وصی کی شاعری،ڈرامہ نگاری،کالم نگاری

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

 یہ 1991 ء کی بات ہے میرے کامرس انسٹی ٹیوٹ میں ایک نوخیز نوجوان زیرِ تعلیم تھا۔وہ نوخیز نوجوان اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنی خوبصور ت باتیں کرتا کہ دل موہ لیتا ۔مجھے یاد ہے کہ میں جب بھی کسی بڑے شاعر کے اشعار کلاس پڑ ھا تے ہوئے اپنے طلبہ ء کو سنا رہا ہوتا تو اُس خوبصورت اُردو بولنے والے طالب علم کا ریسپانس بہت جاندار ہوتا۔ گو میں کا مرس کا اُستاد ٹھرا تھا اور وہ نوجوان بھی کامرس کی تعلیم حاصل کررہا تھا۔ لیکن مجھے خود اُس وقت احمد فراز، حضرت اقبال، ؒ فیض احمدفیض، عدم ، ابن انشاء پرو ین شاکر کے بیسیوں اشعار یاد تھے۔اور میں معاشیات اور اور اکاونٹس کی کلاسز پڑھانے کے دوران طلبہ ء کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے طلبہ کو اکثر بڑے شعراء اکرام کے اشعار سنا یا کرتا تو وہ خوبصورت آواز کے گلے کا مالک نوجوان بڑے خوبصوت انداز میں اُن اشعار کو زیرِلب دہُراتا تو مجھے ایسا محسو س ہوتا کہ اس نوجوان کے دل ایک ایسا درد چھپا ہوا ہے جس کا احاطہ شائد الفاظ میں ممکن نہیں۔مجھے یہ افتخار حاصل ہے کہ فلسفیانہ، شاعرانہ اور فکر انگیز گفتگو کرنے والا نوجوان تھرڈ ایرء میں بھی میری کلاس میں زیرتعلیم تھا۔ آج میں اُن لمحات کو یاد کرکے فخر محسوس کرتا ہوں کہ مجھے یہ اعزاز ملا تھا کہ میں موجودہ دور میں نوجوان نسل کے سب سے مقبول شاعر ادیب صحافی جناب سید وصی شاہ کے ساتھ اپنی تدریسی سرگرمیوں میں چند سال گزار ُچکا ہوں۔ مجھے وہ لمحات اب بھی یادہیں کہ جب وصی نے بی کام میں شاندار نمبروں سے کامیابی حاصل کی تو ملاقات پر میں نے استفسار کیا کہ شاہ جی اب مستقبل کے حوالے سے کیا پروگرام ہے تو وصی نے کہا تھا میں نوکری نہیں کروں گا میں ُگھٹ گھٹ کر نہیں جینا چاہتا۔ چند ہی سالوں کے بعد پی ٹی وی سے ایک انتہائی جاندار سکرپٹ سے مزین ڈرامہ آن ایرء ہوا جس نے اردو زبان کی شاعری کو وہ دوام بخشا ء کہ اُس کی مثال ہی نہیں ملتی۔ اُس ڈارمے کا نام آہن تھا جس کا رائٹر اور ہیرووصی شا ہ تھا۔ اس ڈرامے کی خاص بات اس ڈرامے میں ایک نظم تھی جو وصی شاہ کی اپنی ہی لکھی ہوئی تھی جس میں کنگن کا ذکر تھا۔ اس ڈرامے کی خوبصورت بات یہ تھی کے اُس کی کہانی اور مکالمے اتنے جاندار تھے کہ ہر نوجوان کے لبو ں پرکنگن والی نظم کا ذکر تھا۔ بس پھر کیا تھا اس نظم نے ہر طرف دھوم مچادی۔ پی ٹی وی اُس وقت واحد چینل تھا۔وصی شا ہ کی شاعری اور ڈرامہ نگاری نے کچھ ہی عرصے میں وصی شاہ کو اُس مقام پر لا کھڑا کیا کہ اُردو زبان بھی وصی کی شاعری پر نازاں ہوگئی۔ کیونکہ اردو شاعری کو دوام بخشنے کے ساتھ ساتھ وصی کی شاعری نے اس زبان کی مقبولیت کے دروازے دُنیا بھر میں کھول دئیے۔ ایک بات کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ وصی شاہ کی شخصیت میں اتنی گہرائی اور تحمل ہے اور شاہ جی محبت اور احترام دینے والے انسان دوست انسان ہیں۔ان کی یاداشت بلا کی ہے۔ میری ایک نظم شاہ صاحب نے ایک ملاقات میں سنا دی جو میں نے کلاس میں ایک دفعہ تقریبا بیس سال پہلے سنائی تھی۔ان لمحات میں مجھے فخر محسوس ہوا کہ اس دور کے مقبول ترین شاعر کے ساتھ اپنی زندگی کے چند سال گزارئے تھے۔مو جودہ دور میں جب ٹی وی چینلز کی بہتات ہے اور کتاب سے تعلق کم کم دیکھائی دیتا ہے۔ اس دور میں شاعری کو بام عروج دلانا وہ بھی اُردو زبان پر احسان کے مترادف ہے۔اﷲ پاک وصی کے قلم میں اور زور پیدا کرئے اور اُسے حاسدین کے حسد سے محفوظ رکھے۔ مستقبل کا مورخ جب اُردو زبان کی شاعری کے حوالے سے تحقیق کئے گا تو میرئے خیال میں وہ ضرور اس بات کو مدِنظر رکھے گا کہ وصی کی شاعری نے اُس وقت اس زبان کی وسعت میں کتنا اہم کردار ادا کیا تھا۔ عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ نوجوان شاعری کو صرف اس لیے نہیں پسند کرتے کہ زبان ثقیل ہے۔لیکن وصی کی شاعری نے اُردو زبان کو وہ ترویج وا شاعت بخشی کہ لوگ ان کی شاعری کی کتابوں کو نہ صرف خود پڑ ھتے ہیں۔بلکہ ان کی کتابوں کو بطور گفٹ دوستوں کو دیتے ہیں۔ میری رائے میں خلوص، محبت، وفا کو جدید انداز میں احمد فراز اور پروین شاکر کے بعد جس شاعر نے ان جذبوں کو نوجوانوں کے احساسات کے مطابق شاعری میں پیش کیا ہے وہ سید وصی شاہ ہیں۔ پوری دنیا میں اس وقت جہاں جہاں اُردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں اردو شاعری وصی شاہ کے اشعار کے ذریعے اپنا لوہا منوا چکی ہے۔وصی کی ڈرامہ نگاری میں مکالمے اور کہانی اتنی جاندار ہوتی ہے کہ ناطرین خود کو بھی ایک کردار تصور کرنے لگتے ہیں۔حضرتِ علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا تھا کہ آغازِ نو سے ڈرنا،طرزِ کہن پہ اِڑنا،منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں۔وصی کی شاعری ، ڈرامہ نگاری اور کالم نگاری اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ خلوص اور محبت کے معنوں کو نئی معنویت دے کر نوجوانوں کے اندر اُردو زبان کو اس طرح نفوذ پزیری بخشی ہے۔کہ اب نوجوان اُردو زبان کو اس انداز میں ضرور لیتے ہیں کہ دل کی کیفیت اور جذبوں کو زبان کے ذریعے بیان کرنا ممکن ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وصی کے کریڈٹ میں ایک بہت بڑا کارنامہ اُس کا بطور میزبان ٹی وی پروگراموں میں مشرقی روایات، اُردو شاعری اور اخلاقی اقدار کو اس انداز میں بیان کرنا کہ ایسا واقعی محسوس ہوتا ہے کہ وصی شاہ کی اپنے ماحول ، گردوپیش،سماجی،معاشی،ثقافتی،روحانی،عمرانی روایات پر گہری نظر ہے۔شاہینوں کے شہر سرگودہا میں پروان چڑھنے والا یہ عظیم مدبر واقعی ملک اور قوم کے درد اور محبت کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھتا ہے۔ربِ جلیل وصی شاہ کو ملک اور قوم کی تعلیم وتربیت اور رہنمائی کے لیے سدا سلامت رکھے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 219564 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
23 Oct, 2017 Views: 580

Comments

آپ کی رائے