مظفرآباد کے دریاؤں ، ایکسپریس وے کا بدلتا رخ اور منفرد قرعہ اندازی

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad azad kashmir)
مظفرآباد کے دریاؤں ، ایکسپریس وے کا بدلتا رخ اور منفرد قرعہ اندازی

آزاد جموں وکشمیر خصوصاً دارالحکومت مظفرآباد بشمول گڑھی دوپٹہ نوسیری تا کوہالہ علاقوں کے عوام نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ کے حوالہ سے زیادہ فکر مند ہیں اس لیے کہ ان کی زندگیاں سب سے زیادہ متاثر ہونگی اور اپنے مستقبل کے نونہالوں کو وہ ماحول معاشرہ آب وہوا منتقل نہیں کر سکیں گے جو ان کے بزرگوں نے ان کو دیا جس کا محو ر مرکز دریائے نیلم اور جہلم رہے ہیں جن کا یہاں کے موسم آب وہوا سمیت پانی فراہمی و فرحت و راحت کے لمحوں میں جسم کے ساتھ روح جیسا کردار رہا ہے تو یہ سیوریج (گند ، غلاظت ، بدبو )کو بھی چھپائے ہوئے تھے اب جب کہ نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ بجلی کی پیدا وار شروع کرے گا تو لوگوں کی زندگیوں کے سفر میں روح جیسے یہ کردار نیلم جہلم خود بھی بے روح ہو جائیں گے جس کے حوالہ سے اسلام آباد ، مظفرآباد کی حکومتوں کو بہت پہلے ہی منصوبہ سازی کرتے ہوئے عمل درآمد کر لینا چاہیے تھا مگر حکومتوں ، قیادتوں اور خود سب سے بڑے مجرم عوام حرص بے حسی کے ہاتھوں آنکھیں بند کیے رہے اور جس دن دریا کے پانی کے رخ کو سرنگ کی طرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اُس دن یہ مچھلیاں پکڑنے کی تیاریوں میں تھے جن کی مجموعی نفسیات کا تعلق اس بھوکے جیسا ہو گیا ہے جو زیادہ انڈوں کے چکر میں مرغی ہی زبح کر دیتا ہے اگرچہ واپڈا نے وزیراعظم فاروق حیدر کی مداخلت کے بعد دریا کا رخ برائے راست سرنگ کی طرف کرنے کے بجائے دیگر تیاریوں پر سب توانائیاں مرکوز کر دی ہیں مگر اس کا افتتاح ہونا ہی ہے واپڈا کے انچارج پراجیکٹ نے ایک میڈیا بریفنگ میں تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ شروع سے ہی ڈھائی ارب واٹر سپلائی ، سیوریج سسٹم کیلئے فراہم ہو گئے تھے جس پر عمل درآمد آزاد حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ منصوبے مکمل کرتی اگرچہ سرکاری ملازم کی اپنی ایک حدود ہوتی ہے جس کے اندر رہے کر ہی وہ بات کر سکتا ہے مگر معاملہ ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈالنے سے حل نہیں ہوگا بلکہ پچاس ارب سالانہ آمدن کا ذریعہ بننے والے منصوبے کیلئے ایک بار پچاس ارب متاثرہ آبادیوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کیلئے فراہم کرتے ہوئے ناگزیر منصوبہ جات پر عمل کرنا ہی قومی ملی خدمت کی چابی بنے گا جس کیلئے اسلام آباد سرکار اور واپڈا بشمول فیصلہ ساز اداروں کو سیاسی انتخابی کشمکش سے کچھ وقت نکالتے ہوئے توجہ مبذول کرنی چاہیے اسلام آباد کے ایوان وزیراعظم میں عملاً نواز شریف سرکار ناصرف توانائی کے منصوبہ جات سمیت آئینی اصلاحات ، سہولیات کے حوالہ سے یہاں کے عوام سے کیے گئے وعدے بھول چکی ہے بلکہ اب مانسہرہ مظفرآباد تا میرپور ایکسپریس وے کی سائیڈ مری سے مظفرآباد تک اس جانب رکھنے کے بجائے صوبہ کے پی کے کی طرف منتقل کر چکی ہے جس کا الزام خاقان حکومت کو دیا جارہا ہے مگر بہت پہلے یہ بطور وزیراعظم نواز شریف کے علم میں تھا جنہوں نے مہتاب عباسی ودیگر کے ساتھ اس پر آمادگی ظاہر کی تھی جو یہاں ن لیگ کی حکومت بننے سے پہلے کی بات ہے میاں نواز شریف اور خاقان حکومت کو آئندہ انتخابات میں پنجاب ہزارہ کے مینڈیٹ کیلئے آزاد کشمیر والوں کو قربانی کا بکر بنانے سے گرہیز کرنا چاہیے نیز واپڈا سمیت اہم اداروں کو پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کی قیادت کی جانب سے مثبت تعمیری حقیقت پسندانہ تجویز دی گئی ہے کو قابل عمل بنانا چاہیے نیلم جہلم پراجیکٹ کے آغاز سے قبل پانی سیوریج ماحولیات کے حوالہ سے معاہدات سہولیات کو یقینی بناتے ہوئے کوہالہ ہائیڈرل پراجیکٹ کو دستیاب تیکنیک کو بروئے کار لا کر پانی روکنے کے بجائے منگلا ڈیم طرز طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے صدر پی پی چوہدری لطیف اکبر کی صدارت میں پیپلزپارٹی کی سلور جوبلی کی مناسبت سے اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں بلاول بھٹو زرداری کا بڑا جلسہ کرنے کا فیصلہ بھی ہوا ہے کیونکہ اسلام آباد خطہ کے دس اضلاع کے عوام کیلئے سفری لحاظ سے ایک جگہ جمع ہونے کا زیادہ موزوں مقام ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام آباد ، کشمیر ہاؤس میں ڈیرے ڈال کر رکھے جائیں یہاں دارالحکومت میں میڈیکل کالج کی عمارت کا ایک سال قبل تعمیراتی کام شروع ہو جانا چاہیے تھا مگر اس بیش قیمت منصوبے کے راستے میں معاوضوں کے نام پر زمین کی منتقلی رکاوٹ بنی ہوئی ہے جس کے ذمہ دار محکمہ صحت ، محکمہ مال ہی بنتے ہیں کوئی شک نہیں اس کیلئے حکومت پاکستان کے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے فنڈز اسمبلی کے نئے ایوان سیکرٹریٹ کے عالی شان منصوبے کیلئے پیش رفت خود وزیراعظم فاروق حیدر ان کے بہترین انتخاب ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل ڈاکٹر آصف شاہ سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ پبلک ہیلتھ خواجہ احسن وآفیسران کی جدوجہد کاوشوں کے لحاظ سے قابل تحسین ہے مگر آخر میں آکر مصلحتیں ، مجبوریاں ، ناز نخروں کا رکاوٹ بن جانا ریچھ والی دوستی کے مترادف ہے جس کیلئے دارالحکومت میں زیادہ وقت بیٹھ کر پہرہ داری کی ضرورت ہے یہاں دھکا لگائے بغیر کام اوررزق حلال کی نیت سے عمل کرنے والوں کا فقدان ہے شاز ونادر ہی ایسے لوگ ہیں جو مشکلات کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں جن میں بینک روڈ پلازہ اور لنگر پورہ ، ٹھوٹھہ سٹلائیٹ ٹاؤنز کے حوالہ سے کمیٹی کے ارکان مبارکباد کے حقدار ہیں جنہوں نے سینکڑوں لوگوں ، میڈیا ، تاجر ، سول سوسائٹی ، تمام جماعتوں ، مکاتب فکر کے نمائندگان کے سامنے شفاف قرعہ اندازی کرتے ہوئے پلازے کی دکانات کا دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے جس میں چےئرمین ترقیاتی ادارہ چوہدری رقیب کا دیانت اخلاص محنت سے آزمائش مشکلات میں راستے بنانے کا حوصلہ ، حمید بزمی ،لطیف کھوکھر سمیت جملہ آفیسران و عملہ کی بطور ٹیم ورک کاوشیں مثال بن گئیں ہیں جس کا کریڈٹ وزیراعظم فاروق حیدر ، وزیر ایم سی ڈی پی بیرسٹر افتخار گیلانی ، اور چےئرمین کمیٹی خواجہ احسن سیکرٹری ورکس طارق محمود شعلہ خدائی خدمت گار زاہد امین سمیت سب ممبران کو بھی جاتا ہے اچھے کام کرنے والے کو یقیناًمشکلات مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر اس عارضی دنیا سے زیادہ ہمیشہ جہاں رہنا ہے وہاں کیلئے راحت وکامیابی کی ضمانت اس جہان فانی کی تمام دولت منصب راحتیں اس کے سامنے کچھ معنی نہیں رکھتی ہے ایسے لوگوں میں خواجہ یوسف زرگر جیسے خاموش مجاہد بھی شامل ہیں جن کی یاد میں اپر اڈہ بلدیہ کے پرانے دفاتر والی جگہ پر نئی عمارت کے حال میں ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جو محاز رائے شماری کے بانیان اور مقبول بٹ شہید کے ساتھیوں میں شامل ہونے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں ان جیسے لوگوں کے متعلق یادیں ، خدمات اکٹھے کر کے تاریخ کا حصہ بنانا سارے شہر معاشرے کا فرض ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 205 Articles with 70763 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Oct, 2017 Views: 232

Comments

آپ کی رائے