حکومت اور عدالت کا ہندوانتہا پسندوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ !!!

(Asif Jaleel, India)

بھگوادہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ سوامی اسیما نند، سادھوی پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت کے بعد اب ایک اور بڑا کلیدی ملزم میجر رمیش اپادھیائے بھی ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔یکے بعد دیگرے بھگوا دہشت گردوں کو رہا کیاجارہا ہے۔ وہ این آئی اے جس نے کرنل پروہت اور دیگر ملزمان کیخلاف ایک مضبوط اور موثر کیس تیار کیا تھا ، اب ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیوں کررہی ہے اور ایسا رویہ کیوں اختیار کیاجارہا ہے کہ بھگوا دہشت گردی کے ملزمان نہ صرف عدالتوں سے ضمانت پارہے ہیں بلکہ انہیں کلین چٹ بھی دی جارہی ہے۔دہشت گردی کی کاروائی میں دوہرا پیمانہ اختیار کیا جا رہا ہے۔دہشت گردی کے جرم میں ملوث ہندو شدت پسند وں کو اکثر بے قصور مانا جارہا ہے اور دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اکثریتی طبقہ سے متعلق لوگ قطعی اس طرح کی کاروائی انجام نہیں دے سکتے۔ وہیں دوسری جانب ان معاملوں میں بات جب کسی اقلیتی اور پسماندہ طبقات کے لوگوں کی آجائے تو انھیں فوراً ہی قصوروار مان لیا جاتا ہے۔ ایک بار کسی کا نام دہشت گردی سے جڑ جائے تو اسے عدالت ضمانت دینے سے کتراتی ہے اس کے برعکس یہاں ہندوانتہا پسندوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ عجیب ہے۔منصوبہ بند طریقے سے یکے بعد دیگرے ضمانت ملنے سے بھگوا شدت پسند تنظیموں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔ سیاست میں بھگوا نظریے کے تسلط کا اثر دیگر ادارے پر بھی دکھائی دے رہا ہے، لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تنظیمیں حکومت پر مزید دباؤ ڈالیں گی کہ وہ دہشت گردی کے الزام میں ملوث دیگر بھگوا شدت پسندوں کی رہائی کی راہ ہموار کریں گی۔بھگوا دہشت گردوں کے ذریعے کئے گئے بم دھماکوں میں مسلمانوں کا ہاتھ بتا کر کئی مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ گرفتار بے قصور نوجون چیخ و پکار کرتے رہے کہ وہ بے قصور ہیں لیکن فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے پولس والوں نے انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں جب مہارشٹر اے ٹی ایس سربراہ ہیمنت کرکرے نے گہرائی کے ساتھ تفتیش کی تو پتہ یہ چلا کہ یہ دھماکہ بھی بھگوادہشت گردوں نے ہی کیا تھا۔ ہیمنت کرکرے نے بڑی دلیری کیساتھ اس کام کو انجام دے کر ہندو دہشت گردوں کو بے نقاب کیا تھا۔ ہیمنت کرکرے کی غیرجانبدارانہ کاروائی سے جہاں ہندو دہشت گردوں میں خوف دیکھا جا رہا تھا وہیں اس معاملے میں ہیمنت کرکرے کا ہاتھ کچھ سفید پوش لیڈران کے گردن تک بھی پہنچنے والا تھا کہ عین موقع پر ہیمنت کرکرے جیسے جانباز دلیر اور ایماندار افسر کو راستے سے ہٹا دیا گیا تاکہ ہندو دہشت گردوں کو راحت مل سکے۔ ہیمنت اور انکی ٹیم نے دلیری کا ثبوت دیا تھا اس پر ہیمنت کرکرے اور اشوک کامٹے کے قتل کے فوراً بعد قائم اے ٹی ایس کی 'نئی' ٹیم اور 'نئی' تفتیش ایجنسی این آئی اے نے مل کر تمام اصل شواہد، ثبوتوں فائلوں میں چھیڑچھاڑ کرکے کیس سے منسلک معاملات کا رْخ ہی بدل دیا۔ اب اس وقت حالات ایسے ہیں کہ ایک کے بعد ایک بھگوا ملزمین کو ضمانتیں مل رہی ہیں، تقریباً تمام چھوٹے بڑے بھگوا ملزمین اب جیل سے باہر ہیں اور بے خوف ہو کر گھوم رہے ہیں۔ جمہوریت میں عدلیہ، استغاثہ اور تحقیقاتی ایجنسیاں تینوں آزاد ہوتی ہیں اور عاملہ اس میں مداخلت نہیں کرتی لیکن جس طرح چند بھگوا ذہنیت کے زرپرست لیڈران اور بی جے پی نے اس میں مداخلت کی ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ بی جے پی کے اتحادی تنظیموں کے لوگوں کو بچانا چاہتی ہے۔ اس سے دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی لڑائی کو کمزور کیا جا رہا ہے اور نہ صرف غلط پیغام جا رہا ہے بلکہ اس سے ہندوستان کی شبیہ اور اس کے عزم کوبھی متاثر کیا جا رہا افسوس !صد افسوس اس پر کہ زعفرانی رنگ میں رنگے تعصب پسند الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا بھی چپ سادھے ہوئے ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Jaleel

Read More Articles by Asif Jaleel: 183 Articles with 123017 views »
WARNING: I have an attitude and I know how to use it!.

میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے
.. View More
02 Oct, 2017 Views: 320

Comments

آپ کی رائے