رہے گاجواز زندگی باقی،رہیں گے جب تک دیدہ دل باقی

(Qazi Naveed Mumtaz, )

جس طرح نابیناپن کی بیماری بہت پرانی ہے اسی طرح عصاء یعنی چھڑی بھی ہردورمیں قابل عزت رہی ہے۔یعقوبؑ سے لیکر عصائے موسیٰ تک چھڑی سہارااورعلامت پر کام کرتی رہی ۔حضرت عبداﷲبن اُم کلثوم اوردیگرنابینا صحابی اس وقت کے حالات کے مطابق درخت کی ٹہنیوں کاعصاء تیاکرکے نقل وحرکت فرماتے تھے۔ قرآن مجیدنے نابیناافرادکیلئے لفظ اعمیٰ استعمال کیا اورپارہ 30سورۃعبس کی پہلی 11آیات میں رسول پاکؐ سے ارشاد فرماتے ہوئے اﷲنے آئندہ کے لوگوں کو نصیحت کی کہ وہ نابیناافرادکے ساتھ بہترین برتاؤکا مظاہرہ کریں ۔اسی طرح انبیاء میں سے حضرت یعقوبؑ نے نابیناپن کی آزمائش کاسامنا کیاتومورثین میں سے امام الحدیث اسماعیل شاہ بخاری کے ابتدائی 11سال نابیناپن میں گزرے ۔آج بھی جس مجاہداعظم کے نام سے اسرائیلیوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں بانی حماس شیخ احمدیاسین بصارت سے محروم تھے ۔مصرکوجہالت کے اندھیروں سے نکال کرتعلیمی اصلاحات دینے والے ڈاکٹرطٰہٰ حسین ناقابل فراموش مصری رہنمابھی ظاہری آنکھوں سے محروم تھے ۔ نابیناپن پیدائشی یاحادثاتی کے علاوہ کسی مرض کے باعث بھی ہوسکتاہے ۔پیدائشی نابیناپن فی الوقت ناقابل علاج اوربنیادی وجہ کزن میرجزکے باعث ہوتاہے۔ جبکہ حادثاتی نابیناپن کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی حادثے میں بینائی ضائع ہونے کے باعث ہوسکتاہے۔ انسانی آنکھو رٹینیا،کورنیااورآئی بال پرمشتمل ہے۔جبکہ یہ دماغ سے روشنی حاصل کرتی ہے ۔دنیابھرمیں سب سے زیادہ سری لنکن سالانہ 30سے 50لاکھ آنکھیں عطیہ کرتے ہیں جن کی بدولت نہ دیکھنے والے افراددیکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں الشفاء ہسپتال LRBT،رحمت ہسپتال،آغاخان،سروس ،جناح،میوآنکھوں کے علاج سے متعلق خدمات انجام دے رہے ہیں۔جبکہ ہزاروں آئی اسپیشلسٹ کے کلینک بھی موجود ہیں جبکہ دنیا بھر میں لائنز کلب انٹر نیشنل ، فری آئی کیمپ آپریشن اور ادویات کے حوالے سے خاطر خواہ کام کررہا ہے۔ تاریخ نے انیسویں صدی میں بد ترین اور ہولناک جنگیں دیکھیں۔ جنگ عظیم دوئم نے ڈھائی کروڑ افراد کو موت کی نیند سلا دیا جبکہ اَن گنت افراد معذوری کے نہ ختم ہونے عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ تباہی کی سیاہ رات ختم ہوئی تو کچھ اہل عقل امن پسند اقوا م کے نمائندوں نے UNO یعنی اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی جو کامیاب رہا یا ن ہیں اس سوال سے خطہ نظر کم ااز کم دنیا کو ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم ضرور میسر آیا۔ جیسے استعمال میں لا کر جنگ وجدل میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ہولناک تباہی کے پنجے میں ہزاروں نابینا افراد کو پھر سے عملی زندگی میں واپس لایا جا سکے۔ چنانچہ 1921 میں انگلینڈ کے شہر برسٹل کے نابینا فوٹو گرافر جیمزبگز کی تقلید کرتے ہوئے ایلو مینیم اور دیگر دھاتوں سے تیار کی گئی سرخ اور سفید رنگ کی چھڑی متعارف کروائی جبکہ چھڑیوں کی تقسیم کا باقاعدہ سلسلہ فرانس کے شہری گیلی نے 7فروری 1931ء کو شروع کیا۔ پہلے سال 2اور پھر 5ہزار افراد میں چھڑیوں کی تقسیم کی گئی۔ اسی طرح امریکہ کے لائنز کلب ممبر جارج اے بانم سیاہ چھڑی کو سفید رنگ میں تبدیل کر کے نابینا افراد میں تقسیم کیں جبکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی لانگ وائٹ کین یا فولڈنگ سٹک مارک ہووا نے تیا رکی اس لیے اسے ہوواسٹک بھی کہا جاتا ہے۔ 6اکتوبر 1964ء کو امریکی کانگریس ن ے اُس وقت کے صدر لسٹن جانسن کو 15اکتوبر کو وائٹ کین ڈے بل پاس کر نے کا اختیار دیا۔ 15اکتوبر 1964کو پہلا یوم سفید چھڑی اسی بل کی روشنی میں منایا گیا۔ HR753 اس بلا کا نام ہے تب سے آج تک یہ دن دنیا بھر میں بھر پور انداز سے منایا جاتا ہے اور سفید چھڑی نابینا افراد کا اجتماعی نشان ہے تاہم ارجنٹائن کی پارلیمنٹ نے نومبر 2002ء میں گرین کین لاء پاس کیا تاکہ جزوی اور مکمل نابینا افراد میں فرق واضح ہو سکے اور وہاں ہاف بلائنڈ گرین کین استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس بل کی توثیق 1980ء میں کی اور 1981 کو معذور افراد کا سال قرار دیا اور اس حوالے سے اُس وقت جو صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا آج بھی وہ مکمل جامع ڈس ایبل پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے اور پھر15اکتوبر یوم سفید چھڑی کی آمد آمد ہے اور ہم بیان کردہ تاریخی پس منظر کے آئینے میں موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے حل کی تجاویز و تدابیر اور بہتری کی گنجائش کی جانب قدم اُٹھاتے ہیں کہ شاید قلم میں آج بھی وہ طاقت ہو حرمت باقی ہے کہ جو نابینا افراد کی جائز مشکلوں کے حل کا سبب بن سکے۔ یقینا یہ حقیقت نا قابل تروید سچ ہے کہ ہم 70سال بعد بھی شعور سے عاری افراد کا وہ ہجوم ہیں کہ ج سے قوم کہنا اس لفظ کے ساتھ نا انصافی ہے کیونکہ اتحاد تنظیم اور یقین محکم کے اصولوں سے مبراع گروہ بے ترتیب ہجوم تو ہو سکتا ہے ایک منظم قوم نہیں اسی گروہ در گروہ میں اُلجھی ڈور میں پاکستان کے 10فیصد معذور اور بالخصوص 54لاکھ نابینا بھی شامل ہیں جنہیں حکومت اور شماریات کے شمار کرنے تک کی زحمت بھی نہ کی۔ لیکن بحر حال اعداد و شمار جو بھی ہوں یہ حقیقت ہے کہ حکومت سول سو سائٹی میڈیا اور ادارے نابینا افراد کے اجتماعی مجرم ہیں کیونکہ جو ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق تک فراہم نہ کر سکے وہ ریاست ایٹمی قوت ہونے کے باوجود اخلاقی سطح پر کھوکھلی ہوتی ہے۔ جہاں اجتماعیت کی جگہ انفرادیت کا رحجان عام ہو اُسے ملک نے مفادات کی حامل خون خور درندوں کا جنگل کہا جاتا ہے ویسے تو قوم کا جاہل اور بے شعور رہنا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مفاد میں ہے۔ جب کوئی سوچے گا ہی نہیں تو بولے گا کیسے فکر و سوچ کے یہ پہرے ہماری ذہنی غلامی اور شعوری پستی کی بننیادی وجہ ہیں۔ کسی گھر میں جب کوئی نابینا جنم لیتا ہے تو اس کا خاندان اُسے اپنے گناہوں کی سزا اپنے تمام تر گناہوں کیس معافی کا ذریعہ یا گھر میں موجود ایک فالتو شے سمجھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اُسے تعلیم کے حق سے محروم کر دیتا ہے پاکستان میں آج بھی لاکھوں نابینا، نابینا پنکے باعث نہیں بلکہ جہالت کے باعث تاریک زندگی گزار رہے ہیں۔ وراثت میں حصہ دینے کے بجائے چچے ، تائے اور پھوپھیاں زہر کے انجکشن دے کر ابدی نیند سلا دیتے ہیں۔ اور ایسے واقعات رپورٹ بھی نہیں ہوتے 17سال پہلے ٹاٹے پور علاقے کے نابینا ماں اور بیٹا اس لیے مار دیئے گئے کہ وہ وراثتی جائیداد کے مالک تھے۔ آج اُسی جائیداد پر مرحومہ صغراں بی بی کے دیور کا قبضہ ہے اسی طرح دیہی علاقوں میں نابینا مرد و خواتین کا شادی سے متعلق سوچنا ایک جرم ہے اور بے شرمی سمجھا جاتا ہے جبکہ اَن گنت نابینا ایسے ہیں جنہوں نے شادی کی اور پیشہ ور خواتین اُن کی جمع پونجی لے کر بھا گئی۔ تاہم آج بھی اسی تصویر کا دوسرا رُخ یہ بھی ہے کہ بہت سے نابین اپنے گھروں میں بیوی بچوں کے ہمراہ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان کے پورے نصاب میں معذور افراد کے ساتھ بہترین برتاؤ سے متعلق کوئی مضمون نہیں مسجدوں کے مولوی گلا پھاڑ پھاڑ کر کافر کافر تو چلاتے ہیں مگر حُسنِ سلوک کا درس نیں دیتے کیونکہ ان کا مشن ترویج اسلام نہیں زور لگاؤ پ یسہ بناؤ ہے ہمارے دانشور لبرل، سوشلسٹ غرض کوی بھی اس موضوع کا اہمیت دینے کیلئے تیار نہیں پاکستان کا میڈیا بشمول اخبارات و رسائل اس موضود پر بات نہیں کرتے صابن بنانے والوں کو ہینڈ واشنگ ڈے پر اربوں روپے ضائع ہوتے نظر نہیں آئے کہ کسی تشہیر میں سے کچھ پیسہ سفید چھڑیوں کی تقسیم پر خرچ کر دیا جائے۔ اگر حالات کا رونا رونے بیٹھیں تو شاید کالم کو کتاب بنتے دیر نہ لگے لیکن کیا مجھے عمر کے اس حصے حالات پر قائم کر کے خاموش ہو جانا چاہے یا اپنے رہنما قائد اعظم کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے ان مسائل کے خاتمے کی جدوجہد کرنے چاہئے۔ لہٰذا دوسرے راستے کو اختیار کرتے ہوئے 12 سال کی جدوجہد کے بعد بہتری کا ٹمٹماتا ستارہ روشنی کا پیغام دے رہا ہے اور اس یوم سفید چھڑی کے موقع پر ہم 7نقاطی ایسا لائحہ عمل پیش کررہے ہیں جسے نابینا افرادکیلئے آنے والا وقت انقلابی، اصلاحاتی پروگرام کہے گا۔
-1تحصیل لیول کی سطح پر ایسا بصیرت سنٹر جو وہاں کا کوئی کاروباری یونٹ قائم کرے جو نابینا افراد کو تعلیم کی ترغیب اُن کے سامان کی فراہمی اور معلومات تک رسائی فراہم کرے یا تحصیل کی سطح پر ہی بینا اور نابینا افراد کے جوائنٹ ویلفیئر فورم کی تشکیل ہو ھ جو فورم صرف اپنی تحصیل کی سطح پر نابینا افراد کی تعلیم، شادی اور باعزت آمدن کا اہتمام کرے۔
-2 علاقہ SHO اور UC چیئر مین اپنے زیر اثر علاقے کے ہر اُس گھر پر 5ہزار روپے جرمانہ کریں جو خاندان اپنے نابینا بچے اور بچیوں کو چھپائے تعلیم اور دیگر آئینی حقوق سے محروم رکھے اور مساجد میں علمائے کرام اس حوالے سے خصوصی درس کا اہتمام کریں۔
-3 پارلیمنٹ معذور افراد کیلئے اور ایک نابینا افراد کیلئے نشست مختص کرے اور الیکشن کمیشن پارٹیوں کو پابند کرے کہ وہ اپنے منشور میں ویلفیئر پروگرام فار اسپیشل پرسنز شامل کرنے اور ڈس ایبل ونگ بنانے کا بندوبست کرے۔
-4 پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان فوجی اور مقامی سطح پر اس متعلق شعور کی بیداری اور آگہی مہم میں امام کا کردار ادا کرتے ہوئے آگے آئے تاکہ پرائیویٹ میڈیا بھی اس پر چلتے ہوئے بھر پور آگہی مہم میں سرکاری میڈیا کے ساتھ شامل ہو سکے۔
-5 آٹھویں سے لے کر دیگر تمام کلاسز کے نصاب میں سفید چھڑی، بریل ، معذور افراد سے حسن سلوک اور اُن کے کارناموں سے متعلق خصوصی مضمون شامل کئے جائیں جبکہ ہر درسگاہ اس حوالے سے اپنے ادارے میں نابینا افراد کو مدعو کر کے خصوصی آگہی لیکچرز کا اہتمام کرے۔
-6 بڑے پیمانے پر بلائنڈ کرکٹ کے معیاری ٹورنا منٹس منعقد کر کے سول سو سائٹی کو یہ بتایا اور دکھایا جائے کہ نابیا افراد کسی سے کم نہیں۔
-7 Safe Village پروگرام کے تحت دیہاتوں کے ر ہنے والوں کو ذہنی صفائی کے عمل سے گزار کر مفلوک الحال نابینا لوگوں کو اُن کی پست حالی سے نکال کر درسگاہوں تک پہنچایا جائے۔ یہ 7نقاطی ایجنڈا جو اس 15اکتوبر سے ہماری جدوجہد کا نقطہ آغاز ہو گا تب تک شاید پورا نہ ہو سکے جب تک پاکستان کے باشعور عوام ہمارے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔ حالات کارونا روتے ہوئے کئی اہل سخن مکین قبر بن گئے۔ مجھے مکین قبر بننے سے پہلے ان حالات میں تبدیلی کیلئے کچھ کرنا ہے اور میں اس یوم سفید چھڑی پر آپ سب کو دعوت فکر و عل دیتا ہوں کہ آئیں کوئی ایک ایساکام کرجائیں جس سے نابینا افراد کا اندھیرا کسی حد تک روشنی میں بدل سکے۔ کسی کے پاس ایک سفید چھڑی کی گنجائش ہے تو وہ 15اکتوبر پر کسی نابینا کو ایک چھڑی گفٹ کر دے اور کسی میں اتنا حوصلہ ہے کہ وہ پوری زندگی اپنی آنکھیں کسی نابینا کے نام کر کے اُس کا ہمسفر بن سکتا ہے تو وہ ابھی اپنے اس عمل میں اﷲ کی رضا کی خاطر تاخیر نہ کرے۔
الغرض نیکی اور فلاح آپس میں جڑے وہ مقناطیس ہیں کہ فلاح بقاء کی طرف انسان کو کھینچتی ہے اور نیکی اُس کے عمل کی گواہی بن کر اﷲ کی بارگاہ میں اُس کی سفارش کرتی ہے ۔ 51ویں ین الاقوامی یوم سفید چھڑی پر انسانیت کے نام پر انسانوں سے اﷲ کے نام پر مسلمانوں سے دست بستہ اپیل کرتا ہوں۔
Lets Come & Change the Society.
تبدیلی وہ جو اپنی ذات سے شروع ہو

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi Naveed Mumtaz

Read More Articles by Qazi Naveed Mumtaz: 28 Articles with 13279 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Oct, 2017 Views: 247

Comments

آپ کی رائے