وزیر اعظم پاکستان کا کشمیر نامہ ۔۔نوجوان اور حوالدار

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad)
وزیر اعظم پاکستان کا کشمیر نامہ ۔۔نوجوان اور حوالدار

وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں کشمیریوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے صحیح معنوں میں رکھتے ہوئے ناصرف اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کمیشن مقبوضہ کشمیر بھجوانے بلکہ انکو حق خود ارادیت دلانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے اور وہاں کے عوام کو اندھا کرنے گرفتاریوں اور قتل عام سمیت مظالم کو اجاگر کیا بطور وزیر اعظم کشمیریوں کی وکالت اپنی تمام تر صلاحیتوں اعتماد و قوت کے ساتھ کی جو ناصرف کشمیریوں بلکہ ساری دنیا کی مظلوم اقوام کی ترجمانی تھی۔اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی کیلئے آب حیات جیسی تاثیر رکھتی ہے باوجود اسکے وہ ایسے وقت حالات میں اپنے ملک کی اقوام عالم کے سامنے نمائندگی کر رہے تھے جب انکو بطور سربراہ حکومت صرف دو ماہ کا عرصہ ہوا ہے انکے قائد نواز شریف خود کو اقتدار سے الگ کرنے کے بعد لندن واپس نہ آنے کے امکانات سمیت جا چکے ہیں اور ملک کے اندر انکو اپنے قائد کے بھائی انکے دوست چوہدری نثار کی طرف سے اسمبلی کا کورم تک پورا نہ ہونے دینے جیسے حالات کا سامنا ہے جو باہر سے زیادہ اندرونی سازشوں رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے نظام کو چلا رہے ہیں اور لندن جب اپنے قائد کو حالات کی ستم ظریفی کی کہانی سنائی تو انہوں نے بھی بے بس ہو جانے پر اسمبلی تحلیل کردینے کی نصیحت کرتے ہوئے ثابت کر دیا ہے وہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے جیسے اناء اور ضد کے گھوڑے پر سوار ہیں اور وزیر اعظم کی اعصابی حالت اس شعر کے مصداق ہے :
حیراں ہو ں دل کو رؤوں کے پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہوتو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

مگر اس کے باوجو د شاہد خاقان نے عالمی سطح پر ناصرف یو این او سے خطاب بلکہ عالمی میڈیا کے انٹرویوز بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتوں سمیت سرگرمیوں میں اعتماد و اطمینان سے اپنا فریضہ احسن انداز میں سرانجام دیا اور ثابت کر دیا ناگزیز کوئی نہیں ہوتا البتہ تجربے فہم و فراست محنت ریاضت کی اہمیت و افادیت مسلمہ ہے۔ایک حولدار جسے کوئی کام نہیں آتا تھا اپنے جی سرکار پالیسی کے تحت سب کے ساتھ بنائے رکھنے کے تضادات سے بھرپورطرز عمل کے باعث ناکارہ سمجھتے ہوئے باغیچے کا چوکیدار لگا دیا گیا وہ پندرہ سولہ سال چھٹی پر گھر بھی نہیں گیا کیونکہ اس کا خیال تھا وہ ادھر سے گیا تو باغیچہ تباہ ہو جائے گا مگر نئے آفیسر نے اسے سولہ سال بعد زبردستی گھر چھٹی پر بھیج دیا جسکے بعد واپس آیا تو حیران پریشان ہوگیا نئے مالی نے باغیچہ کو گلستان بنا دیا تھا نئے پھول بوٹوں تراش خراش کے جدید طریقوں سے باغیچے کو چار چاند لگ گئے تھے اور وہ سر پکڑ کر بیٹھنے پر مجبور ہو گیا تھا اب اسکا کیا بنے گا یہی حال اس ملک کی قیادتوں اور سبھی شعبوں کے کرتا دھرتا افراد کا ہے جو ملک و ملت کی ترقی میں خود کو ناگزیز سمجھتے ہوئے اوروں کو آگے نہیںآنے دیتے اور ذاتی مفادات ڈھونڈتے ہوئے اخلاص صلاحیت ریاضت کو زنگ آلود کر کے اجتماعی بھلائی کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچا رہے ہیں یہ بہت ہی اچھی اور حوصلہ افزاء بات ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ ارکان منتخب نمائندگان خلق خدا کو جی ایچ کیو مدعو کیا اور عالمی علاقائی ملکی حالات پر مکمل بریف کرتے ہوئے انکے سب سوالات کا جواب دیا تو پختہ عزم و عہد کے صاف شفاف الفاظ میں واضح کیا آرمی جمہوریت کی مضبوطی اداروں کے استحکام پر یقین رکھتی ہے جسکا مطلب ہے جمہوریت صرف لوگوں کیلئے نہیں بلکہ سب کیلئے ہونی چاہئے اداروں اور جماعتوں سب کو فکری طور پر اسکا عملی معنوں میں مظاہرہ بھی کرنا چاہئے تبھی عالمی علاقائی قومی سطح پر ملک و ملت سر اٹھا کر باوقار انداز میں اپنا کردار منوا سکیں گے۔پور ے ملک میں بلدیاتی نظام کمزور سہی مگر کام کر رہا ہے یہاں آزاد کشمیر میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انتظار کیا جارہا ہے جسکے انعقا د کیلئے بطور قائدحزب اختلاف وزیر اعظم فاروق حیدر ہائی کورٹ سے فیصلہ لیتے ہوئے سپریم کورٹ تک گئے تھے اور انکے وکیل راجہ سجاد خان نے عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی تھی جسکی گزشتہ تاریخ پر عدالت نے ایک ماہ کے اندر بلدیاتی حلقہ بندی مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جاسکے بلدیاتی انتخابات نہ ہونے اور طلبہ سیاست کا گلہ گھوٹنے سے سارا سیاسی عمل و نظام بدبودار پانی کی طرح ہو کر رہ گیا ہے جس میں کوئی جان رہی ہے نہ مقصد و تربیت موجود ہے محض مفادات کا کھیل تعصبات کے شعلوں میں وبال جان بنا آرہا ہے ختیٰ کہ یہاں تحریک کشمیر چند افراد یا مخصوص لوگوں کی محتاج ہو کر رہ گئی ہے ایک ہفتے کی تیاریوں کے باوجود برما کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں ڈیڑھ سو افراد کا جمع ہونا بے حسی کا وہ بولتا ثبوت تھا ۔نئی قیادت اور جمع جذبوں صلاحیتوں کو تجربے اخلاص ریاضت کی چھتری کے ساتھ آگے لانے کیلئے مسلم لیگ ن کے صدر فاروق حیدر پیپلزپارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر تحریک انصاف کے صدر بیرسٹر سلطان محمود مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے صدر سردار خالد ابراہیم سمیت تمام جماعتوں شعبوں کے اکابرین کو طلباء سیاست بحال اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے ورنہ حوالدار والا حشر ہو گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 204 Articles with 68031 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2017 Views: 198

Comments

آپ کی رائے