اسلام آباد سرکار کی لا تعلقی اور سیزفائر لائن کے عوام

(Tahir Farooqi, muzaffarbad)
اسلام آباد سرکار کی لا تعلقی اور سیزفائر لائن کے عوام

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دو ایام جاری رہنے والے اجلاس میں ن لیگ کی حکومت کیجانب سے میاں نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بطور وزیر اعظم پاکستان انکی پالیسیوں اقدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پاس کی گئی جبکہ حکومت اپوزیشن دونوں اطراف سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم اور برما میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت میں پیش کردہ قرارداداوں کی منظوری دی گئی نیز شریعت کورٹ کو ہائی کورٹ میں ضم کرنے کے پیش کردہ قانون کی بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا جسکی ڈائریکشن سپریم کورٹ نے جاری کی تھی اور قانون ساز اسمبلی کی مجلس منتخبہ کے اجلاس میں تمام مسالک مذہبی جماعتوں کے اکابرین آئینی ماہرین کو خصوصی خصوصی طور پر مدعو کر کے اعتماد میں لیا گیا جسمیں وزیر اعظم فاروق حیدر نے خصوصی طور پر شرکت کرتے ہوئے کم وبیش پانچ گھنٹے کی نشست میں علماءکے خیالات سنے اور اتفاق رائے کے پیدا ہونے سے ثابت ہوا کہ حاکمانہ طرز عمل کے بجائے فکر و عمل سمجھنے سمجھانے اور بات کرنے برداشت سے کام لینے کا حوصلہ آسانیاں پیدا کردےتا ہے جسکے نتیجہ میں اپوزیشن بھی انکے کردار پر تعریف کئے بغیر رہ نہ سکی اگر یہی طرز عمل تعلیمی پیکیج کے ایشو پر اختیار کیا جاتا تو یہ عدالتوں میں جائے بغیر کب کا حل ہو گیا ہوتا اچھا کیا حکومت نے اس ایشو پر اسمبلی اجلاس میں بات نہیں کہ بلکہ جو طرز عمل شریعت کورٹ کے ایشو پر اختیار کیا وہ سب ہی امور پر جاری رکھا گیا تو بہت سے ایشو پید ا ہی نہ ہونگے۔شریعت کورٹ کے معاملے میں وہی ہوا جو حکومت چاہتی تھی اور اسکی ٹھیک سمت تھی صرف لفظوں کانئے انداز میں انتخاب کیا گیا اور سب کچھ ٹھیک ہو گیا تاہم یہ مذہبی جماعتوں سب مسالک کے اکابرین کیلئے سوال ہے کیا ایک مسلم اکثریت بلکہ ستانوے فیصد آبادی والے ملک ریاست معاشرے میں جماعتوں اداروں وغیرہ کا نام اسلام کے مطابق ہونا ضروری ہے یا پھر اسلام شریعت کا ڈھنڈورہ پیٹ کر جو چاہے مرضی ہوتا رہے جیسے تضاد بھرے معاشرے کے ماحول کے بجائے عمل سے ثابت کیا جائے تعلیمات اسلام کا حسن انسانیت کی معراج کیا ہے جیسا کہ اسمبلی اجلاس میں ہی فائزہ احسن اور ملک نواز کے توجہ دلانے پر وزیر قانون راجہ نثار کو کہنا پڑ گیا ہمارے معاشرے میں شادیوں پر گھروں میں چراغاں ایک ماہ تک کیا جاتا ہے اور کنڈے لگا کر میٹر بند کرتے ہوئے بجلی چوری کی جاتی ہے جہیز کے حوالے سے پانچ ہزار تک اخراجات کا قانون ہے مگر اس پر عمل نہیں کیا جاتا اور وزیر اعظم فاروق حیدر نے بھی کہا شادی ہالوں میں اوقات کار کی پابندی کرائیںگے مگر لوگوں کو خود کو بھی شعور جرات کا مظاہر کرنا ہو گا یہ وہ اصل ناسور ہے جس نے حکومتی اداروں سے لیکر سب شعبہ جات بلکہ ستانوے فیصد معاشرے کو اپنے رنگ میں رنگا ہوا ہے کہ دوسروں کیلئے اسلام شریعت اصول قانون پسند کیئے جاتے ہیں اور اپنی باری پر یہ سب بھلا دیئے جاتے ہیں اگر موجودہ اسمبلی کے اندر بیٹھے سب ہی ممبران شادی جہیز جیسے فرض کو وبال جان بنانے کے عمل سے لیکر سرکاری محکموں خصوصاََ عدل و تعلیم کے شعبوں میں اپنے ایوان کے قانون پر عمل کرنے کا حلف کرتے ہوئے لازمی پاسداری کریں تو نیچے تک عمل کرانا زیادہ آسان ہو جائے گا۔شریعت کورٹ کے معاملے پر حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین سابق وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید سردار عتیق احمد اور سردار خالد ابراہیم عبدالماجد خان دیگر نے متفقہ پا س کر کے اچھی مثال اور ماحول قائم کیا ہے یہ عام آدمی تک قائم کیا جاسکتا ہے تاہم ن لیگی ممبر اسمبلی چوہدری یٰسین گلشن کی طرف سے بھارتی فائرنگ سے ایل او سی کے متاثرہ عوام کے مصائب پر دکھ درد کا اظہار انکی امداد دادر سی نہ ہونے پر مایوسی کے موقف پر وزیر اعظم کی طرف سے یہ کہنا وہ بھارتی فائرنگ نہیں روک سکتے متاثرین کی املاک کے نقصان پر تخمینہ معاوضہ 50کروڑ روپے لگا ہے کو کیا کہا جائے؟؟؟ متاثرین یہ جانتے ہیں بھارتی فائرنگ نہیں رک سکتی مگر انکے پاس جا کر انکے حوصلے بلند کرنا اور جائز امداد تعاون کے جو اعلان گزشتہ 9،10ماہ سے آپ اور آپ کے وفاقی وزراءکرتے آرہے ہیں ان پر 10فیصد عملدرآمد نہ ہونا اسلام آباد سرکار کی نا اہلی ہے یا پھر لاتعلقی ہے جسطرح وزیر خارجہ خواجہ آصف نے دوران انٹرویو پرجوش انداز میں کہا ہے انکے دوروں میں ترکی چین ایران نے کشمیر پر حکومت پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے عزم دہرایا ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرے اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دیا جائے جبکہ ان کے مطابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان کے آمدہ اقوام متحدہ کی جنرل کونسل اجلاس سے خطاب میں کشمیر کی آواز گونجے گی جیسے خیالات عزم و ہمت خوصلہ دینے کی ایل او سی کے عوام کو بھی ضرورت ہے انکو گولہ باری فائرنگ سے محفوظ رکھنے کیلئے بینکرز اور اشیاءخوردنوش کے حصول انتظامات یقینی بنانا حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کی پہلی زمہ دار ی بنتی ہے ؟؟؟؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Farooqi

Read More Articles by Tahir Farooqi: 204 Articles with 67631 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2017 Views: 351

Comments

آپ کی رائے