بیٹیاں لٹتی رہیں اور ہم دعا کرتے رہے

(Aslam Lodhi, Lahore)

نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ۔ ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب مسلمانوں کی تعداد سمندر کے جھاگ کے برابر ہوگی لیکن وہ اپنے سے بہت چھوٹے دشمن سے خوفزدہ ہوں گے ۔برما میں مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کو دیکھ کر جس طرح تمام مسلم حکمران خاموش ہیں یہ بات ان کی بزدلی کا بین ثبوت ہے ۔ وگرنہ ڈیڑھ ارب مسلمان اگر اکٹھے ہوکر پھونک بھی ماریں تو برماکے لوگ اپنے بت کدوں سمیت اڑ کر سمندر میں جاگریں ۔لیکن حالت یہ ہے کہ ایک جانب برما میں مسلمانوں کے خلاف برمی فوج اور بدھ مت مذہب کے پیروکاروں کے مظالم کی ویڈیو اور تصویریں انسانی ذہنوں کو ماؤف کررہی ہیں تو دوسری جانب سمندری بگلے کی طرح مسلم حکمران ٹھنڈی ریت میں اپنی گردنیں چھپائے اس طرح خاموش ہیں جیسے انہوں نے کچھ سنا بھی نہیں ۔ سعودی عرب اسلام کا مرکز ہے ۔ دولت اور اثرو رسوخ کے اعتبار سے سب سے زیادہ وزن سعودی عرب کا محسوس کیا جاتا ہے کیونکہ امریکہ سمیت دنیاکی تمام بڑی اور سپرطاقتیں اپنی پالیسیاں بناتے وقت سعودی عرب کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں لیکن سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلیمان بیس سے پچیس لاکھ مسلمانوں کے قاتل امریکی صدر کے گلے میں ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا گولڈ میڈل ڈال رہے تھے ۔ امریکہ نے گولڈمیڈل حاصل لومڑی سے زیادہ چالاکی اور ہوشیاری سے کام لے کر قطر اور عرب ممالک کے مابین ایسی دراڑ ڈالی جسے مستقبل قریب میں پر کرنا ناممکن ہے ۔ شاہ سلیمان کا کارنامہ صرف یہی نہیں اس نے بھارتی مسلمانوں اور کشمیری مسلمانوں کے بدترین دشمن اور قاتل نریندر مودی کے گلے میں بھی سعودی عرب کا اعلی ترین ایوارڈ ڈال کر دنیابھر میں بسنے والے مسلمانوں کی توہین کی تھی لیکن اب وہی سعودی حکمران جب برما کے مسلمان پکار پکار کر محمد بن قاسم کو تلاش کررہے ہیں تو شاہ سلیمان نے اپنی گردن ساحل سمندر کی ٹھنڈی ریت میں اس کچھ گھسا رکھی ہے جسے انہیں کچھ علم ہی نہ ہوگا ۔ کشمیر ٗ فلسطین ٗ چیچینا ٗ تھائی لینڈ ٗ فلپائن ٗ بھارت اور اب برما کے مسلمانوں پر نت نئے مظالم بلکہ ایسے مظالم جن کا ذکر کرتے ہوئے بھی روح کانپ جاتی ہے نہ صرف انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں بلکہ گز بھر لمبی زبان منہ میں ہونے کے باوجود بھی دنیا کے چھوٹے سے ملک "میانمار"برما کے خلاف مزامت کے الفاظ بھی ادا نہیں ہوتے ۔سفاکی ٗ وحشت اور درندگی کے الفاظ کو بھی نیا جامہ پہنایا جارہا ہے ۔ ایسے ایسے ہولناک واقعات کی ویڈیو دیکھنے کو مل رہی ہے جسے دیکھنے کی مجھ جیسے کمزور دل انسان میں ہمت ہی نہیں رہی ۔

جب پوری کائنات میں مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو تازہ کرتے ہوئے بکروں ٗ چھتروں ٗ بیلوں اور اونٹوں کو اﷲ کی راہ پر قربان کررہے تھے انہیں ایام میں ایک ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک برمی مسلمان کو دو برمی فوجیوں نے زمین پر لیٹا رکھا تھا۔ ایک کے ہاتھ میں بڑا کلہاڑا تھا جو پاؤں پر کچھ اس طرح مارتا کہ پاؤں کا کچھ گوشت ہڈی سمیت جسم سے الگ ہوجاتا اس کے پیش نظر اس برمی مسلمان کو موت کے گھاٹ اتارناہرگز نہیں تھا بلکہ لمحہ لمحہ اذیت کی موت دینا تھا پہلے پاؤں کی انگلیاں کاٹیں ٗ وہ مسلمان درد کے مارے چیخ رہاتھا لیکن کلہاڑا چلانے والے کے دل میں شاید دل نہیں کوئی پتھر تھا وہ مسلسل کہلاڑا اس کے جسم پر مارتا چلاجارہاتھا جس سے اس زندہ برمی مسلمان کا جسم کٹتا جارہاتھا خون کے فوارے اٹھ رہے تھے جو برمی فوجی کے مکروہ چہرے پر پڑ رہے تھے لیکن رحم نام کی کوئی چیز ان درندہ صفت برمی فوجی کے دل میں نہ تھی ۔ دوسرا فوجی سنگین والی بندوق سے زندہ برمی مسلمان کے چہرے پر پے درپے وار کررہا تھا ۔پتہ نہیں اس برمی مسلمان کی روح کب جسم سے الگ ہوئی لیکن میں تو چند لمحات میں ہی اپنے شعورکی حالت کھو بیٹھا اور دماغ ماؤف ہوگیا اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ ویڈیو جن مسلمانوں نے دیکھی ہے پھر ان کونیند کیسے آئی ہوگی ۔ یہ دردناک اور وحشت ناک ویڈیو فیس بک اور وائٹس اپ پر دنیا بھر میں اس قدر تیزی سے پھیل گئی کہ سخت سے سخت دل انسان بھی خون کے آنسو رویا ہوگا ۔دل تو چاہ رہاتھا اپنے جسم کی تمام طاقت جمع کرکے برما کے ان فوجیوں اور بدھ مت کے پیروکاروں پر ایسا ایٹم بم پھینکوں جس سے ان کے جسم موم کی طرح پگھل جائیں۔ صرف یہی نہیں ایک سے بڑھ کر ایک مظالم کی خبریں اور ویڈیو انٹرنٹ پر دیکھ کر عوام کی کثیر تعداد تو سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل آئی اور اپنے اپنے مردہ ضمیر حکمرانوں کو برماکے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑا ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن ترکی ( سلطنت عثمانیہ کے وارث )کے صدر اردگان کے سوا کسی مسلم ممالک کے جانب بھی نہ تو کھل کر برمی مسلمانوں کی حمایت میں آواز اٹھائی گئی اورنہ ہی کسی جانب سے برمی مہاجرین کی مدد کے لیے پیش رفت ہوئی ۔ اس بدترین ماحول میں بنگلہ دیش کی بھارت نواز حکمران حسینہ واجد نے اپنی سفاکی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے برمی مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دینے سے ہی انکار کردیا۔ یہ کرم ہواکہ بنگلہ دیشی محافظوں کے دل میں اﷲ تعالی نے رحم ڈالا اور انہوں نے زخموں سے چور ٗ بھوکے پیاسے برمی مسلمانوں کو اپنی سرزمین پر اترنے کی اجازت دے دی۔ اس وقت چٹاکانگ کے کاکس بازار میں قائم چھوٹے سے کیمپ میں تین سے چار لاکھ برمی مسلمانوں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسے ہوئے زندگی کی اس لیے سختیاں برداشت کررہے ہیں کہ بنگلہ دیش حکومت نے تمام غیر ملکی این جی اوز کی جانب سے برمی مسلمانوں کی مدد کرنے پرپابندی عائد کررکھی ہے ۔

یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ ساڑھے سات کروڑ آبادی کے ملک برما ( میانمار)میں مسلمانوں کی تعداد سات لاکھ ہے ۔1962ء میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کیاجس کے بعدمسلمانوں پر برمی فوج کے مظالم شروع ہوگئے ۔ برما کا مغربی صوبہ اراکان ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت بستی ہے ۔3 جون 1962ء کوبرماکے دارالحکومت رنگون میں گیارہ مسلمانوں کو بس سے اتار کر برمی فوج اور بدھ مت کے پیروکاروں نے شہید کردیا ۔ مسلم اکثریت کے صوبے اراکان میں برمی فوج کی اس درندگی پر احتجاج کیا گیا۔ ایک بڑے جلوس پر برمی فوج نے بے دریغ اور سامنے کھڑے ہوکر فائرنگ کردی جس سے احتجاجی مظاہرے میں شامل کئی ہزار مسلمان شہید ہوگئے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے جنہیں برما کے ہسپتالوں میں علاج کی بھی اجازت نہیں دی گئی ۔صوبہ اراکان کی سمندری سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے جو ایک مسلمان اکثریت والا ملک ہے جس کا ماضی میں نام مشرقی پاکستان تھااور وہ پاکستان کا مشرقی بازو کہلاتا تھا لیکن بدقسمتی سے اس وقت مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے والے غدار سیاسی رہنماء شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی جو ان پر قاتلانہ حملے کے وقت ملک سے باہر تھی۔ اس وقت برسراقتدار ہے۔ اس نے برمی فوج کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں اور سمندری لہروں سے بچ کر آنے والے برمی مسلمانوں کو مزیدپناہ دینے سے بھی انکار کردیا ۔ اس طرح سامنے برمی فوج اور بدھ مت کے پیروکار مسلمانوں پر سیدھی گولیاں برسا رہے ہیں اگروہ سمندر کی طرف بھاگتے ہیں تو سمندری راستے کی جانب بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں تاکہ کوئی مسلمان زندہ بچ کر سمندر تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہو۔ ہزاروں برمی مسلمان جنگل میں بھڑکتے ہوئے جنگلی اور درندوں کی خوراک بن چکے ہیں ہزاروں گرفتار مسلمانوں کو جیلوں میں اذیتیں دی جارہی ہیں ۔سینکڑوں مسلمان عورتوں کو اغوا کرکے برمی فوج کے کیمپوں میں منتقل کردیا گیا ہے ۔

وہ بھی کیا وقت تک جب راجہ داہر کے غنڈوں کے مظالم کی ستائی ہوئی ایک مسلمان عورت کی پکار پر خلیفہ المسلمین نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو چھوٹی سی فوج دے کر دیبل پر حملہ آور ہونے اور راجہ داہر کو سبق سیکھانے کے لیے بھیجا تھا وہ مسلمان فوج جذبہ جہاد سے لبریز تھی اور انہیں مسلمان قافلے پر ہندو لیٹروں کے مظالم سے بدلہ لینا تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی بہترین جنگی حکمت عملی اور شوق شہادت کو بروئے کارلاکر نہ صرف راجہ داہر اور اس کی فوج کو شکست فاش دی بلکہ ملتان تک مسلمانوں کے حکومت قائم کرکے بہترین نظام زندگی متعارف کروایا ۔ پندرھویں صدی عیسویں کے مسلمانوں میں اتنی جرات کہاں کہ وہ برما کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف برما کے خلاف اعلان جہاد کرتے ۔ بزدلی کی انتہاء تو یہ ہے کہ اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی توڑنے کی کسی مسلم ملک میں جرات پیدا نہیں ہوئی ۔ عوام سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں لیکن حکمران حکومتی ایوانوں میں اپنے مردہ ضمیر کے ساتھ عیاشیا ں کررہے ہیں ۔ یہ وہی وقت ہے جس کی پیشین گوئی نبی کریم ﷺ نے چودہ سو سال پہلے کردی تھی کہ ایک وقت یہ بھی آئے گا جب مسلمانوں کی تعدادسمندر کی جھاگ کے برابر ہو گی لیکن مسلمانوں میں جذبہ جہاد ختم ہوچکا ہوگااور بہت معمولی تعداد میں کفار کے لشکر ان پر خوف طاری کیے رکھیں گے ۔

10 ستمبر 2017ء کو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں او آئی سی کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کے سربراہان اور چند ایک مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شریک ہوئے ۔ اجلاس میں میانمار کے روہنگیا مسلمانوں پر روا رکھنے جانے والے مظالم کا تذکرہ بھی ہوا اور لمبی چوڑ ی تقریریں بھی ہوئیں لیکن اس کانفرنس میں شریک کسی ایک مسلم ملک نے بھی واشگاف الفاظ میں برما کے واقعات پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے برماحکومت سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا ۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے نمائندے اس اجلاس میں اعلان کرتے کہ اگر برمی حکومت ایک ہفتے کے اندر اندر اراکان صوبے کو آزاد اسلامی ریاست تسلیم کرے وگرنہ تمام مسلم ممالک اس کے ساتھ سفارتی ٗاقتصادی اور ہر طرح تعلقات ختم کرلیں گے اور ہر اس ملک کے ساتھ بھی تعلقات ختم کرنے کے بارے میں سوچا جائے گا جو بھارت کی طرح برمی حکومت کے اس وحشیانہ اقدام کی مذمت نہیں کرے گا ۔ اگر ایسا ہوجاتا تو شاید بھارت اور دیگر غیر مسلم جابر ممالک کے حکمرانوں کے ہوش بھی اڑ جاتے لیکن ہوااس کے برعکس ۔ خواجہ سراؤں پر مشتمل او آئی سی کے سیکرٹری جنرل یوسف بن احمدنے اظہار خیال کرتے ہوئے شرکا کو بتایا انہوں نے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کو علیحدہ علیحدہ خطوط ارسال کیے ہیں کہ برما میں مسلمانوں پر برمی فوجی اور بدھ مت کے پیروکاروں کی جانب سے جاری مظالم کو رکوایا جائے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے فیکٹ فائنڈ نگ مشن کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔

اوآئی سی میں بزدل ترین مسلم ممالک کے سربراہان ( ترکی کے صدر اردگان کو چھوڑ کر ) کے اس کمزور ترین مطالبے کو دیکھ کر مجھے ایک واقعہ یاد آرہاہے کہ" ایک دیہاتی نے شہر میں فٹ بال کھیلتے ہوئے لوگوں کو دیکھا اور اس نے قریب کھڑے ہوئے ایک بزرگ سے پوچھا چاچا اس گیندسے کیاغلطی ہوئی ہے جو سارے مل کر اسے لاتوں سے مار رہے ہیں ۔بزرگ نے جواب دیا اس گیند کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اندر سے خالی ہے ورنہ کسی کی کیا مجال کہ اسے لاتوں سے کوئی مارے ۔"اس وقت ہم مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے کہ ایمان بس زبان پر موجودہے جبکہ اندر سے ہم سب ایمان اور جذبہ جہادکی دولت سے خالی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جس کا جی چاہتا ہے ہمیں پاؤں سے ٹھوکر مارتا پھرتا ہے اور پاکستان جیسا ایٹمی ملک بھی برمی مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کو دیکھنے کے باوجوداس لیے خاموش ہے کہ برما کو چین کی حمایت حاصل ہے ۔ پاکستان کے ممتاز صحافی حامد میر نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم ایک ایسی محفل میں موجود تھے جہاں میرے قریب ہی پاکستان میں برما کے سفیر بھی موجود تھے۔ میں نے موقع کی نزاکت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انکی توجہ برمی فوج کے مظالم کی جانب دلائی تو برمی سفیر نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر پاکستان نے برمی مسلمانوں کے حوالے سے زیادہ گرمجوشی دکھائی تو چین جیسے دوست سے ہاتھ دھونے پڑیں گے ۔ برمی سفیر کی اس دھمکی کا اثر 13 ستمبر 2017کے اخبارات میں نظرآیا جب چینی حکومت نے برمی حکومت کی مکمل حمایت کااعلان کیا ۔

پاکستان اور چین کے تعلقات انتہائی اچھے اور مضبوط رہے ہیں ۔ پاکستان نے بھی ہر اس مسئلے پر جس کا براہ راست تعلق چین سے ہو۔ آنکھیں بند کرکے حمایت کی ہے اور چین نے بھی بھارتی جارحیت کے خلاف ہمیشہ پاکستان کی حمایت تو کی ہے لیکن جب چین میں موجود مسلمانوں پر مظالم کی بات ہوتی ہے تو پاکستان کو چین میں بسنے والے مسلمانوں کے بارے میں مجبورا زبان بندی کرنی پڑتی ہے ۔ چند ایک مذہبی جماعتیں چینی مسلمانوں کی حمایت میں آواز تو اٹھاتی ہیں لیکن حکومتی سطح پر کبھی چینی مسلمانوں کی حمایت نہیں کی بلکہ متحدہ چین کو ہی پیش نظر رکھا جاتاہے حتی کہ تائیوان کو بھی جو عرصہ دراز سے ایک الگ ملک کی حیثیت سے دنیاکے نقشے پر موجودہے لیکن پاکستان تائیوان کو چین کا حصہ ہی تصور کرتا ہے ۔ کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر پاک چین تعلقات میں گرمجوشی موجودہے لیکن اس وقت جبکہ برما میں صدیوں سے رہنے والے مسلمانوں پر برمی فوج اور بدھ مت مذہب کے پیروکاروں کی جانب سے وحشت ناک مظالم کامظاہرہ دیکھنے میں آرہا ہے تو چین کو ڈیڑھ ارب سے زائدمسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے برمی حکومت کی حمایت کا اعادہ نہیں کرنا چاہیئے تھا ۔ گویا چین کے پیش نظر ڈیڑھ ارب مسلمان ایک طرف اور دوسری طرف صرف برما کی محبت ہے جوایک ظالم درندے کے روپ میں مسلمانوں چیر پھاڑ رہاہے ۔میں سمجھتا ہوں جوبھی درندہ صفت برما کی فوج اور بدھ مت کے پیروکاروں کی حمایت کرے گا وہ پاکستان اور مسلمانوں کا کبھی دوست نہیں ہوسکتا ۔

اب تک امریکہ اور روس کو اپنے مفادات کی خاطر مسلمانوں کا خون بہاتے تو دیکھاجاتا رہا ہے لیکن چین نے ہر ایسے موقع پر خاموشی اختیار کرکے اپنے دامن کو تنازعات سے دور ہی رکھاہے ۔یہی وجہ ہے کہ چین ایک اقتصادی طاقت بن کر پاکستان کے راستے وسطی ایشیائی مسلم ریاستوں ٗ مشرق وسطی ٗافریقہ اور یورپ تک جانے کاراستہ ہموار کررہا ہے ۔اس لمحے بطور خاص چینی حکومت کو صرف مذہب کی بنیاد پر بدھ مت کے درندہ صفت پیروکاروں کی حمایت نہیں کرنی چاہیئے بلکہ آہنی ہاتھ انہیں نہتے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو روکنا چاہیئے تاکہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دل میں چین کے بارے میں بہتر تاثرات پیدا ہوں اور پوری مسلم دنیا چینی مارکیٹ بن جائے ۔

یہاں 40 مسلم ممالک کی فوج کا ذکر بھی ضروری ہے جو سعودی عرب کی قیادت میں اسوقت یمن کے باغیوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے کیا اس مسلم اتحادی فوج کا کسی اور کو بھی فائدہ ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ جہاں جہاں بھی مسلمانوں کو بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے نشانہ بنا رہی ہیں قتل و غارت گری کررہی ہیں جیسے کہ شام ٗعراق ٗ بھارت اور برما ۔ وہاں حکومتوں پر پہلے سفارتی دباؤ ڈالا جائے ۔ اگر بات نہ بنے تو ان ملکوں کے سفیر اپنے ملکوں سے نکال کرہر طرح کے تعلقات ختم کرلیے جائیں ۔اگر پھر بھی بات نہ بنے تو مسلم اتحادی فوج کو اس خطہ زمین پر اتار کر عملی طور پر مسلمان دشمن درندوں کا قلع قمع کیاجائے ۔ اگر ایسا ہوجائے تو آئندہ کوئی غیر مسلم ملک مسلمانوں کو اذیت دینے کا نہیں سوچے گا ۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک سمندری بگلے کی طرح اپنی گردنیں ساحل کی ٹھنڈی ریت میں چھپا کر خاموش بیٹھے ہیں اور احتجاجی مراسلوں اور اپیلوں پر ہی اکتفا کر رکھا ہے ۔ اس حوالے سے ترکی کے صدر اور حکومت کو خراج تحسین پیش کرنا بہت ضروری ہے۔

ترک خاتون اول امینہ اردگان ایک دوپہر اپنے بیٹے بلال اردگان ٗ سماجی امورکی وزیر فاطمہ بتول ٗ ترک ہلال احمر کے سرابرہ ابراہیم آلتن اور کئی ترک این جی اوز کے ہمراہ ڈھاکہ پہنچیں تو شاہ جلال ائیرپورٹ پر بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور شہریار عالم نے ان کا استقبال کیا۔ جب انہیں استقبالی مشروبات پیش کیے گئے تو امینہ صاحبہ نے شکرایئے کے ساتھ معذرت کرتیہوئے کہا کہ میں برمی بچوں کے ساتھ کیمپ پر ہی پانی پیونگی۔ یہ کہہ وہ سیدھا کاکس بازار میں قائم روہنگیامہاجرین کے کیمپ روانہ ہوگئیں جہاں ترک وزیر خارجہ مولت چاوش اوغلو پہلے سے ہی موجود تھے ۔ کیمپ پر بڑا جذباتی منظر تھا چھوٹی سی جگہ میں پچاس ہزار افراد ٹھنسے ہوئے تھے کئی نوجوانوں کے جسموں سے خون بہہ رہاتھا ۔ زخمی نوجوان اور عصمت دری کا شکار بچیوں کو دیکھ کر امینہ اردگان زار و قطار رو پڑیں لیکن پھر انہیں خیال آیا کہ وہ تو حوصلہ بڑھانے آئی ہیں چنانچہ چہرے پر ماں کی شفیق مسکراہٹ سجاکر پوچھا بچو پڑھائی کررہے ہو ؟ بچے خاموش رہے ۔ جواب میں مصنوعی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے بولیں بہت بری بات ہے کل سے سب بچے پڑھیں گے اور پہلا سبق میں پڑھاؤں گی ۔ ترکی نے امدادی سامان کی پہلی کھیپ میں کتابیں ٗ بلیک بورڈ اورکلاس روم کا سامان بھی بھیجا ہے ۔چند ترک ٹیچر بھی ساتھ آئے ہیں ترک خاتون نے ایک ایک عورت کوگلے لگایا اور ماتھا اور گال چوما ۔گرم مرطوب موسم میں کئی دن کے سفر سے ان خواتین کے جسموں سے پسینے کی ناگوار بو کے بھبھکے اڑ رہے تھے ایک خاتون اسی بناپر انکے قریب آنے سے ذرا ہچکچا ئی تو ترک خاتون اول نے اسے اپنے قریب کیااور گلے لگاتے ہوئے بولیں مسلم اخوت مشک و عنبر سے زیادہ معطر ہے اسے اپنی باہوں میں لیے ہوئے دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے اور کہا اے ہمارے رب قیامت کے دن اپنے سایہ رحمت میں ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ نصیب فرمانا ۔ انہوں نے برمی مہاجرین کو یقین دلایا کہ ترکی انہیں تنہانہیں چھوڑے گا ترک ہلا ل احمر کے عملے نے کیمپوں میں اپنے دفاتر قائم کرلیے ہیں جبکہ مختلف ترک این جی اوز نے بحالی کے کام کا آغاز بھی کردیاہے ۔اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس خوف و دہشت کے اثرات کو ختم کرناہے جو ان مہاجرین پر طاری ہے ۔ اس مقصد کے لیے ترک ماہرین نفسیات کیمپوں میں تعینات کیے گئے ہیں ۔ بچوں کی تعلیم کا بندوبست بھی کیاجارہا ہے ۔شام کوامینہ اردگان نے ڈھاکہ میں وزیر اعظم حسینہ واجد سے ملاقات کی ۔ یادرہے کہ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پاکستان سے وفاداری کے جرم میں حسینہ واجد نے پھانسی دے دی تھی جس پر ترک حکومت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا یہی وجہ ہے کہ ترکی اور بنگلہ دیش کی حکومتوں کے مابین سفارتی کشیدگی ابھی تک موجودہے ترک خاتون او ل نے حسینہ واجد کو یقین دلایا کہ برمی پناہ گزین بنگلہ دیش کی معیشت پر بوجھ نہیں بنیں گے اور ان کی کفالت کے جملہ اخراجات ترکی برداشت کرے گی ۔سوچنے کی بات ہے کیا کسی اور مسلم ملک میں بھی ایسا جذباتی منظر دیکھنے میں آیا ہے یا ہر جگہ ہلکے پھلکے مذمتی بیانات جاری کرکے برمی فوج کو رہے سہے مسلمانوں پر مزید مظالم ڈھانے کا موقعہ فراہم کیاجارہاہے ۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق برمامیں بدھ دہشت گردوں نے گزشتہ پانچ روز میں 100 کلومیٹر پر مشتمل مسلم آبادی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے ۔ ایمنسٹی کی جانب سے اقوام متحدہ کولکھے جانے والے مکتوب میں کہاگیا ہے کہ پانچ روز میں 21 سو دیہات مسلمانوں سمیت جلادیئے گئے ۔ دس ہزار افراد بھاگتے ہوئے مارے گئے ۔ پندرہ سو سے زائد خواتین وععصمت دری کے بعد فوج میں تقسیم کردی گئیں زندہ انسانوں کے اعضا کاٹ کر چیل کووں کو ڈال دیئے گئے۔ ایک لاکھ 30 ہزار مسلمان شدید زخمی ٗایک لاکھ جنگلوں میں محصور ہیں ۔بنگلہ دیشی حکومت کی سنگدلی کے باعث کشتیوں میں سوار 20 ہزار افراد سمندر میں غرق ہوچکے ہیں ۔لگتا ہے دنیامیں انسانیت نام کی چیزاب نہیں رہی۔ آئندہ دس دن میں کسی ملک نے مداخلت نہ کی تو اموات کی تعداد میں لاکھوں کااضافہ ہوسکتا ہے ۔فور ی طور پر اقوام متحدہ کی امن فوج کو مسلمان علاقوں میں کیوں تعینات نہیں کیاجارہا۔
کسی نے کیا خوب کہاہے ۔
بیچ کر تلواریں خرید لیے مصلے ہم نے
بیٹیاں لٹتی رہیں اور ہم دعا کرتے رہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 571 Articles with 290132 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Sep, 2017 Views: 391

Comments

آپ کی رائے