کمیونزم پر ایک نظر

(Sheezan, jamshoro)
کمیونزم کا پاکستان پر اثر

قارئین کمیونزم کا نام سنتے ہمارا ذہن فوراً اس طرف جاتا ہے کہ کمیونسٹ اس شخص کو کہتے ہیں جو خدا کی ذات پر یقین نہ رکھے اردو زبان میں جس کےلیے دہریہ کا لفظ بولا جاتا ہے۔

یہ سراسر غلط نظریہ ہے کمیونسٹ ایک پارٹی کا نام بھی ہے جو کہ روس سے شروع ہوئی تھی اور چین میں بھی اس نے اپنے پیر جمائے ۔ اس نظام کو ماننے والے ہر مذہب و ملت سے تعلق رکھتے ہیں حتی ٰ کہ پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی رجسٹرڈہے۔ حالانکہ اس کے ممبران مسلمان بھی ہیں۔

یہ عوام الناس کو غلطی اس وجہ سے لگی کہ جب روس میں کمیونسٹ انقلاب آیا تو روس نے مذہب کی تبلیغ پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور کسی بھی مذہب کو کھلے عام عبادت کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔اس وجہ سے مسلمانوں میں تأثر پھیل گیا کہ وہ دہریہ ہیں۔دہریہ کے لیے جو لفظ انگریزی زبان میں بولا جاتا ہے وہ ایتھیسٹ ہے انگریزی میں Atheist اس کو کہا جاتا ہے۔

کمیونزم ایک نظام تھا جس کو کارل مارکس نےپیش کیا اور اسکی ترویج کےلیے اینگلز اور لینن جیسے بے قدآور افراد نےاقدامات لیے۔ اسی کمیونزم کو بنیاد بنا کر روس میں کمیونسٹ انقلاب کی ابتداء ہوئی جو انتھک کوششوں کے بعد آخر کار جنگ عظیم اول کےبعد کامیاب ہوا اور ایک نئی عالمی قوت سوویت یونین کے نام معرض وجود میں آئی۔

ہم پاکستان میں اس کی بنیاد دیکھتے ہیں تو کافی لوگ اعتراض کرنےلگ جائیں کہ پاکسان میں اس کا وجود بالکل بھی نہیں مگر ہم ثبوتوں کے ساتھ بتا سکتے ہیں کمیونزم اور پاکستان کا کسی نہ کسی حوالہ سے ضرور واسطہ رہا خواہ وہ غلط طریق پر راستہ اپنایا گیا یا کسی فرد واحد پر ظلم کرکے۔

ہمیں پاکستان میں کمیونزم کی ابتداء شہید ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے سے ملتی ہے جنہوں نے چین کی خوشامدی حاصل کرنے کے لیے پاکستان میں کسی حد تک کمیونسٹ نظام رائج کرنے کی ایک ناکام کوشش کی۔وہ کوشش کچھ اس طرح تھی کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان میں جس کےپاس بھی زمین یا کوئی کمپنی ہے زائد از ضرورت ہے تو اس کو حکومت کے تحت کیا جائے اور زمینیں مستحقین میں تقسیم کر دی جائیں۔اس کے ذریعہ بھٹو صاحب نے کئی افراد سے زمینیں تو لے لیں مگر جب ان کی تقسیم کی باری آئی تو اس میں ذرا سا تساہل آگیا۔ بھٹو صاحب کے ہی دور میں پرائیوٹ اداروں کو نیشنلائیز کیا گیا اور اس وجہ سے کچھ عناصر صرف اپنا مال بچانے کی خاطر سیاست میں قدم رکھنے پر مجبور ہوئے کیوں کہ اب ان کےپا س ایک ہی ذریعہ تھا اپنے مال کی حفاظت کا۔

اس دورمیں ہی حبیب بنک جیسے ادارے کو حکومتی کارندوں کے ہاتھ دے دیا گیا اور اسی طرح ملک کی کئی ادارے جو کہ اپنی ذاتی حیثیت سے بین الاقوامی حیثیت رکھتے تھے ان کو حکومتی سرپرستی میں لایا گیا۔جس کی وجہ سے کئی بحران پیدا ہوگئے ملک میں معیشت کے لیے سرمایہ لگانے والوں کی تعداد کم ہوتی چلی گئی اور ملکی تاجر بیرون ملک تجارت کو زیادہ فوقیت دینے لگے۔

یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے ملک کے جو بڑے امیر ترین خاندان ہیں ان کی رہائش یا تو یورپ میں یا امریکا میں ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال جناب ملک ریاض صاحب ہیں جو آج کل تو پاکستان میں اپنے پیر مظبوط کر رہے ہیں مگر آج سے چند سال قبل وہ بیرون از ملک تھے۔

اس نظام کو جاری نہ رکھنا ہماری سب سےبڑی کامیابی تھی کیونکہ اگر یہ نظام کامیاب ہو جاتا تو شاید ہم کئی سال تنزل میں چلے جاتے کیونکہ اس سے ہماری اقتصادیت کو کافی نقصان ہونا تھا اور فردی معیشت کو فروغ نہ ملتا۔

پس ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی معلومات کو اپ ڈیٹ رکھا کریں اور اپنےملک کی تاریخ کا کم از کم علم تو ہمیں ہونا چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sheezan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2017 Views: 439

Comments

آپ کی رائے