ٹرمپ اور تین محاذ

(Zahid M. Abbasi, )

ٹرمپ انتظامیہ اس وقت تین خارجہ محاذوں پر سرگرم عمل نظر آرہی ہے جن میں نارتھ کوریا، پاکستان اور ایران شامل ہیں۔امریکہ چاہتا ہے کہ نارتھ کوریا اپنا ایٹمی پروگرام ترک کردے ،پاکستان دہشتگردوں کی پشت پناہی چھوڑ دے اور ایران جوہری معاہدہ کی خلاف ورزی سے باز رہے ۔ ٹرمپ نے نارتھ کوریا ، پاکستان اور ایران کے سامنے امریکی مطالبات رکھ دیئے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ ان ممالک سے اپنے مطالبات منوانے میں کس حد تک جا سکتا ہے اور یہ ممالک کس حد تک امریکہ کے سامنے ٹھہر سکتے ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا دنیا ایک اوربڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک محاذ کثیر جہتی محاذ ہے جہاں کئی ممالک کے مفادات داؤ پر لگے ہیں اور اگر کسی ایک محاذ پربھی تصادم ہوتا ہے تو یہ دو ممالک تک محدودنہیں رہے گا۔ ان تین محاذوں پر ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی کے نتائج نہ صرف عالمی منظر نامے کو یکسر بدل کر رکھ دیں گے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کے مستقبل کے کردار کا بھی تعین کر دینگے کیونکہ امریکہ دنیا کی بہت بڑی معاشی اور فوجی طاقت ہے اور یورپ ، جاپان اور دیگر کئی ممالک کی حفاظت کا ذمہ دار ہے ۔ ان ممالک کے ساتھ اسکے مشترکہ دفاع اور تحفظ کے معاہدے ہیں ۔ ایک عالمی سیٹ اپ ہے جس میں امریکہ کی مرکزی حیثیت ہے ۔ امریکہ کامیاب ہوگا یا ناکام اسکا فیصلہ تو آنے والا وقت کرئے گا سر دست تو صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ نے عالمی سطح پر امریکہ کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے ۔

نارتھ کوریا کے ساتھ صورت حال سخت کشیدہ ہے ۔ ٹرمپ اور نارتھ کورین لیڈرکم جونگ ان کے درمیان الفاظ کی شدید لڑائی آئے روز ہوتی ہے ۔ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں اپنی پہلی تقریر میں نارتھ کوریا کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دی ہے ۔ ادھر نارتھ کوریا مسلسل اپنے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے ۔ امریکہ ، جاپان اور ساؤتھ کورین طیاروں نے نارتھ کورین فضائی حدود کے قریب مشترکہ جنگی مشق بھی کی ہے ۔ اس محاذ پر صورت حال باقاعدہ جنگ کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے ۔ ادھر امریکہ کے روائتی حلیف برطانیہ نے بھی نارتھ کوریا کے خلاف جنگ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔ پورے یورپی بلاک میں ایک بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ نارتھ کوریا کے حالیہ بین البراعظمی میزائل کے کامیاب تجربہ کے بعد ناصرف امریکہ بلکہ یورپ بھی نشانے پر آگیا ہے ۔ چین اور روس نارتھ کوریا کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر زور دے رہے ہیں جبکہ نارتھ کوریا کا کہنا ہے کہ وہ ایسے مذاکرات میں شمولیت اختیار نہیں کرئے گا جس میں انکا ایٹمی پروگرام ایجنڈے کا حصہ ہو۔ ادھر ٹرمپ انتظامیہ سفارتکاری سے مایوس ہو چکی ہے کیونکہ امریکی سفارتی رابطوں اور اقوام متحدہ کی طرف سے تازہ پابندیوں کے باوجود نارتھ کوریا اپنے عزائم کو جاری رکھے ہوئے ہے اور ٹرمپ یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ اب صرف ایک ہی چیز کام کر سکتی ہے اور وہ ہے فوجی طاقت۔ چین نہ صرف نارتھ کوریا کا ہمسایہ بلکہ سب سے بڑا تجارتی شراکت داربھی ہے اگر اسکے ہمسایہ کے گھر میں آگ لگے کی تو کیااسکی لپٹیں چین تک نہیں پہنچیں گی، تو ایسی صورت حال میں چین کا رد عمل کیا ہوگا ؟جاپان امریکہ کا اتحادی ہے۔نارتھ کوریا نے حالیہ دنوں میں جاپانی سمندر میں تجرباتی طور پرچار میزائل بھی فائر کیئے تھے۔ جاپانی وزیر اعظم نے قبل از وقت انتخابات بھی کرانے کا حکم دے دیا ہے تاکہ تازہ مینڈیٹ حاصل کرکے نارتھ کوریا کے خلاف ممکنا امریکی فوجی کاروائی کا حصہ بن سکیں ادھر ساؤتھ کوریا تو پہلے ہی نارتھ کوریا کے نشانے پر ہے ۔ امریکہ نے ساؤتھ کوریا کو نارتھ کوریا کے میزائل حملے سے بچانے کیلئے جدیدمیزائل ڈیفنس سسٹم 'THAD' فراہم کیا ہے جس پر چین کو اعتراض ہے اور ردعمل کے طور پر چین نے ساؤتھ کوریا کے ساتھ کرنسی کی ادل بدل کے آٹھ سالہ پرانے معاہدہ کی تجدید سے انکار کر دیا ہے ۔56بلین ڈالرکا یہ معاہدہ ساؤتھ کوریا کی معیشت کیلئے بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ اس معاہدے کی تجدید سے انکار اس بات کا ثبوت ہے کہ چین اس خطے میں امریکی موجودگی خواہ وہ امریکی ہتھیاروں کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو پسند نہیں کریگا۔ چین نارتھ کوریا کے خلاف امریکی فوجی مہم جوئی کو شائد اسلئیے بھی پسند نہیں کرئے گا اگر ایک مرتبہ امریکی فوج اس علاقہ میں در آئی تو پھر وہ چین کے ہمسائے میں فوجی اڈے قائم کرکے علاقہ میں مستقل اپنی موجودگی رکھ سکتا ہے ۔ گو کہ امریکہ کے فوجی اڈے جاپان میں پہلے سے موجود ہیں لیکن اگر امریکہ نارتھ کوریا پر قبضہ کر لیتا ہے تو وہ چین کی بغل میں آبیٹھے گا دوسرا وہ ساؤتھ چائنا سمندر میں چین کی اجاراداری کو بھی براہراست چیلنج کر سکے گا ۔ امریکہ پہلے ہی ساؤتھ چائنا سمندر میں چین کی اجارا داری کو قبول نہیں کرتا اور چین کی طرف سے اس سمندر میں جزائر کی تعمیر پراعتراض رکھتا ہے ۔ اس معاملے پر چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ چین یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ امریکہ ان پانیوں تک رسائی حاصل کرکے چین کے واحد سمندری تجارتی راستے پرنگرانی یا قبضہ جمائے ۔ انہیں خدشات کے تحت چین نے پاکستان میں سی پیک کا منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ اگر ساؤتھ چائنا سمندر میں گڑبڑ ہو تو وہ سی پیک کے راستے اپنی تجارت جاری رکھ سکے ۔ چین کی اس پیشگی منصوبہ بندی کوسمجھتے ہوئے ہی امریکہ نے سی پیک منصوبے پر اعتراض کیا ہے ، یہ اعتراض ایسا ہی ہے جیسا ہندوستان نے کیا ۔ اگر ان تمام نکات کو ملایا جائے تو جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ معاملا محض نارتھ کوریا کے ایٹمی پروگرام کا نہیں بلکہ امریکہ اگر نارتھ کوریا کے خلاف فوجی طاقت کا راستہ اختیار کرئے گا تو اس کے پس پردہ وہ اپنے دیگر مفادات کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کرئے گادوسری طرف چین بھی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اقدام کرئے گاتو پھر معاملا نارتھ کوریا بمقابلہ امریکہ نہیں رہ جائے گابلکہ بات اس سے بھی آگے بڑھ جائے گی ۔

ادھر ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی میں پاکستان پر دہشتگردوں کی پشت پناہی کے الزام کو دہراتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اگر پاکستان نے دہشتگردوں کی پنا گاہیں ختم نہ کیں تو امریکہ انہیں خود ختم کرنے کیلئے کاروائی کر سکتا ہے جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ امریکہ پاکستانی علاقوں میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے ڈرون حملوں کے علاوہ سرجیکل سڑائیک بھی کر سکتا ہے ۔ سرجیکل سڑائیک کیلئے امریکہ نے ایک اسپیشل ٹاسک فورس قائم کی ہے جسے پاکستانی حدود کے اندر تیزی سے کاروائی کرنے اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا ٹاسک دیا گیا ہے ۔ پاکستان نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر یہ واضح کیا ہے کہ وہ اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے سے باز رہے اور یہ کہ نہ تو افغان جنگ پاکستانی سرزمین پرلڑی جاسکتی ہے اور نہ ہی بھارت کو افغانستان اورجنوبی ایشیا میں امن کے ضامن کا کردار دیا جا سکتا ہے ۔ افغان امن کا سب سے بڑا داعی پاکستان ہے۔پاکستان کا موقف یہ ہے کہ ہندوستان افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث ہے لہذا ہندوستان کو افغانستان میں فری ہینڈ دیا جانا پاکستان کیلئے ناقابل قبول ہے ۔ اس محاذ پر فی الحال سفارتکاری جاری ہے جس کی کامیابی کے امکانات بظاہر زیادہ نظر نہیں آتے کیونکہ امریکہ ایک پالیسی بنا کر اسکا اعلان کرچکا ہے جس میں پاکستان کے موقف اور تحفظات کو جگہ نہیں دی گئی ۔ اور اب امریکہ کی طرف سے جو سفارتکاری ہورہی ہے وہ دراصل پاکستان پردباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ کی اعلان کردہ پالیسی پر عملدرآمدکرئے جبکہ پاکستان کی سفارتی کوشش یہ ہے کہ امریکہ اپنی سابقہ غلطیوں کو نہ دہرائے اور افغان مسئلے کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کرئے ۔ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ امریکہ پاکستان کی بات مان لے یا پھر پاکستان امریکی خواہشات کے آگے ایک مرتبہ پھر سر جھکا دے ۔ چین اور روس کا کردار یہاں بھی بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ چین پاکستان کا معاشی اور فوجی شراکت دار ہے جبکہ روس سابقہ سپر پاور اور خطہ کی ایک اہم طاقت ہے اور دونوں کے افغانستان میں مفادات ہیں ۔ یہ ممالک بھی افغان مسئلے کو مذاکرات سے حل کرنے کے حق میں ہیں ۔ اگر امریکہ پاکستان کے خلاف کوئی جارح اقدام کرتا ہے تو خاص طور پر چین کا اس سے لاتعلق رہنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ چین نے پاکستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہے جسے وہ کسی صورت ضائع ہوتے نہیں دیکھ سکتا ۔اسکے علاوہ روس، چین اور پاکستان کے درمیان خاموشی سے ایک نکتہ پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اب وہ جنوبی ایشیا کے معاملات اپنے ہاتھ میں رکھیں گے اور امریکہ کو من مانی کی اجازت نہیں دینگے ۔ ادھر امریکہ بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے روس، چین اور پاکستان کی حکمت عملی کو ناکام بنانے کی کوشش کرئے گا ۔مفادات کی اس جنگ میں افغانستان میدان کارزار بنا ہے سو بنا رہے گا۔ کب تک اس کا تعین ممکن نہیں ۔

ایران کے محاذ پر بھی کافی گرما گرمی ہے ۔ اباما انتظامیہ نے 2015میں ایران سے جو جوہری معاہدہ کیا تھا ٹرمپ نے اسے certifyکرنے سے انکار کر دیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ تو ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ بین الااقوامی ایٹمی انرجی ایجنسی ، امریکہ کے اتحادی یہاں تک کہ وائٹ ہاؤس کا بھی یہ کہنا ہے کہ ایران معاہدہ پر عملدر آمد کر رہا ہے ۔ دراصل ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران ہی اس معاہدے کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب صدر بننے کے بعد وہ اپنے وعدے کو پورا کرنا چاہتا ہے دوسرا اس معاہدے سے پیچھے ہٹنے کی وجہ امریکی اتحادی سعودی عرب اوربالخصوص اسرائیل کی ناراضگی بھی ہے ۔یہ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں ایران کو اپنے مفادات کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ سعودی عرب ایران پر یمن میں حوثی باغیوں اوراسرائیل ایران پر حزب اﷲ کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتا ہے ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات سعودی عرب اور اسرائیل کو سوٹ نہیں کرتے ۔ دونوں خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے خائف ہیں۔ایران کا شام میں بشارالاسد کی حکومت کو سپورٹ کرنا بھی امریکہ کو پسند نہیں ۔ ٹرمپ نے جوہری معاہدے کو certifyکرنے سے انکار کے ساتھ ساتھ ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر نئی پابندیاں بھی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاسداران انقلاب مشرق وسطیٰ میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے ۔ ٹرمپ کے معاہدے کو یکطرفہ طور پر certifyنہ کرنے کے فیصلے کو معاہدے کے دیگر فریقین جن میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، چین ، روس اور یورپی یونین شامل ہیں کی حمائت حاصل نہ ہے ۔ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے مشترکہ بیان میں معاہدے کی حمائت کا اعلان کیا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ اس معاہدے کو ختم کرنے کی سولو فلائٹ میں کیسے کامیاب ہوتے ہیں ۔

امریکہ کیلئے صورت حال کافی گھمبیر ہے کیونکہ اسکے محض مفادات نہیں بلکہ مستقبل اور ساکھ بھی داؤ پر لگی ہے ۔ حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور امریکہ اپنی ساکھ کو بچانے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے اسکا فیصلہ آنے والا وقت کرئے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zahid M. Abbasi

Read More Articles by Zahid M. Abbasi: 24 Articles with 11547 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Oct, 2017 Views: 457

Comments

آپ کی رائے