ادھورا عشق

(Asaad Naqvi, Lahore)
ادبی تحریر ۔ ادبی افسانہ ۔۔۔۔۔۔

عشق کی دیوار پر نظر ڈالے وہ محبت کے گھر میں چاند کی ہلکی سی روشنی میں سرسبز مگر خاموش لان میں بیٹھا ہاتھ میں کافی کا کپ لئے سوچ رہا تھا فضا میں رات کی رانی نے اپنا جادو چلا رکھا تھا ۔ اور آسمان پہ تاروں نے اپنی جگمگاہٹ سے قبضہ جما رکھا تھا ۔ اسی لمحے دور ایک کمرے میں بیٹھی ایک نورس کلی ہاتھ میں موبائل لیے سوچ کا دائرہ گھما رہی تھی اور عشق کے جنون میں کھوئی اس بات سے بے خبر کہ کمرے میں چاند کی روشنی کھڑکی سے چھن چھن کر آ رہی ہے اور رات کا پچھلا پہر شروع ہو چکا ہے ۔ مگر آنکھوں سے نیند کا بادل چھٹ چکا تھا ۔ آنکھوں میں اب صرف ایک تصویر ہی جمی ہوئی تھی ،۔وہی تصویر جو اس نورس کے ہاتھ میں موبائل پر بھی سکرین پر جگما رہی تھی جس طرح آسمان پر چاند ۔ کھڑکی سے واضح ایک تصویر کی ماند نظر آرہا تھا ۔ یوں معلوم ہوتا تھا ۔ عشق کی آگ میں جلنے والی لڑکی چاند کی ٹھنڈک کو اپنے اندر سمو لینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ محبت کی یہ چنگاڑی اس کے وجود کا حصہ بن چکی تھی اور اس کی آنکھوں کا محور لڑکا جس کو اس نے میسج کے ذریعے دل کا حال سنا دیا تھا ۔ اور وہ لڑکا اپنے لان میں بیٹھا زندگی کے اس دوراہے پر جا کھڑا ہوا تھا جب اس نے اپنی زندگی کے فیصلے کا حق اپنے دل کو دینے سے انکار کر دیا تھا ۔ اور بزنس کو ایک محبوبہ کی طرح چاہ کر ہر آسائش کو اپنی گھر کی زینت بنا لیا تھا سوائے اپنی محبت کے ۔ مگر اس کی وہ محبت تو اب کہیں کھو چکی تھی اور یہ لڑکی اپنی عمر سے دوگنے شخص کے سحر میں اسی طرح جکھڑی گئی تھی جس طرح لان میں پھیلی رات کی رانی اور چاند کی چاندنی نے اپنے سحر میں جکھڑ کر اس لڑکے کو اپنے پاس بیٹھا لیا تھا ۔ مگر زندگی کے پچھلے پہر میں تو یہ سب ممکن تھا مگر اب اس پہر میں وہ اس گلاب کی طرح تھا جو اپنی زندگی کے جوبن پر تھا ۔ اور اگلا کوئی بھی لمحہ اس گلاب کو ٹہنی سے جدا کرسکتا تھا ۔ پھر زوال کا دور شروع ہو جانا تھا ۔ جیسے زندگی میں جوبن پر تو شہرت، اور دولت تو گھر کی باندی ہوتی ہے مگر جب یہ معلوم ہو کہ اب اس کی شہرت کا یہ جوبن اس کو زوال پذیر لے جانے والا ہے تو وہ مذید شہرت کے چکر میں پڑھنے کی بجائے اپنی اسی شہرت اور دولت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنے لگ جاتا ہے ۔ اسی طرح یہ بھی ایک ایسے ہی شعبے سے تعلق رکھنے والا شخص تھا ۔ اب یہ نورس کلی جو اس کی لاتعداد چاہنے والوں کی طرح ایک تھی ۔ مگر یہ اس کی محبت کو اب قبول نہیں کرسکتا تھا ۔ مگر دل کا حال اس موم بتی کے شعلے کی طرح تھا جو بجھنے سے پہلے زور سے ٹمٹماتا ضرور ہے ۔ ۔ حقیقت میں یہ لڑکی اس شخص کے دل و دماغ میں سوار تھی اور رات کے پچھلے پہر بیٹھا اپنی زندگی کے اس موڑ پر آ کھڑا ہوا جب یہ آتش جوان تھا اور چاہنے والی محبوبہ کو چھوڑ کر اپنے بزنس کو اس محبوبہ کی سوکن بنا لایا تھا اور اسی بزنس پر توجہ دینے لگا تھا ۔ تب محبوبہ تھی ۔ بزنس نہیں تھا جس کو اپنا رہا تھا مگر آج زندگی کا وہ کنارہ کھو چکا تھا اب صرف شہرت اور دولت کو برقرار رکھنےکے لیے پھر سے اس نورس کلی کی محبت کا گلہ گھونٹ دینا تھا ۔ اور پھر یہی اس کا فیصلہ تھا ۔ عشق کی دیوار کو پھر پھولوں سے جدا رکھنا تھا۔ عشق کے گھر کو پھر خالی اور ویران رکھنا تھا یہی اس کی قسمت تھی یہی اس کا مقدر ۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asaad Naqvi

Read More Articles by Asaad Naqvi: 4 Articles with 2189 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Oct, 2017 Views: 672

Comments

آپ کی رائے