مہنگائی کا جن !کیسے جان چھوڑے گا؟

(Mian Ihsan Bari, )

سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں تو بلاشبہ اتنی بڑھ چکی ہیں کہ غریب تو کیاد رمیانے طبقے کے افراد بھی اسے خریدتے ہوئے ہچکچاتے ہیں کہ پٹرول کا بم بھی حکمرانوں نے چلا ڈالا ہے حالانکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر کمی کا رحجان ہے اگر سبھی خرچے ڈال لیے جائیں تو موجودہ حکمرانوں کو 25روپے فی لیٹر پرپٹرول حاصل ہوتا ہے اوگرا وہ سرکاری سفید ہاتھی ہے جو جعلی حساب کتاب کے ذریعے تیل کی قیمتوں پر کمی اور بڑھوتری کی سفارش کرتا ہے اور تیل کی قیمتوں کو ستر اسی کے درمیان رکھنے پر ہر ماہ مصر رہتا ہے۔70,80اور25روپوں کے دمیان کی رقوم کی وزارت اوگراتیل کی کمپنیاں اور بیوروکریٹوں وغیرہ میں ہی بندر بانٹ ہوجاتی ہے اور زیادہ رقوم باہر ہی باہر پانامہ ٹائپ لیکس میں جمع ہوتی رہتی ہیں۔

کھانے پینے کی مذکورہ اشیاء کی قیمتیں سن سن کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے ٹماٹر نے تو تین سنچریاں کراس کرلی ہیں اس مہنگائی کی وجہ کیا ہے ؟کوئی اس کا حل بھی ہے؟کوئی نہیں بتاتا بس ایک چیخ و پکار ہے اور خریداروں کی دہائیاں ہیں ہر طرف شورو غل مچا ہوا ہے متعلقہ وزارت تو کیا ایکشن لے گی کہ حکمرانوں کی ساری توجہ اور کوششیں پانامہ لیکس اور دیگر کرپشنوں سے اپنے آپ کو بچانے پر لگی ہوئی ہیں حکمران سبزیوں کی قیمتیں مقرر کرتے ہیں مگر سبزی اور فروٹ منڈیوں میں اس ریٹ پرکوئی عمل در آمد نہیں ہوتااور نہ ہی سبزی و فروٹس کی دوکانوں اور ریڑھیوں پر پرِکاہ کے برابر بھی عمل ہوتا ہے اس کی اصل وجہ کو ڈھونڈنے کی کبھی حکمرانی کے گھوڑے پر سوار کوئی شخص کیوں کرے گا ؟کہ"ـ اپنی پیڑھی کے نیچے کوئی سوٹا نہیں پھیرتا " کہ ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا ہی نکل آیا کی طرح یہ مہنگائی کو پیدا کرنے والے اور سینکڑوں گنا زائد منافع وصول کرنے والے ہی تمام ان کی اپنی ہی صفوں میں موجود ہیں وگرنہ کسی کی جرأت نہیں کہ سبزی فروٹس کو مہنگا بیچ سکے ۔رہ رہ کر اسلامی سزاؤں پرعمل در آمد کی تاریخ کی طرف نظر چلی جاتی ہے کہ آج بھی اگر کسی سماج دشمن نو دولتیے سود خور سرمایہ دار و زخیرہ اندوز ی کرنے والے شخص کو کھلے میدانوں یا بڑے شہروں کے بڑے چوکوں پر کھلے عام سزا دی جائے اور وہاں عوام کو دیکھنے کی بھی عام اجازت ہوبلکہ خود حکمران لوگوں کو اکٹھا کرنے کا اعلان کر ڈالیں تو ایسی سز اپر عمل در آمد ہوتے ہی خود بخود سبھی سبزیوں فروٹس کو اپنے سر د خانوں سے نکال کر بیچنے کے لیے منڈیوں میں لے آئیں گے اور جب کسی چیز کی بہتات ہو جاتی ہے تو قیمتیں خود بخود ہی کم ہوجائیں گی۔یہ ہے وہ آٹو میٹک طریقہ جس سے منڈیوں میں فروٹس اور سبزیوں کے ریٹس میں کمی لائی جاسکتی ہے ۔مگر راقم اصل حقائق سے بھی پردہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا در اصل دنیا کے پلید ترین اورکافرانہ سودی نظام نے ہمارے ملک کی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی معیشتوں کے بخیے ا دھیڑڈالے ہیں ہمارے ملک میں بھی سبھی کاروبار سودی لین دین پر ہوتے ہیں اس طرح بنکوں سے تقریباً 15فیصد شرح سود پر رقوم کاروبار کے لیے حاصل کی جاتی ہیں اب کاروباری نودولتیے حضرات منافع در منافع نہ لیں تو بنکوں میں بھاری رقوم بمعہ سود کہاں سے واپس کریں گے؟ اس نظام کو دفناڈالو قیمتیں خود بخود کم ہوجائیں گی شریفوں کی حکومت نے سابقہ ادوار میں سودی نظام کے خاتمے کے لیے وفاقی شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اسٹے آرڈرStay Order) (جاری کروالیا تھا حکمران سودی نظام کو جاری رکھنے کی ضد چھوڑ ڈالیں کہ جہاں یہ نظام رائج ہو گا وہ علاقہ خدا کی زحمتوں کی زد میں رہے گا اور خدا کی رحمتوں کا نزول مشکل ہو گا کہ خدائے بزرگ و برتر کی سنت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا اس ماہ کی پہلی تاریخ کو پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں کو بڑھانے کا دھماکہ حکمرانوں نے کر ڈالا ہے پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں 2،2روپے اور مٹی کے تیل کی قیمتیں 4روپے فی لیٹر بڑھا ڈالی ہیں جس سے خریداروں کی کمر دوہری ہوجائے گی ڈیزل کی قیمتوں کے بڑھنے سے کسان مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے ان قیمتوں کے بڑھنے سے دیگر اشیائے صرف کی قیمتیں بھی آٹو میٹک بڑھ جاتی ہیں اس طرح مہنگائی سے لوگ خون کے آنسو رونے پر مجبور ہیں اگر الیکشن سے قبل ہی خود کشیاں اور خود سوزیاں کرتے ہمہ قسم سہولتوں سے محروم دیہاتوں غلیظ کوچوں گلیوں سے پسے ہوئے طبقات کے لوگوں کا جم غفیر اﷲ اکبراﷲ اکبراور سیدی مرشدی یا نبی یا نبی کے نعرے لگاتا تحریک کی صورت میں نکل پڑاتو انہیں کنٹرول کرنا موجودہ حکمرانوں کے بس کی بات نہ ہوگی۔پھر حکمران لا محالہ سیکورٹی فورسز کی طرف دیکھیں گے اگر ان سیکورٹی فورسز نے ہی سیلابوں زلزلوں جلوسوں ،جلسوں ضمنی انتخابات کو کنٹرول کرنا ہے اور ہر حکومتی پریشانی کو کندھا دینا ہے تو پھر حکمرانی کی باگیں بھی انہیں سنبھالنے میں کیامضائقہ ہو گا؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Ihsan Bari

Read More Articles by Mian Ihsan Bari: 278 Articles with 118031 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Oct, 2017 Views: 371

Comments

آپ کی رائے