فیصل مرحوم کا کردار تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا، سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی ایک بنیاد عرب و اسلامی یکجہتی اتحاد ہے، یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب دنیا بھر میں مسلمانوں کے درمیان تنازعات حل کرانے میں اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانے سے دریغ نہیں کرتا ، عالم عرب میں علاقے کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے، سعودی عرب کے زعما کے دل دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، کسی مسلمان ملک پر کوئی آفت اور مصیبت آجائے تو سعودی حکمران سب سے آگے ہوتے ہیں، سعودی عرب میں حج اور عمرہ کیلئے جانے والے زائرین کو سہولیات مہیا کرنے کیلئے وہ ہر وقت کوشاں ہیں، بیت اﷲ شریف اور مسجد ِنبویؐ میں توسیع، ان کی تزئین و آرائش کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی، حجاج کرام کو دورانِ عبادات بے پناہ رَش ہونے کے باوجود سہولیات کی فراہمی، ان کیلئے انتظام و انتصرام، آرام و سکون کیلئے کیے گئے اقدامات اپنی مثال آپ ہیں۔ اِس پرآشوب دور میں ملت ِاسلامیہ کو مجموعی اور انفرادی طور پر اپنے اپنے ملک میں مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے، ملت اسلامیہ بے شمار سازشوں کا شکار ہے، صہونیت اور یہودنیت اپنے روایتی انداز میں مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار ہیں جو صرف مسلمان ممالک میں افراق و انتشاردیکھنا چاہتے ہیں، حالات کی اِس شورش کا رُخ سرزمین مقدس کی طرف بھی جاتا ہوا نظر آتا ہے، طاغوتی طاقتیں اسلام کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہیں، ان حالات میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو یک جہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ایک جسم ، ایک جان ثابت کرنا ہوگا جس طرح اچھے برے حالات میں سعودی عرب کے پلیٹ فارم پر آل سعود نے مسلمانوں کی دام ،درم ،سخنے مدد کرنے میں کبھی بھی ہچکچاہٹ نہیں کی، دنیا بھر کے مسلمانوں کو بھی سعودی عرب کے تحفظ کیلئے ایک ہونا ہوگا کیونکہ آل سعود کے اُمت ِمسلمہ پر بے پناہ احسانات ہیں، اندرونِ ملک ترقی و خوشحالی کے علاوہ سعودی حکمرانوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے مفاد کو ترجیح دی، اُنھیں اپنے اہداف میں شامل رکھا جن کیلئے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ مالی امداد کی شکل میں فراہم کررہے ہیں، مسلمان افغانستان کے ہوں، بوسنیا، پاکستان، شام، عراق، فلسطین، کشمیر یا دنیا کے کسی بھی گوشے سے تعلق رکھتے ہوں خادمِ حرمین شریفین ان کا خیال رکھنے کیلئے بے چین رہتے ہیں، دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے کروڑوں اربوں ریال اب تک بطور مالی امداد دے چکے ہیں، دنیا بھر میں قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کی امداد کے علاوہ سعودی حکومت نے اپنے دیرینہ دوست پاکستان کو مختلف منصوبوں کے سعودی ترقیاتی فنڈز سے کروڑوں ڈالر کے قرضے بھی دے رکھے ہیں ان میں پاور اسٹیشن کے قیام، ڈیمز، خشکی کے راستے اور آبپاشی و نکاسی آب کے منصوبے شامل ہیں، زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات میں سعودی عرب پوری دنیا کے مقابلے میں سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، سعودی حکمرانوں کیلئے پاکستان اہم ہے، حزبِ اقتدار یا حزبِ اختلاف کی کوئی تفریق نہیں، ان کی محبت پاکستانی عوام سے ہے اور اس مملکت ِخداداد سے ہے، سعودی حکمران ہمارے داخلی تنازعات میں بھی ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتے چلے آرہے ہیں، ان کا رویہ ہمیشہ ہمارے اندرونی استحکام کیلئے سہارا بنا ہے، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اخوت اور جذبہ صادق سے سرشار اچھے تعلقات ہیں، دونوں ممالک اُمت ِمسلمہ کی فلاح و بہبود، خوشحالی، اتحاد و اتفاق اور معاشی استحکام کیلئے اکٹھے کام کررہے ہیں جن کی مثالیں آئے روز دنیا کو دیکھنے کو ملتی ہیں، اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج کا قیام، موجودہ فرمانروا شاہ سلمان کاعظیم کارنامہ ہے جو وقت اور حالات کی ضرورت تھی اور اس کا سربراہ پاکستان کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو بنانا پاکستان کے ساتھ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سعودی عرب جس طرح دنیا بھر سے جانے والے مسلمانوں کی مہمان نوازی میں اپنا ثانی نہیں رکھا، خصوصاً حج کے مواقع پر پچھلے چند سالوں سے حاجیوں کے قیام و طعام، اُن کی حفاظت اور سیکیورٹی کے اقدامات اﷲ کے مہمانوں سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہم نئے ولی عہدالشیخ شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی توقع کریں گے کہ وہ اپنے آباؤاجداد کی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اُمت ِمسلمہ کیلئے کوئی دقیقہ فردگذاشت نہیں نہیں کریں گے، دنیا بھر میں جہاں بھی مسلمان مشکل میں ہوں گے، طاغوتی قوتوں کے سامنے وہ ایک برہنہ شمشیرثابت ہوں گے۔ آج کا کالم قارئین تک پہنچنے تک سعودی عرب میں دنیا کے سب سے بڑے اجتماع اور دین اسلام کا سب سے بڑا رکن حج بیت اﷲ کے مناسک ادا ہو چکے ہوں گے ، جس پرامن طریقے سے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمانوں نے اپنا فریضہ انتہائی احسن طریقے سے ادا کیا بلاشبہ سعودیہ حکومت مبارکباد کی مستحق ہے جن کی دن رات کی کاوش اور محنت ِشاقہ نے حاجیوں کو پرسکون ماحول فراہم کیا، اﷲ تعالیٰ سعودی حکومت کو حجاج کرام کیلئے ہمیشہ ایسے اقدامات کرنے کی توفیق اور ہمت عطاء فرمائے(آمین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atiq Yousuf Zia

Read More Articles by Atiq Yousuf Zia: 30 Articles with 14113 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2017 Views: 551

Comments

آپ کی رائے
This is paid article.Saudi kings and royal family has no soft corner for Muslim umma except for their kingship.
By: Mohammad, Karachi on Sep, 11 2017
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ