ماڈرن ریشنلزم کا فریب اور یوتھ فورم پاکستان

(Arshad Sulahri, )

پاکستان کی انتخابی سیاسی جماعتوں کے حالات تو سب کے سامنے ہیں ۔ تنظیم ، نظم ، سیاسی فلاسفی سمیت قیادت کا کرادر بہت واضح ہوچکا ہے جبکہ انتخابی سیاست سے باہر موجودہ نظام کے خلاف سیاسی کام کرنے وانیوالی نام نہاد انقلابی تنظیمیں ہیں۔جس میں زیادہ تعدا دکمیونسٹ اور شوشلسٹ تنظیموں کی ہے ۔عوامی ورکرز پارٹی کے نام سے شوشلسٹ انتخابی پارٹی بھی ہے۔کمیونسٹ اور شوشلسٹ تنظیموں کی کوکھ سے جنم لینے والی ایک تنظیم ریشنلسٹ بھی تھی۔ دنیا بھر اور پاکستان میں ماڈرن ریشنلزم کی پہلی تنظیم یوتھ فورم پاکستان پروفیسر مصدق شاہ کے نظریہ اور فکر ماڈرن ریشنلزم پر قائم ہوئی ۔ پروفیسر مصدق کا تعلق جھنگ کے علمی و فکری گھرانے سے ہے۔ مطاہر ترمذی جیسے بلند پایہ مفکر ، نوجوان شاعر اور نقاد مطیع ترمذی ، ہونہار علمی فکری سپوت اظفر ترمذی کا تعلق پروفیسر مصدق کے گھر سے ہے۔ پروفیسر مصدق کے رفقاء عمران یعقوب ، ندیم ایڈووکیٹ ، مذمل حسین ،عمر وارث ، مقصود فاروقی جیسے راسخ ریشنلسٹ انقلابی دانشور اور مفکرسے راقم کی پہلی ملاقات عمران یعقوب کے ساتھ 2005 میں ہوئی ۔ یوتھ فورم پاکستان میں شمولیت کے بعد یوتھ فورم پاکستان کے اجلاسوں اس امید کے ساتھ شریک ہوتا رہا ہوں کہ یوتھ فورم پاکستان نظریاتی لحاظ سے منفرد تنظیم ہے۔ ماڈرن ریشنلزم کا نظریہ پاکستان کے سیاسی اور سماجی حالات میں مطابقت رکھتا ہے اور قابل عمل بھی نظرآتا ہے۔یوتھ فورم پاکستان کا نظریہ ، تنظیمی ڈھانچہ اور تنظیم کی تعمیر کیلئے بنائے گئے معیار اور پالیسی شاندار مستقبل کی غماض تھی۔ تنظیم کی سپریم کونسل کیلئے افلاطون کے مماثل نظریہ کو معیار رکھا گیا تھا۔ ورکنگ کمیٹی سے لیکر سپریم کونسل تک علم فلسفہ ،مذاہب ، سیاسی نظریات ،سائنس اور سائنسی طرز فکر کو معیار بنایا گیا تھا۔سالانہ اجلاس کا تسلسل برقرار تھا۔علمی و فکری کام درست سمت میں جاری تھا۔سب کچھ درست اور ریشنل بنیادوں پر ہو رہاتھا ۔ یوتھ فورم پاکستان کی قیادت کے بارے بے تحاشا مبالغہ آمیزی سے لیا جاتا کہ اعلیٰ ذہانت ،سائنس ،فلسفہ کے ماہرین لیڈرشپ ہے۔ نوسربازوں پر ملمع سازی کی جاتی اور جھوٹ کے قلعے تعمیر کیے جاتے رہے ہیں۔

اصلیت اس وقت سامنے آئی جب ایک شخص کی شعبدہ بازیوں اورسبزباغ کے جھانسے میں آکر یوتھ فورم پاکستان کی قیادت نے سپریم کونسل کیلئے طے کردہ معیار بلائے طاق رکھ کر اسے سپریم کونسلر بنا دیا۔ تنظیم کے زوال کی بنیاد اسی دن پڑ گئی اورپھر وہی ہوا ۔ تنظیم کی نظریاتی اساس پر سرمایہ غالب آ نے لگا۔ نظریاتی بحثوں سے نکل کر تنظیم پراپرٹی ڈیلری کے رموز سمجھنے میں غلطاں نظر آنے لگی ۔ماڈل ٹاون فلیٹس کے وہ ہوٹل جہاں رات بھر فلاسفی زیر بحث رہتی تھی اب اسی ہوٹل کی میزوں پر براجمان یوتھ فورم کی قیادت زمین و زر کی منصوبہ کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔تنظیم کے سپریم ہیڈ پروفیسر مصدق سمیت قریبی رفقاء جو دنیا بدلنے اور پاکستان میں سائنسی بنیادوں پر انقلاب لانے کے دعویدار تھے۔ ایک معمولی معلومات کے حامل پراپرٹی ڈیلر کے اسیر ہوکر اپنے نظریات ، اپنی تنظیمی اور علمی و فکری جدوجہد کو چند ٹگوں کے صرف چھچھکوں پر ڈھیر ہوتے ہوئے نظر آئے۔راقم گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ خود ساختہ فلاسفر ریت کی دیوار ثابت ہونگے۔ نام نہاد ریشنلسٹوں کے چہروں سے نقاب اترنے پر راقم کو شدید صدمے سے دوچار ہونا پڑا کہ جس تنظیم کیلئے ہم نے اپنا سب کچھ قربان کرنے کاعزم کر رکھا تھا اور جس تنظیم اور نظرے کے پرچار کیلئے ہم کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتے تھے ۔ دس بارہ سال تنظیم کی ممبرسازی اور نظریے کی آبیاری کے لئے دن دیکھا نہ رات دیکھی ۔اس تنظیم کے آگو اس قدر کچے اور کمزور ثابت ہوئے کہ چندسکوں کی محض چمک پر انہوں سب کچھ داؤ پر لگا دیا ۔تنظیم کے نائب صدر ہونے کا دعوٰی کرنے والے راجہ ارشد محمود عملی طور پر تنظیم کو چھوڑ چکے ہیں۔ موصوف نئی جگہ ذمہ داری ملنے کے بعد تعلیم ، علم اور فلسفہ کو فضولیات قرار دیتے نہیں تھکتے ہیں ۔ علم و تعلیم اب ان کیلئے وقت کا ضیاع ہے۔اصل مشن تو پراپرٹی کا کام ہے۔موصوف کے تائید کنندہ ظفر بھٹی نے بھی نعرہ مستانہ بلند کیا اور سب کچھ چھوڑ کر آجکل ہمرکاب ہیں اور پراپرٹی ڈیلری کا سبق پڑھ رہے ہیں۔اپنی سابقہ زندگی کوفضول بہ مبنی قرار دیتے ہوئے نئی زندگی کواصل گردانتے ہیں۔اور تو اور راسخ ریشنل انقلابی عمران یعقوب جیسے مدبر اور دانشور تنظیمی پوزیشن اور نظریہ پرمصلحت سے کام لیتے ہوئے جائز کو ناجائز اور ناجائز کو جائز قرار دینے میں آسانی محسوس کرتے ہیں ۔ صاف نظر آتا ہے کہ تنظیم گروی رکھی جا چکی ہے ۔ جس کا برملا اظہار بانی ممبران مقصود فاروقی اور عمران یعقوب نے بھی کیا۔ یوتھ فورم پاکستان کے کرتا دھرتاوں نے انجنیئر مذمل حسین جو ایک سائنسی طرز فکر رکھنے والی مخلص شخصیت ہیں ۔ ان کو بھی دھوکا دیا اور اسے محض خرچہ و پانی کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔انقلاب کے نام پر کام کرنیوالی کچھ تنظیموں کی یہ ایک تھوڑی سی جھلک ہے۔بائیں بازوں کا المیہ کے نام سے پوری فلم جلد پیش کی جائے ۔ جس میں بائیں بازوں کی تنظیموں کے بارے میں اصل حقائق سے پردہ اٹھایا جائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arshad Sulahri

Read More Articles by Arshad Sulahri: 139 Articles with 48699 views »
I am Human Rights Activist ,writer,Journalist , columnist ,unionist ,Songwriter .Author .. View More
26 Oct, 2017 Views: 642

Comments

آپ کی رائے